طالب زدہ …..قسط 6

طالب زدہ …..قسط 6

pakistan-jihad-670

اب باری ہے ان وجوہات کو بیان کرنے کی جس کی وجہ سے میں نے جہادی یا مذہبی راستے سے کنارہ کشی اختیار کی_ وہ وجوہات تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ میں کیوں جہاد کرنے کشمیر یا افغانستان نہیں گیا اور کالج تک آنے کا بھی ، اور یہ بھی کہ جب کالج کے سالانہ امتحانات کی تیاری کے لیے ہم واپس گاوں گئے تو میں سیدھا ٹریننگ کرنے مظفر آباد گیا تھا جب ٹریننگ سے واپس آیا تو پہلے پرچے میں لگ بگ بیس دن تھے ، لیکن جیسا کہ میں کہ چکا ہوں کہ لشکر طیبہ کی دنیا دیکھنے کے بعد میرا پڑھایی سے دھیان ہٹ گیا تھا گو کہ کالج میں گزارے چھ سات مہینے اتنے برے نہیں تھے اور کم سے کم اس حد تک تھے کہ دل لگایا جائے ، کیونکہ ہم قبایلی تو پشاور شہر سال میں ایک ہی دفعہ چھوٹی عید کے میلے یا جب کوئی رشتہ دار باہر سے آ رہا ہو تو ائیرپورٹ دیکھنے آتے ہیں باقی تو پشاور ہمارے لیے ایک خواب ہی ہے فرق یہ تھا کہ   اب ایک مسلسل رہنا بھی اس قدر اچھا نہیں لگ رہا تھا جیسا کے ہونا چاہے تھا ، اور یہ بھی کہ آزادی بھی کافی مل گی تھی لیکن …نہیں…چین نہیں آرہا  تھا

امتحانات ہوے اور سیکنڈ ایر کی کلاسز شروع ہونے تک کی چھٹیوں پر گاوں گئے ،یہاں یہ بتاتا چلوں کہ یا تو میری یہ راۓ ہوسکتی ہے یا صرف مجھے ہی ایسا لگتا ہے یا شاید آپ بھی اس بات کو مانتے ہوں کہ جہادی تنظیم اور طالبان کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد جذبات اور تنظیمی لگاو میں بہت فرق ہوتا ہے ،طالبان آپ کی برین واشنگ کرتے ہیں جبکہ جہادی تنظیموں کے ٹریننگ میں برین واشنگ نہیں ہوتی ، یا کم سے کم ان کورسز میں نہیں ہوتی جو میں نے کے تھے اور میرے بیشتر جاننے والوں نے ،اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں ،

ایک یہ کہ طالبان کے ساتھ آپ کو چوبیس گھنٹے رہنا ہوتا ہے تو اور آپ ہر وقت کسی نہ کسی مشن پے ہوتے ہیں ، جیسے اگر افغانستان جا کر لڑنا ، وہاں نہیں تو پاک آرمی کے ساتھ ، وہ بھی نہیں تو مقامی طور پر کچھ سر پھرے لوگوں کو ڈرا دھمکانا اور باز نہ آنے پر ختم کرنا اور ان سب کے ساتھ ایک مسلسل جاری رہتا سلسلہ اغوا براۓ تاوان رکھنا ، (طالبان سے متعلق سارے واقعات و حالات بہت جلد آپ کی نظر کرونگا ) تو اس لیے طالبان اور تنظیموں سے جڑے افراد کی ترجیحات کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات میں بھی فرق ہوتا ہے ،

