اشرافیہ کے مفادات اور پاکستان کا مستقبل، ایک سوال؟

290-feudals.jpg w=670

مسلم لیگی حکومت پاکستان کی تقدیر کا سودا کر رہی ہے(دیکھیں عامر حسینی کا مضمون ‘مسلم لیگ نواز کی حکومت اجارہ داریوں کے رستے پر بگٹٹ بھاگی جارہی ہے

https://lubpak.com/archives/301493

جبکہ عوام یہ کافر، وہ کافر، اس کو مارو، اس سے چھینو، زندہ باد ، مردہ باد میں لگے ہیں، ذرایع ابلاغ جو کبھی ریاست کا تیسرا ستون ہوتے تھے<، منافع کے مکھن میں تیر رہے ہیں اور باقی ماندہ سیاسی جماعتیں بھی وہی آستین کے سانپ لئے بیٹھی ہیں جو صدیوں سے اپنے مفادات کے لئے زمین اور قوم کا سودا کرتے چلے آئے ہیں اور جب تک طاقت و اقتدار میں رہیں گے یہی کرتے رہیں گے.

جاگیرداری نظام میں انسان انسان نہیں ہوتا بلکہ طاقتور اور کمزور ہوتا ہے، اور چونکہ طاقت کا سلسلہ اوپر سے نیچے چلتا ہے اس لئے ہر کمزور اپنے سے طاقتور کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، مزارعے اپنے نگرانوں کے رحم و کرم پر، نگران زمینداروں کے رحم و کرم پر، زمیندار اور طاقتور جاگیرداروں کے رحم و کرم پر، جاگیردار اپنے سے طاقتور سرداروں کے رحم و کرم پر، سردار اس طاقت کے رحم و کرم پر جس کے اختیار میں طاقت کے باقی ذرایع جیسے فوج یا پولیس اور انتظامی ادارے ہوں، یعنی کہ ریاست اور ریاست کمزور پڑے تو اس کا متبادل یعنی کوئی بیرونی طاقت جو یا تو ریاست پر قبضہ کر لے یا اسے کھینچ کھانچ کر چلاتی رہے. برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ہو کہ راج، اس سے پہلے مغل ہوں یا ترک، اس درمیان میں طاقت حاصل کرنے والے سکھ ہوں یا پٹھان، یا افغان یا ایرانی غیر ملکی طاقتیں.

تاریخ شاہد ہے کہ اس خطے کے جاگیردار سبھی کے کاسہ لیس رہے ہیں، غیر معمولی شخصیات جیسے سردار احمد خان کھرل، یا پیر پگارا(صبغت اللہ شاہ) ، یا خوشحال خان خٹک پیدا ہوئیں بھی تو ناکام رہیں کیوںکہ طاقتور جاگیرداری ادارہ طاقت کو پوجتا آیا ہے اور ایسے کئی اور اپنوں کے ہاتھوں ہی مارے گئے ہیں.

پنجاب میں یونینیسٹ پارٹی میں شامل مسلمان جاگیرداروں نے مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت جب شروع کی کہ جب انھیں یقین ہو گیا کہ تقسیم اب ہونی ہی ہے، اسی طرح بنگال اور متحدہ صوبہ جات اور دیگر مسلمان اکثریتی علاقوں کے جاگیرداروں نے بھی مسلم لیگ میں شمولیت اسی لئے کی بلکہ خود مسلم لیگ بنائی کہ کانگریس کی ترقی پسند سوچ سے خائف تھے اور ان کو جاگیرداری ادارے کا مستقبل ایک کانگریسی حکومت میں کہیں نظر نہیں آتا تھا، اس خوف کو تقویت کانگریس کی پالیسی سے ملی جیسا کہ رفیع احمد قدوائی کے زیر قیادت حکومت نے سن سینتیس میں متحدہ صوبہ جات میں زمین داری کے خاتمے کا آغاز کیا.

یہی خوف خود پاکستان کی تقسیم کا سبب بھی بنا کیونکہ مشرقی پاکستان کی سیاست عوامی اور ترقی پسند تھی اور مغربی پاکستان کی جاگیردار اشرفیہ اس سے خائف تھی. بنگلہ دیش میں زرعی اصلاحات ایک اہم معامله رہا ہے اور سن اکہتر سے بتدریج اصلاحات ہوتی چلی آئی ہیں، یہ ایک الگ بحث طلب نکتہ ہے کہ ان کا اثر کتنا ہوا ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں بھی اشرافیہ نے طاقت کی کاسہ لیسی کی اپنی روایت برقرار رکھی ہے، مگر حالات پاکستان سے خاصے مختلف ہیں جہاں اشرافیہ نے تمام ملکی اداروں پر موثر قبضہ برقرار رکھا ہے، جمہوری روایت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا اور جمہوریت کے نام پر اسی اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دیا جاتا رہا ہے، انتہا پسندی کو باقائدہ منصوبے کے تحت عوام میں پھیلایا گیا ہے تاکہ لڑاؤ اور حکومت کرو کو پالیسی پر عمل کیا جا سکے،

اس مقصد کے لئے ابلاغ سے لے کر تعلیم تک ہر اس ادارے کو استعمال کیا گیا ہے کہ جو رائے عامہ بنانے میں کام آتا ہے. اسی مقصد کے لئے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور مضحکہ خیز سازشی نظریات کو باقائدہ ریاستی سرپرستی حاصل رہی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ روشن خیال اور با مقصد تحریکوں اور اداروں کو ختم کیا جا سکے. حسن ناصر سے لے کر نظیر عباسی اور ذولفقار علی بھٹو سے لے کر شہباز بھٹی تک ہر اس فرد کو نشانہ بنایا گیا ہے جس نے اشرافیہ کے مقاصد کو ذرّہ بھی للکارا یا اس کے خلاف کسی موثر تحریک کا آغاز کیا.

