سندھی سماج کیسے بچے گا ؟ – عامر حسینی

مذہبی بنیادوں پہ انتہا پسندی نے جب ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک کی شکل اختیار کرنا شروع کی تو ہمارے سماج میں ایک بیانیہ ہر ایک قومیت کے قوم پرستوں نے بھی مرتب کرنا شروع کردیا۔ پنجابی قومیت پرستی اپنے سیاسی موقف کے حوالے سے شاید سب سے زیادہ موقعہ پرست اور انتہائی شاطر قوم پرستی کی مثال ہے اور لینن کے اس قول پہ سو فیصد پورا اترتی ہے کہ مہا قوم کی قوم پرستی سب سے زیادہ موقعہ پرستانہ اور سب سے زیادہ شاؤنسٹ ہوتی ہے۔پنجابی قوم پرستوں نے پہلے پہل پاکستان میں انتہا پسندی کا دوش اردو بولنے والی یو پی سی پی سے آنے والی مہاجر کمیونٹی کے دائیں بازو کو دیا پھر انہوں نے اس کا دوش پختونوں کو دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آج جب بھی پنجاب کے اندر دہشت گردی کی جڑوں کی بات آئے تو یہ الزام ” جنوبی پنجاب ” کے سر تھونپتی ہے” اور اس طرح کی الزام تراشی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سنٹرل پنجاب ترقی یافتہ ، انڈسٹریلائزڈ ہے وہاں سے شدت پسندی اور انتہا پسندی کو فروغ نہیں مل رہا۔

پشتون قوم پرست ایک لمبے عرصے تک یہ کہتے رہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ان کے علاقوں میں شمالی ہندوستان سے آئی اور انہوں نے اس کا دوش یوپی جو روہیل کھنڈ تھا کو دیا مگر یہ بھول گئے کہ نسلی اعتبار سے شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھی اپنے آپ کو افاغنہ کے ساتھ ہی جوڑتے رہے تھے۔

ایسے ہی سندھی قوم پرستوں نے اور بلوچ قوم پرستوں نے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو پنجاب سے جوڑنے کی کوشش کی۔سب قوم پرستوں کی انتہا پسندی کی تشریح کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان میں سے یہ بات کوئی ماننے کو تیار نہ تھا کہ جن کو یہ ” دھرتی کے بیٹے ،بیٹاں ” کہتے ہیں ان کے اندر بھی انتہا پسندی سرایت کرگئی ہے اور نظریہ سازوں کا اب ‘اجنبی ” ہونا ضروری نہیں ہے۔ہریانہ سے ہجرت کرنے والے راجپوت عصمت اللہ معاویہ ، سرائیکی / جھنگوی /رچناوی حقنواز جھنگوی، مشرقی پنجاب کے پنجابی جٹ مہاجر خاندان کا بیٹا ضیاء الرحمان فاروقی ، کرنال کے مضافات سے ہجرت کرنے والے ہریانوی راجپوت گھرانے کا بیٹا اعظم طارق،پشتون محسود قبیلے کا حکیم اللہ محسود ، سندھی بولنے والا سومرو قبیلے کا سراج سومرو، بروہی بلوچ قبیلے کا سندھی عبدالحفیظ ، مینگل بلوچ قبیلے کا بلوچ قوم کا بیٹا رمصان مینگل، گلگت بلستان کا موجودہ وزیراعلی حفیظ، اور ان جیسے اور درجنوں نام جن کی قومیتیں،نسلی شناختیں ، لسانی گروہ بندیاں اور جن کی جائے پیدائش مختلف تھیں اور ہیں لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہے کہ ان کی آج کی سب کی آئیڈیالوجی “جہاد ازم ، تکفیر ازم ” ہے اور یہ سب کے سب 99 فیصد اکثریت میں ریڈیکل دیوبندی ازم کو قبول کرچکے ہیں۔