کیونکہ تنظیم کے لوگ پاکستان کے خلاف نہیں لڑتے اور نہ ہی ایک میرے جیسا عام ٹرینی  براہ  راست کسی بھی طور  کسی اینٹی اسٹیٹ ایکٹیویٹی میں انوولو نہیں ہوتا اور میری عمر بھی تب ایسی تھی کہ مجھے دین سے دور جانے یا وہ راستہ چھوڑنے میں کسی کو زیادہ دقت نہ کرنی پڑھتی ، لیکن جیسا کہ میں کہ چکا ہوں کہ فلحال میں کافی مذہبی تھا -تو جب میں چھٹیوں پہ گاوں گیا تو ان دنوں میں کوئی ایسی خاص ایکٹیویٹی نہیں کی ، بس زیادہ تر گھر ، مسجد ، ایک تبلیغی سہ روزہ،  اور دوبارہ کالج آ گئے سیکنڈ ایر کی کلاسسز لینے –

جیسا میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ کالج ہمارا ایک پرائیویٹ اور کو ایجوکیشن والا ادارہ تھا لیکن ایک تو دینی جذبات اور دوسرا قبایلی یا گاوں اور شہری سوچ میں زمین و آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے میرے معاملات  کالج کی کسی لڑکی سے سلام دعا سے آگے نہیں بڑھے ، کئی اور قابل ذکر چیزیں بھی تھیں جو کہ رکاوٹ تھیں جن میں ایک تو میری نئی نویلی ان ٹچ خالص  چھوٹی چھوٹی داڑھی ، پینٹ کو حد سے زیادہ اوپر باندھنا (آج جب تصویریں دیکھتا ہوں تو یہ وجہ بھی بہت بڑی لگتی  ہے ) اور بہت ہی اہم  وہ سوچ جو ہم گاوں والے شہری لوگوں کے لیے رکھتے ہیں ، مطلب یہ صرف ایک خواب ہی ہو سکتا ہے کہ ایک شہر میں پلنے والی لڑکی کیسے گاوں کہ ایسے میں ماحول میں گزارا کر سکےگی جہاں ہر شام کو اس نے تندور پے روٹیاں اور صبح صبح کنویں سے سارے گھر کا پانی بھرنا ہو ؟تو اسلیے اگر ایسا کوئی خیال آتا بھی  تو جھٹک دیتا ،

جن دوستوں کوصرف  طالبان اور یا اس مذہبی جنونیت جس کے لیے یہ تحاریر شروع کی ہیں ،، میں دلچسپی ہے تو وہ یہاں سے تحریر پڑھنا بند کردیں اور اگلی قسط میں وہ چیزیں شروع کررہا ہوں تو اس کا انتظار کریں ، باقی کے لیے فلحال وہ پہلی وجہ بیان کرنے لگا ہوں جس کی وجہ سے بہت سے گناہوں کی لذّت چکی تھی ،

سیکنڈ ایر کے کلاسسز شروع ہوئیں تو ہماری کلاس میں ایک لڑکی کسی دوسرے کالج سے مائیگریشن کر کے ائی تھی ، میرے ذہن میں لشکر طیبہ بھی تھا، جہاد بھی ، قران بھی، گاوں والی سوچ بھی اور حافظ  سعید بھی ، لیکن نہیں ، کچھ کام نہیں کررہا تھا ، زمین و آسمان کا فرق بھی نظر آ رہا تھا کہ وہ کیسے تندور ، لوٹے ، بالٹی ، بندوق ، پہاڑ ؟؟؟….لیکن آپ سب پڑھنے والے شہری لوگ ہیں ، سچ سچ بتایں ، کیا ایسے میں پھر دل ، دماغ، دین، ایمان ، نماز تعویذ کی چلتی ہے ؟یقیناً نہیں چلتی ، یا کم سے کم میرے کیس میں تو بلکل نہیں چلی ، یہاں اس کا ذکر تھوڑا زیادہ اسلیے کرنا چاہونگا کہ وہ کمال, اور میرا پہلا عشق تھا ،

فوجی افسر  کی بیٹی تھی ، تو اندازہ لگا لیں کہ ایک عام شہری بندے اور فوجی خاندانوں کی سوچ میں بھی کافی فرق ہوتا ہے تو پھر ایک حافظ سعید اور مسعود اظہر  کو آئیڈیل ماننے والے کا شاہ رخ خان اور مادھوری کے مداحوں کے اپروچ میں کتنا فرق ہوگا ؟لیکن خیر ٹھانی یہی کہ کسی نہ کسی طرح اپنی طرف سے ٹھیک ٹھاک کوشش کرنی ہے

