ممتاز مفتی کی “الکھ نگری” ۔ اجمل کمال


ممتاز مفتی کی ’’الکھ نگری‘‘ بلاشبہ ایک نہایت غیرمعمولی کتاب ہے ۔۔ کم و بیش اتنی ہی غیرمعمولی جتنا اس کا مصنف ہے یا اس کا موضوع۔ اسے ممتاز مفتی کی خودنوشت سوانح حیات کے دوسرے حصے کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ اس سوانح حیات کی پہلی جلد، جسے ’’علی پور کا ایلی‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا،۱۹۶۰ء کے عشرے میں شائع ہوئی تھی۔ ’’ایلی‘‘ کو بڑی عجلت میں شائع کیا گیا تھا تاکہ یہ کتاب اس سال کے آدم جی ایوارڈ کی حقدار ہو سکے۔ سرورق پر ’’آدم جی انعام یافتہ‘‘ کی سرخی کے ساتھ اسے ناول کا باریک نقاب اُڑھایا گیا تھا کیونکہ نوبیل انعام کے اس مقامی نعم البدل کو غالباً خودنوشت سوانح عمریوں کی کوئی خاص پروا نہیں تھی۔ یہ الگ قصہ ہے کہ آخرکار جمیلہ ہاشمی کے ناول ’’تلاش بہاراں‘‘ کو اس اعزاز کا زیادہ مستحق سمجھا گیا۔ دونوں کتابوں کے درمیان مقابلہ نہایت ولولہ انگیز رہا ہو گا، کیونکہ ادبی معیارکے لحاظ سے دونوں ایک دوسرے کی ٹکر کی تھیں۔ کچھ بھی ہو، موقع ممتاز مفتی کے ہاتھ سے نکل گیا اور ’’ایلی‘‘ کو ایک ایسے ناول کے طور پر شہرت حاصل ہوئی جسے، بقول ابن انشا، آدم جی انعام نہیں ملا۔ اس کے باوجود ممتاز مفتی کو ان نک چڑھے نقادوں کی رائے سے متفق ہونے میں تیس برس کا عرصہ لگا جن کا خیال تھا کہ ’’ایلی‘‘ ناول نگاری کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ ۱۹۹۱ء میں شائع ہونے والے ایڈیشن میں آخرکار یہ انکشاف کیا گیا کہ دراصل ’’ایلی‘‘ ممتاز مفتی کی خودنوشت سوانح عمری کا پہلا حصہ تھا۔
سوانح عمری کے زیرتبصرہ دوسرے حصے پر نظر ڈالتے ہی معصوم پڑھنے والا حیرت سے دوچار ہو جاتا ہے، کیونکہ عموماً ایسا دیکھنے میں نہیں آتا کہ کسی شخص کی خودنوشت سوانح عمری کے سرورق پر کسی اور شخص کی تصویر کو زیبائش کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ لیکن ممتاز مفتی کے بقول ان کی کتاب کے سرورق پر قدرت اللہ شہاب کی ریٹائرڈ نورانی صورت کا جلوہ گر ہونا ہی عین مناسب ہے۔ دیباچے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ممتاز مفتی نے اپنی زندگی کے پہلے نصف میں عورت کو دریافت کیا، جبکہ دوسرے نصف میں ان کی دریافت قدرت ﷲ شہاب کی ذات تھی۔
عام لوگوں کے ذہن میں شہاب کا تصور ایک کہنہ مشق بیوروکریٹ کا ہے جس نے چاپلوسی کے فنِ لطیف میں اپنی مہارت کی ابتدائی منزلیں غلام محمد اور اسکندرمرزا کے شفیق سائے میں طے کیں، اس سے پیشتر کہ انھیں جنرل (بعد میں فیلڈمارشل) کی سرکاری کٹلری میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہو سکے۔ پبلک شہاب کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیراہتمام شائع ہونے والے اخباروں (پاکستان ٹائمز، امروز اور ہفتہ وار لیل و نہار) پر سرکاری قبضے اور پاکستان کی ادبی تاریخ کے عجوبے یعنی رائٹرز گلڈ کے قیام جیسی نادر ترکیبوں کے اصل خالق کے طور پر جانتی ہے، اور اس میدان میں شہاب کی ذہانت کا مقابلہ ایک ایسے ہی عجیب الخلقت ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کے خالق یعنی الطاف گوہر سے ہو سکتا ہے۔ مفتی کا بہرحال یہ کہنا ہے کہ پبلک کو کچھ پتا نہیں۔
