بی بی سی اردو تکفیری لائن کیوں لے رہا ہے؟ – علی عباس تاج

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی سیکرٹری برائے خارجہ ٹیلررسن کی جانب سے سعودی عرب میں ایران کے عراق سمیت خطے میں داعش کے خلاف کردار کو فرقہ واریت کی گندگی میں لپیٹنے کی کوشش پہ تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا جو کہ یوں تھا:

Exactly what country is it that Iraqis who rose up to defend their homes against ISIS return to? Shameful US FP, dictated by petrodollars.

) https://mobile.twitter.com/JZarif/status/922185189538910208)

اس ٹوئٹ کا ترجمہ یوں بنتا ہے: کون سا ملک ہے جس نے عراقیوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیجنے کے لئے داعش سے مقابلہ کیا؟امریکی خارجہ پالیسی شرمناک حد تک پیٹروڈالر سے ڈکٹیشن لیتی ہے

اس پہ زرا بی بی سی کی اردو ویب سائٹ نے جو فیچر شایع کیا اس کا عنوان زرا ملاحظہ کریں:

‘ایرانی اور عراقی شیعوں کی وجہ سے ہی بغداد اور دمشق محفوظ ہیں: جواد ظریف’

لیکن اسی بی بی سی کی جو فارسی ویب سائٹ ہے اس پہ ایرانی وزیرخارجہ کا امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن کے بیان پہ جو رد عمل شایع کیا گیا ایک تو اس کی ہیڈ لائن ملاحظہ ہو:

ظریف در پاسخ به تیلرسون: مدافعان حرم نبودند داعش در بغداد و اربیل بود

پہلے تو آپ دیکھ لیجئے کہ بی بی سی کا فارسی پیچ ہمیں بتارہا ہے کہ جواد ظریف نے ٹیلرسن کے جواب میں کہا کہ حرم کا دفاع کرنے والے نہ ہوتے تو داعش بغداد و اربیل (عراقی کردستان کا دارالحکومت) میں ہوتی۔

)http://www.bbc.com/persian/iran-41718324(

دوسری بات یہ کہ اس پوری فارسی خبر کو پڑھ لیں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ جواد ظریف نے عراق میں داعش کے خلاف لڑنے والی ملیشیا کو شیعہ ملیشیا کہا ہو یا عراق کے دفاع کا سارا کریڈٹ صرف شیعہ کو دیا ہو۔

بی بی سی نے ایک بار پھر جان بوجھ کر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے عراق پہ بیان کو مسخ کیا ہے۔ظریف تو سعودی عرب کے عراق پہ دباؤ ڈالنے کا ذکر کررہے تھے جبکہ سعودی عرب داعش کو استعمال کرکے عراق کو تقسیم کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔

عراقی فوج اور اس کی شریک کار حشد الشعبی کے بارے میں سعودی عرب پروپیگنڈا کررہا ہے جبکہ اس مقصد کے لئے وہ امریکہ سمیت مغربی حکومتوں کے اندر اپنی لابی کو پیٹروڈالر کی رشوت بھی دے رہا ہے۔حشب الشہابی کے بارے میں عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی کا بیان بھی سامنے آگیا ہے اور انھوں نے برملا کہا ہے کہ حشب الشہابی ایران کی پراکسی نہیں ہے بلکہ یہ عراقی ملیشیا ہے اور اس کا عراق کی سلامتی میں اہم ترین کردار ہے۔

الحشد الشعبی نے داعش کو عراق میں شکست فاش دینے، الانبار و رمادی جیسے سنّی اکٹریت کے صوبوں کو داعش کی گرفت سے آزاد کروانے اور وہاں کی بے دخل سنّی آبادی کو دوبارہ ان کے گھروں میں بسانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایسے ہی اس ملیشیا نے عراقی فوج کے ساتھ ملکر سنجر میں کردوں کو داعش کے چنگل سے آزاد کرایا جبکہ پیشمگرہ کرد آرمی وہاں سے چلی گئی تھی۔

سعودی عرب اور امریکی ٹرمپ انتظامیہ حشد الشعبی جو کہ تکثیر المسالک اور تکثیرالمذاہب ملیشیا ہے کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کررہے ہیں اور اسے ایرانی شیعہ ملیشیا کہا جارہا ہے۔بی بی سی اردو نے امریکی انتظامیہ اور امریکی سیکرٹری خارجہ کے الفاظ جواد ظریف کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی۔

بی بی سی اردو کو چاہئیے کہ جس نمائندے نے یہ خبر بنائی اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اس قدر تحریف پہ مبنی بیان کیوں بنایا۔کیونکہ اس معمولی سی تحریف نے تکفیر ازم اور بددیانتی کا میلاپ کیا اور فرقہ وارانہ خطوط پہ مبنی اقوام کی تقسیم کے ایجنڈے کو مدد فراہم کی۔

سعودی عرب نے مڈل ایسٹ کو ہمیشہ سے فرقہ وارانہ خطوط پہ تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کام میں اس کی مدد سامراجی قوتیں کرتی رہی ہیں۔شام میں رجیم تبدیلی کے نام پہ اس نے جو پروجیکٹ شروع کیا تھا وہ بدترین شکست سے دوچار ہوا اور عراق کی تقسیم کا ایجنڈا بھی ناکام ہوگیا ہے۔اب ایک بار پھر ایسی ہی کوشیں کی جارہی ہیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*