بی بی سی ہارڈ ٹاک کے میزبان نے حمید ہارون سی او ڈان میڈیا گروپ کی جانبداری کا پول کھول دیا

ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون نے حال ہی میں بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں شرکت کی۔اس پروگرام کے میزبان بی بی سی کے صحافی سٹیفن سیکر تھے۔

حمید ہارون سے بات چیت کرتے ہوئے سٹیفن سیکر نے واضح طور پہ حمید ہارون کو یہ جتلادیا کہ ان کا میڈیا گروپ پاکستان کے اندر ‘آزادی اظہار، شہری آزادیوں اور سیاسی پروسس’ کے حوالے ریاست کے مداخلت کو جس سطح پہ دکھا رہا ہے وہ مبالغہ آرائی ہے۔ اور اس موقف میں نواز شریف کی یک طرفہ حمائت ہے جبکہ اس میں غیرجانبدار اور معروضیت کا بھی فقدان ہے۔ سٹیفن سیکر نے حمید ہارون سے بار بار ثبوت اور شواہد فراہم کرنے کی مانگ کی اور اس دوران انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ بطور صحافی ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی صورت حال میں اس طرح سے پارٹی نہ بنتے۔

اس انٹرویو سے ایسے لگا کہ سٹیفن سیکر کو حمید ہارون اپنے دعاوی کے حوالے سے مطمئن نہ کرپائے۔
حمید ہارون نے اس گفتگو کے دوران بار بار نواز شریف اور ان کی پارٹی کا نام لیا اور ایک بار بھی یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ کس طرح سے دوسری پارٹیوں جیسے پی پی پی ، اے این پی اور دیگر جماعتوں کے خلاف دہشت گرد تنظیمیں کاروائی کررہی ہیں جبکہ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی تو پھر نشانہ نہیں ہیں۔

حمید ہارون کہتے ہیں کہ پاکستان کے تین قدیم ترین میڈیا گروپ ‘ڈان میڈیا گروپ، جنگ نیوز جیو گروپ اور نوائے وقت میڈیا گروپ’ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لیکن حمید ہارون کی زبان سے یہ سب کر شنکر سیکر نے پھر شواہد اور ثبوت کی مانگ کی۔ اس سے یہ تو بہرحال ثابت ہوا کہ ایک طرف آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے اندر بیٹھے یہ تین بڑے غالب میڈیا گروپ ‘نواز شریف’ کی جعل سازی سے بطور اینٹی اسٹیبلشمنٹ امیج بلڈنگ کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ انٹرنیشنل سطح پہ شور مچا کر ریاست کو بلیک میل کرکے شریفوں کی قائم سلطنت کو بچانا چاہتے ہیں۔
نوائے وقت گروپ کو گرنے سے بچانے کے لیے شریف برادران نے جہاں ریاستی وسائل سے ان کی مدد کی وہیں اس گروپ کے اندر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

ڈان میڈیا گروپ کے اندر یہ کہا جاتا ہے کہ 20 فیصد اس کے شئیر شریفوں کے پاس ہیں۔

پاکستانی انگریزی اور اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں پرو۔نواز شریف کمرشل صحافتی ٹولہ بہت سی جعل سازیاں کررہا ہے۔

ڈان میڈیا گروپ اگرچہ ماضی میں بھی کوئی بہت ہی معروضی رپورٹنگ کا نمونہ نہیں رہا لیکن اب اس کے ہاں بہت زیادہ طرف داری اور جانبداری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ رائی کا پہاڑ بناکر دکھانے کی صحافت کرنے لگا ہے۔

ہارڈ ٹاک کے ایک ناظر نے اس بات چیت کو سننے کے بعد یہ تبصرہ کیا:

He is furious because his friend Nawaz has been convicted and jailed.

Sometimes I wonder how Dawn ended up in this filthy Haroom family’s hands?

اور ایک اور ناظر کا کہنا تھا

Whenever he asks for evidence , the poor guy quotes social media and facebook messages… It has been already uncovered that NS is an investor in Dawn Group and JUNG Group with owning 20% of shares as stakeholders…. they are totally Biased.

ایک اور تبصرہ ملاحظہ ہو

Stephen Sackur: give me facts
Hamid: i think this, i think that, i think…. i. i. i…….

for God sake stop this nonsense. you are exposed in just one interview. even the Stephen knows that you have strong ties and favours for Nawaz Sharif clan.

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*