ڈان نیوز میں شہید مرتضی علی کے والد کا شایع ہونے والا انٹرویو – ثمر زہرا

جب کبھی بھی مرتضی علی کے والدین اسے کراچی جانے والی بس میں سوار کرواتے یا عید کی چھٹیوں پر اس کے کوئٹہ پہنچنے کا انتظار کیا کرتے تو خوف کے بادل ہمیشہ انکے سروں پر منڈلاتے رہتے تھے۔ چوبیس سالہ ہزارہ طالب علم کے لیے بذریعہ سڑک کوئٹہ اور اسکے نواحی علاقوں جہاں ہزارہ کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہے آمد و رفت دیگر ہزارہ افراد کی مانند زندگی و موت کا ایک کھیل ثابت ہو سکتی تھی۔ جب تک بیٹا بخیر و عافیت گھر نہ پہنچ جاتا دیگر ہزارہ والدین کی طرح مرتضی حیدر کے والد کیپٹن صفدر علی بھی مسلسل بے چینی کا شکار رہا کرتے تھے۔

ایک انٹرویو میں جناب صفدر علی نے بتایا: “جب تک وہ گھر نہ پہنچ جاتا، اسے میرا بار بار کال کرنا کبھی کبھار ناگوار گزرتا تھا۔”

جب بدھ کے روز مستونگ میں کوئٹہ سے 49 کلومیٹر کے فاصلے پر مرتضی کو گولیوں سے چھلنی کر کے تین مزید ہزارہ افراد کے ساتھ شہید کیا گیا تب کچھ ہی دیر قبل اسکے والد نے اسے قرآن کے سائے میں دعائوں کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ کوئٹہ میں آباد ہزارہ نے 1880 میں افغان بادشاہ عبدالرحمن کے ہاتھوں اپنے نسل کشی سے بچائو کی خاطر وسطی افغانستان کے علاقے ہزارہ جات سے ہجرت کی اور آہستہ آہستہ کوئٹہ کے مشرقی و مغربی مضافاتی علاقوں میں آباد ہوگئے۔ جناب صفدر علی مغربی مضافاتی علاقے میں ایک مقام ہزارہ ٹائون میں رہتے ہیں۔ ہزارہ برادری کے دو لاکھ افراد یہاں قیام پزیر ہیں۔ ایک تنگ راہگز بلاک نمبر 2 کی سمت جاتی ہے جہاں سوگوار خاندان کی رہائش پزیر ہے۔

جناب علی صفدر نے ہیلپر آئی ہسپتال میں پیرامیڈک کے طور پر بیس سال نوکری کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے پچھلے سال مارچ کے مہینے میں قبل از ریٹائیرمینٹ اس لیے استعفٰی دے دیا چونکہ ہسپتال سے واپسی پر مشکوک افراد نے دو مرتبہ ان کا پیچھا کیا. وہ ماضی میں جھانکتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اس تشویشناک صورت حال کا تذکرہ اپنی زوجہ کے ساتھ کیا۔ “ہم دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجھے یہ نوکری چھوڑ کر ریٹائرمنٹ سے ملنے والی رقم مرتضیٰ کے تعلیمی مستقبل پر صرف کر دینی چاہیے۔”

مرتضیٰ ہزارہ ٹاؤن میں ہی پلا بڑھا تھا۔ اس نے میٹرک پرفیکٹ ماڈل ہائی سکول سے کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ سائنس کالج میں داخلہ لیا تھا جو کوئٹہ شہر کے قلب میں واقع ہے۔ میرے بیٹے کے کالج میں داخلہ لیتے ساتھ ہی شہر میں شیعہ ہزارہ نسل کشی اور بم دھماکوں کی ایک نئی لہر کا آغاز ہوا۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امن و امان کی مخدوش صورت ِحال کے پیشِ نظر مرتضیٰ باقاعدگی سے کالج نہ جا پاتا تھا جس کی بدولت وہ ایک مضمون میں فیل ہوگیا.

جب مرتضیٰ نے اپنے والدین کو بالآخر یہ بتایا کہ وہ کراچی جا کر گرافک ڈیزائنگ میں تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی، چونکہ ان کا گمان تھا کہ کراچی ان کے بیٹے کے لئے ایک محفوظ شہر ہوگا.اس کے والد بتاتے ہیں کہ وہ ایک پرجوش اور با صلاحیت نوجوان تھا، جو کہ تعطیلات میں ہزارہ ٹاؤن کے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا، وہ کوئٹہ سے کراچی آخری امتحان دینے کے لیے جا رہا تھا، میں نے کچھ جمع پونجی اس کی لاہور میں مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے سنبھال رکھی تھی کیونکہ اس کا نام نیشنل کالج آف آرٹس کی ویٹنگ لسٹ میں آچکا تھا۔ اپنے بیٹے کے خوابوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے والد غمگین اور افسردہ ہوگئے۔ اس کا ایسا کیا قصور تھا کہ اس کے جسم کو اٹھارہ گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔

ہزارہ ٹاؤن کے ایک امام بارگاہ میں ایک مزدور محمد موسیٰ اپنی بیوی رخسانہ بی بی اور اپنے بیٹے محمد آصف کی موت کا غم منا رہا ہے، وہ دونوں اس بد قسمت گاڑی میں سوار تھے جسے بدھ کے روز نشانہ بنایا گیا تھا۔ رخصانہ بی بی کی ڑیھڑ کی ہڈی کی ایک ڈسک ٹوٹ جانے کے باعث انہیں ہر دو ماہ بعد کراچی و کوئٹہ کے درمیان علاج معالجے کی خاطر سفر کرنا پڑتا تھا۔

محمد موسی بتاتے ہیں کہ: “میں بے روزگار ہوں۔ سیڑھیوں سے بری طرح گر جانے کے باعث میں اپنی ایک ٹانگ کھو چکا ہوں اور تب سے مزدوری کرنے کے قابل نہ رہا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے علاج کی خاطر بہت قرضہ لیا تھا۔ اس بار جب وہ کراچی روانہ ہورہی تھی تو میں نے اسے کہا کہ معالج سے کہہ دینا کہ اب ہم میں مزید علاج کا خرچ اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور یہ تمھارا اسکے پاس آخری چکر ہوگا۔”
پریشان حال غم سے نڈھال شخص یاد کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ میرا بیٹا اپنے چچا و ماموں کی طرح فوج میں بھرتی ہونا چاہتا تھا۔ “میں نے اسے سمجھایا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ تم جماعت سہم کے بعد سے تعلیم منقطع کر چکے تھے۔

بلاک 2 میں غم و اندوہ کی کیفیت سے دوچار جناب صفدر علی بتاتے ہیں کہ ان کے دادا نے 1965 اور 1971 میں پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف جنگیں لڑیں۔ ہمارے پاس سرٹیفیکیٹس موجود ہیں۔ “کیا ہمیں یہ صلہ ملا ہے؟ میں نے اپنا جوان بیٹا کھو دیا۔”

میرے رخصت ہونے سے قبل تین افراد صفدر علی کی رہائش گاہ پر تشریف لائے ان میں سے ایک شخص جو سادہ لباس میں ملبوس تھا نے خود کو پولیس والا بتایا جو مستونگ سے آیا تھا اور مرتضی کا بیگ صفدر علی کے سپرد کیا۔ قطار در قطار بہتے آنسوئوں کے ساتھ صفدر علی نے وہ بیگ وصول کیا جس میں مرتضی کا ضروری و ذاتی سامان موجود تھا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*