Sindhi Topi, Indus Valley Civilisation and Our Fast Track Intellectuals – by Qais Anwar


Related articles: LUBP Sindhi Topi Archive

سندھی ٹوپی؛ وادی سندھ اور فاسٹ ٹریک دانش ور

میں جکارتہ جانے کے لیے سماٹرا (انڈو نیشیا)کے شہر پاڈانگ کے اءیر پورٹ پر جہاز کا انتظار کر رہا ہوں ۔ میرے پاس سندھی ٹوپی نہیں لیکن ایک اجرک ہے جو میں نے اپنے شانوں پر ڈال رکھی ہے۔ ہاں میں بھی آج سندھی ٹوپی کا دن منا رہا ہوں ۔

اس چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے اءیر پورٹ پر کسی کو پراوہ نہیں کہ میں کیا پہنے ہوءے ہوں۔ یہ یہاں کا مزاج ہے۔ ہزاروں جزیروں اور سینکڑوں زبانوں والے اس ملک میں یگ یکارتہ جیسا شہر بھی ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح ٹھپے سے ڈیزاءین کیے ہوءے باتیک کی تلاش میں آتے ہیں ۔وہیں جایا پورہ جیسا شہر بھی جہاں وہ لوگ بھی رہتے ہیں جو لباس کے نام پر صرف اپنے عضو تناسل پر ایک نلکی چڑھا لیتے ہیں ۔ اس تنوع کو یہ لوگ اپنی طاقت قرار دیتے ہیں۔

انڈونیشیا میں سال کا ایک دن باتیک کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جب لوگ اپنے اپنے علاقے کا باتیک پہنتے ہیں ۔ میں جو بیرون ملک اکثر کرتا پاءیجامہ پہنتا ہوں مجھے ان لوگوں نے کبھی حیرانگی سے نہیں دیکھا ۔

اسی سال ایک تقریب میں صدر کا خطاب تھا ۔ دعوت نامے میں لکھا تھا کہ انڈونیشیا کا رسمی لبا س پہن کر آءیں ۔ اجلاس گاہ کے استقبالیہ پر بیٹھی خاتون نے میرے کرتے پاءیجامے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ میرا رسمی لباس ہے اس نے فورآ رجسٹریشن فارم میری طرف بڑھا دیا اور مجھے میری نشست دکھا دی۔

۔ میں کرتا پاءیجامہ کیوں پہنتا ہوں یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے۔ میں بہت ہی خالص پنجابی ہوں ۔ میرے اس خالص ہونے کے میرے پاس بہت سے ثبوت ہیں جس میں سب سے اہم وہ ثبوت ہے جوبہت پہلے ایک ادارے میں میری ایک اعلی طبقے کی ساتھی کارکن نے میرے ایک ماتحت کو یہ کہہ کر دیا تھا کہ تمہارا باس اتنا پنجابی ہےکہ انگریزی بھی پنجابی میں بولتا ہے۔اس تمام پنجابیت کے باوجود نجانے کیوں مجھ میں ہمت نہیں کہ میں اپنا پنجابی لباس تہمند پہن سکوں یا سر پر پگ رکھ سکوں ۔

بہت پہلے رنجیت سنگھ کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پنجاب ایجوکیشن بورڈ بنا تھا تو لوگوں کو بتا یا گیا تھا کہ پشاور سے لے کر کرنال تک پھیلے ہوءے اس وقت کے پنجاب میں گاءوں گاءوں میں جو مدرسے اور دھرم شالاءیں ہیں وہ سکول نہیں ہیں یہ آغاز تھا اور پھر رفتہ رفتہ اس پورے پنجاب میں لکھی جانے والی زبانیں بولیوں میں تبدیل ہو گءی۔ وہ پگ جو میرے آبا و اجداد کا فخر تھی وہ انگریز نے اپنے دربان اور ہوٹل کے بیرے کو پہنا دی۔ میں اپنی قوم پرستی کے اظہار کے لیے عرصے تک شلوار قمیض پہنتا رہا اور اب کرتا پاءیجامہ پہنتا ہوں لیکن کرتا؛ دھوتی اور پگ۔۔۔۔ابھی بھی شاید پہننے کی ہمت نہیں ؟؟؟؟

