دنیا بھر میں جاری دہشت گردی میں سعودی عرب ملوث ہے – از حق گو

p43massfuneralAFP

سعودی عرب میں عطیات اور چندہ دینے والوں نے جہاد کے نام پر پچھلے تیس سال میں دیوبندی اور سلفی تکفیری دہشت گردوں کو بنانے اور طاقتور ہونے میں نہایت گھناونا کردار ادا کیا ہے – نو گیارہ  کے بعد ” دہشت گردی  کے خلاف ” جنگ شروع کرنے کے باوجود امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے دہشت گردوں کو اربوں ڈالرز کی فنڈنگ کرنے والی سعودی اور خلیجی باد شاہتوں کی جانب سے آنکھیں موند کر منافقت کا ثبوت دیا – اس فنڈنگ کی اہمیت بیان کرتے امریکا کے دو بیانات کا موازنہ کرنا ضروری ہے جو کے امریکی کے جاسوسی اداروں کی حاصل کردہ معلومات پہ جاری کے گیے – ان میں سے پہلا نو گیارہ تحقیقاتی رپورٹ میں جاری کیا گیا –

اس بیان کے مطابق اسامہ کے لئے انیس سو چورانوے کے بعد سے القاعدہ کی فنڈنگ ممکن نہیں تھی اور اس نے اس مد میں سعودی عرب اور عرب ریاستوں میں موجود امرا اور دولت مند افراد اور لوگوں سے القاعدہ کے لئے فنڈنگ حاصل کی جن لوگوں کے ساتھ وہ اسی کی دہائی میں تعلقات استوار کر چکا تھا – سی ائی اے کی رپورٹس کے مطابق دو ہزار دو میں یہ بات سامنے ائی کہ اس سلسلے میں دولت مند لوگوں سے رابطہ کر کے فنڈنگ اکٹھی کی گیی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب سے تھا

سات سال بعد ایک رپورٹ جس کی تحقیقات کے دوران ہی امریکا عراق پہ حملہ کر چکا تھا اس میں عراق میں القاعدہ کے قیام اور وہاں سے القاعدہ رہنماؤں کے افغانستان فرار اور طالبان کی حمایت کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں پھیل جانے کی خبروں کے ساتھ ہی افغانستان ، پاک افغان سرحد اور یمن کے اعلاقوں میں موجود القاعدہ رہنماؤں پہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا – اس کے باوجود امریکا نے سعودیہ عرب کے خلاف ثبوت ہونے پر بھی چھپ سادھے رکھی

تیس دسمبر دو ہزار نو کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی طرف سے بھیجے گیے ایک ٹیلیگرام جو بعد میں وکی لیکسکے توسط سے منظر عام پر آیا اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ کہ پوری دنیا میں دیوبندی اور وہابی تکفیری دہشت گردوں کو سب سے زیادہ فنڈنگ سعودی عرب سے ہی کی جاتی ہے – ہیلری نے اپنے اسی پیغام میں کہا کہ آٹھ سال پہلے نو گیارہ کے حملوں میں میں بھی انیس میں سے پندرہ حملہ آور سعودی تھے –

اسی پیغام میں کہا گیا کہ سعودی عرب ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں القاعدہ طالبان اور لشکر طیبہ اور تکفیری دہشت گرد گروہوں کی فنڈنگ کا ذمہ دار ہے – اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد کویت کو فنڈنگ مہیا کرنے اور پہچانے میں بھی استعمال کرتے ہیں

امریکا اور اس کے مغربی اتحادی سعودی  عرب کے حوالے سے اس دوہرے  معیار کا ثبوت کیوں دیتے ہیں ؟ سعودی عرب جو القاعدہ اور دہشت گردوں کے لئے ہر قسم کی حمایت کا مرکز ہے اس کے کو قریبی دوست  بھی مانا جاتا ہے اور اس کے دہشت گردوں کے ساتھ مراسم کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے – اس کی ایک وجہ تو سعودی عرب کے شاہی خاندان کا امریکا اور برطانیہ کی معیشتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایا کاری ہے جس کی وجہ سے امریکی اور برطانوی حکام  سعودی عرب کے دہشت گردوں کے تعلقات کو نظر انداز کے ان دہشت گردوں کا تعلق ایران اور عراق سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں

اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ القاعدہ کے لوگ اپنے دشمنوں کے حوالے سے متفق نہیں ہیں – وہ امریکا کو تو اپنا دشمن مانتے ہیں مگر عراق ایران شام اور پاکستان میں القاعدہ اور اس کے متعلقہ دیوبندی اور وہابی تکفیری شیعہ مسلمانوں کو اپنا دشمن مانتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں قتل کر رہے ہیں اور ان ممالک میں بھی شیعہ کو مارا جا رہا ہے جہاں ان کی آبادی بہت کم ہے جیسا کہ مصر

پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والے شیعہ کی خبر کو میڈیا کوئی اہمیت نہیں دیتا – عراق میں بھی دسیوں شیعہ وہابی دہشت گردوں کی دہشت گردی کا روز نشانہ بنتے ہیں – عراق میں اس سال مرنے والے سات ہزار افراد میں سے زیادہ تر شیعہ مسلمان ہیں – شام میں بھی شیعہ کو خاص طور پہ وہابی تکفیری تنظیم جو القاعدہ کی شام اور عراق میں شاخ ہے نشانہ بنا رہی ہے – لیبیا میں بھی ایک پروفیسر کو محض اس بنیاد پہ ذبح  کر دیا جاتا ہے کہ اس نے ایک وڈیو میں تسلیم کیا تھا کہ وہ شیعہ ہے

