پیپلز پارٹی کی زرداری بلاول قیادت کے خلاف احتجاج – عمار کاظمی

پیپلز پارٹی کی زرداری بلاول قیادت کے خلاف احتجاج – عمار کاظمی

 

14218_946443995372435_2054667614384227711_n

کاش آج اگر میرے پاس وساءل ہوتے تو میں پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کے غلط فیصلوں کے خلاف تحریک چلاتا۔ دھرنے میں پیپلز پارٹی کے کارکن لے کر دھرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے میں شامل ہوتا۔ آپ کو اور آپ کی ٹوٹے دانتوں والی گونگی بہری سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو بتاتا کہ شہید بی بی اور بھٹو کا جانثار آپ کے جنرل ضیا کے بیٹوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر آپ سے کس قدر بیزار ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جو کل لیاقت باغ میں شہید بی بی کی تصویریں پھاڑ کر پیروں میں روند رہے تھے۔ بھٹو کی تصویریں جلا رہے تھے۔ گو گیلانی گو کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ دوست کہتے ہیں کہ آپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف یا عوامی تحریک میں شامل ہو جاو۔ ہم کہتے ہیں ہم پیپلز پارٹی کیوں چھوڑیں؟ یہ قیادت کیوں نہ چھوڑیں؟ ہم نے تو اپنی پیداءش سے لے کر چالیس سال سے اوپر زندگی اسی جماعت کے ساتھ گزار دی زرداری صاحب اپنی رفاقت کا وقت بتاءیں؟ بی بی کا شوہر ہونے کی وجہ سے زبان کٹی تھی تو بھٹو کی سیاسی وراثت اور پاکستان کی صدارت کسے ملی؟ ہم نے تو اپنی زندگیاں وفا میں گزار دیں۔ ہم نے پیپلز پارٹی سے کیا لیا؟ جہانگیر بدر نے ایک بار کوڑے کھاءے اور تمام عمر ایک بے وقوف اور ناکام ترین سیاستدان ہونے کے باوجود عیاشی کرتا رہا۔ اس کی چمچہ گیری ہی اس کی قابلیت ٹھہری۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اپنے عہدے کیوں نہ چھوڑے جس نے شہیدوں کی وجہ سے وزارتیں بھی لیں اور اب شہیدوں کے خون سے غداری کر رہی ہے؟ ویسے بھی روز روز نہ سیاسی وفاداریاں بدلی جا سکتی ہیں اور نہ نءی جماعتیں بناءی جا سکتی ہیں۔

اگر ہم فوجی آمریتوں کے خلاف لڑ سکتے ہیں تو ہمیں اپنی وفاداریاں بدلے بغیر ان جمہوری آمریتوں سے لڑنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔ پاکستان کی کسی جمہوری قیادت یا اس کی کٹھ پتلی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے پاس یہ اختیارات نہیں ہونا چاہیے کہ وہ وہ محض اختلاف راءے کی بنیاد پر اپنے کسی عہدیدار یا کارکن کو پارٹی سے نکال دے۔ اور نہ ہی کسی جمہوری کارکن کو ایسے بادشاہی فیصلوں کو قبول کرنا چاہیے۔ یہ کیا غیر جمہوری سوچ ہے کہ میں نے جمہوریت کے نام پر ایک سیاسی جماعت بناءی اور اگر مجھ سے کوءی اختلاف کرے تو وہ پارٹی چھوڑ دے؟ مجھے جاوید ہاشمی کے داغی ہونے پر کوءی شک نہیں لیکن عمران خان کو بھی کیا حق ہے کے وہ جاوید ہاشمی کو کہیں کہ ہاشمی صاحب آج سے ہمارے آپ کے راستے جدا ہیں۔ مانا کہ مشکل وقت میں جاوید ہاشمی کا تحریک انصاف کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ ایک داغی فیصلہ تھا۔ لیکن جب تک وہ خود پارٹی نہ چھوڑ دیں تحریک انصاف کو بھی انھیں پارٹی سے نکالنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی وہ عوام جو عمران خان سے پہلے کبھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں رہی

اس کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر آمرانہ رویے رکھتی تھیں۔ قیادت سے اختلاف پر ہر طرح کے مخلص اور مقبول لوگوں کو کو پارٹی سے نکال دیا جاتا تھا۔ اس ضمن میں عمران خان بلاشبہ پاکستانی سیاست میں ایک بڑی اور خوشگوار تبدیلی کے خالق ہیں۔ لیکن اگر عمران خان بھی وہی کریں گے جو آج سے پہلے روایتی سیاست میں ہوتا آیا ہے تو یہ عمل آج نہ سہی مگر کل پھر اس طبقے کو جمہوری عمل سے دور کر دے گا۔ لالچی لوگوں کے سوا پیپلز پارٹی کے اُن تمام لوگوں کے فیصلے بھی غلط تھے جو پارٹی قیادت کے فیصلوں سے دل برداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ گءے۔ یہ خود غرض اور غیر جمہوری کلچر اب ختم ہونا چاہیے۔

