یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی سے انٹرویو اور تکفیری فاشزم کی آگہی – عامر حسینی

 

تین ہفتوں میں، میں نے دو ایسی شخصیات کے انٹرویو کئے جو پاکستان پیپلزپارٹی کی چئیرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پوسٹ ضیاء دور میں انتہائی قریب رہے اور پیپلزپارٹی کے ایک صاحب تین اور دوسرے صاحب دو ادوار حکومت میں ہونے والے فیصلوں کو انتہائی قریب سے دیکھتے رہے ، پھر یہ دونوں صاحبان سرائیکی خطے کے بالخصوص اور پنجاب کے بالعموم ایسے خانوادوں سے تعلق رکهتے ہیں جو ان دو خطوں کی تہذیبی و ثقافتی تشکیل میں اثر انداز ہوتے رہے اور یہ دونوں خانوادے اس خطے میں شیعہ -سنی یک جہتی و اتحاد اور باہمی رشتہ داریوں کی مثال بهی ہیں
سید یوسف رضا گیلانی 1987ء میں ضیاء الحق کی زندگی میں وزرات سے مستعفی ہوکر پی پی پی میں شامل ہوئے ، شاہ محمود قریشی 1993 ء میں پی پی پی میں شامل ہوگئے اور یہ دونوں ہی 93 ء میں پی پی پی کی حکومت کے اہم ستون تھے، میں ان دونوں سے یہ سوال کرتا رہا کہ وہ کیا وجہ تھی کہ 1993ء میں پی پی پی نے سپاہ صحابہ پاکستان کو پنجاب میں شریک اقتدار کرلیا اور سپاہ صحابہ کا اکلوتا رکن صوبائی اسمبلی شیخ حاکم علی کو صوبائی پارلیمانی سیکرٹری بنادیا گیا اور ان دنوں پہلی مرتبہ پنجاب کے اندر سپاہ صحابہ پاکستان ایک حکومتی جماعت کا سٹیٹس انجوائے کرتی رہی ، اس دور میں ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر پہنچی اور یہی وہ دور ہے جب طالبان کی تشکیل ہوئی اور پی پی پی کے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر ان کو اپنے بچے قرار دیتے رہے ، اسی زمانے میں افغانستان اور بھارتی کشمیر کے حوالے سے پاکستانی ریاست کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی میں “جہادی اور تکفیری ” عناصر کا اتحاد مستحکم ہوا اور یہی وہ زمانہ ہے جب طارق اعظم نے سپاہ صحابہ پاکستان کے اندر سے جہاد کشمیر کے نام پر مسلح ونگ حرکت الانصار کی تشکیل کو ممکن بنایا اور اسی نے آگے چلکر جیش محمد کی شکل اختیار کی اور اسی کے بطن سے لشکر جهنگوی کے گروپ نکلتے رہے ، پی پی پی جو ایک ترقی پسند ، روشن خیال ، لبرل اقدار کی علمبردار جماعت تھی اس نے اپنے 93ء کے دور حکومت میں جہاد و تکفیر کے باہمی آمیزے سے تیار ہونے والی دہشت گردی کے تباہ کن اثرات کا اندازہ کرنے کی بجائے اس کی نمو میں سہولت کار کا کردار ادا کیا اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ پی پی پی کی سب سے زیادہ حمایت شیعہ اور سنی بریلویوں کے اندر موجود تهی
یہ پی پی پی کا دوسرا دور حکومت ہی تھا جب بلاسفیمی کے الزام میں قید سلامت مسیح اور کرامت مسیح کی ضمانت لینے پر لاہور هائیکورٹ کی جسٹس عارف اقبال بھٹی کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا اور پی پی پی کی حکومت اس مثال کو بھی سامنے رکھتے ہوئے تکفیری فاشزم کی علمبردار مذھبی جماعتوں پر پابندی لگانے میں ناکام رہی
