Double standards of commercial liberal elite – by Aamir Hussaini & Riaz Malik Hajjaji

shah_song20160409_367_550

 

Most of those who were mocking and making fun of Tahir Shah were also the same who get their kicks making fun of actress Meera’s English accent and her social background. These are the urban chatterers of Pakistan whose token liberalism is limited to commercial and populist interests and restricted by their class backgrounds and sectarian prejudices.

Their bashing is limited to easy targets which cannot hit back. While many of them will mock the anti Taliban Sunni leader Tahir Qadri and call him “Padri”; few if any will dare take on the Sipah Sahaba hate cleric Tahir Ashrafi. Some of them will even promote Ashrafi and invite him to their ISI-funded think tanks like the Jinnah Institute. Another example would be those Uncle Tom types who will mock and distort Maulood, Ashura and Koonda/Rajab rituals to gain slavish acceptance amongst the Deobandi and Wahhabi elites. The same Uncle Tom types wouldn’t dare to make a similar mockery of the Ummayad caliphate.

In politics, they will abuse the dead Bhutto’s and blame them disproportionately but always keep a softer apologist tone for the Sharifs and their benefactor Zia ul Haq’s. Sunnis will be collectively blamed for the murder of Taseer and Shias will be collectively held responsible for the 1997 attack by Mehram Ali against the leaders of the Sipah Sahaba Taliban. But even mentioning the word “Deobandi” whose militias have killed 70,000 Pakistani citizens will be deemed as “sectarian intolerance” and “fueling sectarian war”

This tribe is not the solution to Pakistan’s problems of religious extremism and intolerance because they have spent decades in weaving dishonest narratives. They will conflate the victims of terrorism with those who perpetrate terrorism. They strive on False Binaries and False moral equivalence. They are experts in creating a complete lack of proportion such as equating the (justifiably prosecuted)murder of 1 with the (unaccounted) murder of 70,000!

Every Rabi ul Awal, Rajab and Muhurrum, these thinly disguised bigots crawl out of the woodwork with their excessive and selective sense of self righteousness. Apparently Civic sense and rationality only exists for the victims of Sipah Sahaba terrorism. Like Wahhabis, these commercial liberals and their Uncle Tom collaborators remove any context as to why parts of the urban landscape become inaccessible for some hours during the public holidays of Eid Milad Un Nabi and Ashura. They will never mention that the detailed security measures on these two days are because of decades od cowardly terrorist attacks by Takfiri Deobandi groups like Sipah Sahaba. These are the hypocrites who will curse Sunnis and Shias for holding up traffic for a few hours on legally permitted processions on 2-3 public holidays during the year. The same hypocrites will dare not mention the Saudi- sponsored Wahhabis whose acts of global terrorism have fundamentally inconvenienced routine activities such as travel, transport, entertainment and education!

post dedicated to comrade پیجا مستری and Dark Knight. Peja has provided much of the building blocks for this post. His deconstruction of the Nasibi Ghamdi has been an education.

 

علامتی لبریان اور ان کے معاون کار انکل ٹام کمرشل مافیا کے سنّی – شیعہ مخالف بیانیہ کی رد تشکیل
نوٹ : ریاض ملک کے بارے میں ،میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ وہ اپنی

Satirical posts

کی وجہ سے انگریزی کے انشاپردازوں میں اپنی مثال آپ ہیں – انہوں نے ایک مرتبہ پھر ” لبرل بیانیوں ” میں سے ایک ایسے لبرل بیانیہ کی رد تشکیل اپنے مخصوص فکاہیہ انداز میں کی ہے کہ پڑھ کر لطف آگیا – میں نے سوچا کہ مجھ جیسے اردو خوان حلقےکے لوگوں کو بھی اس شاہکار سے لطف اندوز ہونے کا موقعہ ملنا چاہیے – پاکستان کی شہری باتونی کلاس جسے انگریجی میں