ہاں وہ سارے لوگ مجھے بڑے بہادر لگتے ہیں جو اپنے روایتی لباس پر شرمندہ نہیں ہوتے ۔اپنے روایتی لباس اور اپنی زبان پر شرمندہ شاید میں اکیلا نہیں ہوں ۔ مجھے بہا و الدین زکریا یونیورسٹی میں اپنےسیشن کی وہ لڑکی ابھی تک یاد ہے جو ایک دن اپنے ایک ٹیچر کی براءی کرتے ہوءے کہہ رہی تھی کہ ملانہ صاحب اتنے بد تمیز ہیں کہ لڑکیوں کے ساتھ بھی پنجابی میں بات کرتے ہیں

۔پنجابی زبان کے ذکر پر مجھے وہ واقعہ بھی یاد آتا ہے جب ملایشیا کے شہر پنانگ میں مجھے ایک بوڑھے سکھ کے ساتھ پنجابی میں بات کرتے دیکھ کر میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا تھا یہ آدمی میرے دادا کی زبان کیسے جانتا ہے؟ مجھے اندازہ ہے کہ ہم میں بہت سے وہ ہیں جن کی شناخت چھننے کے بعد ان کا یہ احساس بھی کھو چکا ہے کہ ثقافت کی کوءی اہمیت ہوتی ہے۔

اسی احساس کے تحت ہی ہم نے کبھی بنگالیوں کو اپنی مرضی سے رہنے کا حق نہیں دیا تھا۔ مجھے یاد ہے کءی سال پہلے بنگلہ دیش کے علاقے کری گرام سے واپسی پر جب میں نے دوسری نسل کے ماوسٹ لال سے پوچھاتھا کہ اگر میں ڈھاکہ واپسی پر سنتوش جاءوں تو کتنا وقت لگے گا؟ سنتوش کیوں ؟ لال نے پوچھا بھاشانی صاحب کا جھونپڑا اور اس میں ٹنگی ہوءی ان کی دھوتی اور لنگی کو دیکھنے ۔ لال نے حیران سی نظروں سے میری طرف دیکھا پاکستان میں کہاں سے ہو؟ میں نے کہا پنجا ب سے۔ لال کو یقین نہیں آیا تھا کہ پنجابی اور بھاشانی کا جھونپڑا دیکھنے کے لیے اتنا سفر کرے گا ۔

ایسی ہی بے یقینی میرے دوست سراج داہر خان کے چہرے پر بھی آءی تھی جب میں نے اپنے ڈھاکہ کے پہلے قیام میں اس سے کہا تھا مجھے دھان منڈی میں شیخ مجیب کا گھر دیکھنا ہے۔ داہر جانتا تھا کہ میں پنجابی ہوں ۔ جب ہم شنکر سے دھان منڈی گءے تو اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لے لیا ۔ جب میں عجاءب گھر میں تبدیل کر دءے گءے شیخ مجیب کے گھر میں پھر رہا تھا تو داہر اور اس کے بیوی بچے میرے چہرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اور پھر آخر میں داہر مجھے تاثرات کی کتاب کی طرف لے گیا ۔ مجھے اپنے دل کی بات قلم تک لانے میں صرف چند لمحے ہی لگے۔ داہر کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ تحریر ایک پاکستانی پنجابی کی ہے ’ میں ایک عام پاکستانی اپنے ہم وطن بنگالی بھاءیوں پر ہوءے مظالم پر شرمندہ ہوں اور ان سے معافی چاہتا ہوں’ مجھے یاد ہے داہر کی بیوی نے مجھ سے پوچھاتھا کتنے ہیں جو تمہاری طرح سوچتے ہیں ۔ میں اسے نہیں بتا پایا کہ بہت کم ۔ ابھی تو ہم بلوچوں اور سندھیوں کے ساتھ وہ کر رہے ہیں جو تمہارے ساتھ کیا کرتے تھے ۔

جب میری واپسی والے دن داہر نے مجھے بنگالی کرتا اور لنگی دی تو حیران ہونے کی باری میری تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کرتے کو پنجابی کہتے ہیں ۔ تمہارے روایتی کرتے کا نام پنجابی ؟ ہاں شاید یہ نام تاریخ کے اس حصے میں آیا ہو جب تم ہم پر اپنی چیزیں ٹھونستے نہیں تھے اور ہمارا تمہارا برابر کا رشتہ تھا ۔ کچھ ایسی ہی حیرانگی مجھے اس وقت بھی ہوءی تھی جب کھٹمنڈو میں مجھے نیپالی ٹوپی دیتے ہوءے بمل کمار نے بتایا تھا کہ اس کا نام ڈھاکہ ٹوپی ہے۔

