وہ جن کے سوا سب کا فر ہیں

وہ جن کے سوا سب کا فر ہیں

عقیدے اور نظریے کی مخالفت کی پاداش میں قتل و غارتگری کرنے والوں سے 2500 سال قبل سقراط نے کیا کہا اگر تم سمجھتے ہو کہ دوسروں کو قتل کرکے تم انہیں اس بات سے باز رکھ سکوگے کہ وہ تمہاری برائی پر تمہیں ملامت کریں تو یہ تمہاری بھول ہے- فرار کا یہ راستہ عزت کا راستہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسا تسلسل کے ساتھ کرنا ممکن ہے- سب سے آسان اور سہل طریقہ یہ ہے کہ دوسروں پر جبر و تششدّد کرنے کے بجاۓ تم لوگ خود اپنی اصلاح کرلو-

پاکستان میں اب عقیدے اور نظریات کی بنیاد پر بیگناہ انسانوں کا قتل کرنا اب روز کا معمول بن چکا ہے.اگر گزشتہ پندرہ سالوں کا جائزہ لیں تو عقیدے اور مذھب کی بنیاد پر ہزاروں بیگناہ انسانوں کو شہید کیا جاچکا ہے جس کے اندر کثیر تعداد پروفیشنلز کی ہے جس میں ڈاکٹر، اساتذہ ، وکلاء ، شاعر اور ادیب شامل ہیں. ان میں سنی ، شیعہ، احمدی، مسیحی اور ہندو سبھی شامل ہیں
پاکستان کا المیہ اب یہ ہے کہ اپنے ہی قوم کی خدمت کرنے والوں کا قتل کیا جارہا ہے جبکہ ملک میں دہشت گردی کرنے والے کھلے گھوم رہے ہیں اور ان کو عدالتوں سے باعزت بری کیا جا رہا ہے. تین دسمبر ٢٠١٢ کو لاہور میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اڑتیس سالوں سے فلاحی خدمات سر انجام دینے والی برجیٹا آلمبی کو مذہبی انتہا پسندوں نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے دفتر سے آتے ہوئے ماڈل ٹاون میں واقع اپنے گھر کے پاس پہنچی تھیں.اس ستر سالہ عورت نے اپنی زندگی پاکستان کی غریب عوام کی خدمت کے لئے وقف کردی تھی جس کا صلہ اس کو گولیوں کی صورت میں ملا جبکہ اس ملک میں فرقہ وارانہ قتل عام کرنے والوں کا لیڈر ملک اسحاق کھلا گھوم رہا ہے بلکہ اس کو عدالتیں مختلف کیسوں میں با عزت بری کر رہی ہیں. حقیقت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے ولے ادارے اور عدالتیں ان دہشت گردوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں. فوج خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ حکومت اور طالبان خان جیسے سیاست داں ان دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوششوں میں لگے ھوۓ ہیں.
اپنی ہی قوم کی خدمت کرنے والوں کو قتل کرنے کی ایک اور مثال ڈاکٹر مہدی علی قمر کی ہے .ڈاکٹر مہدی قمر امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں کارڈیالوجسٹ تھے اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنا پر رضاکارانہ طور پر چناب نگر کے ایک ہسپتال (طاہر ہارٹ سنٹر) میں کام کرنے کی غرض سے آئے تھے. وہ اپنے ساتھ انجیو پلاسٹی میں استعمال ہونے والے سٹینٹ بھی لیکر آئے تھے تاکہ جو غریب مریض اس کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کو دے سکیں مگر ان کو پاکستان کی غریب عوام کی خدمت کا صلہ گولیوں کی صورت میں دیا گیا اور احمدی عقیدے کی بنیاد پر اس انسان کو بیدردی سے قتل کردیا گیا.
انیس فروری ٢٠١٣ کو لاہور میں قوم اور ملک کی خدمت کرنے والے ایک اور پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم اپنے بیٹے کے ساتھ ایچی سن کالج جا رہے تھے۔ بیٹے مرتضیٰ حیدر کو سر میں گولی لگی اور اس نے ہسپتال پہنچے سے پہلے ہی دم توڑ دیا جبکہ علی حیدر کو لگنے والی پانچ سے چھ گولیاں فوری موت کا باعث بنیں۔
ڈاکٹر علی حیدر کے ساتھی ڈاکٹر عثمان امتیاز کہتے ہیں” مجھے فکر ہے کہ جن بچوں کی آنکھوں کے کینسر کا وہ علاج کرتے تھے ان کا کیا ہو گا۔ ان کے مطابق ”وہ کوشش کرتے تھے کہ کسی طور غریب مریضوں کا مفت علاج ہو جائے۔“
بدقسمتی سے اس قوم کی خدمت کرنے والے ڈاکٹر علی حیدر کو اس کی خدمات کا صلہ ان کے اور ان کے بیٹے کے قتل کی صورت میں ملا.
