اسلام ایرانی ملا اوراس کے مزارعے پاکستانی شیعہ کی جاگیر نہیں ہے – از عامر حسینی

tweet

کل جب میں نے ایران کے سرکاری اور درباری ملاوں اور ان کی شیعہ دشمنی کواپنے معمولی مفادات کے لئے معصوم شعیہ کمیونٹی کے مفادات کو قربان کرنے اور مسئلہ فلسطین کو بگاڑنے پر ایک آرٹیکل لکها تها تو مجهے اندازہ تهاکہ ایران کے اس وقت کے رہنماؤں کے پاکستان اور دیگر ملکوں میں بیٹهے نمک خواروں کو بہت تکلیف ہوگی اور اس پر ان کے اپنے اندر کا ننھا منا تکفیری بهی باہر آجائے گا

جو خود ایرانی حکومت کے عطا کردہ پیسوں سے مستفید ہوتے ہوں، جب وہ لوگ ایرانی آیت الله حکومت پر تنقید کرنے والوں کو قادیانی یا اسرائیلی صیہونی ایجنٹ کہتے ہیں تو مجهے ان کی دو عملی اور تکفیری رویے پر افسوس ہوتا ہے

میں نے ایران کی خارجہ پالیسی اور اس کی علاقائی سیاست میں جیو سٹریٹجک پالسیوں کو مذهب ،اسلام ، قرآن ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، علی و فاطمہ و آل محمد کے نام پر مقدس لبادہ اوڑهانے والے شیعہ ملاوں کے ایجنٹوں کو بس تهوڑا سا بے نقاب کیا تها جس پر یہ آپے سے باہر ہوگئے

پاکستان اور پاکستان سے باہر ایران کے کئی ایک ملاوں نے اپنے اندھے مقلد چهوڑ رکهے ہیں جو بهی ان پر تنقید کرے تو یہ فوری طور پر اس پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور تنقید برداشت نہیں کرتے

یہ کوئی شان حیدر اور ایک اور کوئی ذیدی نام کا آدمی ہے ،میں ان دونوں کو ان کے نام سے نہیں پکارنا چاہتا کیونکہ اس قدر پاکیزہ اور محترم نام ایران کی مذهبی پیشوائیت کےاندھے مقلدوں کے ساته لگانا ان ناموں کی توهین ہے

https://lubpak.com/archives/318693

میں پہلے بهی کہتا ہوں اور آج بهی کہتا ہوں کہ مذہبی پاپائیت کے یہ مقلد انسانیت پر ہرگز یقین نہیں رکهتے یہ حماس جیسی قاتل تنظیم کے حق میں تو جلسے جلوس نکالتے ہیں لیکن انہوں نے کبهی ایران کے ملاوں کی قیادت میں بلوچ ، بہائی، پارسیوں اور کردوں پر ڈهائے جانے والے مظالم پر ایک لفظ بهی مذمت بهی نہیں بولا یہ ہمیشہ اس پر خاموش رہے اور تو اور جب حماس سیکولر ، لبرل ، غیر سلفی فلسطینیوں اور معصوم اسرائیلی شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنارہی تهی تو بهی یہ چپ رہے اور ایران میں انسانی حقوق کی جو پامالی ،عورتوں کی تذلیل ، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو مذهب کے نام پر جس جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس پر بهی یہ دین کے نام نہاد ٹهیکے دار ایران نواز پاکستانی شیعہ خاموش رہتے ہیں اور آج ہماری طرف سے ان کی مذهبیت کا پول کهولے جانے پر یہ آپے سے باہر ہوگئے ہیں اور اپنے مردہ گهروں سے کهنڈر قبرستانوں سے مردہ تکفیری فتوے اٹهاکر آگئے ہیں

میں ایسے دین کے ٹهیکے داروں اور مذهب کے بیوپاریوں اور ایران کی حکومت و مذهبی پیشواوں کی دلالی کرنے والوں کو کہتا ہوں کہ تمہارے تکفیری حربوں اور مردہ فتووں سے میرے جیسے انسان کو حق گویائی سے روکا نہیں جاسکتا

میں مذہب شیعہ کی آڑ میں ملائیت کی مذهبی ڈکٹیٹرشپ کو نہیں مانتا اور سرکاری شیعہ ملاوں کی منافقت پر اور ان کے ایجنٹوں پر خاموش بیٹهنے والا نہیں ہوں تکفیری ملائیت یا مذهبی فاشزم چاہے سلفی و دیوبندیوں کا ہو یا وہ شیعت کا سہارا لیکر آئے میں اس کو بے نقاب کرتا رہوں گا اور اینٹ کا جواب پتهر سے ملے گا

یہ اینٹ کا جواب پتهر سے اس لئے دیا جارہا ہے کہ ایران کے سرکاری درباری ملاوں کے نمک خواروں نے میرے سنجیدہ علمی اعتراضات اور ایک خالص علمی سیاسی بحث کے جواب میں مذهبی بلعم باعور ، نمرود وقت ، فرعون عصر اور یزید زماں بننے کی کوشش کی ہے تو جواب بهی ایسے ہی ملے گی

میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ سپاہ یزید کے تکفیری صرف دیوبند مکتبہ فکر کے اندر ہی موجود نہیں ہیں بلکہ ان کے کچھ بچے شیعہ مذهب کا پبادہ پہن کر بیٹهے ہوئے ہیں جو لوگوں کو کافر، مرتد، صیہونی، قادیانی بنانے میں ہمہ وقت لگے ہوئے ہیں

