اداریہ :اسرائیل کے غزہ پر حملے نے عرب حکمرانوں اور سلفی دیوبندی جہادیوں کو بے نقاب کرڈالا ہے

 

اسرائیلی بمباری سے غزہ کی پٹی کی ایک تاریخی مسجد کی تباہی کا منظر 

آج جب یہ اداریہ لکھا جارہا ہے تو اسرائیلی بمباری اور زمینی حملے میں 1900 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ 9000  سے زائد زخمی ہیں جبکہ شہید ہونے والوں میں شیر خوار بچوں اور عورتوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے جبکہ اس بربریت کے خلاف ایک تو یو این او اور امریکی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ،(حال ہی میں امریکی کوششوں سے حماس اور اسرائیل کے درمیان بہتر گھنٹوں کی جنگ بندی ایک گھنٹے بھی نہين چل سکی اور مبینہ طور پر حماس کی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی کو پکڑے جانے کے بعد اسرائیل نے جنگ ختم کردی اور غزہ کی پٹی کے باسیوں اور حماس پر بلاامتیاز زمینی اور ہوائی حملے کئے)اور دوسری طرف خود عرب ملکوں کے حکمرانوں کے چہرے سے بھی نقاب اترنا شروع ہوگیا ہے  

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی ایک تقریر کا متن سعودی نیوز ایجنسی نے جاری کیا ہے جس میں شاہ عبداللہ نے غزہ میں اسرائیل کے مظالم کی مذمت کی ہے اور اس پر عالمی برادری کی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیا ہے لیکن اسی عالمی برادری کا سعودیہ عرب خود بھی حصّہ ہے اور اس نے شام میں بشار الاسد اور عراق میں مالکی رجیم اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے سلفی و دیوبندی جہادیوں کے لشکر تیار کرنے میں مدد دی اور اس حوالے سے سعودی عرب کے سابق سعودی انٹیلی جنس جیف سلطان بندر بن سلطان کا کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو عراق سے شام جاکر جہاد کرنے پر بھی بندر بن سلطان ہی نے راضی کیا تھا تو اس وقت سعودی عرب کو یہ خیال نہ آیا کہ دوسرے ملکوں میں زبردستی رجیم کی تبدیلی کی کوششیں غلط ہیں اور ان کو اپنے گھر کو مضبوط کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئيے
سعودی شاہ عبداللہ اور سعودی عرب کے کسی چھوٹے بڑے حکومتی عہدے دار نےاسرائیل کے نائب وزیر دفاع کی جانب سے اس دعوے کی بھی اب تک کوئی تردید نہیں کی ہے کہ اسرائیل نے حماس اور غزہ کے پر حملے سے پہلے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات وغیرہ سے یقین دھانی لی تھی اور انھوں نے اسرائیل کو کہا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور ان کے ثھکانوں کو تباہ کرنے پر وہ اسرائيل کے ساتھ ہیں اور اسرائیلی حملے سے غزہ میں جو انفرا سٹرکچر تباہ ہوگا اس کی تعمیر کے لیے فنڈز بھی یہ ممالک فراہم کریں گے
لبنان کے معروف عرب نژاد صحافی فواد ابراہیم نے اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے عین آخری وقت میں دورہ اس لیے ملتوی کیا کہ ان کو اپنے زرایع سے یہ خبر مل گئی تھی کہ سعودی شاہ عبداللہ ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی پولیس اور سیکورٹی فورسز کو حماس کے خلاف استعمال کریں گی اور رفاعہ کراسنگ پوائنٹ پر بھی اپنی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کریں گے مقصد حماس کے ساتھ پی ایل او کے تازہ اتحاد کو ختم کرنا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ حماس کو الفتح کے ساتھ بھی لڑانا مقصود تھا جبکہ ادھر مصرکے موجودہ صدر جنرل فتح السیسی نے پہلے ہی رفاعہ کراسنگ پوائنٹ بند کردیا تھا اور صحرائے سینا میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کے مصر کی سرحد میں کھلنے والے دھانے بند کرڈالے تھے اور اس طرح سے غزہ کی پٹی ایک طرف تو اسرائیلی محاصرے سے مصیبت میں تھی تو دوسری طرف مصر نے بھی غزہ کو بلاکڈ کردیا یاد رہے کہ حماس اسرائیل سے جنگ بندی کی سب سے بنیادی شرط مصر اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرکے کررہی ہے
ایک طرف تو سعودیہ عرب اور اس کا اتحادی کیمپ حماس ،اخوان کو بالکل ختم کرنے کی پالیسی رکھتا ہے تو دوسری طرف وہ اپنے حریف قطر ،ترکی کو بھی نیچا دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور قطر کے خلیفہ کا سعودی عرب کا دورہ اور اس دورے کے دوران سعودی عرب سے حماس اور اخوان کے بارے میں اپنے رمویے میں تبدیلی لانے کی درخواست ایک مرتبہ پھر رد کردی گئی اور عرب ملکوں کی اپنے مفادات کے لیے تقسیم اور بے عملی اور اندرون خانہ اسرائیل اور امریکہ سے یاریوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے خون کو بہت ارزاں کردیا ہے
جب کہ دوسری طرف عراق سے شام اور شام سے لبنان تک پھیلے ہوئے سلفی وہابی دیوبندی تکفیری و غیر تکفیری جہادی گروپوں کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں ہے
ابھی حال ہی میں عراق اور شام پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کرنے والی تنظیم داعش کے سربراہ اور دولت اسلامیہ کے خلیفہ ابوبکر البغدادی نے اپنے ایک خطاب کے دوران بہت واضح طور پر کہا

