یوم آزادی پہ تاریخ کے سیاہ اوراق کیوں پلٹے جارہے ہیں ؟

میں اپنے ان دوستوں سے معذرت خواہ ہوں جو آج چودہ اگست /15 اگست کے دن مجھ سے کسی وش فل قسم کی تقریر کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔میں جس درد آگاہی تلے دبا ہوا شخص ہوں اس کے بیٹوں اور بھتیجوں نے آج گھر میں پاکستانی جھنڈے کو اپنے گالوں پہ پینٹ کیا ہوا ہے۔اور انھوں نے جو شرٹس پہنی ہوئی ہیں ان پہ بھی انگریزی میں ‘ہیپی انڈی پینڈنس ڈے ‘ لکھا ہوا ہے۔ان کے لئے یہ دن کھیل کود،گھومنے پھرنے اور تماشا دیکھنے کا دن ہے جس میں بازار سجے ملتے ہیں،عمارتوں پہ چراغاں ہوتی ہے اور پارکوں میں خوب ہلا گلا کیا جاتا ہے۔وہ اسے عید کی طرح کا دن سمجھ رہے ہیں۔مجھ سے عیدی بھی لیکر گئے ہیں۔لیکن کیا یہ دن آج جب روشن ہوا تو سب کے لئے خوشیاں اور اس طرح کا ولولہ لیکر طلوع ہوا ہے؟جیسے ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو فوری طور پہ بھنوئیں تن جاتی ہیں،چہرے سخت ہوجاتے ہیں اور آنکھوں میں جنگاریاں پھوٹنے لگتی ہیں۔اس ملک میں ترقی کی شاہراہ کے مرکز پہ پڑنے والے شہروں اور قصبوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ‘یوم آزادی ‘ پہ آپ تاریخ کے سیاہ اوراق مت پلٹیں۔آگے کی جانب دیکھیں اور تاریخ کے کسی خاص لمحے کے قیدی نہ بنیں۔یہ بات بہت ہی خوش کن معلوم ہوتی ہے اور بظاہر عقل و دانش سے بھری ہوئی بھی لگتی ہے۔مین سٹریم میڈیا میں ایک بوم اس دن کی مناسبت سے پیدا کیا جاتا ہے اور اب کی بار تو ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور وہ سندھ اور بلوچستان کے اندر دیکھنے کو ملا ہے۔رینجرز، ایف سی کے لوگ یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز اور کیمپسز میں جاکر پاکستانی جھنڈے نصب کررہے ہیں اور اس بات کی نگرانی ہے کہ کس ڈیپارٹمنٹ میں کب یوم آزادی کی تقریب منائی جاتی ہے اور کون کون اس میں شریک ہوتا ہے اور کون نہیں ہوتا۔

پاکستان اور ہندوستان میں اگست کے آغاز میں آزادی کی تحریک اور آزادی کے بعد کی تاریخ کے سیاہ اوراق کو کیوں پلٹتے ہیں ؟ اور آج کل اس اوراق گردانی میں اتنا اضافہ دیکھنے کو کیوں مل رہا ہے؟ آپ کو حق ہے کہ اس ‘پلٹنے اور ورق گردانی ‘ کو فوری طور پہ ‘سازش’ اور ایجنٹو کریسی قرار دے ڈالیں اور آپ کا یہ بھی حق ہے کہ آپ اس رویہ کو بیمار ذہنیت قرار دے ڈالیں اور اپنے طور پہ خود کو صحت مند ذہن کی علامت قرار دے کر زور زور سے ‘سب ٹھیک ہے ، سب ایک ہوجائیں ، محمود و ایاز کا فرق مٹادیں ‘ کی گردان شروع کردیں۔لیکن