پچھلے دنوں ٹی وی کے جن دانشوروں نے آصف زرداری کی سندھی ٹوپی پر بات کی تھی ان کے شاید گمان میں بھی نہ ہو کہ عوامی ثقافت اور ٹوپیوں کی طرح کے عوامی ثقافت کے مظہر محبت اور بھاءی چارے کا بیج بوتے ہیں نفرتوں کے کانٹے نہیں پھیلاتے۔۔ بے چارے صا لح ظافر کو روایتی ٹوپی کا صرف اتنا ستعمال یاد ہوگا کہ جب ووٹ مانگنے ہوں تو کہتے ہیں ’ تیری پگ نوں لگ گیا داغ ۔ جاگ پنجابی جاگ’ ۔

شاہد مسعود صاحب جس دور میں صحافی بنے تب دستارصرف اتاری جاتی ہے یہ حرمت کی علامت نہیں ہوتی۔ کمال یہ ہوا کہ ٹی وی کے ایک فاسٹ ٹریک دانش ور نے (یہ دانش وروں کی وہ نسل ہے جو مباحثوں میں بلاءے گءے مہمانوں اور تحقیقی معاونین کی مدد سے حا لیہ دنوں میں وجود میں آءی ہے)آصف زرداری کے ’سندھو پاکستان’ کے لفظ پر بھی تنقید کر دی۔ ان کی بات سن کر مجھے سناتن دھرمی (یہ ہندو طالبان ہیں ) یاد آگءے جو اپنے مذہب کو ہندو مت ماننے اور اپنے ملک کو ہندوستان ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔ سناتن دھرمی اس بات کو نہیں مانے جو پچھلے کءی ہزار سالوں میں ایک حقیقت بن چکی ہے۔

ہمارے سناتن دھرمی اس بات کو نہیں مانتے جو ہمیشہ سے ایک حقیقت تھی۔ ہند؛ انڈس یہ سب وادی سندھ کے ہی نام ہیں ۔ درہ خیبر سے آنے کے بعد شمال کے مسافروں کو دریا (سندھ کے معانی دریا ہیں) پار کرکے اس دریا کی وادی میں داخل ہونا ہوتا تھا ۔ عرب اور آریانہ والے اس کو ہند کہتے تھے اور یورپ والے انڈس اور اسی وادی میں رہنے والے ہندو کہلاءے ۔ آج بھی پشاور سے اٹک تک جی ٹی روڈ کے گرد پشتونوں کے گاءوں میں رہنے والے ’ہندکے’ اس لیے ہندکے نہیں ہیں کہ وہ مزہبآ ہندو تھے ان کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ اس وادی کے اصل باسی تھے۔ اسی طرح اس سارے علاقے کی زبان ’ہندکو’اس لیے ہے کہ یہ اس وادی کی زبان ہے۔میرے فاسٹ ٹریک دانش ور شاید کبھی نہ سمجھ پاءیں کہ جب آصف زرداری سندھو پاکستان کی بات کرتا ہے تو وہ سندھ کو وادی سندھ تک پھیلا دیتا ہے یہ وہ حقیقت ہے جو پاکستان کو جوڑتی ہے توڑتی نہیں۔

جہاز کی روانگی کا وقت ہو رہا ہے مجھے اپنا لیپ ٹاپ بند کرنا ہے ۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا ہمارے میڈیا طالبان اور فاسٹ ٹریک دانش ور آج کے یوم سندھی ٹوپی کے بعد بھی سمجھ پاءیں گے کہ پگ ؛ چترالی ٹوپی؛ سندھی ٹوپی یہ سب پا کستانی ٹوپیاں ہیں اگر ڈھاکہ ٹوپی آہستہ آہستہ نیپال کی قومی ٹوپی اور پنجابی کرتا بنگلہ دیش کا روایتی کرتا بن گیا تو ساٹھ سے زیادہ سالوں میں سندھی ٹوپی پاکستان کی بہت سی ٹوپیوں کی طرح ایک پاکستانی ٹوپی کیوں نہیں بن سکتی ۔ ۔ شاید سندھ میں ہونے والی آج کی تقریبات ان کا ذہن بدل پاءیں۔ ہاں مجھے یاد آیا کہ جب پنانگ ملا ءیشیا میں میں نے اپنے بیٹے کو بتایا تھا کہ اس کے دادا کی زبان ہی ہماری زبان ہے تو اب وہ ہر نءے ملنے والے کو(انگریزی میں ) بتاتا ہے کہ ہم پنجابی ہیں اور مجھے پنجابی آتی ہے ’آہو’