جب تک اسلامی خلافت کا قیام نہیں ہوجاتا فلسطین کی آزادی کوئی اہمیت نہیں رکھتی
اسرائیل کی غزہ میں جارحیت نہ رکی ،شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1900سے تجاوز کرگئی لیکن داعش نے ایک انگلی تک کے اشارے سے اس کے خلاف کچھ نہ کیا اور نہ ہی داعش ایسا کرے گی لیکن اگر داعش کے سپاہی اگر فلسطینی علاقوں کی سرحدوں پر پہنچتے تو کیا حالات مختلف ہوتے
اسرائیلی قاتل مشین غزہ کے لوگوں کا جب قت کرنے میں مصروف تھی تو اسی دوران ایک وڈیو سامنے آئی جس میں داعش کی طرف سے ایک راکٹ اسرائیل کی طرف فائر ہوتے دکھایا گیا تھا اور اس پر داعش کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں اور داعش کے عراق اور شام کے صوفی سنّی مسلمانوں ،شیعہ ،عیسائی آبادی پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم پر خاموشی اختیار کرنے والے گروہوں کی جانب سے خوشی کا آظہار دیکھنے کو ملا اور یہ بھی کہا گیا کہ داعش بس ابھی یروشلم کو اسرائیلیوں کے پنجے سے ایسے آزاد کرالے گی جیسے اس نے موصل سمیت عراق کے سنّی اکثریت والے علاقے اور شام میں تیل کے کنوؤں والے علاقے کو قبضے میں لے لیا گیا تھا
لیکن یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی کیونکہ بتاچلا کہ وہ ویڈیو فیک تھی اور مجاہدین شوری کونسل کی طرف سے داغا گیا راکٹ تھا 2012ء میں یہ واقعہ ہوا تھا اور سب سے بڑا المیہ یہ ہوا فوری طور پر داعش نے اس کی تردید کردی
لبنان ،شام ،عراق میں داعش کے بہت سے پیروکار ہیں اور سوال یہ پیدا ہورہا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ داعش فلسطین کے معاملے پر خود کو فاصلے پر کیوں رکھے ہوئے ہے ؟اس حوالے سے ایک مفروضہ تو یہ گردش کررہا ہے کہ صہیونیت اور سلفی ازم کے درمیان ایک پوشیدہ غیر اعلانیہ اتفاق منظور ہے کہ اسرائیل کے صہیونی شام ،عراق ،لبنان میں برسرپیکار سلفی دھشت گردوں کے آڑے نہیں آئیں گے اور سلفی اسرائیل کا رخ نہیں کریں گے اور دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ داعش کی جانب سے فلسطین سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں صرف جغرافیائی صورت حال وجہ بنی ہوئی ہے
ابوبکر البغدادی جوکہ داعش کا امیر ہے اور ان کی خودساختہ خلافت کا خلیفہ بھی ہے نے اپنے خطبے میں جب اس کی بعیت کی گئی کہا تھا کہ فلسطین کی ازدی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک داعش فلسطین کے گرد و نواح میں اپنی عملداری قائم نہیں کرلیتی
سلفی جہادیوں کے اندر جہاد اور قتال کے حوالے سے یہ نظریہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر دار السلام میں فتنہ ارتداد ہو اور کسی اور جگہ کفار دار السلام پر حملہ آور ہوں تو پہلے قتال فتنہ ارتداد کے خلاف کرنا واجب ہوتا ہے یہی وجہ ہے جب القائدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الزھروی سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلی ترجیح جہاد کی کہاں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ دارالسلام میں کیونکہ حکمرانوں اور عوام میں فتنہ ارتداد پھیل گیا ہے اور یہود و نصاری کی بعیت حکمرانوں اور ان کے حامیوں نے کرلی ہے اس لیے وہاں پر قتال فرض اولین ہے
داعش کے لوگ اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق ،شام اور بلاد اسلامیہ کے اندر فتنہ رفض و تصوف جس کے بطن سے ارتداد و شرک وبدعت کے فتنے پھوٹ رہے ہیں وہ یہود سے بڑا خطرہ اور فتنہ ہیں جن کے خلاف جہاد کرنا مقدم ہے