’’الکھ نگری‘‘ کے مطالعے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ شہاب دراصل ان معدودے چند رازوں میں سے ایک تھے جو کائنات میں روزِ ازل سے آج تک وجود میں آئے ہیں۔ شہاب نے جو کام کیے، یا جن کاموں کی انجام دہی میں کلیدی کردار ادا کیا، احمق پبلک اپنی ناقص عقل کے ساتھ ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ مثال کے طور پر، پڑھنے والا سانس روک کر پڑھتا ہے کہ ہمارے پاک وطن کے دارالحکومت کو کراچی سے پاک وطن کے قلب کے نزدیک ۔۔ یعنی شمال کی جانب اسلام آباد ۔۔ منتقل کرنا شہاب کا کارنامہ تھا۔ یہ فیصلہ بھی تن تنہا شہاب نے کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی جمہوریہ کہا جائے گا، اور اس سلسلے میں فیلڈمارشل کی خودساختہ کابینہ کے تمام ارکان کی مخالفت کو پرِکاہ سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی۔ شہاب ہی نے فیلڈمارشل کو اقبال کا خودی کا تصور سمجھایا، اور بےچارے کو پُھسلا کر اس مسیحا کا روپ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جس کی اس بدقسمت اسلامی جمہوریہ کو اس قدر شدید ضرورت تھی۔ شہاب ہی نے، آئین سازی کے چند سانڈنی سوار روحانی ماہرین کی مشاورت سے، ۱۹۶۲ء کا حسین آئین تیار کیا تھا۔ شہاب نے اس بات کا نہایت خوبی سے بندوبست کیا کہ فیلڈمارشل کو بابوں، درویشوں، بےروزگار وکیلوں اور اسی قسم کے دوسرے روحانی عاملوں کے ذریعے آسمانی رہنمائی اور حفاظت متواتر حاصل رہے۔
چونکہ شہاب کو خود بھی ’’نائنٹی‘‘ جیسی پراسرار ہستیوں کی طرف سے آسمانی رہنمائی حاصل رہتی تھی (اس کی تفصیل کے لیے ’’شہاب نامہ‘‘ سے رجوع کیجیے جو ایک اور نادرروزگار خودنوشت سوانح عمری ہے) اس لیے انھوں نے وسیع تر قومی مفاد میں اور بہت سے کارنامے انجام دیے ہوں گے جن کی بابت شاید میں اور آپ کبھی نہ جان سکیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ اس وقت ظہورپذیر ہوا جب انھوں نے بھیس بدل کر، اوورکوٹ میں ملفوف، پیشانی پر جھکا ہوا فیلٹ ہیٹ پہنے، اپنے سگار لائٹر میں ایک ننھا سا کیمرا چھپائے، بقول ممتاز مفتی ’’ﷲ کے زیرو زیرو سیون‘‘ کی حیثیت سے، اسرائیل کا دورہ کیا۔ اگرچہ شہاب نے اپنا یہ سفر، جو براہ راست آئن فلیمنگ یا ابن صفی کی نگارشات سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے، بظاہر اس مقصد سے اختیار کیا تھا کہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ مقبوضہ علاقوں کے اسکولوں میں پڑھنے والے فلسطینی بچوں کی تعلیم کے لیے اسرائیلی حکام یونیسکو کی منظورکردہ درسی کتابیں استعمال نہیں کر رہے ہیں، لیکن ’’الکھ نگری‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشن محض اصل بات کے پردے کی حیثیت رکھتا تھا۔ شہاب کا اصل مقصد دراصل مسجدِ اقصیٰ میں ایک رات بسر کرنا تھا، اور ظاہر ہے کہ انھوں نے اپنا یہ مقصد اسرائیل کے پورے سکیورٹی کے نظام کو ناکام بنا کر پورا کر لیا۔ لیکن آخر وہ مسجدِ اقصیٰ میں رات بھر قیام کیوں کرنا چاہتے تھے؟ ممتاز مفتی نے بالاًخر یہ راز فاش کر دیا ہے۔ شہاب کو ایک پراسرار اور irreversible مابعدالطبیعیاتی عمل شروع کرنا تھا۔ شہاب نے اس عمل کی ابتدا باقاعدہ ایک عمل پڑھنے کے ذریعے کر دی ہے جو ایک نہ ایک دن ریاست اسرائیل کو نیست و نابود کر ڈالے گا۔ چنانچہ جب یہ مبارک دن آئے تو آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا سہرا اسی کے سر پر باندھیں جو اس کا مستحق ہو۔ اسرائیل کے نیست و نابود ہونے کا پی ایل او، فلسطینی جدوجہد اور انتفاضہ جیسی معمولی چیزوں سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
مجھ جیسے یا آپ جیسے عام پڑھنے والے کے لیے یہ سب کچھ قبول کرنا شاید دشوار ہو، جس کی وجہ ظاہر ہے یہ ہے کہ ہمیں اس غیرمعمولی کتاب سے نبردآزما ہونے کی مطلوبہ تیاری میسر نہیں۔ ’’الکھ نگری‘‘ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہمیں کچھ ابتدائی مطالعہ کرنا ہو گا۔ قدرت اﷲ شہاب کا ’’شہاب نامہ‘‘، ممتازمفتی کی ’’لبیک‘‘، بےمثال ادیب اشفاق احمد کی ’’ذکرِ شہاب‘‘ اور ’’سفردرسفر‘‘ اور شہاب کی بیگم اور اتنی ہی بےمثال ادیبہ بانو قدسیہ کی ’’مردِ ابریشم‘‘ اس سلسلے میں لازمی مطالعے کا درجہ رکھتی ہیں۔ اگر آپ ان عظیم میاں بیوی کے متصوفانہ ٹی وی کھیلوں سے جاں بر ہونے کا حوصلہ اور صبر رکھتے ہیں تو آپ کو بلاشبہ کائنات کے اس عظیم راز کا سامنا کرنے کی، جس کا نام قدرت ﷲ شہاب ہے، زیادہ بہتر صلاحیت حاصل ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر’’الکھ نگری‘‘ کے مطالعے کی تیاری کے لیے ہمیں وہ سب کچھ اَن سیکھا کرنا ہو گا جو مغرب کے سائنسی اور سماجی علوم کے ذریعے ہمارے ذہنوں کو آلودہ کرتا رہا ہے۔ بےشک یہ ایک دشوار کام ہو گا، لیکن اگر آدمی کوئی کام کرنے کی ٹھان لے تو کوئی چیز ناممکن نہیں۔ مثال کے طور پر تاریخ کو لیجیے۔
اکثر لوگ اس عام غلط فہمی کا شکار معلوم ہوتے ہیں کہ قرارداد پاکستان ۱۹۴۰ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی اور پاکستان کا قیام قائداعظم کی قیادت میں ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس سے زیادہ بعیدازحقیقت بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے قیام کا فیصلہ اس سے بہت پہلے اس وقت ہو چکا تھا جب مسلم لیگ کو اس کا خیال تک نہ آیا تھا، اور یہ فیصلہ غالباً آسمان اور زمین کے درمیان واقع کسی مقام پر ایک ایسے اجلاس میں ہوا تھا جس میں بابے، قطب، درویش اور فقیر شریک ہوے تھے، اور اس اجلاس کی صدارت ’’سرکار قبلہ‘‘ نامی ایک بزرگ نے کی تھی جن کی روحانی صلاحیتیں خاصی قابل لحاظ ہیں اور جن کا مزار (تعجب کا موقع نہیں) موجودہ اسلام آباد کے قریب واقع ہے۔ اسی طرح ممتاز مفتی نے ریڈکلف اور نہرو کے گٹھ جوڑ کو گورداسپور کی مشرقی پنجاب میں بظاہر غیرمنصفانہ شمولیت اور کشمیر پر بھارت کے بزور قبضے کی ذمہ داری سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ دونوں فیصلے، مفتی کے مطابق، خدائی دانش نے کیے تھے۔ تو پھر اس میں حیرت کی کیا بات ہے کہ پچاس برس گزرنے کے باوجود کشمیر کے مسئلے کے حل ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ جن لوگوں کو کشمیری مجاہدین کہا جاتا ہے وہ ممتاز مفتی کے خیال کی رو سے ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آخر خدائی دانش کے کیے ہوے فیصلے کو کون بدل سکتا ہے؟ اسی طرح ۱۹۴۷ء کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے جنونی ہندو اور سکھ نہیں تھے۔ یہ بھی اسی خدائی دانش کا کیا ہوا فیصلہ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد کو شہیدوں میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ وہ ایک روحانی فوج کے طور پر واگہ کی سرحد کی حفاظت کے فرائض سنبھال سکے۔ ممتاز مفتی نے، جو خود اس روحانی فوج میں بھرتی ہونے سے بال بال بچ گئے، یہ راز فاش نہیں کیا کہ یہ بھرتی جبری تھی یا اختیاری۔
مذموم مغربی تعلیم نے ہمارے ذہنوں کو اس حد تک پراگندہ کر دیا ہے کہ ہم عجیب و غریب خیالات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ مثلاً بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اپنے قیام کے بعد سے ہمارا پاک وطن سیاسی، اقتصادی، تاریخی، جغرافیائی اور دیگر انسانی عوامل کے زیراثر رہا ہے! ایسا سوچنے والے بلاشبہ پرلے درجے کے احمق ہیں۔ پاکستان کو درحقیقت اس ماسٹرپلان کے تحت چلایا جا رہا ہے جسے سرکار قبلہ نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ تیار کیا تھا اور جس کی تیاری میں ان کو کائنات کی ان پراسرار قوتوں کی عملی اعانت حاصل تھی جن کا تصور کرنا عام فانی انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ ہم فانیوں کے دماغوں میں سب کچھ اس ناقابل بیان حد تک گڈمڈ ہو چکا ہے کہ بعض لوگ یہ تک خیال کرنے لگے ہیں کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ لڑنے (اور جیساکہ اس وقت کے کمانڈرانچیف جنرل موسیٰ خان نے نہایت سادہ ذہنی سے بتایا ہے) قریب قریب ہارنے والے پاکستان کے عوام اور افواج ہیں۔ ممتاز مفتی کے دماغ میں یہ سب کچھ آئینے کی طرح صاف ہے، کیونکہ ان کی معلومات کا ذریعہ عبدالغفور ایڈووکیٹ ہیں، یعنی امورِ دفاع کے وہ عظیم ترین ماہر جنھیں دنیا نے جانا (یا شاید نہیں جانا)۔ ’’الکھ نگری‘‘ میں صفحہ ۹۴۷ پر ایڈووکیٹ صاحب کے اس خط کا عکس دیا گیا ہے جس میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ پاکستان نے درویشوں کی ایک فوج کی قیادت میں لڑی (اور ظاہر ہے جیتی) تھی جن کو روحانی ایٹمی طاقت حاصل تھی۔ اس انکشاف کی روشنی میں یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ نشان حیدر اور دوسرے اعزازات یقیناً غلط افراد کو دیے گئے تھے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کائنات کی پراسرار قوتوں کو آخر اس بدقسمت ملک کے معاملات سے اس قدر دلچسپی کیوں رہی ہے؟ اس سوال کا نہایت قریبی تعلق بیوروکریٹ کے طور پر قدرت ﷲ شہاب کی زندگی کے عروج و زوال اور ان کے قرابت داروں کی دنیاوی اور روحانی ترقی کے معاملات سے ہے۔ ان مقربین میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ (اور ان کی اولادیں)، ابن انشا، احمد بشیر (مع متعلقین)، جمیل الدین عالی، اور شہاب کے حلقے کے دیگر نامور اور کم نامور افراد شامل ہیں۔ یہ کہنا یقیناً غیرضروری ہے کہ ممتاز مفتی اور ان کے گھروالوں کو خدا کے ان منتخب بندوں میں سب سے نمایاں مقام حاصل ہے، اگرچہ اشفاق اور قدسیہ کا اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
