Urdu Articles Archive

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی: سماء ٹی وی پہ اینکر پرسن مبشر لقمان کے ٹاک شو ‘ کھرا سچ’ کا 13 جون 2018ء کا پروگرام ضرور دیکھنا چاہیے۔ اگرچہ مبشر لقمان نے اس پروگرام میں جو شواہد پیش کیے ہیں وہ ان کے اس
اداریہ تعمیر پاکستان: الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے: ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن پاکستان نے یہ کہہ کر سیاسی جماعت کے طور پہ درج کرنے سے انکار کیا کہ اس کے سربراہ کے حافظ سعید سربراہ جماعت دعوہ سے مبینہ تعلقات ہیں۔ اور یہ جماعت دعوہ
’علاقے کی معیشت بابا فرید کے دربار سے جڑی ہے‘: پاکستان میں کئی لوگوں کے لیے مزاروں کی مذہبی اہمیت ہے لیکن ملک کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہات میں یہ مزار وہاں کی معیشت، سیاست اور ثقافت سے بھی منسلک ہیں۔ تین قسطوں پر مشتمل اِس سیریز میں
پاکستان کے ’لاپتہ‘ شیعہ کہاں ہیں؟: کراچی کی ایک مقامی مسجد پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن کے قریب مسلح افراد 30 سالہ نعیم حیدر کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جا رہے ہیں۔ان میں سے بعض
خاص قسم کی وائلنس پہ چپ کیوں لگ جاتی ہے؟ – عامر حسینی: آج 31مئی 2018ء ہے۔ اسی دن 14 سال پہلے کراچی میں امام بارگاہ علی رضا پہ خودکش بم دھماکہ کیا گیا تھا۔اس واقعے میں اٹھارہ شیعہ مسلمان نمازی جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ جبکہ اسی تین
اداریہ تعمیر پاکستان: امتیاز اور فرق پہ مبنی سیاپا فروشی بند ہونے تک چرن جیت سنگھ قتل ہوتے رہیں گے: ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی اور امن و آشتی کے لیے کام کرنے والے بزرگ سردار چرن جیت سنگھ کو آج پشاور میں اسکیم موڑ کے نزدیک ‘نامعلوم’ حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ سردار چرن جیت
تکفیری فاشزم ، مفہوم ، اصطلاح اور رد – عامر حسینی: نوٹ: یہ مضمون میں نے مارچ 2015ء میں تحریر کیا تھا۔آج مئی 2018ء ہے۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے اندر ایسے افراد موجود ہے جو تکفیری فاشزم کو اب بھی جیو
شعیب میر : ایک جیالا خلاق فطرت نہ رہا – عامر حسینی: میں تحصیل کبیروالا ،ضلع خانیوال کے نواحی چک 20 وہنوئی میں ایک دوست کے ہاں افطار کی دعوت پہ آیا ہوا تھا۔ہم کھتیوں کے سامنے بنے دوست کے گھر کے سامنے چارپائیوں پہ بیٹھے تھے۔میرے ساتھ محمد امین وارثی
کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی: انگریزی روزنامہ ڈان کو پاکستان پریس کونسل/پی پی سی نے سیرل المیڈا کے نوازشریف سے کیے گئے انٹرویو پہ نوٹس جاری کیا ۔ اس نوٹس پہ انسانی حقوق کمیشن برائے لاہور کی پریس ریلیز جس دن اخبار کی آفیشل
نواز شریف : دہشت گردی اور غداری کے فتوے تحریر : سید فرخ عباس: یہ نومبر 2008 ہے ، ملک پاکستان میں جرنیل مشرف کو استعفیٰ دیے تین ماہ گزر چکے ہیں، اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہیں، صدارت کا عہدہ آصف علی زرداری کے پاس ہے ، اپوزیشن
میں نے بھوک ہڑتال کیوں کی ؟ – جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ: آج گزشتہ نو دنوں کے بعد سے بہتر محسوس کر رہی ہوں تو سوچا کہ آپ کو بتاوں کہ میرے بھوک ہڑتال کا مقصد کیا تھا اور اس کے کیا نتائج نکلا؟ 28 اپریل کو معمول کے مطابق میں
کیا خازنی کا نام بھی ہٹادوگے؟ – عامر حسینی: ابوالفتح عبدالرحمن منصور خازنی، دانشمند ایرانی و یونانی تباری بود خازنی ایرانی دانشور اور یونانی غلام تھا۔ ابومنصور ابوالفتح عبدالرحمان الخازنی ایک دم سے ہمارے معاشرے میں زیربحث آگئے ہیں۔ دیسی لبرل نے ان کو جتنا برا بھلا کہہ
شیعہ ہزارہ نسل کشی پر فرنود عالم کی تحریر:   کوئٹہ کا قصد تھا۔ ہوائی اڈے کی انتظار گاہ میں ہزارگیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دو ہزارہ نوجوان وہیل چئیر پہ تھے۔ ایک نوجوان وہیل چئیر پہ ایسے بیٹھا تھا کہ ماں نے مستقل اس کی گردن
دیسی لبرل کی مخصوص سیاپا فروشی بے نقاب – عامر حسینی: چوبرجی پہ موجود دیوبندی مدرسہ اور اورنج لائن ٹرین اور پنجاب یونیورسٹی کی زمین کا قصّہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لیے جو راستا وضع کیا گیا تھا اس میں پہلے حافظ پروفیسر سعید بانی لشکر طیبہ/جماعت دعوہ کے
