جہاد النکاح کا دھوکہ: سلفی ملاؤں کے فتوے کے بعد سینکڑوں دیوبندی وسلفی لڑکیاں شام میں جہادی دہشت گردوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بن گئیں

g

تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا ہے کہ کئی سلفی وہابی خواتین ’جنسی جہاد‘ کے لیے شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے دیوبندی و سلفی جنگجوؤں کے ساتھ جنسی مراسم کے لیے شام جا کر واپس آ گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ نے تیونس کی قومی قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ ’یہ سلفی وہابی خواتین شام میں بیس، تیس یا ایک سو جہادی جنگجوؤں کے ساتھ سیکس کرتی ہیں۔ یہ سیکس سعودی عرب، قطر، مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کے وہابی سلفی اور دیوبندی ملاؤں کے فتوے کی روشنی میں ’جہاد النکاح‘ کے طور پر کیا جاتا ہے اور وہ حاملہ ہو کر واپس تیونس آتی ہیں۔‘

تاہم وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ جہاد النکاح کے لیے کتنی خواتین شام گئیں اور حاملہ ہو کر واپس آئی ہیں۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق ایسی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ پاکستان سے بھی سپاہ صحابہ اور طالبان کے کچھ دیوبندی وہابی جہادیوں نے اپنی بہنوں اور خاندان کی دوسری عورتوں کو جہاد با النکاح کے لئے شام بھیجا ہے

تیونس کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ “مارچ میں جب میں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو اس وقت سے اب تک لگ بھگ چھ ہزار نوجوان لڑکوں کو شام جانے سے روکا گیا ہے۔”

سعودی عرب، تیونس، مصر، پاکستان، لبنان اور اردن سے ہزاروں سلفی وہابی اور دیوبندی دہشت گرد اپنی بہنوں سمیت جہاد اور جہاد با النکاح کے لئے بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے شام جا چکے ہیں جن کی ساری فنڈنگ سی آئی اے ، سعودی عرب اور قطر سے ہو رہی ہے

تاہم وزیر داخلہ نے اراکین پارلیمان کو بتایا ’مارچ میں جب میں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو اس وقت سے اب تک لگ بھگ چھ ہزار نوجوان لڑکوں کو شام جانے سے روکا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سرحد پر نگرانی سخت کردی گئی ہے جس کے باعث لوگوں کا شام جانا مشکل ہوگیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پندرہ ماہ سے جاری شام میں خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے تیونس سے ہزاروں لوگ شام جا چکے ہیں۔

سلفی فقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیم انصار الشریعہ کے سربراہ ابو عیاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں کو شام میں حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ابو عیاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اس گروہ سے ہے جس نے نو ستمبر 2011 میں افغانستان میں شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کو خودکش حملے میں قتل کیا تھا۔ اس سلفی وہابی گروہ کے افغانستان اور پاکستان میں طالبان اور لشکر جھنگوی کے دیوبندی دہشت گردوں سے گہرے تعلقات ہیں

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے مفتی العریفی کی جانب سے شام میں باغیوں کی جنسی تسکین کیلئے دیئے جانے والے نام نہاد فتوے کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں

اب تک کی اطلاعات کے مطابق کئی ممالک کی لڑکیاں باغیوں کی جنسی درندگی کا شکار ہوکر اپنے گھرو ں کا رخ کر رہی ہیں، جن میں بیشتر لڑکیاں حاملہ ہیں، ان لڑکیوں میں سے بیشتر کو یہ نہیں معلوم ان کے رحم میں پلنے والا بچہ کس کا ہے۔ اس مناسبت سے تیونس کے وزیرداخلہ عمر بن جدو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں جہاد النکاح کے نام پر جنسی جہاد کے لیے جانے والی تیونسی لڑکیاں حاملہ ہوکر واپس آگئی ہیں، وہاں تیونسی لڑکیوں کا بیس، تیس اور ایک سو تک باغیوں سے جنسی رابطہ ہوا تھا اور وہ حمل کی صورت اس کا پھل لے کر وطن لوٹ آئی ہیں۔ ایک عربی نیوز سائٹ کے مطابق تیونسی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب ہم خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ عمر بن جدو نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے مارچ 2013ء کے بعد 6 ہزار تیونسیوں کو شام جانے سے روکا ہے اور شام میں جہاد النکاح کے لیے تیونسی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں 86 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جہاد النکاح پر جانے والی لڑکیوں میں سے زیادہ تر کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان شام میں اگلے محاذوں پر لڑرہے ہیں اور انھیں یہ تربیت دی گئی ہے کہ کیسے دیہات پر حملے کیے جاتے ہیں۔

