Tehrik-e-Tahaffuz-e-Haramain: ISI proxies paying back to Saudi kings – by Hamid Hoshiyarpuri


باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے دیوبندی مدارس جیسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ مدنیہ و اشرفیہ لاہور ‏، نصرت العلوم گوجرانوالہ، خیرالمدارس ملتان، فاروقیہ کراچی، بنوری ٹاؤن کراچی، دارالعلوم کورنگی کراچی، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی اور مرکز اسلامی بنوں کو اپنے مربی وسرپرست عرب شیوخ اور سعودی شاہی خاندان کی طرف سے خطوط موصول ہوئے ہیں

ان خطوط میں عرب ممالک کی حالیہ صورت حال تبدیلی کی آوازوں اورعوامی احتجاج پر تشویش کے اظہار کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا گیا ھےکہ اگر اس سیاسی طوفان کو نہ روکا گیا تو عرب شیعہ عناصر ایران کی ایماء وتعاون سے مقامات مقدسہ، حرمین شریفین اور مدینہ منورہ پر قبضہ جما سکتے ہیں، پھر اس صورت حال کی انتہائی مبالغہ آرائی اور فرقہ ورانہ نفرت انگیزی سے بھرپور منظر کشی کی گئی ھے اور  یہ کہا گیا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، اگر شیعہ مسلمان حرمین اور مدینہ منورہ پر قابض ہوگئے تو وہ صحابہ کرام اور پہلے تین خلفاء کرام کی قبروں کی بے حرمتی کریں گے. ‏

اس طرح کے گمراہ کن خطوط پاکستان کے مذہبی حلقوں میں سعودی اثر رسوخ اور رابطے کے بنیادی ذریعے یعنی “رابطہ عالم اسلامی” اور اس کے پاکستانی نمائندگان زاھد الراشدی، مفتی نعیم جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی، عرب شیوخ کے مالیاتی مفادات کے نگران مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی اور امام المجاھدین کہلائے جانے کے دعویدار ڈاکٹر شیرعلی شاہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے توسط سے پھیلائے گئے ہیں

سعودی سفیر سے آدھے درجن سے زائد ملاقاتوں کے بعد حقانیہ اکوڑہ خٹک میں زاھد الراشدی اور شیر علی شاہ کی صدارت میں ایک میٹنگ کال کی گئی، جس میں تمام بڑے مدارس کے مہتممین، جے یو آئی آل فیکشنز، سپاہ صحابہ جو طاقتور کوارٹرز کی آشیرواد سے اہلسنت والجماعت کے نئے نام سے متحرک ہے، لشکر جھنگوی اور تمام دیوبندی مسلح تنظیموں نے شرکت کی.

اس میٹنگ میں وہ تمام خطوط سامنے رکھے گئے، سعودی علماء کا پیغام بھی پڑھ کے سنایا گیا اور پیش آمدہ صورت حال پر تفصیلی مشاورت ہوئی،

عرب دنیا بالخصوصں بحرین میں سعودی افواج کی جانب سے شیعہ مظاہرین کے خلاف بحرینی شاہ کی سپورٹ اور اس حوالے سے پاکستانی افواج کے کردار کو سراہا گیا بالخصوص پاکستان کے کردار پر مسرت کااظھار کیا گیا،

جس کے بعد یہ طے پایاکہ اس حوالے سے سیاسی محاذ و عوامی محاذ پر جے یوآئی اور سپاہ صحابہ یعنی اہلسنت والجماعت کے نئے نام سے ان خطرات سے عوام کو آگاہ کریں گی، اسی سلسلے میں پورے ملک بالخصوص بڑے شہری مراکزمیں سیرت کے جلسوں کے عنوان سے مہم شروع ہوچکی ہے، اور اہلسنت والجماعت سابق سپاہ صحابہ کے جلسوں کی خبروں اور قیادت کے بیانات کو اخبارات میں نمایاں جگہ مل رہی ہے.

حیرت انگیز طور پر پاکستانی دیوبندی حلقوں کی طرف سےاسامہ کے امریکی آپریشن میں قتل پر کسی خاص ردعمل کےنظر نہ آنے کو بھی  اسی تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے. ‏

اسامہ بن لادن کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ عداوت ہمیشہ نمایاں کی جاتی رہی ھے، ان کی وجہ شہرت بھی سعودی زمین پر امریکی افواج کی موجودگی کے سرگرم مخالفت بنی تھی. وہ شاہی خاندان کے سخت ناقد رہے،القاعدہ کی پراپیگنڈا ویڈیوز میں سعودی شاہ فہد کو ملکہ برطانیہ کے ساتھ ایک تقریب میں مبینہ طور پر صلیب پہنے دکھایا گیاتھا.

بدلتے حالات میں جب سعودی حکمران کے ساتھ پاکستانی مذہبی حلقے  اپنی دیرینہ تعلقات  کا مظاھرہ تحفظ حرمین کے  عنوان سے کرکے سعودی کیش عطیات کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کررہے ہیں ایسے میں اسامہ کی موت کی صورت میں بحث طول پکڑ جانے کی صورت میں سعودی مخالف جذبات ابھر آنے کا خدشہ ہے،

دوسری طرف پاکستانی فوج اور مذہبی پراکسیز کے سرپرست خفیہ اداروں کو بھی ان حالات میں جس سبکی کا سامناکرنا پڑا ہے اس کو نمایاں کرکے ان کے بحرین و سعودیہ میں شاندار خدمات کو دھندلانا بھی شاید قرین از قیاس اور ان حالات میں فائدہ مند نہیں ہے


2 responses to “Tehrik-e-Tahaffuz-e-Haramain: ISI proxies paying back to Saudi kings – by Hamid Hoshiyarpuri”

  1. Deoband is the most learned school of thought, hijacked by Pakistan Army and Saudi Arabia for International Jihad Project.

  2. پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کو کسی خاص فرقے یا مکتب فکر سے جوڑنا شاید زیادہ درست تجزیہ نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن یہاں کے مخصوص حالات میں اور بالخصوص 70 کی دھائی کے بعد کے حالات میں جماعت اسلامی کی روایتی مذہبی حلقوں تک رسائی میں ناکامی کے بعد دیوبندی مکتب فکر کو جس طرح سے استعمال کیا گیا. وہ قابل تحقیق ھے.