کیا شیعہ اسلام، یہودی ابن سبا کا تخلیق کردہ فرقہ ہے؟ تکفیری خوارج کے پراپیگنڈہ کی حقیقت – محمد ایف علوی

Pigs

پچھلے ساڑھے بارہ سو سال سے ناصبی افراد ایک دیو مالائی شخصیت ابن سبا کو قتل عثمان کا الزام دیتے آ رہے ہیں اور ان کا پروپیگنڈہ اسقدر زیادہ ہے کہ ہمارے اہلسنت بھی اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں رہے – [آج کے دور میں سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کے علاوہ، قاری حنیف ڈار، طاہر اشرفی اور سبوخ سید وغیرہ بھی یہی الزام لگاتے ہیں]

ناصبی حضرات کا کہنا ہے کہ عبد اللہ ابن سبا ایک یہودی تھا جو حضرت عثمان کے دور میں ظاہر ہوا۔ اس عبد اللہ ابن سبا نے لوگوں کو ورغلایا کہ حضرت علی(رسول (ص) کے جانشین ہیں اور باقی خلفاء کی خلافت نا جائز ہے۔ اس نے حضرت عثمان کے دور میں آپ کے خلاف کوفہ و شام میں سازش کا آغاز کیا۔ بعد میں یہ مصر چلا گیا اور وہاں باغیوں کی ایک فوج تیار کی۔

  بہت سے معزز صحابی، جیسے کہ عمار بن یاسر اور ابو ذر غفاری وغیرہ اس یہودی ابن سبا کے پیرو کار بن گۓ اور انہوں نے حضرت عثمان کے خلاف سازش میں سبائیوں کا ساتھ دیا۔ مصر کے باغیوں کی اس فوج نے مدینہ آ کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی اور حضرت عائشہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح ہونے والی تھی مگر رات کی تاریکی میں ان سبائیوں نے حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

آئیۓ تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ ان الزامات کی حقیقت کیا ہے۔ ہمارے محدود علم کے مطابق طبری پہلا شخص ہے جس نے ابن سبا کی کہانی بیان کی ہے طبری کے بعد جتنے لوگوں نے بھی ابن سبا کی کہانی کو بیان کیا ہے وہ سب ناقلین ہیں اور بعض مقامات پر نواصب نے اس میں خوب رنگ بھرا ہے جیسا کہ صاحبزادہ ضیاء صاحب کے پیش کردہ بلا سند حوالہ جات میں اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ طبری کا دارومدار سیف بن عمرو کے اوپر ہے، ابن سبا کی کہانی کی اختراع کرنے والا یہی سیف بن عمر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جس شخص نے ابن سبا کو ایک دیو مالائی شخصیت بنا کر پیش کیا ہے اس کا جائزہ لیا جائے کہ یہ حضرت خود کیا ہیں ، اس کہانی سے ایک تو قتل عثمان کے واقعات میں رنگ بھرا گیا اور دوسری طرف ایسے صحابہ کی کردار کُشی کی گئی جو سابقون الاولون میں سے ہیں اور جن کی اتباع کا قران نے حکم دیا ہے مثلاً عمار بن یاسر اور ابو ذر غفاری وغیرھم کہا گیا کہ یہ صحابہ ابن سبا کے پیروکار بن گئے تھے جبکہ ان جیسے صحابہ کی پیروی کا قران ہمیں حکم دے رہا ہے: السابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم بالاحسان ، الخ ۔ نیز عمرو بن الحمق جیسے صحابہ جو بیعت رضوان میں شامل تھے جنہیں اللہ نے کہہ دیا ہے لقد رضی اللہ عن المؤمنین ۔

سیف ابن عمر کذاب سے تعارف:
اس دیو مالائی کہانی کے سلسلہ رواۃ پر ایک نظر ڈالنے سے آپ کو پتا چل جاۓ گا کہ ان تمام روایات کے سلسلے میں سیف ابن عمر کا نام موجود ہے۔
اہل سنت علماء سیف ابن عمر کذاب کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
اہل سنت علماء کا اس پر اجماع ہے کہ سیف بن عمر کذاب اور ضعیف ہے اور اس کی روایات ہرگز قابل اعتماد نہیں۔
امام حاکم: “سیف زندیق ہے اور اس کی روایات متروک ہیں۔”
امام نسائی: “سیف کی روایات ضعیف ہیں اور انہیں ترک کر دینا چاہیۓ کیونکہ وہ ناقابل اعتبار ہیں۔”
یحیی ابن معین: “سیف کی روایات ضعیف اور ناکارہ ہیں۔”
ابو حاتم: “سیف کی روایات متروک و مہمل ہیں۔”
ابو داؤد: “سیف کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔ اس کی کچھ روایات نقل کی گئ ہیں جبکہ زیادہ تر ترک کر دی گئ ہیں۔”
ابن حبان: “سیف نے ثقہ روایوں کے نام لے کر جھوٹی روایات گھڑی ہیں۔ اس کا شمار کاذبوں اور زندیقوں میں ہوتا ہے۔”
دار قطنی: “سیف ضعیف ہے۔”
ابن سکن: “سیف ضعیف ہے۔”
ابن عدی: “سیف ضعیف ہے۔ اس کی کچھ روایات مشہور ہیں مگر زیادہ تر روایات ہتک آمیز ہیں اور ان کو نقل نہیں کیا جاتا۔
امام جلال الدین سیوطی: “سیف کی روایات ضعیف ہیں۔”
ابن حجر عسقلانی: حافظ عسقلانی ایک روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں، “اس روایت کی بہت سے راوی ضعیف ہیں، اور ان میں سے سب سے زیادہ ضعیف سیف ابن عمر ہے۔”
الذھبی: “سیف ابن عمر نے دو کتب لکھی ہیں جن کو علماء نے بالاتفاق رد کر دیا ہے۔” (المغنی فی الضعفاء، ص 292)-
خالد بن ولید کا ولید صحابی رسول مالک ابن نویرہ کو قتل کرنا اور اسی رات ان کی بیوہ سے ہمبستری کرنا:

تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ خالد بن ولید نے صحابی رسول مالک ابن نویرہ اور ان کے قبیلے کو دھوکے سے قتل کر دیا اور اسی رات کو ان کی بیوہ سے ہمبستری کی۔ اس سلسلے میں ایک روایت سیف ابن عمر نے بھی نقل کی ہے۔ اس پر ناصبی بہت شور و غوغا مچاتے ہیں کہ سیف ابن عمر تو کاذب ہے اور جھوٹی روایات نقل کرتا ہے۔ مگر جب سبائیوں کا مسئلہ آتا ہے تو یہی سیف ابن عمر کذاب ان کا چہیتا راوی بن جاتا ہے۔ آگے چل کر ہمارے پڑھنے والے دیکھیں گے کہ کس طرح ناصبییوں نے بغیر کسی تحقیق کے سیف ابن عمر کذاب کی جھوٹی روایات کو سر آنکھوں پررکھا ہے۔
[نوٹ: خالد بن ولید کے اس واقعہ کا سیف اکیلا ہی راوی نہیں، بلکہ سنی تاریخوں میں یہ روایت کئ اور سلسلوں سے بھی نقل ہوئی ہے]
وہ روایات جو سیف بن عمر کذاب کے بغیر نقل ہوئی ہیں:

اس موقع پر ہم یہ بتاتے چلیں کہ شیعہ اور سنی کتب میں تقریبا 14 روایات ایسی ہیں جن کے سلسلہ رواۃ میں سیف بن عمر کذاب کا نام نہیں آتا ہے۔

نوٹ: ہمارے پڑھنے والے اس حقیقت کو ذھن نشین کر لیں کہ یہ 14 روایات ہر گز یہ نہیں ثابت کرتیں کہ سبائیوں نے حضرت عثمان کے قتل میں کسی قسم کا حصہ لیا ہے۔ یہ 14 روایات صرف یہ بتاتی ہیں کہ حضرت علی کی زندگی میں ایک شخص گذرا تھا جس کا نام عبد اللہ ابن سبا تھا اور جس کو حضرت علی نے آگ میں جلوا دیا تھا۔

اہلسنت کے تمام مورخین میں سے ابن عساکر) ہے جس نے کہ عبد اللہ ابن سبا کے متعلق کچھ ایسی روایات نقل کی ہیں جن کے سلسلہ رواۃ میں سیف ابن عمر کا نام نہیں آتا۔ مگر یہ مورخ (ابن عساکر) چھٹی صدی کا مورخ ہے۔

ارباب دانش کو دعوت فکر ہے کہ اگر واقعی عبد اللہ ابن سبا نام کا کوئی شخص گذرا تھا جسکے ہزاروں پیروکار تھے اور جس نے کہ اسلامی خلافت کے خلاف ایسی سازشیں کیں کہ جو کہ ہزاروں مسلمانوں کے خون کے صورت میں ظاہر ہوئیں، اس کا ذکر صرف اور صرف چھٹی صدی کا ایک مورخ کرے؟

پہلی صدی سے لیکر پانچویں صدی تک اہلسنت میں ہزاروں مورخین، علماء، محدثین، فقہاء گذرے۔ کیا وجہ ہے کہ ان میں سے ایک نے بھی عبد اللہ ابن سبا جیسی مشہور شخصیت کے بارے میں ایک بھی لفظ اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا؟ کیا وجہ ہے کہ امام مالک ، ابو حنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل جیسے لوگ ان ہزاروں سبائیوں اور قتل عثمان میں ان کے کردار سے بالکل بے خبر تھے؟ کیا وجہ ہے کہ بخاری ومسلم سے لیکر ترمذی و نسائی و متقی الہندی تک ابن سبا کے متعلق ایک بھی لفظ نہیں نقل کر سکے؟

مزید حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ابن عساکر نے جو روایات نقل کی ہیں، یہ بھی ناصبیوں کے اس پروپیگنڈے کو بالکل نہیں ثابت کر رہی ہیں کہ عبد اللہ ابن سبا اور اسکے ہزاروں پیروکاروں کا قتلِ عثمان میں کوئی حصہ تھا۔یہ روایات تو صرف یہ بیان کر رہی ہیں کہ حضرت علی کے زمانے میں (یعنی حضرت عثمان کے زمانے کے بہت بعد) عبد اللہ ابن سبا نامی ایک شخص نمودار ہوا جس نے کہ علی کی خدائی کا دعوی کیا۔ اس پر علی ع نے اس کو آگ میں جلوا دیا۔”

آخر میں ملاحظہ فرمائیں مرحوم سلفی عالم دین مولانا محمد اسحاق رحمہ الله کا اس بارے بیان

Comments

comments

Latest Comments
  1. Ashfaque
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*