ایم کیو ایم ، ملٹری اسٹبلشمنٹ اور اہلسنت والجماعت – از پاش

11

یہ بات تو طے ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ پوری طرح سے حرکت میں آگئی ہے اور اس حوالے سے ان میں کہیں کوئی اختلاف نظر نہیں آرہا ، ایم کیو ایم سے ہٹ کر لیاری میں جو گینگ وار ہے اور وہاں عزیر بلوچ کا جو ابھار تھا اس میں ملٹری اسٹبلشمنٹ 80ء کی دھائی سے ملوث تھی اور کراچی میں سیاست کو خراب کرنے میں اسٹبلشمنٹ کا بڑا ھاتھ رہا ہے ، آج ایم کیو ایم ایم ایسی سیاسی جماعت کے طور پر سندھ کے شہری حلقوں میں موجود ہے جو اردو سپیکنگ حلقوں میں فوج کی تزویراتی گہرائی ، انڈین فوکس سیکورٹی پالیسی اور افغان پالیسی کی حمایت نہیں کرتی ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین فوج کے یس مین تو ہرگز نہیں ہیں اور مرا خیال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب طالبانئزیشن پر موقف پر پر بھی آئی ایس آئی ناراض ہے اس لئے ایم کیو ایم کی سب سے زیادہ اس وقت فوکس رکھا ہوا ، ایم کیو ایم کے خلاف موجودہ مہم میں سچ کو جھوٹ کے ساتھ آمیز کرکے پھیلایا جارہا ہے اور ہمیں اس ساری مہم میں ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا ٹرائل کا حصہ نہیں بننا چاہئیے ، اگر ایم کیو ایم کے خلاف ثبوت موجود ہیں تو پھر عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے ، کراچی میں پی پی اے کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ایم کیوایم پر فوکس ہے اور کراچی آپریشن اب سندھ حکومت کی بجائے رینجرز کے کنٹرول میں ہے اور رینجرز کے پیچھے کون ہے

،عسکری اسٹبلشمنٹ کے اندر اچھے اور برے مجاہدین کی تمیز تاحال موجود ہے اور وہ کم شدت کی شیعہ نسل کشی سے ڈسٹرب نہیں ہوتی اور اسے ایسے مجاہدین جو فوج پر حملہ نہ کریں لیکن اینٹی شیعہ جذبات اور تشدد سے بھی گریزاں نہ ہوں مسئلہ نہیں ہے اور ان کو افغانستان اور انڈیا میں ایک تزویراتی اثاثے کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں فوج کی انڈیا اور افغانستان کے حوالے سے جو پالیسی ہے اس کو برقرار رکھنے کے لئے بھی دعوہ سمیت تمام مذھبی جماعتوں کے اندر سے اپنے سیکشن کی ضرورت موجود ہے ،

مرے خیال میں کراچی کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کے اندر موجود دیوبندی اے ایس ڈبلیو جے اور دیگر تکفیری جماعتوں اور گروہوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کے کئی ایک عسکریت پسند کئی ایک تنظیموں کی ممبر شپ بھی رکھتے ہیں ، ایم کیو ایم میں لوئر مڈل کلاس اردو سپیکنگ کے اندر دیوبندی بہت زیادہ ہیں خاص طور پر اگر جمشید مارٹن کوارٹر ، گرومندر ، پی آئی بی کالونی ، رنچھوڑ لائن ، جیکب لائنز ، منگھو پیر ، پرانی سبزی منڈی اور نئی سبزی منڈی کے اردگرد بسنے والی آبادی کے اندر ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن دیوبندی ہیں اور ان میں متحدہ کے بہت سے شوٹرز اے ایس ڈبلیو جے سے وابستہ ہیں ،

اے ایس ڈبلیو جے ایک طرف ایم کیو ایم پر مہاجر دیوبندی آبادی پر اپنے اثر کی وجہ سے اثر انداز ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ اے این پی پر دیوبندی پشتونوں کی وجہ سے اثر انداز ہوتی ہے پھر کراچی میں ہندکو بولنے والی آبادی اور سرائیکی بولنے والی آبادی کی دیوبندی پرتوں پر بھی اثر ہے اور خاص طور پر دیوبندی مساجد و مدارس میں آئمہ ، موزن ، خطیب ، قاریوں کی بہت بڑی تعداد ہزارہ ، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتی ہے مثال کے طور پر لیاری کے اندر جتنی بھی دیوبندی مساجد ہیں وہاں آئمہ و خطباء و موزن سرائیکی پوٹھوھاری ہیں اور ان پر سپاہ صحابہ پاکستان کے گہرے اثرات ہیں ، اے ایس ڈبلیو جے کی یہ وہ طاقت ہے جس کا توڑ سنی بریلوی ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں شیعہ دشمنی کی وہ صورت حال نہیں ہے جو دیوبندیوں کے ہاں ہے ، ایم کیو ایم پر اندر سے بھی دیوبندی لابی کا سخت دباو ہے