آٹھ مارچ دوہزار تیرہ کی دوپہر کراچی کے معروف عالمی شہرت یافتہ منقبت خوان شاعر اور کالج پرنسپل سید سبط جعفر شہید ہو گئے۔ انھیں ہدف بنا کر قاتلوں نے موت کی نیند سلا دیا۔
اسی طرح کراچی میں ڈاکٹر حسن حیدر، غضنفر علی زیدی, نسیم عباس ,حیدر رضا سمیت سیکڑوں ڈاکٹروں اور اساتذہ کو قتل کیا جاچکا ہے.کوئٹہ میں معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عابد زیدی کو قتل کیا گیا تھا.
گزشتہ پندرہ سالوں میں ہزاروں ڈاکٹروں کو عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا گیا جن میں زیادہ تر کا تعلق کراچی سے ہے. کیوں کہ کراچی میں بیگناہ ڈاکٹروں کو قتل کرکے ایک تیر سے دو شکار کیا جاتا ہے.
اس ملک میں انتہا پسند مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور وہ مخالف یا اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے پر توہین دین کا الزام لگا کر ان کو بیدردی سے قتل کر رہے ہیں.جب ان کا دل چاہتا ہے مخالف فرقے اور نظریہ رکھنے والے لوگوں پر کفر کے فتویٰ لگا کر اس کو قتل کردیتے ہیں.کبھی شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتار شیعوں کر مار دیتے ہیں تو کبھی پشاور کے چرچ میں دھماکہ کرکے مسیحی برادری کو مارتے ہیں تو کبھی ان غریب مسیحی برادی کی پوری بستی کو راکھ کا ڈھیر بنا دیتے ہیں.تو کبھی لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ میں جمعہ کے دوران گھس کر قتل عام کرتے ہیں. تو کبھی داتا دربار اور عبدللہ شاہ غازی کے مزار پر دھماکہ کرتے ہیں.کبھی سلمان تاثیر کو قتل کرکے اس کے قاتل پر پھول نچھاور کرتے ہیں جبکہ اس کا چہرہ چومنے والے وکیل کو اعلی عدالت کا جج بنادیا جاتا ہے. کبھی توہین رسالت کے جھوٹے میں مقدمے میں جنید حفیظ جیسے استاد کو پھنسا دیتے ہیں اور ان کے کیس کی پیروی کرنے والے راشد رحمان کو نہ صرف عدالت میں کھلے عام دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ ان کو قتل بھی کردیتے ہیں.خوف کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ مذمت کرنے سے بھی اب لوگ خوفزدہ ہیں کہ کہیں سلمان تاثیر جیسا حشر نہ ہو.ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں پولیو کے قطرے پلانے والی عورتوں کو قتل کردیا جاتا ہے جبکہ طالبان خان جیسا سیاست داں بڑی ڈھٹائی سے اس کا ذمہ دار بجائے انتہا پسندوں کے شکیل آفریدی کو قرار دیتا ہے
حکومت انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی ہے جبکہ یہ انتہا پسند مسلسل پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سوال پیدا یہ ہوتا ہےآخر ہم من الحثیت قوم کہاں جارہے ہیں؟ اس ملک میں قوم کی خدمت کرنے والے قابل اور اعلیٰ تعلیم  یافتہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے اور قاتلوں کو ہیرو بنا کر ان پر پھول  نچھاور کر کئیے جارہے ہیں.یہ نفرت کی آگ کب بجھے گی؟ صرف ان انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا.اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہوگا .یہ مائنڈ سیٹ مذھبی انتہا پسند علماء نے پیدا کیا ہے جس سے ہمارے ملک میں ہر شعبے  کے لوگ متاثر ھوۓ ہیں.اس مقصد کے لئے علماء حق کو آگے آنا ہوگا جو یہ فتویٰ دیں کہ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر قتل حرام ہیں. جبکہ فتنہ پھیلانے والے علماء سو کے خلاف بھرپور کاروائی کرنی ہوگی اور یہ قانون بنانا ہوگا جو شخص یا مذہبی عالم مذہب کے نام پر فتنہ اور فساد کرے اور مخالف فرقے یا مذہب کے لوگوں کے قتل کی ترغیب دے اس کی سزا موت ہوگی .یہی حل ملک میں موجود مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے اور اس انتہا پسند مائنڈ سیٹ کے خاتمے کا.اس سے پہلے کہ نفرت کی یہ آگ پورے معاشرے کو بھسم کر ڈالے، ہمیں یہ اقدامات کرنے ہونگے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی

آخر میں میں حبیب جالب کے یہ اشعار پڑھوں گا
مذہب کے جو بیوپاری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب سے بڑی بیماری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جن کے سوا سب کا فر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو دین کا حرف آخر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان جھوٹے اور مکاروں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب کے ٹھکیداروں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں باغی ہوں میں باغی ہوں۔۔

 

 

1148832_592395904178138_1798874144_n

 


3 responses to “وہ جن کے سوا سب کا فر ہیں”

  1. فیصل محمود نے بالکل درست تجزیہ کیا ہے اور اس ملک کے زهین لوگوں کا قتل کرنے والوں کے اپنے پروفائل بہت پست گهٹیا ہیں سپاہ صحابہ پاکستان کا بانی حق نواز درس نظامی پورا کرنے سے پہلے ہی بهاگ گیا تها اور اعظم طارق پہلے ساہیوال میں رکشہ چلاتا اور پهر یہ جامعہ فاروقیہ کراچی میں لواطت کے الزام میں پکڑا بهی گیا اور باقی سب کی پروفائل بهی ایسی ہی ہے

  2. سنّت رسول کریم پر چلنے والے لوگ، انسانی سروں سے فٹبال نہیں کھیلتے
    نہ ہی انکے چہرے اتنے وحشی اور بے نور ہوتے ہیں.
    یہ کوئی اور ہی لوگ ہیں. اسلام کے بھیس میں کوئی خارجی ٹائپ کے لوگ.
    اور تو اور انہونے امریکن تو براے نام ہی مارے ہونگے – مگر ٥٠٠٠٠ پاکستانی مسلمان بچہ مار دیا ان خارجیوں نے ….
    جھنڈا اسلام کے ہی لیا ہوا ہے مگر اپنے ساتھ ساتھ جھنڈے کو بھی لے ڈوبیںگے
    یہ ہی مغربی چالاکی لگتی ہے کہ مسلمانوں کا جھنڈا ان کے ہاتھ سے ہی گر واؤ

  3. If these TAKFIRIS killers are happy in killings then the people should Hunt these Hunters. Few Beheadings SSP or LEJ in Public is necessary.

    * Starting from Iraq where USA is planning to take revenge against ISIS to Behead ISIS leaders by the hands of a separating group of ISIS in Future. Beheading of ABU BAKAR BAGHDAD I and his close friends shall soon be done by members of ISIS under the flag of Islam. USA will arrange it
    * In India, the circle around Deoband people shall be very tight. May of Deobandis shall be Killed by Indian Gov’t.
    Then in Karachi and Questa 100s of LeJ members shall be Killed in Encounter. Soon.

    INSHA ALLAH