LUBP policy on appeasers and humanizers of terrorists


This is to reiterate LUBP policy on those writers, institutions and groups that appease, promote or humanize hate mongers and terrorists.  This includes people who obfuscate Shia Genocide by Takfiri Deobandi terrorists as Shia Sunni sectarian violence or obfuscate it as an outcome of Saudi Iran proxy war and humanize and blatantly promote anti-Shia anti- Ahmedia and anti-Christian clerics.  The editorial policy is clearly spelled out here:

Invariably such people in Paksitan’s “independent” media are funded and controlled by the establishment through their alleged proxies such as the Jinnah Institute. One such recent example is the mollycoddling of known hate monger and fascist Mullah Ludhanvi Deobandi (head of banned terrorist group Sipah-e-Sahaba ASWJ) by Najam Sethi and Raza Rumi’s The Friday Times (TFT)

LUBP editorial board, to the best of our abilities, tries to ensure that facts are presented in an objective, impersonal manner. No foul language is used, and criticism is made on the issue. When LUBP and other anti-establishment bloggers highlight hypocritical and dangerous implications of pro ASWJ/LEJ posts published by The Friday Times (TFT) and other sections of Pakistan’s mainstream media, the result is bullying, harassment and witch hunting of LUBP and other anti establishment bloggers. On numerous occasions various bloggers have received naked threats (to themselves and their families), dozens of threats of FIRs and legals cases have been sent to us. It is comical the Lashker e Sethi, with its dubious links and funding sources, is quick to threaten anti-establishment bloggers but have never made any such moves towards actual terrorists and hate mongers.

The abusive and misogynous outbursts by TFT columnists Mohammad Shehzad? were recently criticized on LUBP. If our bloggers were personally biased, we would never publish such post in support of Marvi Sirmed who has also threatened LUBP bloggers in the past.

Ali Chishti, a known pro establishment blogger, promoter of Sipah Sahaba as messengers of peace and pro expansion blasphemy law activist, is regular columnist of TFT as well. He is also the one who threatens us almost daily.

Either TFT editors (and other such paid propagandist)  should retract their promotion of hate mongers and apologize or face criticism. There can be debate on energy policy, tax reform or any number of issues. There is no room for any debate on supporters and perpetrators of violence.

Furthermore, simply making sweeping generalizations that “LUBP is making personal attacks against so and so” without providing one shred of evidence highlights the true intentions of those attacking LUBP. If you have a problem with a post or a part of a post, be honest enough to highlight so that we can look into it. Otherwise unsubstantiated sweeping statements lack credibility and will not be entertained by serious readers. It will be interpreted for exactly what it is: pressure tactics to muzzle LUBP.

لیٹ اس بلڈ پاکستان کی پالیسی ان لوگوں کے بارے میں بہت صاف اور کلیر رہی ہے ، وہ تمام لوگ جو دیوبندی تکفیریوں کے ہاتھوں ہونے والی شیعہ نسل کشی کو شیعہ سنی اختلاف یا ایران سعودیہ پراکسی جنگ کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ، اور وہی لوگ بد نام زمانہ دیوبندی تکفیری دہشتگردوں شیعہ مخالف ، احمدی مخالف اور عیسائی مخالف مولویوں  کے انٹرویو کر کے ان کو پیغمبر  امن اور امن کی فاختہ کے طور پر پیش کرتے ہیں دراصل یہی لوگ ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں

 ہماری ایڈیٹوریل پالیسی کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

حقیقی معنوں میں پاکستان کا ” آزاد ” میڈیا باقاعدہ طور پر اسٹبلشمنٹ کے ایجنٹوں کی زیر سر پرسی اسٹیبلشمنٹ کی فنڈنگ سے چلایا جا رہا ہے مثال کے طور پر جنا ح انسٹیٹیوٹ – اس کی تازہ مثال ہے  نجم سیٹھی اور رضا رومی کے  دی فرائیڈے ٹائمز میں چھپنے والا شر پسند تکفیری دیوبندی دہشت گرد لدھیانوی کا انٹرویو -جو کہ کالعدم دیوبندی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کا لیڈر ہے

