اداریہ : سعودی –طالبان نواز حکومت پی آئی اے کے محنت کش رہنماؤں کی قاتل ہے

IRJ

جب پی آئي اے کے محنت کش ملک کی سب سے بڑی اور واحد قومی ائرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو یہ وزیراعظم میاں نواز شریف تھے جنھوں نے فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تین مزدور رہنماؤں کی جان لے لی اور ایک کو شدید زخمی کرڈالا – ایک طرف تو پاکستان کی فوج اور رینجرز شہری سندھ ، بلوچستان اور فاٹا میں تکفیری دیوبندی طالبان کے خلاف بھرپور طریقے سے کاروائی کررہی ہے تو پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے رینجرز کو پی پی پی اور ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی انتقام کے لئے استعمال کرنے پر لگا رکھا ہے اور اب پی آئی اے کے مزدوروں پر گولی چلائی گئی ہے

پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت کے حکم پر سیکورٹی فورسز کے افراد نے غیر مسلح ، پرامن احتجاج کرنے والے پی آئی اے کے محنت کشوں پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں تین پی آئی اے کے محنت کش شہید ہوگئے جن میں غنایت رضا جعفری مینجر پی آئی اے بھی شامل تھے جوکہ ایک کوالی فائیڈ انجنئیر تھے اور وہ بائیں بازو کے انتہائی قابل ایکٹوسٹ تھے جوکہ زمانہ طالب علمی میں معروف ترقی پسند طلباء تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نائب صدر اور شپ اونرز کالج کی یونین کے صدر بھی رہے تھے

اگرچہ پی پی پی کی موجودہ قیادت متذبذب ، کمزور اور موقعہ پرست قیادت ہے لیکن پی پی پی کی صوبائی حکومت نے آن دی ریکارڈ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کی مخالفت کی ہے – پی پی پی اور دوسری لیفٹ پارٹیاں پی آئی اے کی لیبر یونین کی جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کررہی ہیں – یہ نجکاری بذات خود مشکوک ہے کیونکہ اس کی آڑ میں مسلم لیگ نواز کے لوگ انتہائی سستی قمیت پر پی آئی اے کی سندھ سمیت اندرون ملک اور بیرون ملک قیمتی جائیدادوں کو خریدنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں جس میں نیویارک اور لندن میں پی آئی اے دو قیمتی ہوٹل پر نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کی نظر ہے اور اس سے پہلے کے ایس بی بینک انتہائی کم قیمت پر اسحاق ڈار وزیر خزانہ کے داماد کو بیچ دیا گیا تھا

پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف اور داعش کے حامی صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جون 2014ء میں طالبان مخالف پر امن سنّی تنظیم تحریک منھاج القرآن کے کارکن مردوعوتوں پر ماڈل ٹاؤن میں گولی چلوادی تھی اور اس کے نتیجے میں 14 مرد و خواتین کی شہادتیں ہوئی تھیں اور اس کے بعد دھرنے کے دوران بھی پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو گولیاں ماری گئیں جس میں دو افراد شہید ہوگئے تھے اور یوم احتجاج منانے کے موقعہ پر بھی اس تنظیم کے کئی کارکنوں کو شہید کیا گیا تھا

مسلم لیگ نواز کے سئینر وزیر جیسے چوہدری نثار علی خان ، رانا ثناء اللہ خان وغیرہ ہیں ان پر جہآں جرائم پیشہ ، قبضہ گروپوں اور پیشہ ور قاتلوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا جاتا ہے وہیں پر ان کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ یہ داعش کے حامی تکفیری دیوبندی مولویوں بشمول مولوی عبدالعزیز کی حفاظت کررہے ہیں – ایک طرف تو رینجرز کو مسلم لیگ نواز سندھ میں اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کررہی ہے تو دوسری جانب یہ پنجاب میں رینجرز کو تکفیری دھشت گرد گروپوں کے خلاف کاروائی کرنے سے روکے ہوئے ہے اور اب پی آئی اے کے مزدوروں کے احتجاج کو بھی طاقت سے کچلنے اور سرگرم ٹریڈ یونین قیادت کا خون بہاکر احتجاج کرنے والوں کو ڈرایا جارہا ہے


پرائم منسٹر میاں محمد نواز شریف کی بے حسی اور ہٹ دھرمی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پی آئی اے کے تین رہنماؤں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو دھمکیاں دیں ، اس سے مسلم لیگ نواز کے فسطائی طرز حکومت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور مسلم لیگ نواز کی جتنی بار بھی حکومت آئی ہے اس میں محنت کشوں کا جینا دوبھر ہوا ، پرامن مذھبی و نسلی برادریوں کو دھشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا- پاکستان کا کمرشل / نواز-یفیا لبرل جتھہ انٹرنیشنل میڈیا کو نواز شریف کو اسٹبلشمنٹ مخالف دکھاکر اور اس کا ایک جھوٹا لبرل امیج پیش کرکے گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے جبکہ ان کو بخوبی علم ہے کہ میاں نوآو شریف سعودی عرب کے حکمران خاندان آل سعود کا پٹھو اور یہاں آل سعود کی لابی کا سرکردہ ہے – ان میں سے کئی جعلی لبرل بھٹو کی حکومت کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک کے ہر اول دستہ رہے اور پھر وکلاء تحریک میں انہوں نے دائیں بازو کے دیوبندی ، جماعتی فاشسٹوں کے ساتھ اور افتخار چودھری کی عدالتی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا تھا

کراچی میں پی ائی اے کے محنت کشوں کا مسلم لیگ نواز کی حکومت کی جانب سے قتل انتہائی شرمناک اقدام ہے اور اس قتل کے بعد پاکستان پھر سے ایک دوراہے پر آن کھڑا ہوا ہے – پی پی پی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے سامنے اب دو راستے ہیں – یا تو وہ ان احتجاج کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں اور اس احتجاج کو پورے ملک میں پھیلادیں یا وہ مسلم لیگ نواز کے ساتھ ڈیل کرلیں

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sabir
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*