اداریہ تعمیر پاکستان لندن دہشت گردی : سعودی فنڈڈ وہابی دیوبندی سلفی نیٹ ورک کا خاتمہ کئے بغیر دہشت گردی سے نجات ممکن نہیں ہے

سنٹرل لندن میں دہشت گردی کی کاروائی کے رنگ لیڈر کی شناخت محمد خرم شہزاد بٹ کے نام سے ہوئی جو پاکستان میں پیدا ہوا اور اپنے خاندان کے ساتھ بچپن میں برطانیہ چلا آیا۔25 سال اس کی عمر تھی۔ایسٹرن لندن کا رہنے والا تھا۔برطانوی اخبار انڈی پینڈیٹ کی آفیشل ویب سائٹ پہ موجود ایک خصوصی سٹوری میں بتایا گیا کہ اس کا تعلق سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے اور برطانیہ میں المہاجرون کے نام سے ایک وہابی تکفیری جہادی نظریات کی حامل تنظیم بنانے والے دیوبندی انجم چوہدری کے ساتھ تعلقات بتائے گئے ہیں جبکہ بی بی سی کے چینل فور کی دہشت گردی پہ بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں بھی خرم بٹ ایک جہادی تکفیری مبلغ شمس الدین کے ساتھ ظاہر ہوا تھا۔اس تفصیل سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستانی بٹ فیملی کے خرم شہزاد بٹ کو ریڈیکل وہابی دیوبندی خیالات کی جانب راغب کرنے میں اہم ترین کردار وہابی دیوبندی تنظیم المہاجرون اور اس کے سربراہ انجم چودھری کا ہے جوکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 14 سال قید برطانوی جیل میں کاٹ رہا ہے۔اور اس واقعے نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کردی ہے کہ برطانیہ میں عوام کو اس وقت جس طرز کی دہشت گردی کا سامنا ہے اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ وہابی سلفی دیوبندی انتہا پسند ہیں جو برطانیہ کے اندر سعودی فنڈ سے چلنے والے نام نہاد اسلامی مراکز اور مساجد کے زریعے سے نوجوانوں کو ریڈیکلائز کررہے ہیں۔

لندن ہو یا برسلز،یا پیرس یا پھر فلوریڈا یورپ اور امریکہ کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا کھرا سعودی عرب،وہابی ازم اور ریڈیکل دیوبندی ازم تک پہنچتا ہے۔لیکن کیا برطانوی حکومت اس پہ بات کرنے کو تیار ہے؟ سنٹرل لندن میں برج اور بورو مارکیٹ پہ ہوئے حملوں کے فوری بعد برطانوی وزیراعظم تھریسا نے جو تقریر قوم کے سامنے کی اس پہ برطانیہ کے معروف صحافی اور تجزیہ نگار رابرٹ فسک نے انتہائی شدید تنقید کی اور ان کو سخت طنز کا نشانہ بنایا۔رابرٹ فسک لکھتا ہے:

تھریسا نے جو کہا کیا اسے واقعی بہترین کلام کہا جاسکتا ہے؟ یہ وہی پرانی زبان میں اقدار،جمہوریت اور بری آئیڈیالوجی کی گردان تھی جس میں تھریسا نے ہلکا سا بھی سعودی عرب کی جانب اشارہ تک نہ کیا جس کی وہ خوشامد کرتی ہیں۔جس کی وہابی آئیڈیالوجی القاعدہ،داعش اور طالبان کے اندر خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ٹونی بلئیر نے بھی ایسے ہی کوڑا زبان کا استعمال کیا تھا اور اس نے سیون سیون لندن بم دھماکوں کے بارے میں دعوی کیا تھا کہ ان کا عراق سے کچھ تعلق نہیں بنتا جو کہ بہحال جھوٹ ہی تھا۔اس نے بھی جارج بش کی طرح دعوی کیا تھا کہ یہ حملے اس لئے ہوئے کہ بمبار ہماری اقدار اور ہماری جمہوریت سے نفرت رکھتے تھے جبکہ داعش والے اگر ان سے اگلے بستر پہ سے سو کر بھی اٹھیں تو ان کو کچھ پتا نہیں ہوگا کہ یہ اقدار ہیں کیا۔

