دیوبندی مولوی احمد لدھیانوی نے لیبیا سے 25 لاکھ ڈالر لئے،مقصد ایران و شیعہ کے خلاف کام کرنا تھا ۔ زاہد القاسمی رپورٹ : مستجاب حیدر

فیصل آباد ۔ ویکی لیکس نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو امریکی قونصلیٹ لاہور میں تعنیات رہے امریکی قونصلر برائن ڈی ہنٹ کا ایک سفارتی مراسلہ افشاء کیا ہے جس کے مطابق مارچ میں پاکستان علماء کونسل دیوبندی کے موجود چئیرمین مولانا زاہد القاسمی نے برائن ڈی ہنٹ سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران ان کو بتایا کہ کیسے فیصل آباد میں جیش محمد اور تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوگیا ہے اور فیصل آباد کے مدارس سے ٹی ٹی پی کے لئے بھرتی کی جارہی ہے۔مولانا زاہد قاسمی نے امریکی سفیر کو یہ بھی بتایا کہ فیصل آباد میں لڑکیوں کے اسکولوں میں سپاہ صحابہ پاکستان کی جانب سے ایسے پمفلٹ پھینکے گئے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے حجاب نہ لیا تو ان پہ حملے کئے جائیں گے۔

مولانا زاہد القاسمی نے امریکی حکام کو خبردار کیا کہ سپاہ صحابہ پاکستان فیصل آباد میں سوات کی طرز پہ نفاذ شریعت لانا چاہتی ہے اور اس نے پورے جنوبی پنجاب میں جیش محمد اور ٹی ٹی پی کے لئے نوجوانوں کی بھرتی کا پروگرام شروع کیا ہوا ہے۔زاہد القاسمی نے برائن ڈی ہنٹ کو یہ بھی بتایا تھا کہ سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی نے لبیاء کا ایک دورہ بھی کیا اور وہآں سے لبیاء حکومت سمیت کئی ایک گروپوں سے فنڈز بھی اکٹھے گئے۔زاہد القاسمی نے امریکیوں کو بتایا کہ لدھیانوی نے لبیا سے 25 ملین ڈالر لئے تھے تاکہ ایران اور شیعہ کے خلاف کام کیا جاسکے۔

سفارتی مراسلہ بتاتا ہے کہ کیسے سپاہ صحابہ پاکستان کی سپریم کونسل کے چئیرمین مرحوم ضیاء القاسمی کے بیٹے زاہد القاسمی امریکی حکام سے رابطے میں آئے اور انہوں نے امریکہ کا دورہ بھی کیا۔اس دوران زاہد القاسمی نے امریکی حکام اور وہاں پہ مسلمانوں کو بتایا کہ کیسے ان کے انتہا پسندانہ خیالات میں بدلاؤ آگیا ہے۔اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا جیش محمد اور تحریک طالبان پاکستان سے کیا تعلق ہے اور یہ کیسے جنوبی پنجاب کے مدارس سے افرادی قوت دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کو فراہم کررہی ہے۔زاہد القاسمی نے کہا کہ سپاہ صحابہ پاکستان کی ” دہشت گرد بھرتی مہم ” کا پتا ان کو اس وقت چلا جب ایک پمفلٹ فیصل آباد کے مدارس کے طلباء میں بانٹا گیا اور ان کے اپنے مدرسے میں پمفلٹ بعض طلباء کے پاس سے نکلا جس میں فیصل آباد میں سوات طرز کا طالبان راج لانے کی بات کی گئی تھی۔

اس ویکی لیکس مراسلے کے منظر عام میں آنے سے پھیلے مولانا زاہد القاسمی نے ایک پریس کانفرنس کرکے بتایا تھا کہ کیسے پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین مولانا طاہر اشرفی نے جرمنی اور امریکہ سے ڈالر لئے اور ان ملاقاتوں بارے ان کو نہ بتایا۔انہوں نے طاہر اشرفی کو پاکستان علماء کونسل سے نکال دیا تھا۔جبکہ خبریں آرہی ہیں کہ زاہد القاسمی اور طاہر اشرفی میں صلح کے لئے سعودی عرب نے کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*