تفتان اور جناح ائیر پورٹ پر حملے کا ہدف شیعہ تھے اور حملہ دیوبندی دھشت گردوں نے کیا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ضلع چاغی جوکہ شمال مغرب کا ضلع ہے کی تحصیل تفتان میں واقع ایک ہوٹل پر دیوبندی فاشسٹ تنظیم جیش الاسلام کے دھشت گردوں نے حملہ کیا جہاں پر ایران سے مقدس مقامات کی زیارت کے بعد آنے والے شیعہ زائرین ٹھہرے ہوئے اور اس حملے میں 30 کے قریب شیعہ زائرین اور ایک سیکورٹی اہل کار شہید ہوگیا
تفتان پاکستان کی جانب سے ایران جانے کا واحد قانونی راستہ ہے اور اس راستے سے ایران جانے والے زائرین پر دیوبندی فاشسٹ تنظیموں کے اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں اور جس میں اب تک سینکڑوں شیعہ زائرین شہید ہوچکے ہیں
جیش الاسلام نے کوئٹہ میں واقع میڈیا کے دفاتر کو فون کیا جس میں جیش الاسلام کے ترجمان اعظم طارق نے تفتان میں شیعہ زائرین پر حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران سے واپس آنے والے شیعہ شام میں شامی حکومت کے ساتھ ملکر ان کے مجاہد بھائیوں سے لڑنے گئے ہوئے تھے اور شام میں ان کے بھائيوں کے قتل میں ملوث تھے جس کی وجہ سے ان شیعہ لوگوں کو نشانہ بنایا گيا
ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد ملک میں خلافت راشدہ کے لیے ہے جو جاری رہے گی
جیش الاسلام نام ایک جعلی اور فیک نام لگتا ہے اور اس سے قبل ایرانی گارڑز پر حملے اور اغواء کی زمہ داری جیش عدل نامی تنظیم نے قبول کی تھی
لیکن قرائن و شواہد سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ دراصل سپاہ صحابہ پاکستان جو آج کل اہل سنت والجماعت کے نام سے کام کررہی ہے کے وہ دھشت گرد ہیں جو لشکر جھنگوی کے نام سے وسیع نیٹ ورک رکھتے ہیں اور ان کے تعلقات القائدہ اور سلفی دھشت گرد تنظیموں سے ہیں
سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت شیعہ برادری کے خلاف انتہا پسندی اور دھشت گردی کو پروان چڑھانے میں ملوث ہے اور اس کا مسلح ونگ شیعہ ڈاکٹرز،تاجر ،پروفیشنلز اور عام آدمیوں کی ٹارگٹ کلنگ ،خود کش حملوں کے زریعہ شیعہ کی نسل کشی میں ملوث ہے اور اس کے بلوچستان چیپٹر کے ایف سی ،ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ساتھ بہت گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں اور باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شیعہ نسل کشی اور بلوچ مزاحمتی رہنماؤں کی شہادت کے پیچھے خود پاکستانی ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے عناصر بھی شامل ہیں اس حوالے سے شفیق مینگل کا نام بہت سامنے آتا رہا ہے
جبکہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق لشکر جھنگوی کے کئی اہم اراکین کو رہا کرانے میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ رہا ہے جبکہ دوسری طرف موجودہ نواز لیگ کی حکومت اور خود نواز شریف و شہباز شریف لشکر جھنگوی کے ساتھ اتحاد میں کھڑے ہیں اور ان کی لشکر حھنگوی کو مکمل حمائت حاصل ہے
جعفریہ نیوز نیٹ ورک کے مطابق شیعہ برادری نے اس حملے کو بلوچستان اور وفاقی حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے اور شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے
جب تک پاکستان کی ریاست پورے ملک میں دیوبندی فاشسٹ تنظیموں کے خلاف مکمل ملٹری آپریشن نہیں کرتی شیعہ نسل کشی کا رکنا ممکن نہیں ہے
ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آپریشن صرف رد عمل کے طور پر اور جزوی کاروائی کرنے سے دھشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے
انگریزی معاصر اخبار روزنامہ ڈان نے گذشتہ اتوار کی اشاعت میں اپنے نمائندے اورنگ زیب خان کی ایک خصوصی تحقیقی رپورٹ شایع کی جس کے مطابق یہ کہا گیا کہ اب تک نہ تو ملٹری اسٹبلشمنٹ اور نہ نواز حکومت نے شمالی وزیرستان سمیت دھشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کرنے اور دھشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے کوئی مربوط پالیسی قائم کی ہے اور نہ ہی کسی امتیاز کے بغیر دھشت گردوں کے خاتمے کے اقدامات کئے گئے ہیں
معروف انسانی حقوق کی کارکن نازش بروہی نے ریاست کی منتخب اور غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کی جانب سے نجی لشکروں کو اپنے آلہ کار اور پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انھوں نے روزنامہ ڈان میں لکھا
By allowing zones of permissible violence, every power wielder becomes a stakeholder in a shared moral order. The state retains the right to violence in the public sphere and others in the private sphere, where what constitutes the public and private ranges from conflict to conflict. These enclaves are not static. Frictions arise when one breaches the frontiers of the other. But the primary contradiction remains in their very existence.