کچھ عرصے قبل بھی تیونس کے سابق مفتی شیخ عثمان بطخ نے اپریل میں کہا تھا کہ تیرہ تیونسی لڑکیوں کو بے وقوف بناکر شام لے جایا گیا ہے تا کہ وہ وہاں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو جنسی خدمات مہیا کرسکیں۔ انھوں نے اس نام نہاد جنسی جہاد کو قحبہ گری کی ایک شکل قرار دیا تھا لیکن انھیں اس بیان کے کچھ دیر کے بعد ہی تیونس کی حکومت نے فارغ کردیا گیا تھا۔ اگست میں تیونس کے محکمہ پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ بن عمر نے ملک کے مغرب میں ایک جنسی جہاد سیل کو توڑنے کی اطلاع دی تھی۔ انھوں نے تب صحافیوں کو بتایا کہ القاعدہ سے وابستہ انصار الشریعہ مکمل حجاب میں ملبوس کم عمر لڑکیوں کو جہادی جنگجوؤں کو جنسی خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق شام میں ترکی، سعودی عرب ،قطر، کویت،امارات، اردن، تیونس ، مصر، لیبیا، افغانستان ، پاکستان اور یورپ سمیت 35 ممالک کے دہشت گرد موجود ہیں جو شامی عوام اور حکومت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

جہاد النکاح میں شریک سعودی خاتون پر کیا بیتی؟

شام میں جہاد النکاح میں شرکت کرنے والی ایک سعودی لڑکی کے ساتھ تکفیری مجاہدین نے اجتماعی طور پر زنا جیسا شرمناک فعل انجام دے کر اسے واپس سعودی عرب روانہ کر دیا۔

الحدیث نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی ایک جوان لڑکی شام میں جہاد النکاح میں شرکت کر کے جنت کمانے کے چکر میں تکفیری دھشتگردوں کی اجتماعی ہوس کا نشانہ بن گئی۔ سعودی عرب کی عائشۃ البکریٰ نامی جوان لڑکی تین ماہ قبل وہابی مفتی شیخ العریفی کے جہاد النکاح کے فتوے کے بعد شام میں تکفیری دھشتگردوں کے پاس پہنچی تاکہ اپنے امام شیخ العریفی کے فتوے پر عمل کر کے جنت کی مستحق قرار پائے۔

شام میں اجتماعی طور پر دھشتگردوں کی جنسی خواہشات کا نشانہ بننے والی اس سعودی لڑکی کو تین ماہ کے بعد شام سے بیروت روانہ کر دیا تاکہ وہاں سے ریاض واپس جا سکے۔

اس فریب خوردہ لڑکی نے سعودی عرب پہنچ کر اپنی روداد یوں بیان کی کہ میں العریفی کے فتوے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے تقرب الہی حاصل کرنے کے لیے شام میں پہنچی تاکہ مجاہدین کے ساتھ جہاد النکاح میں شامل ہو جاوں۔

اس لڑکی نے مزید بتایا کہ مختلف ممالک الجزائر، پاکستان، صومالیہ، ایتھوپیا اور عراق کے مجاہدین نے مجھے اجتماعی طور پر متعدد بار اپنی جنسی خواہشات کا نشانہ بنایا اور اس وقت میں حاملہ ہوں جبکہ مجھے نہیں معلوم اس بچے کا باپ کون ہے؟۔ اس لڑکی نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ جبہۃ النصرہ کے کمانڈر نے بھی اس کو کئی دن اپنے پاس رکھا اور اس کے ساتھ وقت گزارا۔
سعودی عرب کی اس طرح کی کئی لڑکیاں وہابیوں کی ایجاد کردہ اس بدعت کو جسے اسلام نے زنا کہا ہے اور اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے جہاد النکاح سمجھ کر انجام دے رہی ہیں اور بڑے شوق سے جنت کما رہی ہیں جبکہ انہیں نہیں معلوم کہ اس فعل حرام کے بدلے میں انہیں جنت کی خوشبو بھی سونگھنے کو نہیں ملے گی۔

واضح رہے کہ ایک طرف تو شام کے سلفی وہابی جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لگاتے ہیں اور دوسری طرف فریب خوردہ لڑکیوں کو اجتماعی طور پر اپنی خواہشات کا نشانہ بنا کر شرم آور ترین اعمال دیتے ہیں۔ کیا دنیا ان افراد کو مجاہد کہتی ہے؟ کیا اسلام کی نگاہ میں مجاہد ایسا ہی ہوتا ہے؟

یہ دہشت گرد جس علاقے کو فتح کرتے تھے اس علاقے کی خواتین کو کنیز بنا کر اپنی خواہشات پوری کرتے تھے۔۔ لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے کچھ “سلفی” مولویوں کے اس فتوی نے ان دہشت گردوں کا کام اور آسان کردیا۔۔ کہ جس فتوی میں “جہادیوں” کے لیے جہاد النکاح کے نام پر عورتوں کی سپلائی کو جائز قرار دیا گیا۔۔۔ اب یہ عورتیں ہر مرد کے ساتھ چند گھنٹے گزاد یا کریں گی۔۔۔ اور جنسی خواہشات پوری کر کے جھاد میں اپنا حصہ ڈال دیا کریں گی۔۔۔ ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس حوالے سے بہت سے خواتین کو مجبور بھی کیا گیا۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ترکی کے ایک مہاجر کیمپ نے ان مجاہدین کے خوف سے ایک شامی عورت نے خود کو اور اپنی تین بیٹیوں کو آگ لگا دی اور ہمیشہ کی موت سو گئیں۔۔۔ ۔ اور اپنی عزت پر حرف نہ آنے دی۔۔۔ تازہ “القدس العربی” کی خبر کی مطابق تیونس کی دسیوں خواتین شام میں جھاد النکاح کا کام انجام دے رہی ہیں۔