Urban Chattering class

کہتے ہیں کہ ایسا نام نہاد ” لبرل بیانیہ ” تشکیل دیا ہے جس میں ایک جانب تو طاہر شاہ جیسے ، میرا جیسے ، طاہر القادری جیسوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور ان کے سماجی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی تحقیر کی جاتی ہے اور دوسری طرف اکا دکا انتہا پسندانہ ، اشتعال انگیزی اور پرتشدد مناظر کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے سنّی بریلوی اور اہل تشیع کے لئے ” بریلوی دہشت گردی ” اور ” شیعہ دہشت ” گردی جیسی اصطلاحوں کو بکثرت استعمال میں لایا جاتا ہے جبکہ حال ان کا یہ ہے کہ 70 ہزار پاکستانی شہریوں کے قاتل گروہوں کے لئے اگر لفظ ” تکفیری دیوبندی ” کی اصافت ان تنظیموں کے نام سے پہلے لگادی جائے تو اسے فرقہ پرستی اور نجانے کیا کچھ کہا جاتا ہے –یہ لبرل ، روادار ، روشن خیال ، سیکولر بھیس میں لپٹا ” بیانیہ ” ازخود کس قدر ” تکفیری اور تعصب ” سے بھرا ہوا ہے ؟ اس بیانیہ کی رد تشکیل کرتے ہوئے ریاض ملک نے سب کچھ بیان کردیا ہے – انہوں نے کامریڈ پیجا مستری اور ڈارک نائٹ کے نام اس تحریر کو کیا ہے جنھوں نے ان کے بقول انھیں اس تحریر کی تعمیر کے لئے مصالحہ فراہم کیا تو مچھے بے اختیار پیجا کامریڈ اور ڈارک نائٹ پہ رشک آیا اور یہ مصرعہ بھی
ہونٹوں پہ کبھی انکے مرا نام بھی آئے
بہت سے لوگ جوکہ طاہر شاہ کو بر بھلا کہتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے میں مصروف تھے وہی ہیں جنھوں نے اداکارہ میرا کے انگریزی کے لہجے کا مذاق اڑایا تھا اور اس کے سماجی پس منظر پہ طنز کے نشتر برسائے تھے – یہ بتونے ڈھانے والے پاکستانی شہری ہیں جن کا علامتی لبرل ازم کاروباری اور پاپولسٹ مفادات سے آگے نہیں جاتا اور ان کا طبقاتی پس منظر ان کے فرقہ تعصبات کے ساتھ ملکر انتہائی تنگ نظری کا شکار ہوجاتا ہے

ان کی ملامت کے اہداف انتہائی آسان ہیں جو پلٹ کر ان کو جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور ان سے انہیں فسطائی جوابی تشدد کا خطرہ بھی نہیں ہوتا – ان میں سے اکثر طالبان مخالف رہنماء طاہرالقادری کو برا بھلا کہیں گے اور اس کے نام کو بگاڑ کر اسے ” پادری ” کہہ کر پکاریں گے لیکن ان میں چند ایک ہوں گے جن کی سانس سپاہ صحابہ کے مکروہ ملّا طاہر اشرفی کے خلاف بولتے ہوئے نہیں پھولے گی – بلکہ ان میں سے تو کچھ ایسے بھی ہیں جو ملّا طاہر اشرفی کو پروموٹ کریں گے اور اسے آئی ایس آئی فنڈڈ تھنک ٹینکس جیسے جناح انسٹی ٹیوٹ ہے میں دعوت خطاب بھی دے ڈالیں گے اور یہ سب کرنے کے باوجود ایسے لوگ جمہوریت پسند اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے سب سے بڑے ناقد بھی کہلائیں گے – ان جیسے علامتی لبرلیان میں ایسے بھی انکل ٹام ٹائپ ہیں جو عید میلاد ، عاشورہ ، رجب کے کونڈوں جیسی رسوم کو برا بھلا کہیں گے اور ان کو مسخ کریں گے اور مقصد یہ ہوگا کہ دیوبندی اور وہابی اشرافیہ کے اندر ان کی غلامانہ حاضری قبول کرلی جائے – ان جیسے انکل ٹام ٹائپ علامتی لبرل اسی طرح کی ملامت اور مذمت کبھی بھی اموی خلفاء کی نہیں کریں گے