5 responses to “Sindhi Topi, Indus Valley Civilisation and Our Fast Track Intellectuals – by Qais Anwar”

  1. Kamran Khan is lying through his teeth by saying that Dr. Shahid Masood’s words against Sindhi Culture were Unintentional. When something goes ON AIR you [GEO TV] better own it that these were the Real Intentions of GEO TV. Lets assume that these words [Insulting Comment on Sindhi Cap] were unintentional then how would you define the article columns on similar Hateful Lines appeared in the parent organization of the GEO TV i.e. Daily Jang and The News International which were written by Dr Shahid Masood [in Urdu and English both] and Irfan Siddiqui in Jang [Irfan is a former Columnist of JI weekly Magazine Takbeer (used to spit venom not only against Bhutto family but Khan Abdul Wali Khan, G M Syed and every nationalists – Irfan was right hand man of Hamid Gul. If words slipped out of mouth unintentionally then how come words came out of pen unintentionally, where were the editors, sub editors, and proof readers of Daily Jang and The News International, World Sindhi Congress, SANA and Sindh Democratic Front should raise this issue with PPP-ANP AND MQM legislators for raising it in Sindh and National Assemblies to move a resolution against Jang Group [involved in inciting ethnic clashes in the past as well]. WSC, SANA and SDF should write letters to Reporters without Borders http://www.rsf.org/ [RSF] and CPJ http://www.cpj.org/ AND Human Rights Watch to keep the check on such Irresponsible Journalism by the Jang Group of Newspapers. Kamran Khan intentionally forget to mention that this “Fire Against Sindhi Culture” is basically ignited by THE GROUP EDITOR, SHAHEEN SEHBAI of The News International – Jang Group of Newspapers.

    To keep this whole affair alive I have saved the HATEFUL ARTICLES written by Jang Group Columnists which they wrote to burn Sindh forver, the columnists of Jang Group wrote for inciting Ethnic Hatred against Sindhi Culture, for inciting clash between PPP-MQM, for inciting clash between ANP and MQM. Read.

    1 – GEO TV/JANG GROUP: Sindhi Cap, National Dress & General Musharraf. http://chagataikhan.blogspot.com/2009/12/geo-tvjang-group-sindhi-cap-national.html

    2 – GEO TV/JANG GROUP’s Message of Hate for Pakistan. http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/geo-tvjang-groups-message-of-hate-for.html

    3 – Shaheen Sehbai, Jang Group & Sindh Card of Zardari.
    http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/shaheen-sehbai-jang-group-sindh-card-of.html

  2. میں اسے نہیں بتا پایا کہ بہت کم ۔ ابھی تو ہم بلوچوں اور سندھیوں کے ساتھ وہ کر رہے ہیں جو تمہارے ساتھ کیا کرتے تھے ۔
    قیس صاحب گستاخی معاف۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آپ شاید اس لسٹ میں ہم پشتونوں کو گننا بحول گءے ہیں۔۔۔۔۔
    ایس ایم ایس میں صدر آصف زرداری کے بعد سب سے سے زیادہ تمسخر پختونوں کا اڑایا جاتا ہے۔۔۔۔۔

  3. “Sindh Card” – The Establishment’s Tool Against the PPP:

    پاکستان میں سندھ کارڈ کی حقیقت

    حسن مجتبیٰ
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

    نومبر میں صدر زرداری کے حق میں گڑھی خدا بخش سے کراچی تک ریلی نکالی گئی تھی

    یہ ایک عجیب تاریخی مذاق ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جس کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں جو سندھ میں قوم پرستوں کی نظر میں اکثر’وفاق پرست‘ یا اس سے بھی زیادہ ’ پنجاب نواز‘ سمجھی جاتی رہی ہیں ، موجودہ حکومت پر اس کے ’سندھ کارڈ‘ کھیلنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اس حکومتی پارٹی اور اس کے حکمرانوں کو ’اسٹیبلمشمینٹ‘ مخالف سمجھا جا رہا ہے۔