میرے لیے یہ بات بھی حیرت انگیز تھی کہ اسی دور میں سپاہ محمد کے خلاف تو پنجاب پولیس نے بھرپورآپریشن کیا لیکن سپاہ صحابہ پاکستان کے خلاف کوئی آپریشن نہ کیا گیا اور اس جانب سے آنکھیں بند کرلی گئیں
میں نے 93ء کے دور حکومت اور پهر 2008ء سے 2013ء کے دور حکومت کو سامنے رکهتے ہوئے اور اس دوران شہباز تاثیر ، حیدر گیلانی کے اغواء اور سلمان تاثیر و شہباز بھٹی کی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس دوران 60 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کے مارے جانے اور شیعہ و سنی بریلوی کی ٹارگٹ کلنگ باقاعدہ نسل کشی میں بدل جانے کے تناظر میں ان دونوں رہنماوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ آخر وہ تکفیری فاشزم کے خلاف کھل کر کیوں نہ آسکے اور پی پی پی 93ء اور 2008ء میں کیوں تکفیری دیوبندی وہابی دہشت گرد اور انتہاپسند تنظیموں پر پابندی عائد نہ کرسکی ؟ اور میں نے شاہ محمود قریشی سے یہ سوال بھی کیا کہ آج وہ جس جماعت میں ہیں وہ خیبرپختونخوا میں دیوبندی وہابی انتہاپسند دہشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت پر پابندی عائد کیوں نہیں کرتی ،جہاں اس جماعت کی حکومت ہے ؟
سید یوسف رضا گیلانی سے میں نے پوچھا کہ شہباز بھٹی کی شہادت کے بعد بلاسفیمی لاز ریفارم کمیٹی کو ختم کیوں کیا گیا ؟ اور وزرات مذھبی امور وحج ایک سنی بریلوی سے لیکر ایک ایسے آدمی کے سپرد کیوں کی گئی جوکہ دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنطیم کا سپانسر ہے اور آج قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنا ہوا ہے ، کیا اس سے یہ نظر نہیں آتا کہ پی پی پی نے اپنے دور حکومت میں تکفیری فاشزم کے آگے سرنڈر کیا اور اس نے رشوت میں دیوبندی مولوی شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کی چئیرمین شپ دی جس نے سب سے زیادہ رجعتی سفارشات پیش کرنے کا ریکارڈ قائم کیا
آج سندھ میں اور کراچی میں بالخصوص دیوبندی تکفیری فاشزم کے علمبرداروں کو جو کھلی چھٹی حاصل ہے اور کراچی دیوبندی اہلسنت والجماعت کے تکفیری فاشسٹ پروپیگنڈے اور اینٹی شیعہ و سنی بریلوی پروپیگنڈے اور منافرت کا گڑھ بنا ہوا ہے ، اس پر سندھ میں پی پی پی کی حکومت نااہلی کے ریکارڈ قائم کررہی ہے ، اس حوالے سے کوئی مسکت جواب مجھے  نہیں ملا
یہ ان دو صاحبان سے میری گفتگو کا وہ حصہ ہے جو پاکستانی پرنٹ میڈیا میں شایع نہیں ہوسکتا ، اس لئے میں نے اس کو یہاں درج کیا ہے
سچی بات یہ ہے کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملتان کے دونوں بڑے مخدوم نہ تو تکفیری فاشزم کے حوالے سے فکری طور پر واضح تھے اور نہ ہی وہ دہشت گردی کو شیعہ ، سنی صوفی نسل کشی کے طور پر لے رہے تھے ، جب پاکستان کے انتہائی تجربہ کار اور کہنہ مشق سیاست دانوں کے فہم کا یہ عالم ہو تو کسی اور کو کیا دوش دیا جاسکتا ہے جبکہ ان میں سے ایک وزیراعظم رہے اور دوسرے ملک کے وزیر خارجہ رہے

flag of ppp

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*