پارہ چنار بم بلاسٹ : کیا مین سٹریم میڈیا مذھبی بنیاد پہ شیعہ کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی غیر جانبدار نیوز رپورٹنگ کرتا ہے ؟

پارہ چنار کرم ایجنسی میں 21 جنوری 2016ء میں ہوئے بم دھماکے پہ پاکستانی میڈیا کی رپورٹنگ بارے چند نکات

کسی ایک میڈیا گروپ نے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ یہ علاقہ شیعہ اکثریت آبادی پہ مشتمل ہے اور اس علاقے کو ہمیشہ سے تحریک طالبان پاکستان ، حقانی نیٹ ورک ، لشکر جھنگوی ، جماعت احرار وغیرہ نے اپنے حملوں کے نشانے پہ رکھا

کسی ایک میڈیا ویب سائٹ نے اس دھماکے کی خبر دیتے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کو یہ نہیں بتایا کہ فاٹا کی چھے قبائلی ایجنسیوں میں یہ واحد قبائلی ایجنسی ہے جس پہ تحریک طالبان سمیت کوئی بھی تکفیری دہشت گروپ اپنی عملداری قائم نہیں کرسکا اس کے باوجود کے اس علاقے پہ انھوں نے بے انتہا حملے کیے اور یہاں تک کہ پارہ چنار کے لوگوں کی ناکہ بندی کردی گئی اور اس علاقے کے لوگ بہت عرصے تک جلال آباد افغانستان کے راستے سے ہوکر پشاور آتے رہے ہیں

کسی نیوز گروپ نے اپنے پڑھنے والوں کو یہ نہیں بتایا کہ پارہ چنار میں اس سے پہلے اسی عید گاہ مارکیٹ میں تین بم بلاسٹ ہوئے اور تینوں کی ذمہ داری طالبان اور اس سے جڑے گروپوں نے قبول کی اور یہ بھی اعتراف کیا کہ ھدف شیعہ تھے

میں آسٹریلیا میں مقیم صحافی و استاد عباس زیدی کا ایک ریسرچ پیپر پڑھ رہا ہوں جس میں انھوں نے مین سٹریم میڈیا کی شیعہ کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی رپورٹنگ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور وہ اس ریسرچ پیپر میں اس نتیجے پہ پہنچے کہ پاکستانی میڈیا کی شیعہ کے خلاف ہونے والی دہشت گردی بارے نیوز رپورٹنگ

Denial انکار

Obfuscation ابہام

Justification جواز

کی مثال ہیں۔اور میں نے پارہ چنار میں ہوئے حال ہی میں بم بلاسٹ پہ ڈان میڈیا گروپ، جنگ گروپ سمیت کئی مین سٹریم ویب سائٹ کا بغور جائزہ لیا۔اور وہ اوپر بیان کردہ حقائق کی تصدیق کرتی ہیں۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی بارے میں سٹریم میڈیا کی رپورٹنگ حیران کن حد تک حقائق کو چھپانے والی ہے۔

ڈان ویب سائٹ پہ موجود خبر پارہ چنار میں ہوئے بم دھماکوں کی تاریخ بارے تفصیل سے بتاتی ہے اور تکفیری دیوبندی دہشت گرد گروپوں کے نام بھی لکھتی ہے جو ان دھماکوں میں ملوث رہے لیکن پوری خبر میں کہیں یہ ذکر نہیں کرتی کہ ایسے بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے بقول ھدف شیعہ ہیں۔کرم ایجنسی میں مختلف قبائل اور عقائد کے لوگوں کی آبادی کا ذکر کیا لیکن شیعہ آبادی کی بھاری اکثریت بارے نہیں بتایا اور سرے سے شیعہ کمیونٹی کا ذکر تک نہیں ہے۔یہ بات بذات خود حیران کن ہے

 

http://www.dawn.com/…/blast-in-parachinar-vegetable-market-…

نیوز انٹرنیشنل ، جیو انگلش و اردو کی خبر بھی ایسے ہی ہے

https://www.geo.tv/la…/128143-Blast-in-Parachinar-30-injured

https://www.thenews.com.pk/…/180782-1-killed-over-20-injure…

http://arynews.tv/…/parachinar-explosion-kills-at-least-10…/

http://tribune.com.pk/…/six-dead-20-injured-parachinar-bla…/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*