    جبکہ الٹی حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمینٹ ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ کارڈ استعمال کرتی آ رہی ہے۔

    ’سندھ کارڈ‘ کا نام پہلے اسوقت سنا گیا تھا جب سنہ انیس سو ستتر میں فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے مقبول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی زير اثر عدلیہ کے ذریعے پھانسی دلوا کر سندھ میں ہر بچے اور بڑے کے ذہن میں اس خیال کو پختہ کردیا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اس لیے ختم کر دی گئي کہ سندھی تھے اور پھر انہیں پھانسی محض اسی لیے دی گئي کہ ان کا تعلق چھوٹے صوبہ سندھ سے تھا۔‘

    پاکستان پیپلزپارٹی ظاہر ہے کہ جس کی حمایت کا سب سے بڑا مرکز بھٹو کا آبائي صوبہ سندھ ہی تھا، کے مغموم اور غصیلے کارکنوں نے اب ’نعرہ بھٹو نعرہ سندھ، جئے بھٹو جئے سندھ‘ لگانا شروع کیا تھا۔ ضیاء الحق اور اس کی فوجی حکومت نہ فقط سندھ میں زبردست غیر مقبول تھی بلکہ اسے زبردست مزاحمت کا سامنا بغیر قیادت کی پی پی پی اور دیگر سندھی تنظیموں کی طرف سے سرگرمیوں اور تحریک سے سندھ کے کونے کونے سے کرنا پڑنے والا تھا۔
    پاکستان پیپلز پارٹی کے ظاہر ہے کہ جس کی حمایت کا سب سے بڑا مرکز بھٹو کا آبائي صوبہ سندھ ہی تھا، مغموم اور غصیلے کارکنوں نے اب ’نعرہ بھٹو نعرہ سندھ، جئے بھٹو جئے سندھ‘ لگانا شروع کیا تھا۔ ضیاء الحق اور اس کی فوجی حکومت نہ فقط سندھ میں زبردست غیر مقبول تھی بلکہ اسے زبردست مزاحمت کا سامنا بغیر قیادت کی پی پی پی اور دیگر سندھی تنظیموں کی طرف سے سرگرمیوں اور تحریک سے سندھ کے کونے کونے سے کرنا پڑنے والا تھا۔

    جنرل ضیاءالحق سندھی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، کی پھانسی کی حمایت کے حصول میں سندھ میں ہی بھٹو مخالف میروں، پیروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں اور سندھی قوم پرستوں کو خود سے ظاہر یا خفیہ طور پر ملانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

    ان بھٹو مخالف سندھی سیاستدانوں میں پیر پگاڑو، الہی بخش سومرو، محمود ہارون، تالپور برادران اور قاضی بھی شامل تھے۔ ضیاء الحق نے بھٹو مخالف میر رسول بخش تالپور کو سندھ کا گورنر، ان کے بڑے بھائي میر علی احمد تالپور کو وزیر دفاع، قاضی عبدالمجید عابد ( سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے سسر اور سپیکر قومی اسبملی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے والد) کو وفاقی وزیر اطلاعات اور محمود ہارون کو بھٹو کی پھانسی کے بلیک وارنٹ پر دستخط کرنے والا وزیر داخلہ بنایا تھا۔

    یہاں تک کہ جی ایم سید جیسے سندھی ‍قوم پرستی کے باوا آدم کو ضیاء الحق نے اپنی طرف رام کیا ہوا تھا۔ یہ بھی ایک تاریخی ستم ظریفی ہے کہ زرداری باپ بیٹوں حاکم علی زرداری اور آصف علی زرداری کو بھی ضیاء الحق نے اپنے ریفرنڈم میں حمایتی بنایا ہوا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ پنجاب میں بھی جاگیرداروں اور پیروں کی پوزیشن کوئي مختلف نہیں تھی۔ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے والد سجاد حسین قریشی پنجاب کے گورنر، اور موجودہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ضیاء الحق کی حکومت کے وفاقی وزیر بنے تھے۔ یہی حال چھٹہ اور وٹو کا تھا۔