،اس معاملے میں مجھے ایسے لوگوں کی مدد درکار تھی جو کہ تجربہ کار بھی ہوں اور مخلص بھی ، اسلیے سب سے پہلا مشورہ اپنے ہی علاقے کے روم میٹ سے کیا جسکو تجربہ تو کوئی نہیں تھا پر اخلاص پے  کوئی شک نہیں تھا اس کے ، اور اس نے نصیحتوں کے انبار لگا دیے، مجھے میرا ماضی قریب ، خاندان اور علاقہ سب یاد دلایا پر میں نے کہا بچے بات تھوڑی آگے جا چکی ہے ،وہاں سے نا امید ہو کے یہی سوچا کہ شہریوں کو شہری ہی سمجھتے ہیں ، اسلیے ایک شہری دوست کی خدمات حاصل کیں جس نے پہلا دھماکہ کرتے  ھوے کہا کہ داڑھی سے ہاتھ دھو لو ،،،،،مجھے کمال غصّہ آیا اور ایک سہ روزہ کے ساتھی امیر صاحب کی بات بار بار یاد آتی تھی کہ ”یہ داڑھی کے بال میرے دل سے نکلے ہیں ، گردن تو کٹ جاےگی پر داڑھی نہیں ” …اسلیے میں بھی نے  فیصلہ کیا کہ جو بھی ہو داڑھی نہیں کاٹنی ……”اور دوسرے ہی دن کاٹ دی” ، اور شرمندگی ایسی کہ جس کے لیے کاٹی تھی سب سے زیادہ وہی ہنس رہی تھی ،

گھر اور خاندان میں کیا کیا کہا اور سمجھا گیا میرے بارے میں وہ ایک الگ داستان ہے لیکن بہرحال قربانی کافی حد تک رایگاں جاتی نظر آی تھی ، لیکن اسی دوست نے حوصلہ دیا کہ شروع شروع میں سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے آھستہ آھستہ تمھاری جھجھک اور انکا ہنسنا ختم ہوجاےگا اور وہ ٹھیک کہ رہا تھا ، اس دن سے لیکر آج تک مجھے کبھی بھی چہرے کے بالوں پے کوئی رحم نہیں آیا  اور نہ کبھی کسی نے مزاق اڑایا،

 اس سے بات کرنا تو فلحال نا ممکن تھا لیکن مرشد نے کہا کہ اب اسکی پسند نا پسند کے بارے میں جانو جس میں پہلی چیز موسیقی آتی ہے .،موسیقی سے میرا تعلّق ایسا ہی رہا تھا جیسے  پیر سیفر الر حمن اور پریانکا چوپڑا  کا ، یعنی کوئی نہیں ، گو کہ کی دوست سنتے تھے لیکن حرام ہونے کی وجہ سے میرے روح کی خوراک فلحال تلاوت ، اذان اور تقاریر ہی رہیں تھیں –

آخر ہمّت کر کہ اسی دوست نے ایک اور لڑکی کی مدد سے معلوم کر ہی لیا کہ اس کی پسند کیا ہے، تو ایسے ایسے نام جن کے بارے میں بارہویں جماعت میں ہوتے ہوے میرے جیسا بندا  صرف سوچ  سکتا ہے ، مَثَلاً عابدہ پروین، غلام علی، وغیرہ ، مطلب اپنی عمر سے تقریباً تیس سال آگے جا رہی تھیں وہ مہ جبیں ، کیونکہ میں اپنی تمام تر کوشش کے باوجود کمار سانو سے آگے نہیں گیا تھا ، آج بھی سوچتا ہوں کہ تیرہ چودھ سال پہلے اسکی چوائس عابدہ پروین تھی تو آج کل کونسی انتہاوں کو چو رہی ہوگی ؟…خیر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ عشق ناکام ہوگیا ، لیکن میری زندگی میں ایک بھرپور رنگین اضافہ کر کے ، گو کے رونا دھونا بڑا ہوا دل پے چوٹ کھا کے لیکن چونکہ ایک باب کھل گیا تھا اور شہر کی زندگی اور شہر میں ڈھلنے کا عمل اچھا لگا تھا تو دوسری جگہ قربان ہونے میں صرف بیس دن کا وقت لگا ، اور اس کے بعد عشق میں ناکامیوں کا سلسلہ شادی پر جا کر منتج ہوا ،