http://www.alquds.co.uk/index.asp?fname=data\2013\03\03-28\28qpt997.htm

: الجریزہ ٹی وی کی خاتون رپورٹر واینکر پرسن غاحتہ عولیس کی شام میں القاعدہ کی ذیلی شاخ ’’ جبھتہ النصرہ ‘‘ کے اہم کمانڈروں کے ہاتھوں عصمت دری کا انکشاف ہواہے۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی اطلاع کے مطابق الجزیرہ ٹی وی کی خبرنگار اور اینکر پرسن غاحتہ عولیس شام کے حالات کی کوریج کیلیے قطر سے روانہ ہوئی۔ چند روز بعد اس کے بارے میں عرب ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ غاحتہ عولیس کو شام میں عسکریت پسندوں نے ہوس کا نشانہ بنایا لیکن الجزیرہ ٹی وی نے ان اطلاعات کی تردید کردی۔ جب غاحتہ عولیس کو شام سے قطر منتقل کیا گیا تو خاتون اینکر پرسن نے الجزیرہ ہیڈ آفس میں شکایت کی کہ شام میں سکو جبتھہ النصرہ کے مرکزی کمانڈر نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

آیت اللہ مقتدائی نے وہابیوں کے فتووں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شام میں سرگرم دھشتگردوں کے درمیان جو جہاد النکاح رائج ہے اس کا اسلام اور شریعت اسلامی سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا: جہاد النکاح، شریعت، فقہ اور اسلام کے خلاف ہے اور صریحا فعل حرام ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے تحت شریعت کے قوانین کو بدلنے کی کوشش کی ہے اور امریکہ اور صہیونیت کی حمایت میں ایسے فتوے دینا شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہابی علماء در حقیقت امریکہ کے مزدور ہیں جو فقہ اور شریعت اسلامی کے نام پر اس طرح کے فتوے دیتے ہیں جبکہ فقہ اسلامی کا ان فتووں سے کوئی ربط نہیں ہے۔

Tunisian girls return home pregnant after ‘sexual jihad’ in Syria
Friday, 20 September 2013

Source: Al Arabiya http://english.alarabiya.net/en/variety/2013/09/20/Tunisia-says-sexual-jihadist-girls-returned-home-from-Syria-pregnant.html

A number of Tunisian Slafi Wahhabi girls who had travelled to Syria to perform “sexual jihad” (sexual intercourse with Salafi Wahhabi and Deobandi Jihadist terrorists fighting with Syrian Army) there have returned back home pregnant, Tunisian Interior Minister Lotfi Bin Jeddo said on Thursday (19 Sep 2013).

The Tunisian girls “are (sexually) swapped between 20, 30, and 100 rebels and they come back bearing the fruit of sexual contacts in the name of sexual jihad and we are silent doing nothing and standing idle,” the non-partisan minister said during an address to the National Constituent Assembly.

Bin Jeddo said the interior ministry has banned 6,000 Tunisians from travelling to Syria since March 2013 and arrested 86 individuals suspected of forming “networks” that send Tunisian youth for “jihad” to Syria.

The minister hit back at human rights groups criticizing the government’s decision to ban suspected “jihadists” from travel. Most of those slapped with travel bans were less than 35 years old, he said.

“Our youths are positioned in the frontlines and are taught how to steal and raid (Syrian) villages,” Bin Jeddo said.
Former Mufti of Tunisia Sheikh Othman Battikh said in April that 13 Tunisian girls “were fooled” into travelling to Syria to offer their sexual services to rebels fighting to overthrow the regime of President Bashar al-Assad.

The mufti, who was dismissed from his post days afterwards, described the so-called “sexual Jihad” as a form of “prostitution.” “For Jihad in Syria, they are now pushing girls to go there. 13 young girls have been sent for sexual jihad. What is this? This is called prostitution. It is moral educational corruption,” the mufti told reporters.
In August, general director of the public security service Mostafa Bin Omar said a “sexual jihad cell” was broken up in an area west of the country where al-Qaead fighters holed up.
Bin Omar told reporters that al-Qaeda affiliate Salfist militant group Ansar Shariah was using minor girls, dressed in the full face cover to offer sexual services for jihadist male fighters.

http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130920_jihad_al_nikah_rh.shtml

http://www.express.pk/story/170098/

http://www.taghribnews.com/vdccsoqsx2bq1o8.c7a2.html

http://ur.shafaqna.com

http://www.abna.ir/print.asp?lang=6&id=453420

http://english.alarabiya.net/en/variety/2013/09/20/Tunisia-says-sexual-jihadist-girls-returned-home-from-Syria-pregnant.html

Comments

comments

Latest Comments
  1. Khalid Bhatti
    -
    • Junaid Arbab
      -
  2. Sarah Khan
    -
  3. Khalid Bhatti
    -
  4. RAZA
    -
  5. Ikram ullah
    -