    یہاں تک کہ جی ایم سید جیسے سندھی ‍قوم پرستی کے باوا آدم کو ضیاء الحق نے اپنی طرف رام کیا ہوا تھا۔ یہ بھی ایک تاریخی ستم ظریفی ہے کہ زرداری باپ بیٹوں حاکم علی زرداری اور آصف علی زرداری کو بھی ضیاء الحق نے اپنے ریفرنڈم میں حمایتی بنایا ہوا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ پنجاب میں بھی جاگیرداروں اور پیروں کی پوزیشن کوئي مختلف نہیں تھی۔ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے والد سجاد حسین قریشی پنجاب کے گورنر، اور موجودہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ضیاء الحق کی حکومت کے وفاقی وزیر بنے تھے۔ یہی حال چھٹہ اور وٹو کا تھا۔
    سندھ میں تالپور برادران کو بھٹو کی پھانسی کی حمایت سے روکنے کے لیے بائيں بازو کے مشہور دانشور اور مدیرمظہر علی خان حیدرآباد گئے تھے لیکن وہ ان کو بھٹو کی پھانسی کی حمایت سے باز نہ رکھ سکے تھے۔ پیر پگاڑو جیسے طاقتور سندھی پیر جن کے مرید نہ فقط سندھ بلکہ پنجاب اور ہندوستان تک پھیلے ہوئے ہیں کو جنرل ضیاء الحق نے اقتدارکی سیاست میں بہت بڑا ’پاور بروکر‘ بنا دیا۔ پیر پگاڑو کی ہی سفارش پر سندھ میں غوث علی شاہ کو ضياء الحق نے پہلے سینیئر وزیر اور پھر وزیر اعلیٰ مقرر کیا۔

    انیس سو تراسی میں ضیاء الحق کے خلاف ’پاکستان بچاؤ تحریک‘ کے نام پر ملک بھر میں اٹھنے والی ایم آر ڈی تحریک کا زیادہ تر زور سندھ میں تھا جسے ضیاءالحق کے ریاستی و فوجی تشدد نے مزید متشدد بنا دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ضیاء الحق کے خلاف چلنے والی تحریک کو سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید نے اقتدار کے بھوکوں کی تحریک اور ضیاء الحق کی اسٹیبلشمینٹ نے اسے ’سندھو دیش کی تحریک‘ قرار دیا۔ سنہ انیس سو تراسی کی تحریک کے نتیجے میں پاکستانی اسٹیبلشمینیٹ اور میڈیا نے ایک نئي اصطلاح ’سندھ کی احساس محرومی‘ ایجاد کی اور اب ’سندھ کارڈ‘ کے طور پر ضیاء الحق نے اپنے ریفرنڈم اور غیر جماعتی انتخابات کے نتائج میں سندھی وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو منتخب کیا۔

    ’سندہ کارڈ‘ کھیلتے ہوئے ضیاء الحق اسٹیبلشمینٹ اور خفیہ ایجنسیوں نے نہ فقط لسانی سیاست کو مسلح کرتے ہوئے سندھ میں خونی فسادات کی داغ بیل ڈال کر اپنی فوجی آمریت کو طوالت دی بلکہ انہوں نے سندھ میں مزید قبائلی خونریزی کے لیے خانکی ملیشیا، چانڈیو اور مگسی کلہوڑا فورسز کی بھی ہمت افزائي کی۔ اب یہ کھلا راز ہے کہ ڈاکووں کے کئي ٹولوں کو خفیہ ایجنسیوں کے افسروں اور ضیاء کے غیر جماعتی وڈیروں کی پشت پناہی حاصل تھی۔

    ’سندہ کارڈ‘ کھیلتے ہوئے ضیاء الحق اسٹیبلشمینٹ اور خفیہ ایجنسیوں نے نہ فقط لسانی سیاست کو مسلح کرتے ہوئے سندھ میں خونی فسادات کی داغ بیل ڈال کر اپنی فوجی آمریت کو طوالت دی بلکہ انہوں نے سندھ میں مزید قبائلی خونریزی کے لیے خانکی ملیشیا، چانڈیو اور مگسی کلہوڑا فورسز کی بھی ہمت افزائي کی۔ اب یہ کھلا راز ہے کہ ڈاکووں کے کئي ٹولوں کو خفیہ ایجنسیوں کے افسروں اور ضیاء کے غیر جماعتی وڈیروں کی آشیر باد حاصل تھی۔
    کئي نامی گرامی پتھاریدار ’ضیا حمایت تحریک‘ کے سندھ میں عہدیدار بنے۔ اسی طرح بینظیر بھٹو اور اس کی پاکستان پیپلزپارٹی کو روکنے کیلیے ضیا نے ’سندھ کارڈ‘ خوب کھیلا۔ سندھی قوم پرستوں کا اتحاد ’سندھ قومی اتحاد ‘ کے نام پر ضیاءالحق نے محمود ہارون اور الہی بخش سومرو کی تواسط سے جی ایم سید کے ہاتھوں قائم کروایا۔