جب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا سربراہ کوئٹہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بلوچستان کی ایک پوری ذہین پروفیشنل کلاس کے نمآئندوں کے قتل عام کی پہلی برسی پہ خطاب کرتے ہوئے ‘دو قومی نظریہ ‘ کی تشریح کرتے ہوئے ہندؤ کمیونٹی کو ان کے نام سے بھی پکارنے سے اپنے گریز اور نفرت کا اظہار کرتا ہے تو پھر تاریخ کے سیاہ اوراق پلٹنے کا جواز بن جاتا ہے اور لوگ یہ سوال اٹھانے پہ مجبور ہوتے ہیں کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ جس کا سارا مقدمہ اس دلیل پہ قائم تھا کہ ‘ گانگریس کا سیکولر نیشنل ازم ہندؤ اونچی جاتی کی مسلمان،دلت اور ديکر اقلیتوں پہ راج کا ایک نقاب ہے’ اور اس کا حل تقسیم تھا اور ایسے میں جب 70 سالوں سے لیکر ابتک کی پاکستان کی سیاسی۔سماجی تاریخ کے اہم ادوار کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ہندؤ، کرسچن کی حالت زار کا جائزہ لیا جاتا ہے، ان کے مندروں اور کلیسا پہ حملوں ان کی آبادیوں پہ ہونے والی دہشت گردی کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبری طور پہ ان کی عورتوں کو تبدیلی مذہب اور جبری طور پہ شادیوں کا معاملہ یا بلاسفیمی لاءز کے تحت ان سے ہونے والی زیادتیوں کو دیکھا جاتا ہے تو پھر تاریخ ضرور زیربحث آتی ہے اور سوال ضرور اٹھتے ہیں۔

پاکستان میں ایک چھوٹا سا لبرل سیکشن ‘دو قومی نظریہ ‘ کی سیکولر اور لبرل تشریح کا سہارا لیتا ہے اور وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ یہ سب کچھ جو 70 سالوں میں ہوا اس سب نے نہیں ہونا تھا اگر جناح چند سال اور زندہ رہتے لیکن وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جناح خود بھی بخوبی واقف جانتے تھے کہ انھوں نے یہ جو سوچا تھا کہ تقسیم کمیونل ایشو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کردے گا کس قدر یوٹوپیائی خیال تھا اور 11اگست کی تقریر سے ہندؤ۔مسلم کے دو الگ الگ قوم ہونے اور ہندوستان میں مشترکہ ثقافت کے انکار اور مذہب کی بنیاد پہ تہذیب و ثقافت کے افسانے کو حقیقت کا درجہ دینے والے جس جن کو بوتل سے باہر کیا گیا تھا وہ ایک تقریر سے کب واپس بند کیا جاسکتا تھا۔

مسلم قومیت کے افسانے کو بار بار اس لئے زیر بحث لانا پڑتا ہے کہ اس ملک کے آئین میں ایک ترمیم لائی اس وجہ سے گئی کہ اس نے ایک ایسی کمیونٹی کو ریاستی سطح پہ مسلم قومیت سے خارج کردیا جس کی قیادت نے مسلم قومیت کا مقدمہ لڑا تھا اور وہ اس مسلم قومیت اور مسلم وطن کی لڑائی میں صف اول کی قیادت میں شامل تھے اور جب پاکستان بنا تو وہ نئے وطن کی مسلم قومیت میں بڑے ٹھسے سے شامل تھے اور ان کی کمیونٹی سے ہی ملک کا وزیر خارجہ لیا گیا تھا اور اس کمیونٹی کے لوگ پاکستان کی نئی جوڈیشری، وردی بے وردی بیوروکریسی میں اہم مناصب پہ فائز تھے لیکن ان کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کا شہری بنادیا گیا،ان کی مذہبی آزادی سلب کرلی گئی اور ان کو کیسے اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو کیا کہلوانا ہے اس کا تعین بھی ریاست نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور آج اگر وہ اپنے آپ خود اپنی شناخت کا تعین کرنے پہ اصرار کریں تو ان کے خلاف فوجداری کاروائی ہوتی ہے اور ان کے قتل اور ان کی آبادیوں پہ حملے جائز قرار پاجاتے ہیں ۔اب جب تک یہ ترمیم موجود ہے مسلم قومیت کا تصور زیر بحث آتا رہے گا اور یہ سوال بھی بار بار کیا جائے گا کہ 1973ء کا آئین اگر جناح کے تصور سے مطابقت رکھتا تو یہ قومیت کے تصور سے ایک کمیونٹی کو خارج کیوں کرتا؟