ملٹری اسٹبلشمنٹ اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی ایسے اقدام سے گریز نہیں کرتی جس سے کسی کمیونٹی پر چاہے کتنی بڑی ہی ضرب کیوں نہ پڑ جائے ، اس کی ایم کیو ایم کے خلاف حالیہ کمپئن سے دوررس کیا نتائج نکلیں گے اس پر انہوں نے یقینی طور پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی ہوگی ، انہوں نے جب تزویراتی گہرائی کی پالیسی ترتیب دی اور جہادی ایمپائر کھڑی کی تو ان کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کے بطن سے خود ان کی ریاست کو کیا خطرات لاحق ہوں گے ، اور اس کے ضمن میں جو تکفیری کلنگ مشین کی شکل میں

شیعہ کی نسل کشی اور بہت سے سنی بریلویوں کو دیوبندی یا وھابی بنانے کا مظہر سامنے آئے گا اس کی تو ان کو پرواہ ہی نہیں تھی ، اب بھی دیکھیں جیسے ہی امریکنز کے ہاں سے ان کو افغان طالبان سے راہ ورسم بڑھانے کا کاشن ملا اور چینیوں نے تھپکی دی تو ان کا اصل روپ سامنے آگیا اور اب ان کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ اپنے روابط پر کوئی پردہ ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی آپ سیکورٹی کونسل میں ملیحہ لودھی کے پالیسی بیان کو پڑھ کر اس کا اندازہ لگاسکتے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملٹری اسٹبلشمنت کے اندر جہادیوں سے اپنے تعلقات کی اوور ہالنگ کا عمل جاری ہے اور یہ عمل اس تاثر کی مکمل نفی ہے جو ہمیں

فوجی قیادت کی جانب سے سانحہ پشاور کے بعد نظر آیا تھا ، یہ جماعت الاحرار ، ٹی ٹی پی مولوی فضل اللہ گروپ اور لشکر اسلام منگل باغ گروپ کے خلاف آپریشن تک محدود ہیں جبکہ جنداللہ کے ایک سیکشن کو ہٹ کررہے ہیں اور جو لشکر جھنگوی ہے اس کے بھی اس سیکشن کے خلاف سرگرم ہیں جوفوج کے خلاف سرگرم ہے اور القائدہ سے ملکر پاکستان کو امارت خراسان کا حصہ بنانے کے لئے کوشاں ہے اس سے ہٹ کر یہ باقیوں سے اپنے تعلقات کی اورہالنگ کررہے ہیں گویا ان کے نزدیک شیعہ نسل کشی کا سوال کوئی بڑا سوال ہے ہی نہیں

12

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sabir
    Reply -
  2. Ibn Adam
    Reply -
  3. mbjjrkzwjq
    Reply -
  4. ray ban 3447
    Reply -
  5. ray ban canada
    Reply -
  6. ray ban canada
    Reply -
  7. cheap michael kors wallets
    Reply -
  8. ray ban aviators
    Reply -
  9. ray ban rb2132
    Reply -
  10. michael kors laptop bag
    Reply -
  11. michael kors messenger bag
    Reply -
  12. michael kors tote bag
    Reply -
  13. michael kors outlet locations
    Reply -
  14. nike air max sale
    Reply -
  15. cheap nike air max
    Reply -
  16. nike air max essential
    Reply -
  17. michael kors messenger bag
    Reply -
  18. ray ban 3016
    Reply -
  19. ray ban outlet
    Reply -
  20. ray ban clubmaster
    Reply -
  21. ray ban clubmaster
    Reply -
  22. cheap wow gold
    Reply -
  23. ray ban cockpit
    Reply -
  24. nike air max 90 sale
    Reply -
  25. nike air max 95
    Reply -
  26. nike air max 90 black
    Reply -
  27. ray ban 3016
    Reply -
  28. michael kors handbags clearance
    Reply -
  29. cheap michael kors handbags
    Reply -
  30. nike air max pink
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*