    ضیا ء الحق کی موت کے بعد انیس سو اٹھاسی کے انتخابات کے نتائج میں بینظیر بھٹو نے مرکز اور سندھ میں حکومت تو بنالی لیکن اسٹیبلشمینٹ کا سندھ کارڈ کھلینا جاری رہا جس کے تحت پنجاب میں نہ فقط تب کے وزیر اعلیٰ محمد نواز شریف نے ’جاگ پنجابی جاگ ‘ کا نعرہ لگایا پر بینظیر بھٹو حکومت کے خلاف ’پارلیمانی کوڈیٹا‘ کے تحت ان کی حکومت کے خلاف قومی اسبملی میں عدم اعتماد کی تحریک میں فوج کے تب کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے ایم کیو ایم کے ارکین کوتڑوا کر حزب مخالف کی حمایت کا اعلان کروایا تھا۔ اس سے قبل غوث علی شاہ اور غلام مصطفیٰ جتوئي جیسے تب کے غیر مقبول سندھی رہنماء جنہیں سندھی انتخابات میں ٹھکرا چکے تھے کو نواز شریف نے پنجاب سے ترتیب وار نارووال اور کوٹ ادو سے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں جتوایا۔

    اگست سنہ انیس سو نوے میں غلام اسحاق خان کےہاتھوں فوج کی ایما پر بینظیر بھٹو کے برطرف ہونے کے بعد اسٹیبلشمینٹ نے سندھ کارڈ کھیلتے ہوئے سندھ میں سندھی قوم پرستوں کا اتحاد پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف جڑوانے کی کوششیں کیں اور انہی کوششوں کے تحت الاہی بخش سومرو کی سفارش پر لیاقت علی جتوئي کو سندھ کا وزیر اعلیٰ لگوایا گیا۔
    اگست سنہ انیس سو نوے میں غلام اسحاق خان کےہاتھوں فوج کی ایما پر بینظیر بھٹو کے برطرف ہونے کے بعد اسٹیبلشمینٹ نے سندھ کارڈ کھیلتے ہوئے سندھ میں سندھی قوم پرستوں کا اتحاد پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف جڑوانے کی کوششیں کیں اور انہی کوششوں کے تحت الہی بخش سومرو کی سفارش پر لیاقت علی جتوئي کو سندھ کا وزیر اعلیٰ لگوایا گیا۔

    پاکستانی فوجی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف زخمی شیرنی کی طرح بپھری ہوئي بینظیر بھٹو اور اس کی پارٹی کو انیس سو نوے کے انتخابات سے باہر رکھنے کے لیے سندھ کارڈ کھلتے ہوئے اسٹبلشمینٹ نے وزارت اعظمیٰ کے سدا بہار امیدوار غلام مصطفی جتوئي کو نگران وزیر اعظم اور سندھ میں جام صادق علی جیسے نظام سقہ بند کو نگران وزیر اعلیٰ مقرر کروا کر بڑ ے پیمانے پر انتخابی دھاندلیاں کروائیں، اس کارروائي کو آئي ایس آئي کا بدنام زمانہ ’جنرل رفاقت الیکشن‘ سیل کہا جاتا ہے۔ آئي جے آئي بنواتے ہوئے جو آئي ایس آئي نے قومی دولت سیاستدانوں میں رشوت کے طور پر بانٹی تھی ان میں خطیر رقوم سندھی سیاستدانوں غلام مصطفیٰ جتوئي اور اسماعیل راہو کو بھی عطا کی گئي تھیں۔

