سید خرم ذکی اور ان کا خواب – عامر حسینی

کون روک سکتا ہے
خوشبوؤں کی راہوں کو
خاردار تاروں سے
کون کاٹ سکتا ہے
آنے والی کرنوں کی انگلیاں کٹاروں سے
صبح چھپ نہیں سکتی
ابر کے حصاروں سے
زخم زخم شاخوں پر
پھول کھلنے والے ہیں
خامشی کے چہرے پر
ہوںٹ ہلنے والے ہیں
نذیر قیصر

جس دن وہ اچانک ہم سے جدا ہوگیا تھا اس دن مجھے دن کی روشنی سے لیکر رات کی تاریکی تک اور تاریخ کے سات سے آٹھ ہوجانے تک پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کیا ہوگیا ہے۔
میں تھکن سے چور چور تھا اور نیند آنکھوں میں بھری ہوئی تھی۔سوچا کہ سوجاؤں،پھر سوچا کہ زرا دیکھ لوں کہ سوشل میڈیا پہ کیا سرگرمیاں ہوئیں۔میں نے جیسے ہی موبائل ڈیٹا آن کیا تو ایک دم سے فیس بک انباکس کے میسجز کے انبار لگ گئے اور ساتھ ہی موبائل میسجنگ ٹون بھی بند ہونے کا نام نہ لے رہی ہو،میں سب سے پہلے سیدہ حانیہ رضوی کا پیغام پڑھا ، ” آہ ،خرم ذکی”اور اس سے آگے تو مجھ میں پڑھنے کی سکت نہ رہی۔میں سمجھ گیا تھا کہ کیا ہوگیا ہے۔تفصیل بعد میں پیغامات اور خبریں پڑھ کر ہوگئی تھی۔اس کے بعد نیند ایسے غائب ہوئی کہ مجھے ” سولی پہ بھی نیند آنے ” کا مقولہ غلط لگنے لگا۔

مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میرا دل کسی عفریت نے پکڑ کر مسوس دیا ہو اور مجھے اپنے ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔دکھ اور درد نے مجھے گھیر رکھا تھا اور سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے میں اپنے درد کو کم کروں۔میں چاہتا تھا کہ زور زور سے چیخوں ، گریہ گروں لیکن میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا لیکن آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔میں نے اس روز فیس بک،ٹوئٹر،گوگول پلس اور کئی اور جگہ پہ درجنوں پوسٹیں کیں، اپنا درد انڈیلا ان میں مگر درد کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

کیونکہ سید خرم ذکی سے میں نے ایک ملاقات اکتوبر میں کی تھی ، اگلی ملاقات دسمبر میں کی تھی اور پھر جب جنوری سے دوہزار سولہ شروع ہوا تو کم از کم روز ہی ہم نے فیس بک،وٹس ایپ ، موبائل کال پہ درجنوں بار رابطہ کیا۔ان دنوں وہ بہت تیزی سے کام کررہا تھا۔وہ تکفیری فاشزم اور اس کی پاکستان کے شہروں ميں موجود جڑوں کو اکھاڑنے کے لئے ایک بڑی سول موومنٹ چلانے کا خواہش مند تھا۔اور ہم نے اس دوران کئی کئی گھنٹے پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے خلاف متبادل سول سوسائٹی کی تعمیر کے منصوبے پہ بحث کی۔اور وہ ان تفصیلی مباحث کے بعد اس بات پہ قائل ہوگیا تھا کہ ہمیں پاکستان کے بڑے شہری مراکز میں ایسا ہیومن رائٹس دفاعی نیٹ ورک کی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو مذہبی و نسلی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس کے علمبردار گروہوں کے خلاف بیداری ملت کی مہم چلائے بلکہ وہ اس وائلنس کے لئے جواز تلاش کرنے یا اس کے لئے معذرت خواہی اپنانے والوں کے خلاف بھی جدوجہد کرے گا۔

اس نیٹ ورک کے لئے پیپر ورک تیار کیا جارہا تھا۔اس دوران اس نے اپنی سیمابی اور پارہ صفت فطرت کے سبب خود سے کچھ اقدام اٹھالئے۔جیسے اس نے کراچی میں کالعدم اہلسنت والجماعت کے کام کرنے پہ سندھ حکومت کے خلاف دھرنا دے ڈالا ، اور پھر جب سانحہ آرمی پبلک اسکول ہوا تو اس نے مولوی عبدالعزیز کی جانب سے مذمت نہ آنے بلکہ داعش کی حمایت ميں بیان آنے اور شیعہ کے خلاف اعلانیہ تکفیری فتوؤں کے خلاف لال مسجد کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا اور پھر جب لال مسجد کے سامنے احتجاج کا دن آگیا تو اس کے ایک ساتھی نے عین وقت پہ اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور لیکن سید خرم ذکی کو ایسی باتیں بھلا کبھی روک سکیں تھیں، اس نے اپنے بیوی بچوں اور چند ایک اور لوگوں کو ساتھ لیا اور لال مسجد کے سامنے پہنچ گیا۔اس کو پولیس نے گرفتار کرلیا،مگر اس کا حوصلہ اور جوان ہوگیا۔میری اس کی رہائی کے فوری بعد فون پہ بات ہوئی تو میں نے کہا:
کبھی کبھی نجانے مجھے تمہارے اندر حجر بن عدی کی روح نظر آتی ہے جو تمہیں چین نہیں لینے دیتی اور تم سے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

