اداریہ تعمیر پاکستان : پاراچنار،کوئٹہ دہشت گردی کی لہر ۔کیا ریاست تکفیری دیوبندی-سلفی وہابی دہشت گرد نیٹ ورک کے خاتمے میں سنجیدہ ہے ؟

جون23 سن 2017ء رمضان المبارک کا 27واں روز اور جمعۃ المبارک دہشت گردی کی تازہ لہر لیکر نمودار ہوا۔بلوچستان کے دارالحکومت اور انتہائی سیکورٹی کے علاقے ریڈزون میں آئی جی آفس کے سامنے خودکش بم دھماکے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ شیعہ اکثریت کی قبائلی ایجنسی کرم کے صدر مقام پارہ چنار میں طوری مارکیٹ نزد جنرل بس سٹینڈمیں عید کی خریداری کے رش کے موقعہ پہ یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے کئے گئے اور ساتھ ہی شدید فائرنگ بھی جس میں اب تک درجنوں ہلاکتوں،ایک سو سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

پارہ چنار کرم ایجنسی میں مرنے اور زخمی ہونے والے تمام خواتین و حضرات و بچے شیعہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور امسال صرف چھے ماہ کے اندر ( 31 مارچ ، 25 جنوری ، 23 جون) ابتک تین بڑی دہشت گردی کی وارتیں پارہ چنار صدرمقام کرم ایجنسی کے انتہائی بارونق بازاروں میں کی گئی ہیں اور نشانہ شیعہ کمیونٹی ہی تھی۔ان وارداتوں کی ذمہ داری نام نہاد داعش، جماعت الاحرار، تحریک طالبان پاکستان یا لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے لیکن ایک حقیقت ہے کہ سب تنظیمیں تکفیری دیوبندی-سلفی وہابی آئیڈیالوجی رکھنے والی ہیں اور ان کا جہاد ازم بھی بنیادی طور پہ اینٹی شیعہ،اینٹی صوفی سنّی،کرسچن،احمدی ،ہندؤ، یہودی، بہائی ،پارسی ، اسماعیلی وغیرھم سے نتھی ہے اور ان کو جہاں موقعہ ملتا ہے یہ ان برادریوں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائی کرتی ہیں۔

پارہ چنار کرم ایجنسی میں ہونے والے جہادی تکفیری دیوبندی حملوں کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن نسل کشی کی حد تک چلے جانے کا سلسلہ دیوبندی جہادی تنظیم تحریک طالبان کے ابھار سے شروع ہوا۔کرم ایجنسی کی شیعہ اکثریت اور اعتدال پسند سنّی قبائل نے پاکستان کی ریاست کے زیر سایہ شروع ہونے والی طالبانائزیشن اور کابل پہ کنٹرول کے پاکستانی۔سعودی حمایت یافتہ پروجیکٹ کی مخالفت کی اور اس کرم ایجنسی کو اس تحریک کا لانچنگ پیڈ بننے سے روکے رکھا۔نائن الیون کے بعد طالبان اور القاعدہ کے بہت بڑے بڑے لیڈر اپنے پیدل سپاہیوں کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے اور بتدریج ان قبائلی علاقوں میں کرم ایجنسی کو چھوڑ کر باقی ماندہ پانچ قبائلی ایجنسیوں میں طالبان ازم کو غلبہ حاصل ہوتا چلا گیا اور ان علاقوں میں صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی موجود آبادی کی نسل کشی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس طالبان ازم کا اتحاد پاکستان کے بندوبستی علاقوں اور شہروں میں موجود سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت سمیت پہلے سے موجود تکفیری جہادی دیوبندی-سلفی نیٹ ورک سے ہوگیا اور پورے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی زبردست لہر دیکھنے کو ملی۔کرم ایجنسی کے شیعہ اکثریت کے غیور پشتون قبائل کرم ایجنسی کو طالبانی تکفیری جہادی دہشت گردوں کی جنت نہیں بننے دیا۔اور کابل تک پہنچنے کے اس مختصر ترین روٹ کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں کیا۔ان قبائل کے اسی کردار کی سزا تکفیری دہشت گرد دے رہے ہیں۔