داعش سمیت سلفی جہادی جن کے مددگار دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے دیگر جہادی بھی ہیں جن میں سرفہرست دیوبندی جہادی ہیں سب کے نزدیک احادیث میں بھی جہاد و قتال کا آغاز عراق و شام سے ہے جہاں سے فتح کے بعد لبنان کی فتح ہوگی اور پھر فلسطین کی فتح ہوگی اور یہ ویسی ہی تعبیر ہے جیسے دیوبندی دھشت گردوں کے مطابق حدیث کے مطابق غزوہ ہند سے عالمی جہاد اور فتح کا آغاز ہوگا اور وہ اس میں ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش کو غزوہ ہند میں شامل سمجھتے ہیں جبکہ لشکر طیبہ اور جماعت دعوہ ،جماعت اسلامی غزوہ ہند میں جہاد بالقتال سے پاکستان کو خارج کرتی ہے اور سلفی جہادیوں کی جانب سے یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے جنگ قریش کے خلاف لڑی اور پھر وہ یہودی قبیلے بنی قریضہ سے لڑنے گئے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابھی داعش اسرائیل سے بہت دور ہے اگر داعش کی خلافت اردن تک پہنچ گئی اور اس کو گولان کی پہاڑیوں کا کنٹرول مل گیا تو پھر صورت حال مختلف ہوگی
داعش سمیت اکثر سلفی جہادی جو شام ،عراق میں لڑرہے ہیں ان کا کہنا ہے جب تک اردن ،عراق ،شام ۔لبنان پر قابض بہود و نصاری کی حامی حکومتوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور وہاں پر جہادیوں کو مکمل کنٹرول نہیں ملتا اس وقت تک اسرائيل حملہ کرنا اور فلسطینیوں کی مدد کرنا مناسب نہیں ہوگا
تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک طرف سعودی عرب کا کیمپ ہے جو شام اور عراق میں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں دیکھنا چاہتا ہے اور وہ قطر ،ترکی کے کیمپ اور اس کے اتحادی حماس و اخوان کی مکمل تباہی دیکھنا چاہتا ہے اور وہ قطر و ترکی کی جانب سے سعودی عرب کی مڈل ایسٹ میں جودھراہٹ کو چیلنج کو بڑی گستاخی خیال کئے ہوئے اور وہ اس سلسلے میں اسرائیل سے تعاون کرنے کو تیار ہے تو مصری کے ایک فوجی آمر کو ہر طرح کی مدد فراہم کردہا ہے اور دوسری طرف عرب کے وہابی حکمرانوں اور ترکی کے دائیں بازو کے انتہا پسند سوچ کے مالک طیب اردوان خطے میں جاری کشمکش میں اپنے کیمپ کو طاقتور دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کی طرح بہت سے سلفی دیوبندی دھشت گرد گود لے رکھے ہیں اور ان دونوں کمیپوں کے مال اور وسائل کی فراہمی سے اور امریکی سی آئی اے کی مدد سے تیار ہونے والا عالمی دھشت گرد نیٹ ورک اپنے سابق مربیوں کے خلاف ہی حظے میں خود عرب مسلمانوں ،عرب کرسچن آبادی صوفی سنی مسلمان ،شیعہ مسلمانوں کے خلاف بدترین دھشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہے جبکہ اس ساری تقسیم اور دھشت گردی کی لہروں میں اسرائیل بہت آرام سے غزہ کے شہریوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے اور امریکی سیکرٹری خارجہ ان حملوں کو اسرائیل کا حق دفاع قرار دے رہے ہیں اور ان کی جنگ بندی روکنے میں کردار ڈھیلا ڈھالا ہے صاف نظر آتا ہے کہ وہ اسرائیل سے کوئی ایک بات بھی منوانے سے قاصر ہیں لیکن یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا امریکی سیکرٹری خارجہ سعودی عرب ،ترکی ،مصر وغیرہ کے تعاون سے جنگ بندی کی جو کوشش کررہا ہے اس میں کیا عرب ملکوں کا کردار مثالی ہے ؟
ہم برملا کہتے ہیں کہ اسرائيل کی جارجیت اور جنگ کے رکنے کا امکان اس لیے نظر نہیں آرہا کہ مڈل ایسٹ کی پالٹیکس کے طاقتور کرداروں کو جنگ بندی سے دلجسپی نہیں ہے وہ اس جنگ کے ساتھ ساتھ اپنی گیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں

اور دوسری طرف اسرائيل حماس کی غزہ میں زیر زمین سرنگوں کے ایک پورے نظام کو تباہ کئے بغیر جنگ سے ہاتھ اٹھانے والا نہیں ہے اور حماس غزہ کے اسرائيلی و مصری ناکہ بندی اٹھائے جانے تک جنگ بند کرنے والی نہیں ہے لیکن یہاں پر ایک بہتر بات یہ ہوئی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ اور ویسٹ بینک میں اسرائیل کی پولیس کا کردار ادا کرنے سے انکار کرڈالا ہے

کس قدر شرم کی بات ہے کہ پورے یورپ ،امریکہ کے اندر اسرائيلی جارحیت کے خلاف اور غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں زبردست فضاء پیدا ہوچکی ہے اور اسرائيلی کمپنیوں کے بائیکاٹ سے لیکر بعض ملکوں کی جانب سے اسرائيل کے خلاف سخت اقدامات کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں لیکن عرب ملکوں کے بے شرم حکمران اپنی عوام کی خواہشات کو نظر انداز کرکے اور فلسطینی باشندوں کی حالت زار سے بے گانے ہوکر عملی طور پر اپنے زاتی مفادات کی سیاست کرنے میں لگے ہوئے ان حکمرانوں کی حکمرانی کی بنیاد جبر ،فسطائیت اور ریاستی دھشت گردی ہے اور انھوں نے ہمیشہ اپنے اقتدار کے لیے سامراجی قوتوں کی  فراہم کردہ بے ساکھیوں کو استعمال کیا ہےجب تک مڈل ایسٹ میں بادشاہتوں ،آمریتوں اور سامراج نواز  کلچر موجود رہے گا اور فتنہ تکفیر و خوارج چھائے رہے گا اس وقت تک مڈل ایسٹ میں سیاسی استحکام ،عوام کی خوشخالی اور امن کی ضمانت میسر نہیں آسکتی  

Sources:

ماذا لا تقاتل «داعش» إسرائيل؟
رضوان مرتضى
http://www.al-akhbar.com/node/212549


نقل مباشر: اليوم الـ26 من العدوان الإسرائيلي على قطاع غزة

http://www.al-akhbar.com/node/212559

http://www.nytimes.com/2014/08/03/opinion/sunday/thomas-l-friedman-how-this-war-ends.html?ref=opinion

 

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. Abdul Baqi
    Reply -
  2. zia
    Reply -
  3. Rafique Farooqi
    Reply -
  4. ytwnzvtqr
    Reply -
  5. Taraq Khan
    Reply -
  6. Wholesale Replica Oakleys
    Reply -
  7. Oakley Returns
    Reply -
  8. Longchamps Cuir
    Reply -
  9. Ray Ban Modelos De Mujer
    Reply -
  10. payday loan consolidation
    Reply -
  11. cheap wow gold
    Reply -
  12. Ona
    Reply -
  13. Oakley Half Jacket 2 0 Earsocks
    Reply -
  14. safest wow gold
    Reply -
  15. spilleautomaten
    Reply -
  16. safest wow gold
    Reply -
  17. Womens Oakley Frogskins
    Reply -
  18. www.hostinglab.info
    Reply -
  19. Nike Free 7.0
    Reply -
  20. UniversityQU
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*