تاہم یہ مسلّمہ امر ہے کہ ہم کائنات کی ان پراسرار قوتوں کے طریقِ عمل کو سمجھنے کی جانب اس وقت تک پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتے جب تک ہم اس کھیل کے پہلے قاعدے سے پوری طرح واقف نہ ہو جائیں۔ اور وہ پہلا قاعدہ یہ ہے کہ ظاہر محض گمراہ کن نہیں ہوتا بلکہ بالکل غلط ہوتا ہے۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ ہمیں یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہو کہ ۱۹۵۰ء کے عشرے میں کائنات کی ان پراسرار قوتوں کو صرف دو چیزوں سے دلچسپی تھی: اسلامی تہذیب کا احیا، اور ممتاز مفتی کی پے فِکسیشن (pay fixation)۔ بھولے بھالے پڑھنے والے کو کچھ اور واقعات بھی حیران کن معلوم ہوں گے، مثلاً کس طرح چار ایک بابے ممتاز مفتی کو نقل مکانی کر کے پنڈی جا بسنے اور شہاب کی ماتحتی میں ایک ایسی ملازمت اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جسے صرف ممتاز مفتی کو کھپانے کے لیے اختراع کیا گیا ہے۔ کس طرح ایک سہانی صبح ایک نہایت موقعے کا پلاٹ خودبخود ممتازمفتی کی جھولی میں آ گرتا ہے، اور بعد میں، سرکاری ملازمت کے بہت سے درجات طے کر لینے کے بعد، جب وہ اس پر ایک مکان تعمیر کرنے کا ارادہ کرتے ہیں (جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں کلہم چودہ ہزار روپے ہیں)، کس طرح شہاب کا بہنوئی اس بات کا ذمہ لے لیتا ہے کہ مفتی اور ان کے لواحقین کو ایک مناسب، پُرآسائش مکان میسر آ جائے۔ ’’ایسے کاموں میں غیبی امداد ہو جاتی ہے۔ شہاب نے سچ کہاتھا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے رقمیں آتی گئیں، انجانے وسیلے پیدا ہوتے گئے، انجانی جگہوں سے رقمیں آتی گئیں‘‘(صفحہ۷۵۵) اور دیکھتے ہی دیکھتے مفتی کا مکان تیار ہو گیا۔
اسی طرح جب احمد بشیر اس کشف سے دوچار ہوتے ہیں کہ ان کے دنیا میں آنے کا واحد مقصد فلم سازی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنا تھا، تو اچانک کہیں سے ایک فیلوشپ اڑن کھٹولے کی طرح نمودارہوتی ہے اور بشیر کو آن کی آن میں اڑا کر امریکہ لے جاتی ہے تاکہ وہ فلمی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی مبادیات سیکھ سکیں (صفحہ۴۹۵)۔ اس آسمانی وظیفے اور اعلیٰ تربیت کے نتیجے میں ’’نیلا پربت‘‘ نامی فلم تیار ہوئی جو دنیا میں متحرک کیمرے کی ایجاد سے آج تک کی عظیم ترین فلم کا درجہ رکھتی ہے۔ جب ابن انشا کو کتابوں کی دنیا سے مستقل طور پر منسلک ہونے کی خواہش محسوس ہوئی تو کائنات کی پراسرار قوتیں نیشنل بک کاؤنسل آف پاکستان کو وجود میں لے آئیں اور انشا نے خود کو اس ادارے کے ڈائرکٹر کے معمولی عہدے پر متمکن پایا۔ یہ درست ہے کہ ابن انشا کو اپنے کام کی تمام دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں ملک ملک کی خاک پھانکنا اور مختلف کتابی موضوعات پر دنیا کے عجیب وغریب مقامات پر ہونے والے بوریت آمیز سیمیناروں میں شرکت کرنا بھی شامل تھا، لیکن کیا کیا جائے، یہ ان کی خواہش ہی کا شاخسانہ تھا۔ شاید کائنات کی انہی پراسرار قوتوں نے ہمارے سب سے زیادہ باصلاحیت ادیب اشفاق احمد کو ایک اتنے ہی علمی ادارے مرکزی اردو بورڈ کی بادشاہی پر فائز کیا۔ اشفاق نے اپنی فطری بذلہ سنجی سے کام لیتے ہوے بعد میں اس ادارے کا نام بدلوا کر اردو سائنس بورڈ رکھوا دیا۔ وہ اپنے معزول کیے جانے تک بورڈ کے تاحیات سربراہ تھے اور اس کے لیے خاص طور پر تعمیر کی ہوئی دومنزلہ عمارت کی زمینی منزل پر وقت گزارتے تھے، جبکہ اس عمارت کی بالائی منزل پر بانوقدسیہ، اس بات سے صوفیانہ طور پر بےنیاز کہ وہ سرکاری طور پر اردو سائنس بورڈ کے عملے کی رکن نہیں ہیں، بیٹھی اپنے بےمثال ٹی وی ڈرامے، ناول اور افسانے تحریر کیا کرتی تھیں جو اردو اور سائنس دونوں میدانوں میں حیرت انگیز اضافوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ خدا کے ان تمام منتخب افراد کی اتنی ہی باصلاحیت اور منتخب اولادوں کا بھی کائنات کی پراسرارقوتوں نے خاص خیال رکھا۔ اس سلسلے میں صرف ابوالاثر حفیظ جالندھری کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ وہ ان دنیاوی فوائد کی درخواست کرنے بنفس نفیس، اپنی ننھی بیٹی کو کاندھے پر بٹھائے، ایک سے زیادہ بار شہاب کے دربار میں حاضر ہوے تھے اور کہا تھا، ’’دیکھ شہاب، میرے لیے بےشک کچھ نہ کر، لیکن اس بچی پر ترس کھا، ورنہ یہ معصوم بچی جوان ہو کر پیشہ کرنے پر مجبور ہو گی‘‘ (صفحہ۴۱۲)۔ چونکہ درویشوں کے رنگ نرالے ہوتے ہیں، شہاب نے اس پر محض اتنا تبصرہ کیا: ’’عجیب آدمی ہیں حفیظ صاحب، خوب آدمی ہیں،‘‘ اور اس کے بعد یہ وطیرہ اختیار کر لیا کہ جب ابوالاثر کو سڑک کے کنارے کھڑے دیکھتے تو گاڑی روکنے کے بجاے اور تیز کر لیتے۔
یاد رکھیے، ظاہر ہمیشہ دھوکا دیتا ہے۔ اگر آپ شہاب کو کبھی ایسی کیفیت میں پائیں جو الکحل کے اثرات سے نہایت قریبی مماثلت رکھتی ہو اور دیکھنے والے صاف صاف کہہ رہے ہوں کہ ’’دی باسٹرڈ اِز ڈیڈ ڈرَنک!‘‘ تو یہ ہرگز مت بھولیے کہ اس نظارے کی ایک چوتھی سمت بھی ہے۔ عین ممکن ہے وہ اس وقت کسی کربناک روحانی واردات (’’چَھلکن‘‘) سے گزر رہے ہوں یا ہالینڈ میں کچھ مدت گزارنے کے باعث ان کے ’’وجدان میں شدت پیدا ہو گئی ہو‘‘ (صفحہ۷۱۶)۔ اگر انھیں ایسی خواتین کو خوش آمدید کہتے دیکھا جائے جو اپنے اخلاقی معیارات کے بارے میں بظاہر زیادہ پُرتکلف یا سخت گیر رویہ نہ رکھتی ہوں اور کسی دفتری مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے شہاب کے پاس آئی ہوں، تو آپ کو چاہیے کہ خود کو متواتر یہ یاد دلاتے رہیں کہ یہ دراصل ’’چمگادڑیں‘‘ ہیں جنھیں کائنات کی پراسرار (مگر شرانگیز) قوتوں نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ شہاب کو سیدھے راستے سے بھٹکانے کی اپنی سی کوشش کر سکیں (صفحہ۴۔۵۷۰ا)۔ اگر شہاب ان عورتوں کو ایک ہی جانماز پر اپنے ’’پہلو بہ پہلو‘‘ کھڑا کر کے اپنے ساتھ نماز پڑھاتے ہوے دیکھے جائیں (صفحہ۵۸۴) تو یہ مت سمجھیے کہ وہ حدود آرڈیننس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں یا کسی قسم کی کجروی کا شکار ہیں۔ وہ تو دراصل ان بےچاری بھٹکی ہوئی عورتوں کو روحانیت کی دنیا سے متعارف کرا رہے ہیں۔ اگر آپ مفتی کو اسلام آباد کے بعض زندہ درویشوں کی مدد سے ایک ضرورت مند خاتون سے شہاب کی پوشیدہ ملاقات کا بندوبست کراتے ہوے دیکھیں (صفحہ۶۔۵۸۵) تو یاد رکھیے کہ ان کا مقصد محض مذکورہ خاتون کی روحانی نشوونما کا خیال رکھنا ہے، اور ساتھ ہی شہاب کی اور ان کی باعفت بیگم کی نشوونما کا بھی۔