مسلم قومیت اور مسلمانوں کی مذہبی و شہری آزادیوں کا سوال کیوں بار بار زیر بحث آتا ہے؟ کیوں بار بار یہ ایشو اٹھ جاتا ہے؟ کیونکہ پاکستان میں ایک اور مسلمان کمیونٹی کی نسل کشی ہورہی ہے اور ایک بڑی تحریک جسے ریاستی اداروں کے اندر سے اور بیرون ملک گلف ریاستوں سے اندر سے سرپرستی حاصل ہے اس کمیونٹی کو ویسے ہی کافر قرار دینے کی ہے جو انسٹی ٹیوشنلائز ہوچکی ہے اور اس تحریک کے زیر اثر ابتک ہزاروں افراد بشمول مرد، عورتیں، بچے مارے جاچکے ہیں، اس کمیونٹی کی مذہبی آزادیوں کو بتدریج سلب کیا جارہا ہے اور اس کی عبادت گاہیں،مذہبی ثقافتی جلسے ، جلوس ، میلے سب حملوں کی زد میں ہیں اور آئے دن اس کمیونٹی کے بہترین دماغ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں اور اس پوری کمیونٹی کو ایران کا ایجنٹ کہا جاتا ہے اور اس سے حب الوطنی کا بار بار ثبوت مانگا جاتا ہے۔لوگ اس کمیونٹی کے ناموں جیسے نام رکھنے سے احتراز برتنے لگے ہیں اور پرانے اس سے ملتے جلتے ناموں کو تبدیل کیا جارہا ہے کیونکہ بسوں میں سفر کرنے والوں کو اچانک کسی سڑک پہ گھیر لیا جاتا ہے اور شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے اور محض مخصوص نام رکھنے والوں کو گولیاں مار دی جاتی ہیں۔

تقسیم کا سوال بار بار اس لئے زیر بحث آرہا ہے جب ڈیرہ اسماعیل خان میں مظہر حسین شیرازی ایڈوکیٹ کو اس لئے اس کے گھر کی دہلیز پہ گولیاں مار دی جاتی ہیں کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق ‘عزاداری و مجلس عزا ‘ پہ مصر تھا اور وہ اپنی شناخت سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھا اور اس سے قبل عید پہ اس کے بھتیجے شاہد حسین شیرازی کو بھی قتل کردیا گیا تھا اور اس کی ننھی سی بیٹی پلے کارڈ اٹھائے سوال کرتی نظر آتی ہے کہ اسے عید پہ اپنے باپ کی خون میں نہائی لاش کا تحفہ کیوں دیا گیا ؟

‘یہ تقسیم اور مسلم قومیت کا سوال اس لئے بھی بار بار زیر بحث آرہا ہے کہ ایک فاطمہ حیدر علی اپنے بیٹے مرتضی حیدر کے نام ایک خط میں اس سے ‘لپٹ جانے ‘ کی استدعا کرتی ہے اور اسے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اس کا شوہر اور بیٹا کس جرم میں مارے گئے ؟ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ جس ملک کا بانی شیعہ تھا اس ملک میں شیعہ ہونے کا مطلب زندگی سے محروم ہونا کیسے ہوگیا ہے؟ ‘