ہماری یہ کوشش ہوتی ہے اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے ساتھ ساتھ جو بھی بات کی جائے وہ پوری ذمہ داری اور غیر جانب داری سے کی جاے ، ہماری تنقید گھٹیا اور غلیظ الفاظ کے بجاے اصلاحی ہوتی ہے
جب بھی لیٹ اس بلڈ پاکستان اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بلاگرز نے دی فرائیڈے ٹائمز اور اس جیسے اور کرداروں کی منافقت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کی دہشت گرد نواز پالیسیز کو حرف  تنقید بنایا ہے اس کے جواب میں بجاے دلیل کے سنگین نتائج کی دھمکیاں ، گالیاں اور بلاگرز کی ذاتی معلومات کے ساتھ ساتھ ان کی اهل خانہ کی معلومات اکٹھی کر کے دھمکانے جیسے واقعیات  پیش آے ہیں

متعدد مواقعہ پر مختلف بلاگرز کو سنگین قسم کی دھمکیاں جو بلاگر اور اس کی فیملی کے مطلق تھی ، ایف آئ آر کٹوانے کی درجنوں دھمکیاں ، اور قانونی چارہ جوئی سمیت مختلف قسم کی دھمکیاں شامل ہیں – یہ بات قابل غور ہے کہ لشکر سیٹھی اپنے مشکوک آمدن اور خبروں کے سورسز کے ساتھ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بلاگرز کو دھمکانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کرتا جب کہ دوسری طرف دہشت گردوں کے ساتھ ایسی کسی حرکت کا سوال ہی نہیں اور ان کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں

گالیاں اور مغلظات بکنے والا محمد شہزاد جو کے فرائیڈے ٹائمز کا رپورٹر ہے حال ہی میں اس کو لدھیانوی کے انٹرویو کی وجہ سے لیٹ اس بلڈ پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

اگر ہمارے بلاگرز ذاتی تعصب کا شکار ہوتے تو تو ہم کبھی بھی ایسی پوسٹ نہ پبلش کرتے ماروی سرمد کے دفا ع میں جو خود بھی ہمارے بلاگرز کو ماضی میں دھمکیاں دیتی رہیں ہیں

علی چشتی جو فرائیڈے ٹائمز کا کالمسٹ ہے ، جو خود اسٹیبلشمنٹ کا حمایت یافتہ ہے اور وہ کھل کر سپاہ صحابہ کی حمایت کرتا ہے ، اور بلاسمی کے قانون میں وسعت کا قائل ہے وہ بھی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہمیں دھمکیاں دیتا ہے

یا تو فرائیڈے ٹائمز والے اپنی دہشت گردوں کی حمایت والی روش چھوڑ دیں یا تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں ، ٹیکس ریفارمز ، انرجی پالیسی پر تو ڈسکشن ہو سکتی ہی مگر دہشت گردوں کی حمایت پر ڈسکشن کا کوئی سوال نہیں

اس کے علاوہ اب انھیں یہ روش بھی بدلنی چاہے کہ تنقید کے جواب میں لٹ اس بلڈ پاکستان پر نفرت پھیلانے اور الزام تراشی کے جو الزام بغیر کسی ثبوت کر لگا کر اپنی پالیسیز کا دفا ع کیا جاتا ہے بجاے دلیل کے – آپ کو کسی کالم یا پوسٹ سے جزوی یا کلی اختلاف ہو سکتا ہہے مگر یہ کہنا کہ لٹ اس بلڈ پاکستان نفرت پھیلا رہا ہے ہمیں دباؤ میں لانے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں سمجھا جائے گا



Latest Comments
  1. Abdullah AlFaisal
  2. Binnat-e-Laat
    • Sana Shameem
  3. Aamir
  4. Ahmad