منٹو کے جنم دن پہ فلم ڈائریکٹر نندتا داس کا خط منٹو کے نام- نندتا داس

ڈئیر منٹو صاحب،

جنم دن مبارک !
شوٹنگ کے پاگل پن ، چیلنج کی کثرت کے درمیان ،تم مجھے پرسکون رہنے کی طاقت دیتے ہو۔اور پختہ عزم کے ساتھ چیزیں جیسے وہ ہیں اور ان کے بارے میں ویسا ردعمل دینے کے لئے جیسا ہونا بنتا ہے مجھے تم سے ہی حوصلہ ملتا ہے۔تم ہی مجھے سچ بولنے اور یہاں تک کہ ناکامی سے خوف نہ کھانے کی اخلاقی ہمت دیتے ہو۔

تم نے ایک بار کہا تھا،میں کہانیاں لکھتا نہیں ہوں بلکہ وہ مجھے لکھتی ہیں۔میں جب آپ کی کہانی کو فلماتی ہوں تو مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ جب میں اچھا کرتی ہوں تو تم مسکراتے ہو اور جب میں غلطی کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ تم میرا حوصلہ بڑھارہے ہوتے ہو۔میں جب بھی ان سارے چیلنجوں کے بارے میں سوچتی ہوں جن کا تمہیں سامنا رہا تو مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا لگنے لگتا ہے۔تم نے مجھے سکھایا کہ ہم جو کرتے ہیں وہ کوئی آپشن کی بات نہیں ہے بلکہ یہ وہ ہوتا ہے جو ہمیں کرنا بنتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے تم نے کہا تھا، “اگر تم ایک انسان ہو تو تمہیں ترقی پسند ہونا بنتا ہے”۔یہ کوئی اختیاری /آپشنل چیز نہیں ہے۔

وہ جو عورتوں کے مسائل سے میری وابستگی سے واقف ہیں اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں ایک مرد پہ کیوں فلم بنارہی ہوں، عورت پہ کیوں نہیں؟سادہ سی بات ہے۔کیونکہ میں ان گنے چنے مردوں کی یاد منانا چاہتی ہوں جو کہ ویمن کاز کے چمپئن تھے۔ایسے مرد جنھوں نے ہمیں تحقیر ، ترحم آمیز یا تحکمانہ انداز میں دیکھنے کی بجائے برابر اور مساوی انسان کے طور پہ دیکھا۔میں جانتی ہوں تمہیں لیبل سے نفرت ہے، ایسے ہی جیسے مجھے ہے،کیونکہ تم جیسے انسانیت پرست ہو اور اسی لئے فیمنسٹ بھی۔بطور ایک مرد کے تم کافی ساری شناختیں رکھتے ہو۔جیسے بطور عورت میں رکھتی ہوں۔

تمہاری تمام تر مدح سرائی کے باوجود مجھے تمہاری طاقت کے ستون کو بھلانا نہیں ہے۔صفیہ۔ایک بیوی،ایک دوست،ایک مددگار جس نے تمہارے سب نشیب و فراز کو برداشت کیا اور نشیب بہت زیادہ تھے۔وہ بھی اسی دن پیدا ہوئی تھی۔کس قدر حیرت انگیز ہے کہ تم دونوں کا جنم دن ایک ہے اور دونوں کے ناموں کا پہلا حرف بھی “ایس” ہے، دونوں کے عینک لگی ہوئی تھی۔

وہ کہتے ہیں نا زندگی میں کچھ بھی اتفاقی،بے سبب سا نہیں ہے۔منطق کے اعتبار سے میں تمہاری چوتھی بیٹی ہوں۔۔۔۔بااعتبار تمہارے فن کی روح اور مشن کے۔کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ تم نے اپنی تینوں بیٹوں کے نام وہ رکھے جو حرف این سے شروع ہوتے ہیں! اور ایک روحانی اسرار کے ساتھ مجھے لگتا ہے میں بھی تمہاری لیگسی/ورثہ کا حصّہ ہوں جو کہ کہانی کہنے کی کفارہ والی قوت پہ یقین رکھتی ہے۔جبکہ کوئی بھی دنیا بدل نہیں سکتا مگر تم ہر روز مجھے یاد دلاتے ہو کہ ایک کہانی، ایک نظم ، ایک فلم وہ قطرہ ہوسکتی ہے جو آہستہ آہستہ گھڑا بھر سکتی ہے۔

میں بہت خوش نصیب ہوں کہ تین بہنیں ہیں میری،تمہارا شکریہ کہ مجھے تمہاری کہانی بتلانے کے لئے جو مدد درکار تھی تم نے وہ مجھے فراہم کی۔میں امید کرتی ہوں یہ ویسے ہی تمہاری کہانی کو بیان کرے گی جیسے تم چاہتے تھے۔تم سے واقف ہونے کا مطلب یقینی یہ ہے کہ تم خود بھی جاہتے ہوں گے کہ تمہارے دھبوں کو بھی دیکھا جاسکے، تمہاری ناکامیوں کے درشن ہوں۔میں کوشش کررہی ہوں کہ ایک ایماندار اور حساس آدمی کو اس کی تمام تر خامیوں کے ساتھ باہر لاسکوں۔وہ سب جو تمہیں ایک گوشت پوست کا آدمی اور رسائی کے قابل بنائے۔
اب مجھے شوٹ کرنے کی جانب جانا چاہئیے۔آج ہم شیام کو یہ گنگناتے ہوئے دکھانے کا سین فلمارہے ہیں” تو میرا چاند،میں تری چاندنی “! تم اسے پسند کروگے!

بہت پیار ،تعریف اور عزت کے ساتھ ایک بار پھر جنم دن مبارک !

تمہاری،
نندتا

نوٹ : فلم ڈائریکٹر نندتا داس جنھوں نے گجرات کے فسادات پہ معروف فلم ” فراق” سے بے مثال شہرت حاصل کی۔آج کل منٹو کی زندگی پہ بننے والی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔منٹو کے جنم دن کے موقعہ پہ انہوں نے ایک انگریزی میں منٹو کے نام ایک خط اپنے آفیشل پیج پہ پوسٹ کیا۔جس کا اردو ترجمہ اوپر کیا گیا ہے۔

مترجم : عامر حسینی

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*