(Muhammad Faisal Younus) حقوق نسواں اور پاکستانی معاشرہ – محمّد فیصل یونس

کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں ایک ریلی نکالی گئی جس کا مقصد خواتین کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا تھا. یہ ریلی کافی کامیاب رہی اور ملک کے روشن خیال حلقوں کی جانب سے پزیرائی بھی حاصل ہوئی. لیکن دوسری جانب قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا. اس ریلی میں دو پلے کارڈز میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ایک پر لکھا تھا “میرا جسم میری مرضی” جبکہ دوسرے پلے کارڈ پر لکھا تھا “خود کھانا گرم کرلو” بس پھر کیا تھا، الباکستانیوں کو تو موقع درکار تھا ان پلے کارڈز اٹھانے والی خواتین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا. مدرسے میں پڑھنے والے ہوں یا اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے کوئی پیچھے نہ رہا حتی کہ اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا دی گئیں. کسی نے طوائف کہا، تو کسی نے گشتی، تو کسی نے رنڈی تو کسی نے دھندہ کرنے والی. مختصراً چند دنوں کے اندر ایک اسلامی اٹیمی طاقت کی جغرافیائی حدود میں رہنے والوں نے ثابت کردیا کہ ان کا اخلاقی معیار کتنا بلند ہے. مشہور دانشور اوریا مقبول جان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور ان خواتین کو طوائف قرار دیا. یہ وہی اوریا مقبول جان ہیں جن کی آنکھوں کو چوبیس گھنٹے عریانیت نظر آتی ہے. یہ اکثر ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر خواتین کو بڑے مفید مشورے دیتے ہیں مثلاً خواتین کو گھر کی چار دیواری میں ہی رہنا چاہیئے اگر وہ گھر سے باہر نکلے گیں تو ان کے ساتھ “کچھ برا” ہوسکتا ہے جس کے لئے وہ خود زمہ دار ہوگیں. موصوف ایک پروگرام میں ڈھکے چھپے لفظوں میں خواتین پر تشدد کی حمایت بھی کرچکے ہیں. گو کہ ان کی اپنے گھر کی خواتین ان کی خود ساختہ شریعت سے کوسوں دور ہیں. ان کی بیٹی نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں جبکہ زوجہ محترمہ ایک تعلیمی ادارے میں لیکچرار کے فرائض انجام دیتی ہیں

  

 
سوشل میڈیا پر بیشتر افراد بشمول خواتین نے ” میرا جسم میری مرضی” کا جواب دیا “میری آنکھیں میری مرضی” ان تمام جوابات کا لب لباب یہ تھا کہ عورتیں اپنے اوپر ہونے والی جنسی زیادتی، جرائم یا چھیڑ چھاڑ کی خود زمہ دار ہوتی ہیں کیونکہ یہ تو ان کا لباس نامناسب ہوتا ہے یا ان کا مزاج ضرورت سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے یا ان کی چال نامناسب ہوتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے نیک اور صالح مرد حضرات اشتعال میں اجاتے ہیں اور ان خواتین کے ساتھ “نامناسب حرکت ” کر بیٹھتے ہیں. دراصل بس اتنا ہی کہنے کی کثر باقی تھی کہ عورتیں سانس کیوں لیتی ہیں، عورتیں ہنستی اور مسکراتی کیوں ہیں اور آخر پیدا ہی کیوں ہوتی ہیں، کیونکہ اگر وہ پیدا ہوگیں تو بڑی بھی ہوگیں اگر بچپن میں کسی مجاہد کے ہاتھ سے بچ گئیں تو بڑی ہوکر کسی نیک مومن مرد کے جزبات کو اشتعال دلانے کا سبب بن جائیں گی اس لئے سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ایک عورت کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی دوسری دنیا پہنچادیا جائے. اگر دیکھا جائے تو الباکستانی مومنین اور قبل اسلام سے پہلے عربوں کی سوچ میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا. پہلے بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا اور آجکل خواتین کے حق مانگنے پر ان کی زندگیوں کو موت سے بدتر بنادیا جاتا ہے. کبھی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے پر بھائی بہن کو گولی مار دیتا ہے. کبھی رشتہ سے منع کرنے پر لڑکی پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے کبھی گول روٹی نہ بنانے پر باپ بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے


سوشل میڈیا پر”میرا جسم میری مرضی” اور “خود کھانا گرم کرلو” جیسے نعروں کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں سے جو اپنے آپ کو اسلام کا ٹھیکیدار بھی سمجھتے ہیں کم از کم یہ تو بتادیں کہ کون سا آسمانی صحیفہ یہ طے کرتا ہے کہ امور خانہ داری عورت کی زمہ داری ہے یا عورت کے فرائض میں شامل ہے. اسی طرح اگر آپ کے بقول کوئی عورت” نامناسب حالت” میں آپ کو نظر آتی ہے تو کون سا آسمانی صحیفہ آپ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ آپ انسان سے حیوان بن کر اس عورت کی تزلیل کریں یا اس کی زندگی اجیرن کردیں. اس قوم کے سوچنے کا ڈھنگ دیکھ کر یہ تعجب نہیں ہوتا کہ خواتین کے لئے دنیا میں خطرناک ترین ملکوں میں ہمارا نمبر تیسرا ہے اور قربیا پچاسی فیصد سے زائد خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عورت کو انسان نہیں بلکہ گوشت کا ٹکرا سمجھا جاتا ہے. کوئی اس کو ٹافی سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی چلغوزے سے جس کے جزبات و احساسات نہیں، جس کو ہنسنے بولنے کا حق نہیں، جس کو خوش ہونے کا حق نہیں، حتی کہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کا حق نہیں اور جو خواتین اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں انہیں گشتی، طوائف، رنڈی اور بازاری عورت کے القاب سے نوازا جاتا ہے

الباکستانی مومنین کی اخلاقیات سے تو وہ خواتین تک محفوظ نہیں ہیں جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کے زریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ان میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی منیبہ مزاری کا نام سرفہرست ہے. ایسے پاکستانیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو ان خواتین کی خدمات کی قدر کرتے ہیں ورنہ بحثیت مجموعی الباکستانی قوم ان خواتین کو انہی الفاظ میں یاد کرتی ہے جس کا تزکرہ اوپر کیا گیا ہے. خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے اور اس کے لئے خواتین کو ہی زمہ دار قرار دینے والے غیرت مند مرد حضرات جب سر زمین مغرب پر قدم رکھتے ہیں تو خواتین کو مختصر ترین لباس میں بھی ملبوس دیکھ کر انکے مومنانہ جزبات اشتعال میں نہیں آتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ ان کی ایک نامناسب حرکت نہ صرف انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتی ہے بلکہ ان کا پورا کیریئر تباہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دھکے مار کر اپنے وطن واپس بھیج دیا جائے چنانچہ ایک سچے مسلمان کی طرح نظریں جھکائے گزر جاتے ہیں

 جہاں ان خواتین کے لئے ہر طرف سے گندی اور فحش گالیوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی وہاں کچھ آوازیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے ریلی میں شامل خواتین کی صحیح اور مناسب ترجمانی کی ان میں سے ایک آواز مشہور زمانہ بلاگر محترم جناب سلمان حیدر صاحب کی تھی جنہوں نے “میرا جسم میری مرضی” والے نعرے کی بڑی مناسب اور جامع تشریح کی جس کو مختصراً کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ عورت بھی مرد کی طرح ایک انسان ہے جو ان تمام جائز حقوق کی حقدار ہے جو مردوں کو حاصل ہے اور بحثیت ایک عورت، عزت و تکریم اس کا حق ہے کوئی رعایت نہیں. کاش اس قوم نے فرقہ پرست مولویوں کی اندھی تقلید کے بجائے کچھ وقت نکال کر اگر اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھا ہوتا تو آج پاکستان خواتین کے لئے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک نہ ہوتا. ضرورت اس بات کی ہے جید علماء، اساتذہ اور دانشور آگے آئیں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں معاشرے میں آگاہی پیدا کریں اور ساتھ ہی خواتین کے تحفظ کے لئے سخت قوانین کو تشکیل دیا جائے ورنہ آنے والے وقتوں میں پاکستانی خواتین گھر کی چار دیواری میں بھی محفوظ نہیں ہوگیں

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. Attika
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*