اشتیاق احمد کی تحریریں

Wadi-e-marjaan-by-Ishtiaq-Ahmed

 

اشتیاق احمد مرحوم نے  ستر کے عشرے کے آغاز میں لکھنا شروع کیا ، اس دہائی اور آنے والی دہائی کا زمانہ علم و ادب بشمول بچوں کے ادب کے حوالے سے انحطاط کا زمانہ نہیں تھا، کئی بڑے پبلشر تھے جو بچوں کے ادب کے حوالے سے جانے جاتے تھے، فیروز سنز اور شیخ غلام علی اینڈ سنز ایسے بڑے نام ہیں، اسی طرح بچوں کے کئی رسائل بھی باقائدگی سے چھپتے تھے جیسے نونہال، جگنو،تعلیم و تربیت اور کئی اور. کئی بڑے نام تھے جو بچوں کے ادب سے وابستہ تھے، اے حمید سے لے کر حکیم سعید کتنے بڑے لوگ ہیں جنہوں نے بچوں کے لئے لکھا اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اردو میں بچوں کے لئے جاسوسی اور پرسرار کہانیاں لکھنے کا آغاز اشتیاق احمد نے کیا، ان سے پہلے اور ان کے ہمعصر کئی لوگ ایسا ادب تخلیق کر رہے تھے. عنبر ، ناگ ، ماریا سیریز، حاتم طائ سیریز اور نہ جانے کتنی اور کتابیں ہیں جو بچوں کے لئے کم و بیش اسی زمانے میں لکھی گئیں. بھر حال یہ اشتیاق احمد کا اعجاز ہے کہ انہوں نے جو کردار تخلیق کئے انھیں بے انتہا مقبولیت ملی، انہوں نے ابن صفی ہی کی طرح  اپنے آپ کو جاسوسی ادب میں منوایا، وہ زود نویس بھی تھے ، ایک وقت تھا کہ پابندی سے چار نئے ناول بازار میں آتے تھے، انہوں نے تین مختلف سیریز شروع کیں اور کامیابی سے اپنا ذاتی پبلشنگ ادارہ بھی چلایا، اس وقت تک گلی محلوں میں لائبریریاں ہوتی تھیں اور ان کے ناول بھی ان لائبریریوں کے چلتے رہنے والے آئٹم شمار ہوتے تھے.

انہوں نے کہاں تک ادبی معیار کا خیال رکھا یہ تنقید نگار ہی بہتر بتا سکتے ہیں مگر ان کو کبھی بھی اول درجے کا لکھاری نہیں مانا گیا، خاص طور پر اپنے کرداروں کے ناموں کے حوالے سے اور مقامات کے ناموں کے حوالے سے ان کا چناؤ عجیب ہی رہا ، جیرال، سی مون، انشارجہ، بیگال اس قسم کے عجیب و غریب نام کس حد تک بچوں کے تصور پر اثر انداز ہوئے یہ سوالیہ نشان ہی رہے گا.  وہ ابن صفی کو اپنا روحانی استاد کہتے تھے اور ان کے انداز تحریر میں ابن صفی کی جھلک نظر آتی ہے ، مگر ابن صفی کی خاص بات یہ ہے کہ نا ان کے کردار نہ ہی مقامات غیر زمینی نہیں ہیں، تصور کے تانے بانے بنتے ہوئے پلاٹ کے حساب سے ابن صفی نے بھی فرضی وادیوں اور جزیروں کی تشکیل کی مگر غیر حقیقی نہ لگے. اشتیاق احمد نہ جانے کیوں امریکہ، اسرائیل، بھارت، پاکستان یا ایران کا نام نہیں لیتے، چلیں نام نہیں لیتے مگر نام بگاڑ کر ان کا ذکر کرنا عجیب ہی رہا.