فرض کریں اگر جو مظالم شیعہ مسلمانوں کے خلاف کے جا رہے ہیں اگر ان کا سواں حصّہ بھی امریکا ، برطانیہ یا مغربی ممالک کے ساتھ کیا جاتا تو کیا ان ممالک کا سعودی عرب کے ساتھ تب بھی ایسے ہی رویہ ہوتا ؟ امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کےقبائلی علاقوں اور یمن میں ڈرون کا نشانہ بنا کے جن دشہت گردوں کو مار رہے ہیں ان کے مرنے کا بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کوئی لمبے عرصے تک فایدہ نہیں ہونا ، کیوں کہ اصل سوچ و فکر سعودی ہے جو شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ امریکا برطانیہ کو بھی اپنا دشمن مانتی ہے – اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پہ یہ بات صاف ہو جانی چاہے کہ جلد یا بدیر دہشت گردوں کا اصل ہدف امریکا ، برطانیہ اور اتحادی ممالک ہی ہیں –

شام میں جاری سعودی عرب کے ریال اور فتووں کی حمایت سے لڑے جانے والے ” جہاد ” میں تکفیری دیوبندی اور تکفیری سلفی دہشت گردوں کے ہاتھوں غیر سلفی شامیوں کا قتل عام اور ذبح کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تکفیری دہشت گرد سب کے دشمن ہیں – سعودی عرب اور قطر کی حکومتیں دونوں نے شام میں جاری فساد پر اربوں ڈالرز خرچ کر کے اسے ایک فرقہ وارانہ جنگ بنا دیا ہے جس میں سعودی اور قطری حمایت یافتہ تکفیری دیوبندی اور سلفی شامی عوام اور بشر الاسد کے حامیوں کا قتل عام کر رہے ہیں – حالات کو اس نہج تک پہچانے کے بعد اب سعودی عرب اور قطر کا خیال ہے کہ وہ اپنے اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو اسلحہ اور حمایت فراہم کر کے اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ بشار الاسد حکومت کو ختم کرنے کے بعد القاعدہ اور ال نصرہ جیسے گروہوں سے کا کردار محدود کر سکتے ہیں –

سعودی عرب کی شام کے حوالے سے پالیسی کے سربراہ سعود الفیصل ، انٹلیجنس کا سربراہ بندر بن سلطان اور نائب وزیر دفاع سلمان بن سلطان کے منصوبے کے مطابق لاکھوں کروڑو ڈالرز خرچ کر کے وہ وہابی سلفی تکفیریوں اور تکفیری دیوبندیوں کی ایک چالیس پچاس ہزار نفوس پہ مشتمل طاقتور فوج بنا سکتے تھے جو اسد حکومت کا خاتمہ کر دے اور اس سلسلے میں انھیں بہت بڑے بڑے جنگجو سرداروں اور دولت مند اشخاص کی حمایت بھی حاصل تھی –

سعودی عرب میں صدر اوبامہ کی طرف سے شام پر حملے کے لئے صرف فضائی حملے کا اعلان (جیسا لیبیا میں قدافی حکومت کرنے کے لئے کیا گیا تھا ) کرنے کے بعد کافی بے چینی اور غصہ پایا جاتا تھا جس میں ایران کی ساتھ امریکا کی ڈیل کے بعد شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ریاض میں اس حوالے سے شدید تحفظات پاۓ جاتے ہیں –

شام میں کروڑوں ڈالرز خرچ کے بعد بھی سعودی عرب شائد ہی کوئی مقصد حاصل کر سکے – کیوں کہ تکفیری دیوبندی اور وہابی گروہوں میں پیسے کے لئے قائم کیا جانے والا اتحاد مصنوی ہے جو زیادہ عرصے تک چلتا نظر نہیں آرہا – اور ان دہشت گردوں گروہوں میں جو شامی اور اسد مخالف جرنیل اور گروہ شامل تھے انھیں بھی اپنا عبرت ناک مستقبل صاف نظر آرہا ہے –

اردن شائد سعودی دباؤ میں ان گروہوں کی کسی حد تک مدد کر سکے مگر وہ اس حد تک نہیں جائے گا جہاں اسے کھل کر اسد کی مخالفت کرنی پڑے کیوں کہ اسد کی مخالفت کے بدلے بھی وہ ان قوتوں پہ بھروسہ کرنے کی حثیت میں نہیں جو اسے تحفظ دے سکیں –

سعودی منصوبہ گو کہ ناکام نظر آرہا ہے لیکن پھر ہی یہ بہت سارے شامیوں کی جان لے لیگا – مشرق وسطیٰ کے امور میں ماہر سمجھے جانے والے تجزیہ کار یزید صیغ کا کہنا ہے کہ ” سعودی عرب شام میں افغانستان کی تاریخ کو دوہرا رہا ہے جہاں اس نے مختلف گروہوں کو پیسے کے زور پہ متحد تو کر دیا لیکن پھر وہ گروہ اپس میں لڑتے رہے اور پھر القاعدہ آن پہنچی اور وہاں سے وہ دہشت گردی کرتے کرتے سعودی عرب تک آ گیی جس کا خمیازہ سعودی عرب کو بھی بھگتنا پڑا

Adapted And Translated From :

https://lubpak.com/archives/296073

Comments

comments

Latest Comments
  1. umar maaviya
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*