خرم ذکی ( ہنستے ہوئے ): کیوں اب میں نے کیا کردیا ،میرے بھائی ؟
یہ اکیلے لال مسجد کا رخ کرنے کی کیا سوجی تمہیں ؟ کتنے لوگ آگئے ؟ اور اب تک کیا بنا ہے ؟

خرم ذکی اس پہ کچھ دیر خاموش رہا ، پھر بولا ! مجھے تمہاری نیٹ ورکنگ والی بات سے کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے۔مگر مجھے تکفیری ملّاؤں کے سامنے بھیگی بلّی بنی قوم بالکل پسند نہیں ہے۔ایک ملّا داعش کی حمایت کرتا اور آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے قتل عام پہ مذمت سے انکار کرتا ہے اور سارا مین سٹریم میڈیا اس کے بیانات شایع کرتا ہے۔اور کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں تو میں نے سوچا کہ میں تکفیر کے مدار المہام کو چیلنچ کروں گا تو جمود ٹوٹے گا۔اور مجھے اس راستے پہ اپنی جان چلے جانے کا کوئی خوف نہیں ہے۔

میں نے اس کے بعد پھر اسے ایک لمبا لیکچر نیٹ ورکنگ اور سوشل نیٹ ورک پہ دیا تو اس نے کہا اس کام کو تین چار ماہ کے اندر شروع کریں گے۔اور ہم نے کراچی ، لاہور ، اسلام آباد کے مشترکہ دوروں کا پروگرام بھی بنالیا تھا۔اور پھر دن گزرتے گئے اور ایک دن اس کی موت کی خبر آگئی ۔اور بظاہر تکفیری فاشزم کے خلاف ایک توانا آواز خاموش ہوگئی اور اس آواز کے خاموش ہونے پہ سکھ کا سانس تکفیریوں نے ہی نہ لیا بلکہ اس پہ کچھ لبرل اور خود انکل ٹام شیعہ دانشور بھی سکھ کا سانس لیتے نظر آئے۔

سید خرم ذکی کا سفر تھیالوجیکل مباحثے کرنے والے ایک پرجوش تھیالوجسٹ سے ایک سوشل ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ دانشور تک کیسے ہوا ؟ اس پہ ان کے دوست احباب نے ابتک کوئی واضح تحریر نہیں لکھی بلکہ اس کے اکثر محبان اور حلقہ ارادت میں موجود اسے ابتک ایک پرجوش تھیالوجسٹ کی شکل ميں دیکھتے ہیں۔وہ کیسے ایک کنورٹ مذہبی شخص سے ایک ایسے ایکٹوسٹ میں بدل گیا تھا جو پاکستان کے اندر دہشت گردی اور تکفیری فاشزم کی جتنی بھی متاثرہ مذہبی کمیونٹیز تھی ان کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کرنے اور ان کی حمایت میں ایک بڑی تحریک کھڑی کرنے کا آرزو مند تھا؟

سید خرم ذکی کو سول سوسا‏ئٹی کی اشرافیہ کا ایک سیکشن ہمیشہ سے ناپسند کرتا آیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اس اشرافیہ کے کھوکھلے پن، نظریاتی بنجر پن اور سیلیکٹو احتجاج اور سیلیکٹو سیاپوں کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔تو اس سیکشن نے سید خرم ذکی کی موت پہ اس کے قتل کے بارے ميں سازشی مفروضے پھیلائے۔اور کچھ نے یہ الزام بھی دھرا کہ ان کی شدت پسندی ان کے قتل پہ منتج ہوئی ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سید خرم ذکی کا پاکستان کی سول سوسائٹی اور مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے کمرشل ازم کے علمبرداروں کی نشاندہی بالکل درست ثابت ہوئی اور آج یہ کمرشل ایکٹوسٹ اور قلم فروش بے نقاب ہوچکے اور ان کے بارے میں اب کسی کو شک و شبہ نہیں رہا ہے۔

لیکن اب بھی سید خرم ذکی کا خواب یعنی مذہبی جنونیت ، تکفیر ازم ، جہاد ازم کے خلاف متبادل سوسائٹی کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا۔آج بھی متاثرین دہشت گردی کا کیمپ تقسیم، منتشر ، باہمی بداعتمادی کا شکار اور مہاجنی ملائیت کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔جبکہ سعودی فنڈڈ تکفیری نیٹ ورک پوری طرح سے منظم اور متحد ہے اور پاکستانی ریاست کو دن بدن مکمل سعودائزیشن کی جانب لیجایا جارہا ہے۔اور دیکھیں کب اینٹی مذہبی جنونیت کیمپ میں کب انتشار ختم ہوتا ہے ؟ مگر میں ایک بار پھر عہد کرتا ہوں کہ جب تک میری سانس میں سانس ہے میں امن کی خاطر ، تکثریت پسندی کے لئے اور اس معاشرے سے خارجیت پسند ، تکفیری فاشزم کے خلاف جدوجہد کرتا رہوں گا اور نظر و فکر کے ساتھ عمل کی دنیا میں بھی اس کے خلاف مزاحمت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میرا بلاوا آجائے اور میں خوشی خوشی اس محفل میں شریک ہوجاؤں جہاں سید خرم ذکی کے اونچے اونچے قہقہے گونجتے ہیں اور سب واصل بالمحبوب ہونے والے بہت خوش ہیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*