پاکستان کی جاگیرداری اشرافیہ نے ہی آگے بڑھ کر صنعت و تجارت پر بھی قابو حاصل کیا ہے اور صنعت کاروں اور تاجروں سے مل کر ایک ایسے نظام کی پرورش جاری رکھی ہے جس کا مقصد ہی عوامی استحصال ہے اور اس مقصد کے لئے بھی انتظامی اور دفاعی اداروں کو استعمال کیا ہے. یہ طبقہ مستقل لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے جبکہ عوام کی اکثریت غربت، بھوک، جہالت اور صحت کے مسائل سے نبرد آزما ہے. صرف یہی نہیں بلکہ اس عمل کے دوران پاکستانی عوام کے اثاثہ جات کو گروی رکھ کر بن الاقوامی سرمایہ داری نظام کی غلامی بھی کی گئی ہے، کیونکہ اس کے بغیر ریاست کا خاتمہ ہو جاتا. شنید یہ ہے کہ یہ طبقہ اس لوٹ کھسوٹ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ پاکستان کے تمام وسائل کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، اس طبقے نے مختلف غیر ملکی آقاؤں کے انتخاب اور ان کو ہمارے وسائل کی تحویل کے کام کا آغاز خاصے عرصے سے جاری رکھا ہے کونکہ اسی میں ان کی سلامتی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ہماری بندرگاہوں سے لے کر زرعی زمینوں اور معدنی وسائل کا مکمل اختیار غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے.

طاقت کی اس مثلث میں پورے پاکستان کی اشرافیہ اپنے سے طاقتور کو خوش کرنے میں لگی ہے، اس لئے سندھ ہو یا پنجاب، یا خیبر پختونخوا یا بلوچستان عوامی استحصال کا سلسلہ جاری ہے اور حقوق کا مطالبہ کرنے والی کسی بھی تحریک کے خلاف ریاستی جبر کا سلسلہ بھی جاری ہے، خاص طور پر بلوچستان اور پھر سندھ جہاں پر قوم پرست تحریکیں اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہیں وہاں تشدد اور جبر کا ہولناک کھیل جاری ہے جس میں تمام تر انسانی حقوق کی نفی کی جا رہی ہے.

یہ بات قبل غور ہے کہ حقوق کے حصول کے لئے جاری یہ تحاریک جو پورے پاکستان میں کسی نہ کسی طرح موجود ہیں، ایک باقائدہ اتحاد کی صورت میں منسلک نہیں ہو سکی ہیں اور نتیجہ یہ کہ وفاق سے علحیدگی کا مطالبہ خصوصی طور پر بلوچستان میں زور پکڑ چکا ہے، سوال یہ ہے کہ ان تحاریک میں مقامی اشرافیہ کا کیا کردار ہے ؟ اور کہیں یہ اشرافیہ ہی تو ایک بڑے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈا جانا چاہیے وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس اشرافیہ کے مقاصد کے حصول کے چکر میں بار بار تقسیم ہو کر دیکھا ہے، اور ہر تقسیم کا نتیجہ برا ہی نکلا ہے.

 یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ جاگیر داری پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی کے ڈسکورس میں کہیں نظر نہیں آتی، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس خطے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ عوام سے منسلک سیاستدان اور دانشور خود آگہی کے عمل سے گزریں، خود احتسابی ہماری باقی رہ جانی والی ترقی پسند تحریکوں کے لئے بے انتہا ضروری ہے. اور ایک وسیع عوام  دوست اتحاد بھی جو علاقائی قومی حقوق کے ساتھ ساتھ طبقاتی جدوجہد بھی جاری رکھے. ورنہ ہمارے قومی اثاثے آہستہ آہستہ اشرافیہ کے معدوں میں اتر جائیں گے، یہ اشرافیہ ایک کے بعد دوسرا آقا ڈھونڈ لے گی ، باقی ماندہ قدرتی وسائل کو ٹھکانے لگاۓ گی، اور کچھ بعید نہیں کہ  پھر بھارت کی گود میں جا سوئے گی (اس کا آغاز بھی ہو چکا ہے ، منطقی طور پر پاکستان پر  بھارتی اجارہ داری ممکنات میں ہے بہ نسبت چینی یا عرب اجارہ داری کے جس کے ہمارے ہاں خواب دیکھے جاتے ہیں ) اور پاکستانی دو قومی نظریے کی گھٹی چوستے رہ جائیں گے .

Comments

comments

Latest Comments
  1. rabnawaz
    Reply -
  2. Akmal Zaidi
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*