مدیحہ گوہر کے گزرجانے پہ جی بہت اداس ہے – ریاض ملک: اسّی کی دہائی کے تاریک ترین دور میں جب امریک کا حمایت یافتہ آمر جنرل ضیاء الحق شہری و سیاسی حقوق پامال کررہا تھا تو مدیحہ گوہر بھی مزاحمت کے چند بڑے ناموں میں سے ایک تھیں۔ ( کیونکہ
یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی: انیس اپریل کی شام سعودی طیاروں نے یمن کے صوبہ حاج کے دارالحکومت میں ایک شادی کی تقریب پہ مزائیل برسائے جس میں دلہن سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔
مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن: “مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اس ریاست کو 14 مہینے مجھے زندان میں ڈال کر مجھے بے گناہ ثابت کرنا پڑا۔ یہ سب شاید مجھے لاپتہ کئے بغیر بھی کیا جاسکتا تھا”۔ ایسا کہنا ہے ثمر عباس
کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک: The search for truth in the rubble of Douma – and one doctor’s doubts over the chemical attack ڈوما کے ملبے میں سچائی کی تلاش۔۔۔۔۔۔۔ اور کیمیائی حملے پہ ایک ڈاکٹر کے شبہات مڈل ایسٹ میں ہونے والی جنگوں
میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی: کچھ دوستوں کی جانب سے مجھ پہ ‘شام اور بشار الاسد’ کے معاملے پہ جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ میں ایران نواز ہوں۔ میں اس تنقید کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اس لیے
انقلاب کا مدفن (کہانی) – عامر حسینی: دن ڈھل چکا تھا۔ شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔ دور مغرب میں سورج تانبے جیسا زرد ہوکر ڈوبنے کو تیار تھا۔مغربی افق کے کنارے پہ سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ایسے لگتا تھا جیسے مغربی افق پہ کسی کا ماتم
دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی: فرنود عالم نے ایک پوسٹ افغان اور کشمیر جہادی پروجیکٹس اور پاکستان میں دیوبندی ریاست کے لیے ہتھار اٹھانے والے پروجیکٹس کی ساخت کے بارے میں لگائی ہے۔اور اس پوسٹ میں انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے
شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن: نوٹ : روسی نژاد پروفیسر کا تجزیہ ہمیں وہاں سے چيزوں کو دکھاتا ہے جہاں سے دیکھنے کے لیے دماغ کی بند کھڑکیوں کو کھولنا بہت ضروری ہے۔پاکستان میں دیسی لبرل صحافت بھی اتنی بنجر اور گھٹیا سی کیوں
پشتون اور پرائی جنگ – ہارون وزیر: تمام تر باتوں کا ایک متوقع جواب یہ ملے گا کہ طالبان کس نے بنائے. 33 بلین ڈالر کس نے لئے. علی وزیر کے خاندان کے 13 افراد قتل کئے گئے ہیں وغیرہ اور یہ کہ آپ کبھی وزیرستان
پشتون تحفظ مومنٹ، /تحفظات و سوالا – حیدر جاوید سید: منظور پشتین کی پشتون تحفظ موومنٹ کی ابتداء سے اب تک دوستوں اور سوشل میڈیا کے ساتھیوں کے اصرار کے باوجود لکھنے سے معذرت کرلی۔ چند احباب مصر ہوئے تو عرض کیا کچھ تحفظات مانع ہیں لکھنے میں۔ عزیز
Is Pakstan really in the Post-Taliban Era?:     The following rhetorical questions have been raised by sections of Pakistan’s “intelligentsia” and/or Commercial Liberals and need to be addressed. Are we really living in an era where the existential threat from the Taliban has receded? Has
پشتون سماج میں اینٹی شیعہ ازم کمپئن آئی ایس آئی کی پیداوار نہیں ہے, فرحت تاج – عامر حسینی: منظور احمد پشتین اور علی وزیر کے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے دورے پہ معروف ماہر پشتون تاریخ اور دانشور فرحت تاج نے ‘اختلافی نوٹ’ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار فیس بک پہ اپنی وال پہ کیا۔انہوں
منظور پشتین کو مدرسہ حقانیہ نہیں جانا چاہیے تھا؟ – محمد عامر حسینی: پشتون تحفظ تحریک کے کنوینر منظور محسود پشتون عرف منظور پشتین اور وزیر قبائل کے علی وزیر نے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا اور مدرسے سے اپنی تحریک کے لیے حمایت طلب کی ہے۔ اس دورے
کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں پہنچ گئے ہیں؟ – محمد عامر حسینی: کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں پہنچ گئے ہیں؟ کیا تکفیری دیوبندی ریڈیکل ازم اپنے زوال کو پہنچا اور اس کی جگہ صوفی بریلوی ریڈیکل ازم نے لے لی ہے؟ کیا پاکستان کی ریاست فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی
یمن پہ مسلط جنگ اور میڈیا ڈسکورس – عامر حسینی: تین اپریل 2018ء کو سعودی عرب کی قیادت میں بنے فوجی اتحاد کے طیاروں نے یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں داخلی مہاجرت اور بے دخلی کا شکار یمنیوں کے لیے بنے ہوئے ایک کیمپ پہ مزائیل داغے۔اس فضائی
قندوز مدرسہ پہ حملہ اور ہمارا موقف – عامر حسینی: افغانستان کا صوبہ قندوز اور ڈسٹرکٹ دشت آرچی کا ایک گاؤں جہاں پہ ایک مدرسہ میں سالانہ جلسہ تقسیم دستار فضیلت و اسناد درمیان حفاظ کرام کا انعقاد ہورہا تھا۔قندوز کے اس ڈسڑکٹ کا اکثر علاقہ تحریک طالبان اقغانستان
ہچکی لیتا ہوا سرمایہ دارانہ سماج – عامر حسینی: نیوراتی خرابی سے پیدا ہونے والی بیماری ‘ٹوریٹ سینڈروم ‘ کا شکار ایک لڑکی نینا ماتھر کا سپنا استاد بننا ہے۔وہ ایک ماڈرن ہندوستانی مڈل کلاس خاندان کی لڑکی ہے،جو ہندوستان میں نہرو کے ریاستی سرمایہ داری کے بعد
(Muhammad Faisal Younus) حقوق نسواں اور پاکستانی معاشرہ – محمّد فیصل یونس: کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں ایک ریلی نکالی گئی جس کا مقصد خواتین کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا تھا. یہ ریلی کافی کامیاب رہی اور ملک کے روشن خیال حلقوں کی جانب سے پزیرائی بھی
مذہبی جنونیت کا ہوا کھڑا کرنے میں نواز حکومت اور اس کا حامی کمرشل لبرل مافیا ملوث ہے – عامر حسینی: تحریک لبیک یارسول اللہ کے اسلام آباد دھرنے پہ آئی ایس آئی نے جو رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے جمع کرائی، اس رپورٹ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام آباد میں اس دھرنے
سبط جعفر جیسے استاد قتل کیوں ہوجاتے ہیں – عامر حسینی: آج اٹھارہ مارچ 2018ء ہے۔اور آج سے پانچ سال پہلے اسی دن پروفیسر سبط جعفر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد(لالو کھیت) کراچی اپنی موٹر سائیکل پہ گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سپیڈ بریکر ان کی بائیک
پشتون تحفظ تحریک اور بہار پشتون:   پشتون تحفظ موومنٹ-پی ٹی ایم کے نام سے اس وقت خیبرپختون خوا اور فاٹا کے پشتون بولنے والی نوجوانوں کی ایک سماجی تحریک سامنے آئی ہے۔پی ٹی ایم کا چہرہ اس وقت منظور پشتین نام کا ایک نوجوان
شام کا معاملہ کیا ہے؟ – عثمان قاضی: نوٹ :یو این ڈی پی کے لبنان میں ایڈوائزر عثمان قاضی شام گئے تھے اس لئے شام کے معاملے میں وہ چشم دید گواہ کی حیثیث رکھتے ہیں۔ باغیوں کا آخری ٹھکانا دمشق کے مرکز سے چھ کلومیٹر پر
ہولی کھیلوں گی – عامر حسینی: سماج میں جہاں شناختوں کے تنوع کو یک نوعی بنانے والوں کا غیض و غضب اپنے عروج پہ ہوا کرتا ہے،وہیں شناختوں کے تنوع اور کثرت کے اندر وحدت کو تلاش کرنے والوں کی جانب سے محبت کی بارش
نفسیاتی جنگ – ابوالقاسم فردوسی طوسی: شیکسپیئر کا شہرۂ آفاق قول ہر زمانے میں کیلیے ہے، ”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے”۔۔۔ پروپیگنڈا کا پہلا اصول ہوتا ہے جھوٹ اور سچ کو خلط ملط کرکے ایک ایسا بیانیہ تیار کرنا جس سے اصل اور
پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں کمرشل ازم کا بڑھتا رجحان – عامر حسینی: پاکستان میں لبرل پریس سیکشن پہ کمرشل ازم کا غلبہ اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ اب یہ اپنی لبرل اقدار کو بری طرح سے پامال کرتا ہے۔ جنگ-نیوز میڈیا گروپ سے وابستہ اور ایسے ہی فرائیڈے ٹائمز کی
بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی: بلوچستان میں ہزارہ برادری کی نسل کشی میں ملوث افراد کی اکثریت ، جامعہ حفصہ اسلام آباد کے سربراہان غازی عبدالرشید و مولانا عبدالعزیز اور سیہون دھماکے کے ماسٹر مائنڈز ڈاکٹر غلام مصطفی مزاری، صفی اللہ مزاری اور نادر