لوگ کہتے ہیں کہ یہ بلوچ آج کیوں بار بار 1948ء پہ ریاست قلات کے پاکستان سے فوجی آپریشن کے زریعے سے زبردستی الحاق اور اس دوران ہونے والے مظالم، زور ، زبردستی کا تذکرہ کیوں کرتے ہیں ؟ بلوچ اپنے بوڑھے بلوچ کی قرآن کا واسطہ دیکر پہاڑوں سے واپسی اور پھر اس کو جیل میں پھانسی دئے جانے کا تذکرہ کیوں کرتے ہیں؟ وہ اس یوم آزادی پہ سیاہ جھنڈے کیوں لہرانے کی بات کرتے ہیں اور اس دن وہ کیوں تلخ ہورہے ہیں ؟ کیا آپ لوگ اتنے ہی معصوم اور سادہ ہیں کہ آپ کو پتا ہی نہیں لگ رہا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ 70 سال میں بلوچستان میں بار بار فوجی آپریشن کئے جاتے رہے، لوگوں کو بندوقوں، توپوں ، گن شپ ہیلی کاپٹرز ، ایف 16 طیاروں سے مارا جاتا رہا ہے۔ان کی حب الوطنی کا ثبوت پہلے مانگا جاتا رہا اور ساتھ ساتھ ان کے حقوق مانگنے کو غداری اور سازش کے طعنے دئے جاتے رہے،اور ایک ایسے آدمی کو بھی بم مار کر پہاڑ کے اندر ہی دفن کردیا گیا جس نے اپنی قوم کی اکثریت کے رہنماؤں کے برعکس پاکستان کے مرکز کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کی عینک اور عصا بلوچ قوم نے اگر سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور سوال کھڑے کئے جارہے ہیں تو اس پہ ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کی بجائے سازش، غداری ، کلبھوشن کا شور مچانا کہاں کی عقل مندی ہے۔پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لیا جائے۔

سوچنے کی بات ہے کہ ایک بار پھر سے سندھی نوجوانوں اور بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے الگ ہونے کی بات کیوں کررہی ہے۔کیوں وہ کالے جھنڈے یوم آزادی پہ لہرارہے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد گوریلا جنگ کے راستے پہ کیوں چل پڑی ہے؟ اور آپ کو سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں ایف سی اور رینجرز کی بندوقوں اور مشین گنوں کے سائے میں پاکستانی پرچم لہرانے اور مصنوعی و بناوٹی جشن منانے کیوں پڑ رہے ہیں؟ اس لئے کہ بلوچ اور سندھی جو پنجابی حکمران اشرافیہ کے ترقی کے ماڈل کو اپنے علاقوں کی کالونائزیشن سمجھ رہے ہیں اور ان کے پاس دلائل ہیں اور ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے یہ ترقی ان کی قومی شناخت اور ان کے خطے کی پنجابائزیشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔ان کا یہ کہنا کیا جھوٹ ہے کہ ان کے حقوق کی تحریک کو آپ رمضان مینگل ، شفیق مینگل، حفیظ بروہی ، حافظ سعید جیسوں کے مذہبی جنونی آئیڈیالوجی اور اس آئیڈیالوجی کے تحت کھمبیوں کی تحت اگ آنے والے مدرسوں کے زریعے سے تباہ و برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔سندھ اور بلوچستان میں قوم پرست اور ان کے ہمدردوں کی جانب سے اپنے نظریہ اور خیال کے مطابق پرامن عدم تشدد پہ مبنی سیاسی جدوجہد کو ناممکن بنادیا گیا،ہزاروں جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور بدترین فوجی آپریشنوں اور نام نہاد سرچ آپریشنوں نے سیاسی جدوجہد کو بالکل ختم کردیا ہے اور اس پہ آنے والے ردعمل کے خلاف ریاستی جبر کیا کسی کو نظر نہیں آتا؟ بلوچ اور سندھی اگر اس آزادی پہ وہ جوش و خروش نہیں دکھارہے جس کی مانگ ان سے کی جارہی ہے تو اس پہ سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے ناکہ ‘غدار، ملک دشمن ‘ جیسی چیخ و پکار مچانے کی ضرورت ہے۔