اور ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہ کیجیے کہ یہ سب قصے بیان کرنے سے مفتی کا مقصد ان دنیاوی فوائد کے لیے شہاب کے حق میں اظہارِ تشکر کرنا ہے جو ان کو اپنی خدمات کے عوض حاصل ہوے۔ مفتی کی اس تمام قصہ گوئی کا مقصد دراصل شہاب کی اس مرکزی حیثیت کا انکشاف کرنا ہے جو ان کو کائنات میں حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح شہاب اگر فیلڈمارشل کے اس قدر دل دادہ تھے، اور ان کی موجودگی میں یوں باادب کھڑے رہتےتھے جیسے ’’پرائمری اسکول کا بچہ مولوی صاحب کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے‘‘ (صفحہ۵۱۰) تو اس لیے نہیں کہ وہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے، بلکہ وہ درحقیقت ایوب خان کی زیرکی اور بےپناہ ذہنی صلاحیتوں سے متاثر تھے، اور اس میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ فیلڈمارشل جیسے عظیم دانشور دنیا میں خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔ آخر سربراہانِ مملکت کو بھی اپنی چوتھی سمت رکھنے کا حق ہے، یا نہیں؟ شہاب کی زندگی میں صرف دو ہی دیرینہ خوہشیں تھیں: ایک، ’’رسالتمآب کی حیاتِ طیبہ پر کل وقتی کام کرنا‘‘ (صفحہ۶۰۴) اور دوسرے، مناسب وقت آنے پر سول سروس سے ریٹائر ہو کر فیلڈمارشل کے ’’افکار کو پھیلانے اور عام کرنے کے لیے کتابیں لکھنا اور لیکچر دینا‘‘ (صفحہ۶۰۵)۔ شہاب نے اپنے ممدوح کے سامنے کلمۂ حق پیش کرنے میں ذرا بھی جھجھک کا مظاہرہ نہ کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ’’دراصل میرا مشن ہی جنابِ صدر کے افکار اور فلسفے کی تشریح ہو گا۔‘‘ (صفحہ۶۰۵)۔ شہاب کی گوناگوں روحانی مشغولیات نے انھیں مہلت نہ دی کہ وہ اپنی پہلی خواہش پر عمل کر سکتے، البتہ انھوں نے دل لگا کر’’شہاب نامہ‘‘ کی تصنیف کا کام مکمل کر لیا جو فیلڈمارشل کی ذات اور ان کی اپنی ذات دونوں کے حق میں ایک خراجِ عقیدت کے طور پر رہتی دنیا تک باقی رہے گا۔ اس شاہکار کو تخلیق کر کے شہاب نے نہ صرف ادبیاتِ عالم کی دنیا میں لازوال مقام حاصل کر لیا ہے بلکہ اپنے مداح ناقدین کے خیالات کو بھی حق بجانب ثابت کر دیا ہے، جن میں بےمثال نقاد محمد حسن عسکری بھی شامل تھے جنھوں نے شہاب کی ابتدائی تحریروں ہی سے ان کی بےپناہ صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا۔
اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے سنجیدگی سے لینے پر خواہ ہم خود کو آمادہ کر سکیں یا نہ کر سکیں، صہیونی لابی نے اسے یقیناً بےحد سنجیدگی سے لیا۔ صہیونیوں کو جوں ہی پتا چلا کہ ’’کوئی شخص مسجد اقصیٰ میں ایسا عمل کر گیا ہے جو اسرائیل کے لیے تباہی کا باعث ہو گا‘‘ (صفحہ۷۷۶) تو انھوں نے جذبۂ انتقام سے مجبور ہو کر اپنی تاریک شیطانی قوتوں کو شہاب اور ان کے مقربین کی تباہی پر لگا دیا۔ ’’اسرائیلی جادو قدرت اللہ کے خلاف حرکت میں آ گیا۔