دوسری طرف میاں صاحبان اور ان کے گنتی کے حقیقی متوالوں سے انتہاءی معذرت کے ساتھ مسلم لیگ نواز کوءی نظریاتی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ یہ پنجاب کے رسہ گیروں اور مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو میاں صاحبان کے پیسے کی کشش اور سرمایہ دارانہ چودھراہٹ کی وجہ سے اکٹھا ہے۔ آج اگر میاں صاحبان کی مالی حیثیت کم ہوجاءے تو میاں صاحبان کے ساتھ وہی گنتی کے چند کارکنان نظر آءیں گے جو ان کے اءیرپورٹ سے واپس بھیجے جانے پر سڑکوں پر نکلے تھے۔ بھلا پرویز رشید اور صدیق الفاروق میں میاں صاحبان کے پیسے کے علاوہ کونسی قدر مشترک ہے؟ تاہم ان گنتی کے چند مخلص کارکنان کے باوجود ہماری یہ خواہش ہونی چاہیے یہ لوگ بھی میاں صاحبان کے غلط فیصلوں پر احتجاج کریں۔ جو غلط ہوا اسے قیادت کے منہ پر غلط کہیں کہ اسی میں جمہور اور جمہوریت کی حیات ہے۔ آج روایت سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔

جو سیاسی جماعتیں فرسودہ روایتوں سے جڑی رہیں گی ان کے لیے جمہوریت میں آگے بڑھنا مشکل ہو جاءے گا۔ کل جب تحریک انصفا پارٹی الیکشن کروا رہی تھی تو پاکستانی میڈیا اور ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر بہت تنقید کی کہ وہ تو ایک شفاف پارٹی الیکشن نہیں کروا سکے تو ملک میں کیا شفاف الیکشن کرواءیں گے؟ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین کو اتنا سوال اٹھاتے بھی شرم کرنی چاہیے کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی تو ویسے انتخابات نہیں کروا سکی ہیں۔ بی بی شہید ہو گءیں۔ قیادت کا بحران تھا۔ بغیر کسی پارٹی الیکشن کے زرداری صاحب نے شہید بی بی کی وصیت دکھا کر قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ کیا یہ جمہوری عمل تھا؟

قیادت کے بعد انتخابات ہوءے۔ انتخابت کے مکمل ہونے اور قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے آ خری لمحے تک پارلیمانی لیڈر کا فیصلہ سامنے نہ آ سکا۔ پیپلز پارٹی کے ستر اسی فیصد کارکن مخدوم امین فہیم کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے تھے مگر زرداری صاحب نے روبوٹ ایگزیکٹو کمیٹی کو ساتھ ملا کر تنہا ہی یہ فیصلہ کر لیا کہ وزیر اعظم ان کا جیل کا دوست بنے گا۔ کوءی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا نہ ہی کسی کارکن سے اس کی پسند پوچھی گءی۔ کیا یہ جمہوری عمل تھا؟ الٹا مخدوم صاحب پر مشرف کے قریب ہونے کا الزام لگا دیا گیا۔ مخدوم صاحب اگر مشرف کے ساتھی تھے تو انھیں پارٹی کا ٹکٹ ہی کیوں دیا؟ وہ تک پیپلز پارٹی میں کیا کر رہے ہیں؟ جیالوں نے پارٹی کی خاطر گیلانی کو بھی قبول کر لیا۔ لیکن پھر جب جیالے گیلانی کے ساتھ عدلیہ کے خلاف کھڑے ہونے پر تیار ہوءے تو کہا کہ ہم دستور اور علدیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔

اگر آپ علدیہ کا احترام کرتے تھے تو خط پہلے کیوں نہ لکھا؟ جیالوں نے وہ بھی مان لیا اور پھر راجہ پرویز اشرف نے خط لکھ بھی دیا۔ تو یہ خط آپ نے گیلانی کو کیوں نہ لکھنے کو کہا؟ آخر میں راجہ پرویز اشرف بھی گءے۔ منظور احمد وٹو جیسے بے نظریہ شخص کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنا دیا۔ اور دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مرکز اور ادنرون سندھ کے علاوہ تینوں صوبوں میں عبرتناک شکست کا سامنہ کرنا پڑا۔ ہم کب تک چُپ رہیں؟ کیا سیاسی کارکن بے زبان جانور ہوتے ہیں جو قیادت کے ہر غلط فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے رہیں؟ پارٹی کی عبرتناک شکست پر بعض عزت نفس سے عاری لوگوں سے جواب سننے کو ملتا ہے کہ وہ تو زرداری صاحب کا فیصلہ تھا کہ ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ لہذا اس لیے پیپلز پارٹی کو اتنی بڑی شکست ہوءی۔

ویسے تو شکست کی بہت سی وجوحات تھیں مگر زرداری صاحب یا ان کے گنتی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے لوگ کون ہوتے ہیں کروڑوں لوگوں کی جماعت کا تنہا فیصلہ کرنے والے؟ یہ کون ہوتے ہیں پیپلز پارٹی کو عوامی سیاست سے باہر رکھنے والے؟ آگے سے جواب ملتا ہے نہیں وہ تو کارکن کو مرنے سے بچانے کے لیے فیصلہ کیا گیا تھا کہ طالبان ان پر بم دھماکے نہ کریں۔ اگر اس بیکار دلیل کو مالن لیں تو پھر قیام پاکستان اور اس کی جدوجہد آزادی ایک سنگین غلطی تھی کہ جس کے نتیجہ میں پندرہ لاکھ لوگ مر گءے۔ زرداری صاحب جمہوریت کے تسلسل کی بات کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ محض فوارے کے پانی جیسا تسلسل آگے بڑھنے کی دلیل نہیں ہوتا۔

عمار کاظمی


48 responses to “پیپلز پارٹی کی زرداری بلاول قیادت کے خلاف احتجاج – عمار کاظمی”

  1. The flower extract was screened for its use as an acid base indicator in acid base titration7, and the results of this screening were compared with the result obtained by standard indicators (methyl red, phenolphthalein and mixed indicator) for strong acid strong base (HCl and NaOH), Strong acid weak base (HCl and NH4OH), weak acid strong base (CH3COOH), weak acid weak base (CH3COOH and NH4OH) titrations.
    nike air max 90 womens