اس ملک کی مین سٹریم سویلین قیادت ہو یا ملٹری اسٹبلشمنٹ ان کی بے بصیرتی اور اندھے پن کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ آج اس کے خلاف اس کمیونٹی کے اندر بھی شدید جذبات موجود ہیں جس کمیونٹی کی بڑی اشرافیہ نے پنجابی اشرافیہ کے ساتھ ملکر خود کو پاکستان کی تحریک کا صف اول دستہ قرار دیا تھا جس نے پاکستان بننے کے بعد اپنے اتحاد سے بنگالیوں، پشتون و سندھی و بلوچ قوم پرست قیادت کو یہ چنوتی دی تھی کہ وہ ون یونٹ اور اردو اور اسلام کی جس من مانی تعبیر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے اسی سے ترقی ، خوشحالی اور اسی سے پاکستان پوری دنیا میں رول ماڈل ملک کے طور پہ ترقی کرے گا اور اس کمیونٹی کی اکثریت نے خود کو اپنی اشرافیہ کے کہے سے وابستہ کرلیا اور یہاں تک آمروں تک کو اپنا نجات دہندہ خیال کرلیا۔اپنی اکثریت کے سب سے بڑے شہر میں اس کمیونٹی نے مذہبی جماعتوں کو سیاسی پارلیمانی پاور دی اور پھر سب نے دیکھا کہ یہ کمیونٹی بھی نظریہ پاکستان کو چھوڑ اور ایک نسلی-لسانی ثقافتی قوم پرستی اور ایتھنک سیاست کے گرد اکٹھی ہوگئی اور اچ اس کمیونٹی کے اندر سے ہی پاکستان کے جھنڈے سے بیزاری کے اظہار بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

سرائیکی خطے کے لوگ اپنے حقوق کی مانگ کررہے ہیں ۔اس علاقے کی اشرافیہ میں ابتک کوئی بزنجو، کوئی عطاء اللہ مینگل، کوئی باچا خان،کوئی الطاف حسین نہیں ہے۔نہ ہی ابتک سرائیکیوں میں سے کوئی نوجوان اللہ نذر بنا ہے ۔لیکن کب تک ایسی صورت حال باقی رہے گی؟ان کو کب تک آپ پاکستان کے چند شہروں تک وسائل کو محدود رکھ کر اور ان کو ترقی کے سفر میں اپنے برابر عازم سفر ہونے سے محروم رکھ کر پاکستانیت کا نعرہ لگانے پہ مجبور کرسکیں گے۔چھاؤنیاں اور کینٹ اگر لوگوں کو حقوق کی مانگ کرنے سے باز رکھ پاتے تو پنوں عاقل چھاؤنی بننے کے بعد سندھ میں کوئی آواز نہ اٹھ رہی ہوتی۔ایسے ہی خضدار اور گوادر ، تربت کو ملٹری گریژن میں بدل کر اور علاقوں کو غائباستان بناکر کیسے لوگوں کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے۔

فاٹا کے لوگ بنیادی حقوق کی مانگ کررہے ہیں، برابر کے شہری ہونے کا قانونی سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں۔لیکن ان کی بے دخلی، بدترین فوجی آپریشن جاری وساری ہیں۔پشتونوں کی کمزور آبادی کو تباہ وبرباد کردیا گیا ہے۔لاکھوں لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں میں کچے پکے مزدور بنکر اور بدحال ہوکر رہ رہے ہیں۔اور جن لوگوں کی وجہ سے وہ تباہ و برباد ہوئے ہیں جن کی بنیاد پہ ان کے علاقوں پہ ہیوی آرٹلری اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا اور ایف 16 طیاروں سے بمباری کی گئی ان کو مین سٹریم کرنے کا پروجیکٹ چلایا جارہا ہے اور ان کو قوم کا بیٹا کہا جارہا ہے۔ایسی صورت حال میں جب نہ عدالتوں سے انصاف مل رہا ہو ، افسر شاہی کا ظلم انتہا کو پہنچا ہوا ہے تو اگر بغاوت کے نعرے بلند ہوں تو اس پہ حیرت کیسی ؟ آپ اسے پشتون سنّی ، شیعہ نسل کشی کہہ سکتے ہیں۔لاکھوں پشتونوں کو کس بات کی سزا مل رہی ہے؟ کسی کے پاس اس کا جواب ہے؟ آخر ریاست کی پراکسیز جنھوں نے بنائیں ان کا احتساب کون کرے گا ؟ اے پی ایس کے شہید بچوں کی مائیں ابتک عدالت کے دھکے کھارہی ہیں۔جے آئی ٹی ہے کہ بننے کا نام نہیں لیتی۔