http://www.dawn.com/news/1111215/the-abyss-stares-back
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی ساکھ خاص طور پر پاکستان آرمی کی ساکھ پر کافی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وہ بار بار مبہم اور گول مول رویہ دھشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اپنا رہی ہے اور اسی تناظر میں شمالی وزیرستان کے چرگے کو پندرہ دن کی ڈیڈ لائن دئے جانے کے حوالے سے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ اگر قبائلی عمائدین اپنے علاقے سے دھشت گردوں کو نکالنے کی ہمت رکھتے ہوتے تو ان کے معاملات کی ڈور تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھ میں نہ ہوتی
جس وقت دیوبندی فاشسٹ دھشت گردوں نے تفتان میں شیعہ زائرین پر حملہ کیا اسی کے قریب دھشت گرد کراچی میں پرانے جناح ٹرمینل پر حملہ آور ہوئے اور یہ دس دھشت گرد تھے جو مختلف مقامات سے جناح ائرپورٹ کے پرانے ٹرمینل کے اندر داخل ہوئے اور کہا جارہا ہے کہ وہ کراچی ائرپورٹ پر تہران جانے والے ایک طیارے کو اغواء کرنا چاہتے تھے جس میں شیعہ زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ دھشت گردوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کو بہت بڑا نقصان پہنچانا چاہتے تھے
یہ دو کاروائیاں بیک وقت ہوئیں اور یہ شیعہ برادری کے لوگوں کو بنیادی ٹارگٹ رکھکر کی گئیں
دیوبندی دھشت گرد تںظیمیں جو کئی ناموں سے کام کرتی ہیں جن کی ماں اس وقت ٹی ٹی پی بنی ہوئی ہے پاکستان کے اندر ایک طرف تو شیعہ ،بریلوی نسل کشی میں ملوث ہیں تو دوسری طرف ان کی دھشت گردی سے پاکستان کی معشیت سخت بے یقینی کا شکار ہے اور عدم استحکام نے ترقی کا راستہ مسدود کردیا ہے
لیکن اس کے باوجود نواز لیگ حکومت ہو یا سندھ حکومت دونوں اہل سنت والجماعت اور اس کی قیادت کو کھل کر شیعہ اور دیگر مظلوم قومی اور مذھبی برادریوں کے خلاف منافرت پھیلانے کی اجازت دے رہی ہیں بلکہ شہباز شریف نے تو مبینہ طور پر آٹھ کروڑ روپے چندہ اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستاں کو دیا ہے
تفتان میں شیعہ زائرین پر لشکر جھنگوی کے حملے کی خبر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا پر واقعہ رونما ہونے کے 12 گھنٹے بعد تک دکھائی نہیں گئی اور ایران جانے والے شیعہ زائرین کی بڑی تعداد میں کراچی ائرپورٹ پر موجود ہونے کی خبر کو بھی چھپایا گیا اور میڈیا نے اس کا بلیک آؤٹ کیا
اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا مین سٹریم میڈیا دیوبندی فاشزم اور اس کے پرائم ٹارگٹ شیعہ کی نسل کشی بارے کس قدر گول مول ڈسکورس کا حامل ہے
پاکستان کی وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں سب کی سب دیوبندی فاشزم کی علمبردار تنظیموں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا تو درکنار اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہی ہیں اور وہ اب تک بہت سے گروپوں پر پدرانہ شفقت نچھاور کررہی ہیں
حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کی ایک تصویر سامنے آئی جس میں وہ کھڑے ہوکر مولوی اعظم طارق سابق صدر سپاہ صحابہ کے بیٹے معاویہ اعظم کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں ،اس سے قبل ان کی دیگر دیوبندی فاشسٹ ،انتہا پسند تنظیموں کے اہم لوگوں سے ملاقاتوں کے تصویری شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ ایسے شواہد میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے بارے میں ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حکومت کے لشکر جھنگوی ،اہل سنت والجماعت ،ٹی ٹی پی سے کس قدر گہرے تعلقات ہیں
جبکہ امریکی صحافی کارلوٹا گیل نے اپنی کتاب رانگ اینمی میں پورے ثبوت کے ساتھ پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی قیادت سے دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کی قیادت سے تعلقات پر روشنی ڈالی ہے جبکہ ایسے ہی شواہد ایک اور امریکی سکالر کرسٹائن فرئر نے اپنی کتاب میں دئے ہیں
جبکہ حال ہی میں ایک اور صحافی نے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی افغانستان میں جاری گریٹ گیم میں پراکسی وار پر روشنی ڈالتے ہوئے اس میں دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے
پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف حال ہی میں چین کے دورے سے لوٹے ہیں جہاں پر چین کی فوجی اور سیاسی قیادت نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو چین کے خلاف دھشت گردی کرنے کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور وہاں کی حکومت نے فوجی سربراہ پر زور دیا کہ وہ شمالی وزیرستان ،چترال اور گلگت بلتستان میں ٹی ٹی پی کے اشتراک سے ترکستانی سلفی -دیوبندی دھشت گردوں کے تربیتی سنٹرز اور پناہ گاہوں کو ختم کریں
اس سے قبل میاں نواز شریف جب نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت کئے تو 50 منٹ کی ملاقات میں نریندر مودی نے نواز شریف کو پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی جہادی پراکسی کو ختم کرانے کا مطالبہ رکھا تھا
حال ہی میں راشٹریہ سیوک سنگھ جوکہ بھارتیہ جنتا پارٹی پر سب سے زیادہ اثر رکھنے والی جماعت شمار ہوتی کے روحانی پیشوا نے بھی نریندر مودی کو خبردار کیا ہے کہ نواز شریف سے زیادہ ان کو خطرات آئی آیس آئی اور فوجی اسٹبلشمنٹ کی جہادی پراکسی سے ہیں جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ ہرات میں بھارتی سفارت خانے پر دورے سے ایک روز قبل حملہ نریندر مودی کی بجائے نواز شریف کے لیے تنبیہ ہے
پاکستانی ریاست کی دھشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی روکاوٹ اس کے دیوبندی-وہابی دھشت گرد اور مذھبی فاشسٹوں کے ساتھ تعلقات اور ان کی سرپرستی ہے جس کی سب سے بڑی قیمت پاکستان کے عوام ادا کررہے ہیں اور اس سرپرستی نے خود سیکورٹی فورسز کے عام نوجوانوں اور افسروں کی قربانیوں کے رائیگاں چلے جانے کا تصور پیدا کردیا ہے
امریکی سکالر کرسٹائن فرئر کا ٹیوٹر پر آئی ایس آئی کے عذر خواہوں سے ایک سوال کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں فرق یہ ہے کہ آئی ایس آئی اپنے ہی لوگون کو مارتی ہے یا اپنے ہی لوگوں کے خلاف پراکسی وار کرتی ہے بڑا طمانچہ ہے
معاویہ اعظم کی چوہدری نثار سے ملاقات کا منظر
فورتھ شیڈول میں شامل کراچی کا اورنگ زیب فاروقی بہاول بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرہا ہے
دیوبندی فاشسٹ مرحوم اور زندہ سب کے ملٹری اسٹبلشمنٹ اور مسلم لیگ نواز سے تعلقات کوئی راز نہیں ہیں
پچاس ہزار پاکستان کی معصوم شہری اور 12 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کے قاتل ظالمان کے استاد اور شیعہ کی نسل کشی کرنے والی تنظیم کے سربراہ کے ساتھ میاں نواز شریف کی موجودگی کا مطلب کیا ہے؟
پاکستانی گجرات کا قصائی چوہدری عابد گجر جوکہ اہل سنت والجماعت کا مرکزی وہنماء ہے مسلم لیگ نواز کا ایم این اے اس کے نواز شریف سے گہرے تعلقات کی آئینہ دار یہ تصویر ہے
http://www.bbc.com/news/world-asia-27757856
Comments
Tags: Media Discourse on Deobandi Terrorism, Military Establishment, Pakistan Army, Religious extremism & fundamentalism & radicalism, Shia Genocide & Persecution, Sipah-e-Sahaba Pakistan (SSP) & Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) & Ahle Sunnat Wal Jamaat (ASWJ), Takfiri Deobandis & Wahhabi Salafis & Khawarij, Taliban & TTP
Latest Comments
seems something written by cutter shia. its not a news its expression of sectarian hate
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ڈرون کے ذریعے حکیم محسود کی ہلاکت اور قبائلی علاقوں پاک فضائیہ کی کارروائیوں میں بے گناہ بچوں اور خواتین کو مارنے کا بدلہ ہے۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ گزشتہ رات کراچی ایئرپورٹ پر کیا جانے حملہ آغاز ہے اپنے ساتھیوں کو مارے جانے کا بدلہ لینے کے لئے مستقبل میں اس طرز کے مزید حملے کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات کراچی کے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر 10 سے 15 جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجےمیں اے ایس ایف، رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں سمیت 18 افراد شہید جب کہ فورسز کے آپریشن کے دوران 10 سے زائد حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔
http://www.express.pk/story/261133/
BAKWAASSSSS
The Deobandi terrorists’ target included Shia as well as Sunni Barelvi. Thousands of Sunni Barelvi visit Iran every year to pay homage to Imam Raza r.a.
At Karachi airport Deobandi terrorists particularly targeted Sunni Barelvi and Shia. The Karachi attack was masterminded by Mufti Naeem Gang and Aurangzeb Farooqi Gang with the blessings of Bilawal and Ishrat ul Ibad.