‘‘ ایک روز جب شہاب پیرس کی ایک سڑک کے کنارے کھڑے ٹیکسی کے منتظر تھے، ایک سیاہ لیموزین ان کے سامنے رکی اور انھیں لفٹ کی پیشکش کی گئی۔ چونکہ ’’اللہ کا زیرو زیرو سیون‘‘ ہونے کے باوجود اس قسم کی کسی ترغیب کی مزاحمت کرنا شہاب کے لیے دشوارتھا، وہ گاڑی میں سوار ہو گئے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوے صہیونی جادوگر کو اپنا کام دکھانے کا موقع مل گیا۔ مفتی ہمیں بتاتے ہیں کہ یہودیوں کے کیے ہوے کالے جادو کے زیراثر شہاب ایک ’’بدبودار گوشت کے لوتھڑے ‘‘ میں تبدیل ہو گئے (صفحہ۷۷۱)۔ شہاب کے مخالفین، جن کی نگاہیں ظاہر کے دوسری طرف دیکھنے سے افسوسناک طور پر قاصر ہیں، کہیں گے کہ وہ یہودیوں کی مداخلت سے پہلے بھی ایسے ہی تھے، لیکن آپ کو چاہیے کہ ان گستاخ لوگوں کی بات کو نظرانداز کر دیں۔ ’’اورجب وہ وطن واپس لوٹا تو وہ آدھا آدمی تھا۔‘‘ یہی نہیں، ’’اسرائیلی جادو کی وجہ سے ڈاکٹر عفت فوت ہوئیں‘‘ (صفحہ۷۷)۔ خود ممتاز مفتی الرجی میں مبتلا ہو گئے۔ شہاب کے کچھ اورعقیدت مندوں کو قسم قسم کے جِلدی امراض نے گھیر لیا۔
اپنے عالیشان دنیاوی کریئر سے ریٹائر ہونے کے بعد شہاب نے اسلام آباد میں ضرورت مندوں کو تعویذ گنڈے تقسیم کرنے کا کام سنبھال لیا، اور مفتی نے اس کام میں اپنی مخصوص مستعدی سے اعانت کرتے ہوے ضرورت مندوں کو گھیر گھیر کر ان کے پاس لانا شروع کر دیا (صفحہ۸۹۸)۔ اس سے جو وقت باقی بچتا اس میں شہاب اپنا شاہکار ’’شہاب نامہ‘‘ لکھتے اور مناسب گریڈ کے شرکا پر مشتمل ادبی نشستوں میں اس کے منتخب حصے پڑھ کر سناتے۔ انھوں نے اسی شہر میں آخری سانس لیا جو ان کی کوشش سے اسلامی جمہوریہ کا دارالحکومت بنا تھا، اور اپنے پیچھے اپنے مقربین کے حلقے کے ارکان کو سوگوار چھوڑا جو اب ان سے صرف خوابوں، روحانی کشفوں اور بابوں کی خفیہ میٹنگوں ہی میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ لیکن، مفتی کو پورا یقین ہے، ایک دن آئے گا، اور پانچ سات برس کے اندر آئے گا، جب دنیا پر’’یہ بھید کھلے گا کہ قدرت اللہ شہاب کون تھا اور وہ کس کام کو سرانجام دینے آیا تھا‘‘ (صفحہ۹۳۴)۔
آئیے ہم سب اس مبارک دن کا انتظار کریں، اور انتظار کے اس وقفے کے دوران اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ نوبیل انعام کے ججوں کو اتنی سوجھ بوجھ عطا کرے کہ وہ مفتی کی ادیبانہ عظمت کا احساس کر سکیں۔ اگر آدم جی ایوارڈ کے منصفین کی طرح وہ بھی خودنوشت سوانح عمریوں کے شائق نہیں ثابت ہوے، خواہ وہ کتنے ہی پُرتخیل انداز میں لکھی گئی ہوں، تو ہم خود کوایک اور خیال سے تسکین دے سکتے ہیں۔ ’’الکھ نگری‘‘ نے کسی شک و شبے کے بغیر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمیں، جو اسلامی جمہوریہ کے شہری ہیں، اظہار کی مطلق اور مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ اسی ملک میں ممکن ہے، دنیا میں کہیں اور نہیں، کہ آپ کسی بھی درجے کی کتاب کے بےباکی سے لکھے جانے، بلاروک ٹوک شائع ہونے اور راتوں رات بیسٹ سیلربن جانے کے عمل کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. zahid
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*