اور مسلکی اعتبار سے خود کو ان کی اکثریت دیوبندی ازم سے جوڑتی ہے اور نمک برابر لوگ اپنے آپ کو اہلحدیث یا وہابی ازم سے جوڑتے ہیں۔ اور یہ ریڈیکل دیوبندی ازم ہی آج کے دیوبندی مکتبہ فکر کا غالب ترین بیانیہ اور ڈسکورس ہے جسے جدید اور قدیم (دیوبندی) مدارس کے طلباء اور اساتذہ میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ریڈیکل دیوبندی ازم دیوبندی تحریک کی سب سے موثر اور طاقتور تنظیم تبلیغی جماعت کے نیٹ ورک کو اپنے لئے استعمال کررہا ہے، وفاق المدارس کا نیٹ ورک کے اندر اس کی جڑیں موجود ہیں ، اور تبلیغی جماعت، جے یوآئی کے سبھی دھڑوں کی جدید تعلیمی اداروں اور ریاستی و غیر ریاستی اداروں میں جہاں جہاں موجودگی ہے وہاں وہاں دیوبندی تکفیری نیٹ ورک مداخلت کرتا ہے اور پرامن دیوبندی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنا حصّہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس نیٹ ورک کے لوگوں کی رکنیت ان جہادی تنظیموں میں بھی ہے جن کو پاکستانی فوج کی پراکسی خیال کیا جاتا ہے اور یہ ان پراکسیز میں ایسے لوگ اپنے ہم خیال بناتے ہیں جو ایک تو پاکستانی ریاستی اداروں میں ان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک بناتے ہیں اور دوسرا یہ بظاہر پاکستان نواز جہادی نظر آنے والوں کو ریاست پہ حملہ کرنے کے لئے استعمال کرلیتے ہیں۔اب تک جتنی ریسرچ ہوئی ہے اس نے یہ صاف بتایا ہے کہ وہابی ازم جس کی جڑیں سعودی برانڈ اسلام میں ہیں اور جس کی جڑیں جماعت اسلامی اور اخوان جیسی تنظیموں کی آئیڈیالوجی میں ہیں اور جس کے جراثیم دیوبند مدرسہ تحریک میں ہیں کسی بھی نوجوان کو کسی بھی وقت ریڈیکلائز کرسکتا ہے۔

پاکستان میں مختلف قوم پرست دانشور اور لبرل دانشوروں کی ایک بڑی تعداد ریڈیکل دیوبندی ازم کی جڑوں کو اپنے اپنے خطے میں آج تک ٹھیک طرح سے سمجھنے اور اس سے پیدا خطرات کو اپنی تحریروں اور بیانات میں بیان کرنے سے قاصر رہی ہے اور اس حوالے سے ان کے ہاں ابہام ، انکار یا جواز کا غلبہ دیکھا جاتا رہا ہے۔اور اب بھی یہی ہورہا ہے۔تکفیر ازم پاکستان کے اندر سب سے زیادہ دیوبندی ازم کے سب سے انتہا پسندانہ حصّے ریڈیکل دیوبندی ازم کی جانب سے پھیل رہا ہے جس کی سب سے بڑی ترجمان اہلسنت والجماعت ہے اور اس کی جڑوں کو دیوبندی مکتبہ فکر کی ملائیت اپنے اندر سے مٹانے کی کوشش تو کیا کرے وہ اسے محض ایک ری ایکشن خیال کرتی ہے اور وہ سعودی عرب کے کی عملی طور پہ ایک پراکسی میں بدل گئی ہے۔

لیکن ہمارے سندھی قوم پرست کیا کررہے ہیں؟وہ خالد سومرو اور آج کی جے یو آئی کے سندھ کے سندھ میں تکفیر ازم اور جہاد ازم کے پھیلاؤ میں کردار کو نظر انداز کرکے 80ء کی دھائی میں ان کے قوم پرستانہ کردار کی تعریفیں کرنے میں مصروف ہیں۔بلکہ مجتبی حسین ہوں ، اعجاز منگی ہوں یا کوئی اور لبرل لیفٹ دانشور ہو وہ ان کو شہید سندھ قرار دیتے ہیں اور ان کے حال کو بھول جاتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ میں خود کو رجعت پرستی کے خلاف سب سے بڑی آواز کہتی ہے اس نے سب سے زیادہ جے یو آئی ایف اور پھر اہلسنت والجماعت کی سرپرستی کی ، ان کو نوازا اور اپنی صفوں میں تکفیریوں کے سرپرست جیسے عمر کوٹ کا سراج سومرو اور خالد سومرو ہے کو اگلی لائن میں جگہ دی۔سید خورشید شاہ ہوں،سراج درانی ہوں یا پھر شیری رحمان ہو ان لوگوں نے لنکا ڈھائی ہے اور سندھ کے اندر مین سٹریم کے اندر تکفیر ازم کو داخلے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ اس پارٹی نے اب بھی ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور یہ اپنے حصے کا الزام بھی نواز شریف پہ ڈالتی ہے۔خود احتسابی کی بڑی ضرورت ہے۔سندھ کو اگر کسی نظریہ سے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ تکفیر ازم اور جہاد ازم ہے جس کا جھنڈا ریڈیکل دیوبندی ازم نے اٹھا رکھا ہے جس بارے سندھی انٹیلی جنٹسیا بات بہت ابہام کے ساتھ کرتا ہے۔