سیاست میں ان کا ہدف شہید بھٹوز ہوں گے اور وہ مبالغہ آمیزی کے ساتھ ان کو الزام دیں گے لیکن ان کا لہجہ اور ٹون معذرت خواہی کا عنصر لئے شریف برادران اور ضیاء الحق سے فیض یاب ہونے والے ٹولے کے باب میں نرم ہوگی – سنّی سارے کے سارے تاثیر کے قتل کے زمہ دار ٹھہرادئے جائیں گے اور سارے شیعہ 1997ء میں سپاہ صحابہ کی قیادت محرم علی کی طرف سے قتل کردئے جانے کے زمہ دار ٹھہرائے جائیں گے –لیکن وہ ملیشیاء جس نے 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو مارا ان کو ” دیوبندی ” لکھنا یا کہنا ” فرقہ وارانہ عدم برداشت ” کہلائے گا اور ایسا کہنے یا لکھنے والوں کو ” فرقہ واریت کی آگ ” بھڑکانے والے کہا جائے گا

علامتی لبرلیان و انکل ٹام ٹائپ یہ قبیلہ پاکستان کے اندر مذھبی انتہا پسندی اور عدم برداشت جیسے مسائل کا حل نہیں دے سکتا کیونکہ یہ کئی عشروں سے ” بددیانت بیانیوں ” کو بنتے آرہے ہیں – انہوں نے مغالطہ آمیز بائنریز اور مغالطہ آمیز اخلاقی برابری کو پیش کیا ہے – وہ ایسے ماہر ہیں جو ایک اور 70 ہزار کے تناسب برابر ٹھہرانے پہ مصر ہیں

ربیع الاول ، رجب اور محرم جیسے آتے ہیں تو یہ انتہائی چالاکی سے اپنے تعصبات کو چھپائے ہوئے لبرلیان اپنے مبالغہ امیز خودساختہ ہمیشہ ٹھیک ہونے کے زعم کے ساتھ اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آتے ہیں – ان کا جو مہذب شہری احساس ہے اور جو ان کی ظاہری معقولیت ہے وہ صرف و صرف سپاہ صحابہ کی دہشت گردی کے متاثرین کے لئے وجود رکھتی ہے وہابیوں کی طرح یہ کمرشل لبرلیان اور ان کے انکل ٹام معاون ہر اس سیاق و سابق کو ہٹاڈالتے ہیں جس سے یہ سمجھ آتا ہو کہ عید میلاد یا عاشورہ کے چھٹی والے ایام میں معروف چوکوں اور چوراہوں تک رسائی کیوں ختم ہوگئی ہے –

وہ کبھی بھی ان ہر دوایام کے موقعہ پر کئے گئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کی وضاحت میں سپاہ صحابہ جیسے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی کئی عشروں پہ پھیل؛ دہشت گردی کا زکر نہیں کریں گے – یہ منافق وہ ہیں جو سنّی اور شیعہ کو قانونی طور پہ ہر سال دو سے تین دن کی عام تعطیل کے دنوں میں نکالے جانے والے جلوسوں کے دوران ٹریفک کی ممانعت کا زمہ دار ٹھہرائیں گے اور ان کو لعن طعن کریں گے – لیکن یہی منافق کبھی سعودی سپانسرڈ وہابیوں کا زکر نہیں کریں گے جن کے عالمی پیمانے پر کئے گئے دہشت گردک کے اقدامات نے روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے سفر ، نقل و حمل ، ترفریخ اور تعلیم وغیرہ کو جاری رکھنا ہی دوبھر کرڈالا ہے

میں یہ تحریر کامریڈ پیجا مستری اور ” ڈارک نائٹ ” کے نام کرتا ہوں جنھوں نے اس تحریر کی عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے اکثر ستون فراہم کرنے میں مری مدد کی – اور ان کی جانب سے تکفیری غامدی کی رد تشکیل ہمارے لئے ایک تعلیم کا زریعہ بنی

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*