رابرٹ فسک کا کہنا کہ برطانوی وزیراعظم نے یک استعاراتی اور یک رخی تقریر کی جس میں سچ سرے سے تھا ہی نہیں۔رابرٹ فسک کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کو برٹش مسلمانوں سے بات کرنے کی بجائے سعودی عرب اور اپنی دیگر اتحادی عرب ریاستوں سے کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن فسک کا خیال یہ ہے کہ مغربی حکومتوں میں اتنی ہمت نہیں ہے اور وہ اتنے بزدل ہیں کہ وہ عرب بادشاہوں سے بات کرنے سے قاصر ہیں جن کو وہ اسلحہ بیچتے ہیں اور یہ وہ ہیں جو سیاسی اختلاف پہ لوگوں کی گردنیں اتار دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ تو امریکہ و یورپ کی حکومتوں میں اتنی ہمت اور حوصلہ ہے کہ وہ سلفی وہابی ریاست سعودی عرب اور عرب باشندوں کی جانب سے سلفی دیوبندی نیٹ ورک کو کی جانے والی مالی امداد کے خلاف نبرد آزما ہوں۔بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ الٹا مغربی حکومتوں اور اکثر تیسری دنیا کے ممالک کے حکمرانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پہ دہشت گردی کے منبع سے ہی اتحاد بنائے۔مغرب اور امریکہ کی حکومتوں نے قطر،سعودی عرب،ترکی ، اردن اور مصر کے ساتھ ملکر شام میں بشار الاسد کے خلاف اتحاد بنایا اور ہزاروں سلفی دیوبندی دہشت گردوں کو بشار الاسد سے لڑنے کے لئے تیار کیا۔عراق میں شیعہ اکثریت کے ساتھ بننے والی مخلوط حکومت کے خلاف القاعدہ و داعش کو کھڑا کرنے میں سعودی عرب اور دیگر عرب حکومتوں کا کردار ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اور اسی نے مڈل ایسٹ میں تکفیری فاشزم کو مضبوط کیا۔یہ شیطان کے ساتھ برائی کے خلاف جنگ کرنے کے نام پہ ہاتھ ملانے کے مترادف بات ہے۔

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مغربی حکومتیں ہوں یا تیسری دنیا میں پاکستان،مصر،ترکی،اردن یا دیگر ممالک کے رجیم ہوں وہ دہشت گردی کی اصل جڑوں کو پکڑنے کی بجائے جب کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو وہ شہری آزادیوں پہ حملہ آور ہوجاتی ہیں۔انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کی بات کرنے لگتی ہیں۔برطانوی پرائم منسٹر تھریسا مئے نے بھی کچھ ایسا ہی کہا جب وہ لندن حملوں کے خلاف ردعمل دیتے وئے”محفوظ سپیس /جگہ” بارے بات کررہی تھیں۔مشکل سے دو عشرے ہوئے ہیں جب ہم انٹرنیٹ پہ بدسلوکی اور نفرت کا سامنا کررہے ہی لیکن انتہا پسند اور تکفیری و جہادی آئیڈیالوجی تو اس سے پہلے بھی موجود تھی اور پھل پھول رہی تھی۔رابرٹ فسک نے بالکل ٹھیک کہا کہ جب وہابی امام نے مسجد نبوی کے اندر کفار،نصرانی و یہودی و مشرکین و بدعتیوں کو نیست و نابود کرنے کا خطبہ دیا تھا تو اس وقت کونسا انٹرینٹ اور سوشل میڈیا موجود تھا؟ لیکن کیا واقعی ہماری حکومتیں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پہ مذہبی بنیاد پہ پھیلائی جانے والی نفرت اور پروپیگنڈے کے خلاف منظم اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں؟

ایک جائزہ تو انگریزی روزنامہ ڈان کی ویب سائٹ پہ شایع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا کہ سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کالعدم تنظیموں کی قیادت اور افراد نے بنائے ہوئے ہیں جن مين سرفہرست تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت ،سپاہ صحابہ پاکستان ، جیش محمد کے پیجز ہیں۔اور پاکستانی حکومت جس کا یہ دعوی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت مستعد ہے اس نے ابتک تکفیری اور جہادی پروپیگنڈا کرنے والے دیوبندی سلفی وہابی نیٹ ورک کے سوشل میڈیا پہ چلنے والے پیجز کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا۔بلکہ اس کے بالکل برعکس تکفیری و جہادی فاشزم کے خلاف سرگرم بلاگرز،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں کے خلاف ایف آئی اے،آئی بی، سی ٹی ڈی، آئی ایس آئی ، ایم آئی کے سرگرم ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔خود مغربی حکومتوں نے ابتک وہابی آئیڈیالوجی کے تحت چلنے والی آئی ڈیز کے خلاف کوئی خاص کاروائی نہیں کی ہے۔جبکہ ایم آئی فائیو کے پاس اس وقت 20 ہزار برٹش مسلم وہابی سلفی دیوبندی نوجوانوں کی پروفائل ہیں جن کو ریڈیکل خیال کیا جارہا ہے اور ان کی مانٹیرنگ بھی کی جاتی ہے۔لیکن اتنی بڑی تعداد میں نوجوان جس آئیڈیالوجی کی وجہ سے ریڈیکل ہوئے اور جن پالسیوں کے سبب برطانوی عوام کو یہ دن دیکھنے پڑے ان کو ختم کرنے کے بارے میں تاحال برطانوی حکومت کا کوئی عزم دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

ادارہ تعمیر پاکستان ایک لمبے عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ عقیدے اور مذہب کی بنیادی پہ ہونے والی دہشت گردی کی اصل جڑ وہابیت اور اس کے فروغ کا تکفیری وہابی دیوبندی سلفی نیٹ ورک ہے جس کا خاتمہ کئے بغیر دہشت گردی کو روکے جانا ممکن نہیں ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*