بالائی پنجاب اور جی ٹی روڈ پہ اسلام آباد سے لاہور تک کے پنجاب کی بات بھی کرتا جاؤں۔یہاں جن نوجوانوں ریاست کے حکمران طبقے کے پروپیگنڈے کے بوجھ تلے دبے منفی شعور رکھنے والی عوام کو حقائق سے باخبر رکھنے کی کوشش کی ان سے کیا سلوک ہوا؟ وہ سب کے سامنے ہے۔میں یہ مان بھی لوں کہ اس بالائی پنجاب کی اختلافی نوجوان آوازوں کے پیچھے امریکہ اور بھارت سے متاثر لبرل کمرشل مافیا کے اشراف زادے ہیں اور یہ ان کے ہاتھوں کسی سطح پہ استعمال ہوگئے ہوں گے لیکن زرا یہ تو بتائیں کہ کیا اوکاڑا،خانیوال ، ملتان ، رحیم یار خان کے مزارعوں کو مالکانہ حقوق دے دئے گئے ہیں ؟

جرنیلوں، بیوروکریٹوں ، چینی و امریکی و گلف ریاستوں کی سرمایہ کار کمپنیوں کو مفت اور چند ٹکوں کے بدلے زمینیں بانٹی جارہی ہیں لیکن اس ملک میں سو سال سے زمینوں کو سینچنے والوں کو ان کی زمینوں کی ملکیت دینے میں کون سی مشکل پیش آرہی ہے؟ عربوں کو شکارگاہیں قائم کرنے کے لئے زمینیں چھینی جارہی ہیں، جرنیلوں، کرنیلوں اور بیوروکریٹس کو زمینیں دی جارہی ہیں اور اس ملک میں لینڈ مافیا کچی آبادیوں، قدیم دیہاتوں اور گوٹھوں کے باسیوں سے ریاست سے ملکر زمیںیں چھینتا ہے اور کسی جگہ سے ان کو انصاف نہیں ملتا۔پٹواری سے لیکر اے سی تک اور اے سی سے لیکر ڈی سی تک اور ڈی سی سے لیکر کمشنر اور آگے سیکرٹری ریونیو تک سب مافیا کو سپورٹ کرتے ہیں اور عدالتیں بھی ان کی مدد کو آتی ہیں۔اس پہ لکھنے والوں اور بولنے والوں کو مین سٹریم میڈیا کے اخبارات اور ٹی وی چینل جب جگہ فراہم نہیں کرتے تو یہ آوازیں سوشل میڈیا پہ آتی ہیں اور یہاں پہ ان کی آوازوں کو خاموش کرانے کے لئے ایک طرف تو تکفیری و جہادی حرکت میں آتے ہیں اور پھر سائبر کرائم ایکٹ، پاکستان پروٹیکشن ایکٹ ، سیون اے ٹی اے سے مدد لی جاتی ہے اور اس سے آگے ‘جبری گمشدگی ‘ اور اس سے بھی کام نہ چلے تو ‘ توہین ، گستاخی ‘ کی منظم کمپئن چلائی جاتی ہے۔

میں پوچھتا ہوں یہ جو سوشل میڈیا پہ میشا اور ارسطو کی تصویریں ہیں جو بیرون ملک بیٹھے ہیں ، یہ کالے لباس میں سر تا پا ملبوس گل زھرا رضوی جیسی نوجوان لڑکیوں کی سوشل میڈیا کے چیختے چلاتے سٹیٹس ہیں کیوں ہیں ؟

احسن اشفاق کی بھانجی روز میرے فیس بک اکاؤنٹ انباکس میں چلی آتی ہے اور مجھ سے سوال کرتی ہے،’میرے ماموں کا کچھ پتا چلا؟کب چھوڑیں گے ؟ کیا کیا انھوں نے ؟ ‘
پنھل ساریو کی بیوی صغری ساریو، اس کی بیٹی ماروی ساریو کو کیا جواب دیا جائے ؟ کہتی ہے اس کا باپ شوگر و دل کا مریض ہے۔۔۔۔کس سے پوچھوں کہ شوگر و دل کے مریض پنھل ساریو سے ایٹمی اسلحے سے لیس ریاست کو ایسا کونسا خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اسے غائب ہی کردیا گیا؟