ایران کے سرکاری اور درباری ملاوں کی منافقت کی انتہا ہے کہ وہ ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے پروگراموں میں سرکاری مہمانوں کی حثیت سے قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ ، سمیع الحق، مولوی فضل الرحمان جیسوں کو بلاتے رہے ہیں ان کا بس نہیں چلتا تها نہیں تو یہ حق نواز جهنگوی، اعظم طارق، ضیاء الرحمان فاروقی اور اورنگ زیب فاروقی کو بهی سرکاری مہمان بنالیتے

ہماری جانب سے ایرانی پاپائیت کو بے نقاب کرنے پر ایک ایرانی نمک خوار لکهتا ہے کہ شیعہ کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے تکفیری اصل مجرم نہیں بلکہ ان تکفیریوں کو اس کام پر مامور کرنے والے ممالک اور ایجنسیاں اصل مجرم ہیں

میں ان جیسے لوگوں کو آئینہ دکها دوں جو ان کو اور برا لگے گا اور وہ یہ ہے کہ جس طرح سعودی عرب ،قطر ،ترکی ، کویت ، متحدہ عرب امارات ، ترکی ، اردن والے وہابی سلفی دیوبندی تکفیری نام نہاد اسلام کو دوسرے ملکوں کو ایکسپورٹ کرتے ہیں ایسے ہی انیس سو اناسی کے ایرانی انقلاب کو اغواء کرنے کے بعد آیت الله خمینی اوران کے حامیوں نے سب سے پہلے اپنی مذهبی آمریت اور نام نہاد ولایت فقیہہ سے اختلاف کرنے والوں اور ایک فرقہ پرست حکومت قائم کرنے کی مخالفت کرنے والے ہزاروں ایرانیوں کو موت کے گهاٹ اتار ڈالا ، اپنے سیاسی مخالفوں سے جیلوں کو بهرڈالا اور صحافت پر حملہ کیا ، کلچرل انقلاب کے نام پر جامعات کو بند کردیا گیا اور تہران یونیورسٹی پر زبردست کریک ڈاون کیا گیا ،بائیں بازو، خمینی مخالف اسلام پسندوں کو ہر ایک سرکاری ادارے سے نکال دیا گیا تها

اور اس ایران میں جس کے انقلاب کی بنیادیں سوشلسٹ ،اسلامی سوشلسٹ اور ڈاکٹر علی شریعتی کے لاکهوں پرستاروں نے بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے اور ساواک کے مظالم برداشت کرتے ہوئے رکهی تهی سب کو نام نہاد پاسداران انقلاب کے مذهبی فاشزم کی نذر کردیا گیا اور علی شریعتی کی دوسری برسی پر ہی پاسداران انقلاب نے ان کے گهر باہر جمع ہونے والے پرستاروں پر دهاوا بول دیا اور علی شریعتی کی کتابوں کو شجر ممنوعہ بنادیا گیا اور ایران میں ہر آزادی پسند حریت فکر کے داعی کو آخرکار ہجرت کرنا پڑی اور سیاسی پناہ لینی پڑی

یہی نام نہاد شیعی اسلامی انقلاب دوسرے معنوں میں مذهبی سٹالن ازم کو دوسرے ملکوں کو بهی ایکسپورٹ کرنے کی کوشش کی گئی اور آج پوری دنیا میں ایران نواز شیعہ تنظیمیں اصل میں ایرانی شیعی اسٹالن ازم کا پرچار کرنے والی پولٹ بیورو کے ساته تنظیمیں ہیں جو تہران سے آنے والی ہر لائن کی پیروی ایسے کرتی ہیں جیسے وہ خود امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہو اور اس کی نفی کرنے والا بقول ان کے نہ شیعہ رہتا ہے بلکہ وہ تو مسلمان نہیں رہتا

علی شریعتی نے ایک مرتبہ ایرانی رضا شاہ پہلوی کی حمایت کرنے والی شیعی ملائیت کے بارے میں کہا تها کہ یہ علی و حسین کے لبادے اوڑهے ہوئے یزید ہیں علی شریعتی کا کہنا تها کہ تاریخ میں ایسے بہت مرتبہ ہوا کہ انقلاب و بغاوت برپا کرنے والے انقلابیوں کے بعد خود راکهششوں نے پهر انہی انقلابیوں اور باغیوں کے کاستیوم پہن کر عوام کو دهوکہ دینا شروع کردیا ،اس کا کہنا تها کہ جب اپنے وقت کے بلعم باعور ، قارون ،نمرود ، فرعون ،ابو لہب ، ابو جہل ،یزید بے نقاب ہوجاتے ہیں اور ان کو اپنے دور کے ابراہیم ، موسی محمد ،علی ، حسین شکست سے دوچار کرتے ہیں اور وہ اب بلعم باعور، نمرود، فرعون، ابو لہب و ابو جہل و یزید بنکر کاروبار ظلم و استحصال نہیں چلاسکتے تو پهر وہ انہی کے کاستیوم پہن کر آجاتے ہیں تو صفوی ملاوں کو علی شریعتی نے یزید العصر قرار دیا تها اور میں کہتا ہوں آج کے سرکاری ایرانی ملا بهی لباس حسین پہنے یزیدی ہیں یہ عبیداللہ ابن زیاد کے ساته ہوجانے والے کوفی ہیں اور حقیقت میں ان کا اور قاتلان حسین کا کیمپ ایک ہی ہے

Comments

comments

Latest Comments
  1. Rafique Farooqi
    Reply -
  2. Sarah Khan
    Reply -
  3. Syed
    Reply -
  4. zaheer 43 jb
    Reply -
  5. عبداللہ علی
    Reply -
  6. Azadar
    Reply -
  7. Gulzar Hussain Naqvi
    Reply -
  8. Vision of Iqbal aka Imam Allama Jawad Naqvi
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*