پارہ چنار کے شیعہ مسلمانوں پہ پے درپے ہونے والے حملوں کے دوران ایک بات بار بار دوھرائی جاتی رہی ہے اور وہ ہے اس علاقے کے لوگوں کی سیکورٹی کے لئے کرم ایجنسی میں تعنیات ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کا کردار اور رویہ۔دس کروڑ کا سوال تو یہ ہے کہ 31 مارچ کو خواتین کی امام بارگاہ کے مرکزی گیٹ پہ کار بم دھماکے بعد ایف سی نے 12 خندقیں کھودیں جن میں 10 پارہ چنار کو آنے والے تمام ممکنہ راستوں کے گرد اور 2 شہر کے اندر۔ایک طرح سے پارہ چنار کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے لیا گیا۔اور اب بقول شخصے چڑیا بھی ایف سی کے بغیر پر نہیں مار سکتی۔ایسے میں پارہ چنار کے عین مرکز میں قریب قریب 25 کلوگرام بارودی مواد نصب کئے جانے کا انتظام کیسے ہوا؟اور یہ سوال اپنی جگہ کہ عید کی آمد کے موقعہ پہ پارہ چنار کے بازاروں کے داخلی و خارجی دروازوں پہ سیکورٹی کے کیا انتظامات تھے؟ اور بارودی مواد چیک کرنے والے جدید ترین آلات کیا وہاں نصب کئے گئے تھے؟ اگر جدید سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے تو یہ اسقدر بڑی تعداد میں بارودی مواد کیسے طوری مارکیٹ تک پہنچ گیا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ پارہ چنار میں جنوری اور مارچ میں ہونے والے بم دھماکوں میں سیکورٹی لیپس کا جائزہ لینے کے لئے کوئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کیا قائم کی گئی تھی؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کی رپورٹ کہاں ہے؟ اور سیکورٹی لیپس کا ذمہ دار کون تھا؟ اس سے بھی قوم کو آگاہ کیا جائے۔

کوئٹہ میں بھی ہائی الرٹ سیکورٹی اور ریڈ زون ایریا میں خود کش بم دھماکہ ہوا ہے۔یہ واضح سیکورٹی لیپس ہے اور سیکورٹی کے سٹینڈر آپریٹس پروسیجر کا پھر سے جائزہ لینے کی انتہائی شدید ضرورت کا احساس ابھرتا ہے۔پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی خوفناک وارداتیں اور شیعہ کمیونٹی کی بڑے پیمانے پہ ہلاکتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیں کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خوا کے جنوبی علاقوں خاص طور پہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کی نسلی صفائی کی یاد دلاتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں باور کراتا ہے کہ پاکستان کی حکومت، سویلین اور ملٹری قیادت ایک بار پھر اس منظم نسل کشی کی مہم کے خاتمے کے لئے کوئی فول پروف حکمت عملی بنانے سے قاصر نظر آتی ہے۔بلکہ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی فیڈرل حکومت جس کے ماتحت قبائلی علاقہ جات آتے ہیں وہ پاکستان کی ملٹری لیڈر شپ کے ساتھ ملکر کالعدم تکفیری دہشت گرد تنظیموں اور ان کے لیڈروں کی مین سٹریمنگ کا پروجیکٹ زور و شور سے چلانے میں مصروف ہے۔پاکستان کی مرکزی حکومت کا سربراہ وزیراعظم نواز شریف شیعہ نسل کشی کے علمبرداروں کی سرپرستی کرنے کے الزام کی زد میں ہے جو سعودی عرب کے ساتھ اس کی وفاداری اور یک جہتی کا ثبوت بنتی ہے۔

پارہ چنار ہو، ڈیرہ اسماعیل خان ہو، کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے اکثریتی علاقے ہوں یہاں پہ ہونے والی شیعہ نسل کشی اور اس کے ذمہ داروں کی مذہبی شناخت اور پس منظر بارے ہمارے مین سٹریم میڈیا اور سول سوسائٹی کے اشراف زادوں کے ہاں ‘انکار،جواز، ابہام ‘ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔بلکہ اس ملک کے لبرل اشراف کی ایک بڑی معتدبہ تعداد کو شیعہ نسل کشی کی منظم کمپئن کے خلاف عوامی رائے عامہ کا دباؤ بڑھانے کی کوششوں سے کہیں اہم سعودی عرب کے پٹھو اور تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے مربی نواز شریف کے دفاع سے دلچسپی ہے۔پارہ چنار بم دھماکوں کے ابتدائی چند گھنٹوں میں اکثر لبرل اشراف زادوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور فیس بک سٹیٹس نواز شریف کے دفاع میں ہی مصروف نظر آئے۔اور اس کے بعد کئی ایک لبرل اشراف زادوں نے تکفیری جہادی دیوبندی نیٹ ورک کے حامی دائیں بازو کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی طرح پارہ چنار پہ ہونے والے حملوں کو ملک شام میں جاری لڑائی سے جوڑنے کی کوشش کی۔اس سے صاف نظر آتا ہے کہ پاکستان میں نام نہاد لبرل سیکشن کے کئی حصے تکفیری دیوبندی-سلفی وہابی نیٹ ورک کے ساتھ جڑے ہیں اور ان کی سوچ شیعہ نسل کشی کے سوال پہ یک رائے ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*