سوال یہ جنم لیتا ہے کہ سندھی نوجوان ہوں،اردو بولنے والے، پشتون ہوں یا پنجابی یا بلوچی بولنے والے یا پھر کوئی اور زبان بولنے والے نوجوان ہوں ان کے اندر مذہبی بنیادوں پہ ریڈیکلائزیشن کیوں عروج پہ ہے؟ وہ کیوں ایک انتہائی تھرڈ کلاس قسم کی ائیڈیالوجی سے جڑتے ہیں اور اپنے آپ کو پھاڑنے تک پہ آمادہ ہوجاتے ہیں ؟ ہماری یونیورسٹیاں ، کالجز خاص طور پہ سندھ کی یونیورسٹیاں اور کالجز میں ہمیشہ بائیں بازو کا غلبہ رہا اور ترقی پسند سوشلسٹ اور قوم پرست رجحان اوپر رہا ہے تو اب ملائیت اور پولیٹکل اسلام ازم کی بدترین اشکال سے لگاؤ کیوں بڑھ رہا ہے ؟ اس لئے درمیانے طبقے کے اندر موقعہ پرست رجحان عروج پہ ہے، میرٹ کا قتل ہورہا ہے، یونیورسٹیوں اور کالجز میں نیولبرل اور منڈی کی معشیت سے مطابقت رکھنے والی پالسیوں نے تعلیم مہنگی کردی ہے اور نا انصافی کے خلاف بائیں بازو کی جامعات اور کالجز میں کوئی موثر آواز نہیں ہے۔

سندھ کے اندرون علاقوں میں قائم یونیورسٹیوں اور کالجز میں جو چند ایک بڑے نام ہیں وہ امریکی فنڈنگ سے سرکاری اور درباری صوفی ازم اور ایک مردہ قسم کی پیٹی بورژوازی ٹائپ قوم پرستی کے ساتھ سامنے آتے ہيں، ” سندھی اجرک ڈے ” ہو یا پھر شاہ لطیف بھٹائی سیمنار ہوں بلکہ یہاں تک کہ سائیں شاہ عنایت کی بات کرنی ہو تو اس کے لئے بھی فنڈز امریکی اور پاکستانی ریاستی اداروں سے فراہم ہوتے ہیں اور جن کا کوئی کردار نہیں وہ شاہ عنایت کی بات کرتے ہیں۔سندھی درمیانے طبقے سے بائیں بازو کی صاحب کردار آوازیں غائب ہیں اسی لئے دائیں بازو کا مزاحمتی اور لڑائی کا ڈسکورس جو تکفیر ازم اور جہاد ازم پہ مشتمل ہے جامعات اور کالجز کے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں مقبول ہورہا ہے۔

جو ظلم ریاستی ادارے سرمایہ داری کو پھیلانے اور اس کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے کررہے ہیں اس کے خلاف بائیں بازو کا کوئی بڑا مزاحمتی ایجنڈا اس وقت ہماری یونیورسٹیوں اور کالجز میں موجود نہ ہے بلکہ انتہا پسندی ، تکفیر از اور جہاد ازم کے خلاف درمیانے طبقے کی جامعات اور کالجز میں اگر کوئی جوابی بیانیہ موجود ہے تو وہ منڈی کی معشیت اور سرمایہ داری کی ایک یا دوسرے طریقے سے حمایت کرنے والوں کا ہے جو اس ملک کے اندر پھیلی معاشی اور سماجی ناانصافی کو سرے سے کوئی مسئلہ خیال ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے خیال میں فساد کی جڑ ” ملّا ” ہے اور بس۔ان میں کئی ایسے دانشور بھی ہیں جو کسی دور دراز دیہات اور گاؤں کے کمزور سے مولوی کی مذمت میں اپنا سارا زور صرف کرتے ہیں اور شام کو مولوی طاہر اشرفی ، طارق جمیل یا لدھیانوی کے ساتھ بیٹھ کر ٹاک شو کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو کراچی اور حیدرآباد میں تکفیریوں اور جہادیوں کے اندر مقبول اخبار امت میں کالم لکھتے ہیں اور سندھی زبان میں لکھے کالموں میں سندھی کلچر کی تباہی کا رونا روتے ہیں۔ایسی منافقت کے ساتھ سندھ بچانا مشکل ہے۔

جو کام جنرل ضیاء الحق اپنے 11 سال میں پورے جبر سے نہیں کرپایا تھا وہ کام 88ء کے بعد سندھی مڈل کلاس کی لبرل دانش کی موقعہ پرستی اور منافقت نے کردکھایا ہے۔اور دیکھا جائے تو لیفٹ اور قوم پرستوں کی درمیانے طبقے کی پرت کے دانشورانہ حصّے کی اکثریت کی موقعہ پرستی اور نیو لبرل منڈی کی معشیت کے آگے سجدہ ریزی نے دائیں بازو کے انتہا بدترین سیکشن کو وہاں وہاں داخل کردیا جہاں داخل ہونے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ہمیں اپنے کالجز اور یونیورسٹیوں میں ڈاکٹر ریاض ، نغمہ شیخ ، احسان علی جیسی آوازوں کی ضرورت ہے تبھی ہم اپنے سماج کو تباہی و بربادی کی طرف جانے سے بچا سکیں گے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*