یہ نام آپ کو اجنبی سے لگتے ہوں ۔ ان کے ناموں میں جو دھرتی کی جھلک ہے آپ کو پریشان کرتی ہوں گی۔اور اس چھوٹے سے شہر میں جس میں اس چھوٹی سی ٹکڑی کے سامنے جب میں یہ سب باتیں کررہا ہوں تو مجھے اندازہ ہے کہ آپ کس کیفیت کا شکار ہیں۔آپ کے دل لرز رہے ہوں گے کہ میں کن طاقتوں سے جواب مانگ رہا ہوں؟ اس شہر میں صحافیوں کی اکثریت کسی افسر اعلی کی قربت ، کسی سیاست دان کی نظر عنایت کی خواہش مند ہوگی ، اس شہر میں چھوٹی سی اقلیت ٹھیکے، کمیشن ، اور جادوئی چھڑی سے اپنی تقدیر بدلنے کی متلاشی ہوگی اور جبکہ باقی کے عوام کو بس یہ فکر ہے کہ کیسے وہ گھر کے بڑھتے اخراجات اور اسحساب سے نہ بڑھنے والی آمدنی کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں گے؟ اور شعور کا کیا ہے یہاں کی عوام کا ۔۔۔۔۔ بتاؤ کیوں نکالا گیا ؟ ۔۔۔۔۔ نیا پاکستان بننے کی بنیاد پڑگئی

ہے۔۔۔۔دہشت گردوں کا پاتال تک پیچھا کریں گے ۔۔۔۔۔ قانون کی بالادستی قائم ہوگی۔۔۔۔عدالت کسی سے نہیں ڈرتی ، بس ایسا فیصلہ کریں گے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔یہی ہے بس شعور کی حد ۔۔۔ اس سے آگے بلوچستان میں کیچ،تربت ، گوادر، خضدار ،مستونگ ، کوئٹہ مری آباد،ہزارہ ٹاؤن،ڈیرہ اسماعیل خان ، تھر گوڑانو گاؤں، گلگت بلتستان، چولستان میں کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ دادو،سکھر، نواب شاہ، ٹھٹھہ کے اندر کریک ڈاؤن کیوں ہے؟ رانی بھٹو سندھی میں روتے ہوئے اپنی فریکچرڈ ٹانگ دکھا کر کیا فریاد کررہی ہے؟ اور یہ کیوں ٹوئٹر اور فیس بک پہ اپ لوڈ کررہی ہے؟ ہمیں نہ سندھی ، نہ بلوچی ،نہ پشتو ، نہ بلتی آتی ہے اور سرائیکی بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں آتی۔جبکہ اخبارات اور ٹی وی چینل تو سب اچھا کی خبر دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔

معاف کیجئے گا چاند ہوگی میری زمین ، پھول ہوگا میرا وطن ، لیکن یہاں بسنے والوں کے لئے حیات جرم ہی ہے اور زندگی وبال بنی ہوئی ہے اور ایسے میں آپ کہتے ہیں کہ تاریخ کے سیاہ اوراق نہ پلٹے جائیں ، کوئی سوال نہ اٹھایا جائے، چیخ نہ ماری جائے، چلایا نہ جائے ، اجالے کے اندر داغ اور صبح میں شب گزیدگی نہ دکھائی جائے ۔تو مجھے افسوس ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکوں گا۔جانتا ہوں چیخ اور پکارنے والی آوازوں کی یہ وکالت بہت مہنگی پڑسکتی ہے مگر جتنا بھی وقت ملے غنمت ہے ۔میں امبیدکر کے الفاظ میں کہوں گا کہ میری تنقید پہ آپ جتنا چاہے غصّہ کریں ، جتنا چاہے مشتعل ہوں مگر یہ تنقید کسی سے ذاتی عناد کے سبب نہیں ہے۔(تقریر ختم، کوئی آواز نہیں، کوئی تالی نہیں،بس سناٹا اور سناٹا اور میں بھی ڈائس سے خاموشی سے اترجاتا ہوں )

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*