    انس سو چھیانوے میں پھر پی پی پی حکومت ختم کرنے کے بعد اب کے اسٹیبلشمینٹ نے جو سندھ کارڈ استعمال کیا اس میں بینظیر بھٹو کے جواب میں’جئے بھٹو جئے سندھ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سندھی کنفیڈریشنسٹ قوم پرست سیاستدان ممتاز بھٹو کو سندھ میں نگران وزیر اعلیٰٰ مقرر کیا۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تیس سال تک پاکستانی فوجی اسٹیبلشمینٹ نے پی پی پی اور بینظیر کے خلاف ’سندھ کارڈ‘ ہی استعمال کرتے ہوئے اس کے آبائي صوبے اور حمایت کے مرکز سندھ میں حکومت بنانے سے اسے محروم رکھتے ہوئے اس کے خلاف ایک نشست والے وزرائے اعلیٰ کی مخطوط حکومتیں قائم کی ہیں جن کو ح‍قیقت میں ایک بریگيڈئير اور دو کرنلوں نے ہی چلایا ہے۔ کور ہاوس، کنگری ہاوس، ہالا حویلی اور نائین زیرو، یہی سندھ میں طاقت کے اصل منبع بنا کر پی پی پی کو سندھ کارڈ کے تحت اقتدار سے دور رکھا گیا تھا

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/01/100103_sindh_card_zee.shtml

  4. سندھ میں ٹوپی اجرک ڈے

    گزشتہ سال اس دن کو نظر آنے والے جوش جذبے کا سیاسی فائدہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچا تھا

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں سنیچر چار دسمبر کو ثقافتی دن منایا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت کے اعلان کی پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور سندھی میڈیا نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    اس دن سے قبل ہی گزشتہ ایک ہفتے سے سندھ کے مختلف شہروں میں سیاسی اور سماجی تنطیموں نے ریلیاں نکالی گئیں، اسکولوں میں ٹیلنٹ شو منعقد کیے گئے۔

    اس دن منانے کا اعلان گزشتہ سال اس وقت ہوا تھا جب کچھ ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں افغانستان کے دورے کے وقت صدر آصف علی زرداری کی سندھی ٹوپی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    سندھی میڈیا نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کاوش کے ٹی این گروپ نے سندھی ٹوپی کا دن منانے کا اعلان کیا، جس کی بعد میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی حمایت کی۔

    اس دن پر زبردست جوش نظر آیا جب صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ سندھی ٹوپی اور اجرک پہن کر سڑکوں پر نکل آئے۔ جس پر صوبائی حکومت نے اعلان کیا کہ ہر سال سندھی ثقافت کا دن منایا جائیگا اس حوالے سے صوبائی اسمبلی نے اس سال ایک قرار داد منطور کی، جس میں چار دسمبر کو یہ دن منانے کا اعلان کیا گیا۔

    گزشتہ سال ثقافتی دن کی بنیاد ڈالنے والے کاوش کے ٹی این گروپ نے پانچ دسمبر کو ایکتا یعنی یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا ہے، جس کو بھی قوم پرست جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

    گزشتہ سال اس دن کو نظر آنے والے جوش جذبے کا سیاسی فائدہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچا تھا۔ بعض مبصرین نے یہ تک کہا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت یا اس کی قیادت کے خلاف کارروائی پر سندھ میں شدید ردعمل ہوگا۔ اس حوالے سے بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر ہونے والے ردعمل کی بھی مثالیں پیش کی گئیں۔

    رواں سال جب اس دن کو منایا جارہا ہے تو اس وقت وکی لیکس کے دستاویزات میں یہ بھی سامنا آچکا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اپنے قتل اور انہیں زبردستی سبکدوش کرنے کے خدشے کا اظہار کرچکے ہیں۔

    گزشتہ سال پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر صدر زرداری نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ انہیں ایوان صدر میں دیکھنا نہیں چاہتے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایمبولینس میں رخصت ہوں گے مگر وہ آخری وقت تک مقابلہ کریں گے۔

    سندھ کے ثقافتی دن کی کراچی میں مقیم امریکی قونصل جنرل ولیم مارٹن نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے، انہوں نے سندھی میڈیا کی ایک خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی حکومت کی جانب سے سندھ عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی امریکی سفارتکار نے اس طرح حمایت کی ہو

    ہفتہ 4 دسمبر 2010 ,

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/12/101203_sindhi_cultural_si.shtml