مستونگ بس حملہ: بلوچی بروہی زبان بولنے والے دہشت گردوں نے پشتونوں کو علیحدہ کر کے قتل کیا، عینی گواہوں کی رپورٹ

Mastung

b39
مستونگ میں پشین سے کراچی جانے والے بس پر حملے میں زندہ بچ جانے والے متاثرین نے اپنے بیانات میں بتایا ہے کہ حملہ آور بلوچی بروہی زبان بول رہے تھے اور سب کا تعلق بلوچ قومیت سے تھا – عینی شاہدین نے بتایا کہ بس روکنے والے چار حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھے جبکہ لیویز سیکورٹی کی چیک پوسٹ بسوں کو روکے جانے کی جگہ سے فقط دس منٹ کے فاصلے پر واقع ہے – گواہوں نے بتایا کہ دو بسوں میں سے پچاس ساٹھ سے زائد افراد کو نیچے اتارا گیا اور پشتونوں اور دیگر غیر بلوچوں کو پہاڑوں کی طرف لے جا کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا – پشتون اور سرائیکی بچوں تک کو قتل کر دیا گیا – ایک با ریش پشتون بزرگ کا گلا کاٹ کر ذبح کیا گیا جبکہ بلوچوں کو زندہ چھوڑ دیا گیا

بس کے اندر گھس کر ان دھشتگردوں نے لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھے اور جو بھی پشتون تھے انہیں بس سے اُتار کر بے دردی سے شھید کیا گیا- اس سے پہلے دیوبندی بروہی بلوچ دہشت گرد، جو سپاہ صحابہ و بی ایل اے کے مشترکہ کارکن ہیں، اسی درندگی کا مظاہرہ ہزارہ شیعہ اور دیگر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ کر چکے ہیں

یاد رہے کہ مستونگ کالعدم تکفیری دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ نام نہاد اہلسنت والجماعت دیوبندی، جو کہ لشکر جھنگوی، جنداللہ اور طالبان کا اصلی روپ ہے، کا گڑھ ہے، یہاں پر اس سے قبل ہزارہ شیعہ مسلمانوں اور پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ سے ایران زیارت کے لیے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی بسوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جبکہ اس جگہ پر شیعہ اور سنی صوفی مسلمانوں کو اغوا کر کے ذبح بھی کیا گیا ان تمام حملوں کی ویڈیوز موجود ہیں – اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ بروہی بلوچ قبائل میں کالعدم سپاہ صحابہ کے کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف سے گہرے تعلقات ہیں، بد قسمتی سے پاک فوج میں موجود بعض عناصر لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے رمضان مینگل بلوچ دیوبندی گروپ کی پشت پناہی کرتے ہیں اور اس حقیقت سے نظریں چراتے ہیں کہ پاکستان کی دشمنی میں سپاہ صحابہ اور بی ایل اے میں اتحاد موجود ہے

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بی ایل اے سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کی جانب سے بلوچستان میں پشتون، سرائیکی، سندھی اور پنجابی مزدوروں، پروفیشنلز اور سیٹلرز کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے

مستونگ میں لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کا مسلح تربیتی کیمپ ایک بڑے دیوبندی مدرسے میں موجود ہے جس میں سینکڑوں بروہی بلوچ و دیگر کم عمر نو جوان جنداللہ اور سپاہ صحابہ کے لیے مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں، اس حقیقت سے کوئٹہ میں ایف سی کے افسران خوب آگاہ ہیں لیکن اس خام خیالی میں نظریں چراتے ہیں کہ بی ایل اے کے خلاف جنگ میں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی ان کا ساتھ دے گا جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے

جب تک رمضان مینگل، رفیق مینگل، شفیق مینگل اور منظور مینگل کو گرفتار کر کے پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا اور ان کے پشت پناہوں کا کورٹ مارشل نہیں کیا جاتا، تب تک مستونگ اور کوئٹہ میں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے کیمپ قائم رہیں گے اور معصوم ہزارہ شیعہ، دیگر شیعہ، پشتون، سنی صوفی اور دیگر پاکستانی قتل کیے جاتے رہیں گے

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*