 تو عرض یہ ہے کہ مجھے راہ نجات پر لانے میں پہلا کردار یا پہلی وجہ ”عشق مجازی ” تھا ،

 جیسا کہ اوپر کہا ہے کہ وہ تمام خونی اور مذہبی درندگی والے وجوہات اگلی قسط سے شروع کرونگا کیونکہ وہ شاید اس ہلکی پھلکی تحریر میں اچھے نہ لگیں تو یہاں موقع پا کر میں اپنے اس عشق ، محبّت ، عقیدت اور ہر پختون کے جگر کے ٹکڑے کا ذکر بھی کرنا چاہونگا جو کہ آج کل لہو لہان اور بہت بے بس ہے …”پشاور”

 پشاور سے میں اپنے والدین جتنی محبّت کرتا ہوں ، یہاں کے اصل باشندے حالانکہ پٹھان نہیں ہیں پر ہر پختون کو اس سے اتنی محبّت ہے کہ ………میں جب کالج ، پھر اس کے بعد یونیورسٹی اور بعد میں مستقل رہایش کے بعد بھی اگر ایک دن کے لیے بھی باہر جاوں تو واپس آکر دل کرتا ہے کے اس کے خیبر بازار کو جھپیاں دوں، اس کے صدر ، قصّہ خوانی ،پیپل منڈھی اور فردوس میں پاگلوں کی طرح دوڑوں، گوموں ، ناچوں….. ایسا لگتا ہے جیسے میں اپنی ماں سے دور گیا تھا اور واپس آ کے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ہے ، ہر بلا اور خطرے سے محفوظ ہوں ،…

آج بھی جس جگہ میں ہوں ، یہاں جتنی مجھے اپنی ماں کی یاد آتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ پشاور کی ، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میری ماں صحت مند اور محفوظ ہے پر میرے پشاور کے پورے جسم پر سنگین زخم آے ہیں …پشاور کو کینسر ہوگیا ہے

نوٹ :-  یہ سطور کسی کی بوریت کی وجہ بنے ہوں تو پیشگی معذرت ، لیکن بتانے کی کوشش صرف یہی کی ہے کہ پختون   پیار بھی  کر سکتے ہیں ، جینا بھی چاہتے ہیں اور امن بھی

طالب زدہ—–قسط 5

https://lubpak.com/archives/257271

 

طالب زدہ —-قسط 4

https://lubpak.com/archives/257277

 

طالب زدہ -قسط 3

https://lubpak.com/archives/257285

طالب زدہ -قسط 2

https://lubpak.com/archives/257291

1طالب زدہ – قسط

https://lubpak.com/archives/257297


2 responses to “طالب زدہ …..قسط 6”

  1. داڑھی ختم کرنے اور شیو بنانے کو تم نے “راہ نجات ” لکھا ہے ،

    اب بھی اگر کوئی تمھاری چال نہ سمجھے تو کیا کہنگے۔

    گمراہ ، مرتد اور زندیق کے الفاظ ہونے چاہیئے تمھارے لئے، کیونکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت اور ایک دینی شعار کو راہ نجات کہا ہے ۔

    استغفراللہ

    لعنت ہے تمھاری سوچ پہ اور ان غیر کے مقلدوں پہ جو تمھاری ان خرافات کو اپنی پیج پہ شائع کر رہے ہیں۔