ان کی ایک اور خاص بات سازش کے نظریوں کی ترویج بھی ہے، ارض  پاک کے خلاف یہود و ہنود کی سازشیں ان کا خاص مضمون رہیں، یہ حیرت کی بات ہے کہ ان کا خیال ان معاشرتی اور معاشی نا ہمواریوں اور برائیوں کی طرف نہ گیا کہ جو خاص طور پر ہماری کمزوری رہیں ہیں، جیسے لوگوں کا پچھلے راستے سے اقتدار میں آ جانا ، جمہوریت گریز رویے اور اخلاقی پستی، یہ سب بھی کسی طرح ان کے ادب کا حصّہ بن سکتا تھا جس طرح سازشی نظریے مگر ایسا ہوا نہیں. ابن صفی مرحوم نے ہمیشہ کوشش کی کہ تفریحی ادب کو تفریحی ہی رکھا جائے اور تبلیغ کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے ، مصنف کے ذاتی خیال ان کی تحریروں میں جہاں تہاں نظر تو آتے ہیں مگر ان کی شعوری کوشش یہی رہی کہ عوام کو دو گھڑی کے لئے یہ موقع ملے کہ اپنی زندگی کے مسائل سے ہٹ کر دلبستگی لے لئے کچھ  پڑھنے کو ملے، شاید یہی وجہ ہے کہ فریدی اور حمید غالبا بھارت ہی رہے اور ان کو پاکستان ہجرت کرنے کی ضرورت نہ پڑی. مگر اشتیاق احمد بچوں کے لئے لکھتے ہوئے بھی ایسا نہ کر سکے، کسی حد تک ہر مصنف جو بچوں کے لئے لکھتا ہے اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ اخلاقی حوالے سے اعلی معیارات کا ذکر کرے اور بچوں کے کردار کی تشکیل میں حصّہ لے، ان کو اچھائی اور برائی میں فرق سکھائے مگر پروپگینڈا کرنے اور اخلاقیات کا سبق دینے میں فرق ہے اور اشتیاق صاحب پروپیگنڈا میں مصروف ہوتے چلے گئے خصوصی طور پر احمدی حضرات کے خلاف مگر ڈھکے چھپے انداز میں تمام ہی اقلیتوں کے خلاف، شیعہ ، عیسائی ، ہندو یہ سب ان کی تحریروں میں غدار اور سازشی نظر آتے ہیں، اور تو اور وہ  بر صغیر میں مروجہ صوفی اور بریلوی انداز فکر پر بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل، امریکہ اور بھارت سے تو بیر ہے ہی، ایران بھی ان کی نظر میں شیطان ہے، یہ اچھی بات ہے کہ انہوں نے ان ملکوں کا کھل کر نام نہیں لیا بلکہ عجیب و غریب متبادل عطا کئے. یہ سوچنے کی بات ہے کہ نئی نسل پر ان کی ان نفرت بھری تحریروں اور سازش کے نظریات پر مبنی کہانیوں کا کیا اثر ہوا ہوگا؟ یہ سوال ان کی زندگی میں بھی اٹھائے گئے یہ نہیں پتہ کہ انہوں نے کبھی جواب دیا، دیتے بھی تو شاید وہی مروجہ جواب کہ سوال کرنے والے بھی مرتد اور زندیق قرار دے دئے جاتے.  انہوں نے جس پاکستان کی تصویر اپنی کہانیوں اور کرداروں سے توسط سے کھینچی ہے وہ انتہائی خطرناک مگر حیران کن حد تک حقیقت سے قریب آتی جا رہی ہے، نفرت اور سازش کے نظریات ہماری اکثریت اور عسکریت دونوں ہی نے اپنا لئے ہیں، اپنی خامیوں اور غلطیوں سے قطع نظر ہم اعلیٰ اور ارفع ہیں جبکہ ساری دنیا ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ، ہماری اقلیتیں غدار اور کافر اور اکثریت راہ سے بھٹکی ہوئی ہے اور مجاہد ہر دو کے خلاف مصروف جدل ہیں. یہ نظریات جن کی کوئی مادی بنیاد نہیں بلکہ جو خوف اور فرار پر مبنی ہیں انتہائی مہلک اور تباہ کن ہیں، ہم ان کے اثرات سے بھی واقف ہیں، مگر حیرت ہے کہ کھل کر بول نہیں سکتے.

اشتیاق احمد مرحوم پر تا حال لکھے جانے والے مضامین میں کسی ایک میں بھی ان کی تحریروں میں شامل نفرت انگیز مواد کا ذکر نہیں کیا گیا اگر ہے بھی تو “صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں” کے انداز میں، کیا کسی کو بھی ڈاکٹر مہدی علی جیسے لوگوں کے خون میں ایسے لوگوں کا ہاتھ نظر نہیں آیا جو عرصہ دراز سے نفرت و خوں ریزی کی اس فصل کی آبیاری کرتے آ رہے ہیں ؟ کیا کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کھل کر ان کی تحریروں کے اس تاریک پہلو کی نشاندہی کرے ؟ ہم مرحوم کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں مگر ان کی تحریروں سے اتفاق نہیں کر سکتے، ان پر کڑی تنقید کی ضرورت ہے اور رہے گی.

Comments

comments

Latest Comments
  1. Z
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*