بنا ہے شاہ کا مصاحب ۔ عامر حسینی

دی اکانومسٹ ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے خصوصی طیارے پہ سعودی عرب کے شاہی مہمان کے طور پہ سعودی عرب پہنچے تو پہلے وہ مکّہ گئے اور عمرہ کیا پھر وہ ریاض گئے جہاں پہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے آل سعود کے شاہی محل میں ملاقات کی اور اس موقعہ پہ ان کو حسن کارکردگی پہ میڈل سے نوازا گیا(جیسے 2014ء میں ان کو ایکسلینس سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا اور میڈل بھی) اور اس کے بعد 39 ملکوں کی افواج پہ مشتمل سعودی قیادت میں بننے والے فوجی الائنس کے ہیڈکوارٹر بھی گئے۔

ان کے بارے میں یہ خبریں گردش میں ہیں ان کو سعودی عرب کے بادشاہ کے سیکورٹی ایڈوائزر کی نوکری کی پیشکش ہوئی ہے اور انھوں نے اسے قبول کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔یہ جو سعودی عرب کا 39 ملکوں پہ مشتمل فوجی اتحاد ہے اس کے بینر تلے ابتک یمن پہ فوجی حملے کئے گئے ہیں اور مقصد یمن پہ سعودی عرب کی جی حضوری کرنے والی حکومت کو یمن کا کنٹرول دینا ہے۔اس فوجی اتحاد نے یمن میں سعودی عرب کی غلامی کا جوا اتار پھینکنے والے حوثی قبائل اور سابق صدر صالح عبداللہ کی حامی افواج کا تو کچھ خاص بگاڑا نہیں جاسکا

لیکن یمن میں سڑکیں ، ہسپتال ، اسکول ، کالج ، گلی ،محلے اور ان میں بنے مکانات ، پینے کے پانی کی سپلائی کا انفراسٹرکچر اور سیوریج لائنوں کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔سالون ڈاٹ کوم نے 26 دسمبر 2016ء کو ایک خبر میں بتایا کہ اقوام متحدہ کے ہیومن ٹیرین کوارڈینٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں سے ابتک 10 ہزار یمنی معصوم شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور سعودی عرب کی یمن پہ جارحیت کے دنوں کو شمار کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ 13 افراد یومیہ کا تناسب بنتا ہے۔

http://www.salon.com/…/despite-10000-civilian-casualties-i…/

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں نے سعودی عرب پہ شدید تنقید کرتے ہوئے اپنی رپورٹوں میں سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پہ حملہ کرنے والے فوجی الائنس پہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے اور یمن کے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب بھی ٹھہرایا ہے۔

http://www.salon.com/…/rights-group-blasts-u-s-hypocrisy-i…/

جبکہ برطانوی اخبار دی گارڈین ڈیلی نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت نے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ اس نے یمن پہ شہریوں پہ کلسٹرز بم برسائے ہیں جو اس نے برطانیہ سے خرید کئے تھے۔

https://www.theguardian.com/…/saudi-arabia-admits-use-uk-ma…

جبکہ امریکہ نے یمن میں سعودی عرب کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے ردعمل میں اسلحے کی فروخت مین کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمن پہ نمونے کی یہ چند خبریں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یمن کے خلاف سعودی سربراہی میں فوجی کاروائی یمن کے معصوم شہریوں کی بڑے پیمانے پہ ہلاکتوں کا سبب بنی ہے اور شہری آبادیوں پہ سعودی فوجی اتحاد نے کلسٹر بم گرائے ہیں جس کی بڑے پیمانے پہ مذمت کی جارہی ہے۔

لیکن پاکستان کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف جن کے مائی باپ ہی آل سعود ہیں کے لئے سعودی عرب کی یہ کھلی جارحیت کچھ معانی نہیں رکھتی۔اور انہوں نے اس فوجی اتحاد کا حصّہ بننے کا اعلان کررکھا ہے اگرچہ سرکاری طور پہ یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یمن کے خلاف فضائی کاروائیوں میں پاکستانی افواج کا کوئی کردار نہیں ہے۔

لیکن پاکستان آرمی کے کتنے ریٹائرڈ افسران، کتنے پاکستان ائر فورس کے افسران ، پائلٹ ، فوجی انسٹرکٹر سعودی عرب میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کا کچھ پتا نہیں ہے۔یہ بھی خبریں اڑی تھیں کہ سعودی جیٹ بمبار طیاروں کو اڑانے والے یا تو پاکستانی ائر فورس کے پائلٹ ہیں یا پھر مصری ائرفورس کے پائلٹ ہیں

لیکن اس زمانے میں پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے حامی تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں نے ایسا تاثر دیا تھا جیسے مسلم لیگ نواز اور میاں نواز شریف تو مڈل ایسٹ میں یمن کے خلاف پاکستانی افواج کی کاروائی کے لئے تیار ہیں مگر اس میں روکاوٹ ملٹری اسٹبلشمنٹ خاص طور پہ جنرل راحیل شریف بن گئے تھے۔اس بات میں کوئی شک نہیں تھا اور نہ ہوگا کہ میاں نواز شریف پاکستان ميں سعودی عرب کے اپنے بااعتماد ساتھی ہیں اور جیسا کہ پرنس ولید طلال نے کہا کہ پاکستان میں نواز شریف ان کے بندے ہیں۔لیکن اس وقت یہ جو افسانہ گھڑا گیا کہ نواز شریف کے مڈل ایسٹ کے حوالے سے جو عزائم تھے ان کا راستہ جنرل راحیل شریف ہی نے روکا تھا ایک برے جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔

پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور اس کے جرنیلوں کا مائنڈ سیٹ ہمیشہ سے سعودی نواز ہی رہا ہے اور اس نے اپنی اسٹریٹجک پالیسیوں کا تعین کرتے وقت آل سعود کو اپنے سے الگ کرکے کبھی دیکھا ہی نہیں۔جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے بعد جس طرح سے سعودی نوازشات سے مستفید ہورہے ہیں اور ان کا سعودی شاہ کے قومی سلامتی کا مشیر کے عہدے کو قبول کرنے کا عندیہ ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ جنرل راحیل شریف کا شمار بھی ان جرنیلوں ميں ہوتا ہے جو سعودی عرب کی چاکری میں ہی اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔جنرل راحیل پہلے آدمی نہیں ہیں جنھوں نے سعودی عرب کی غلامی کا پٹہ اپنی کردن میں ڈالا ہے بلکہ یہ پٹا ہم نے کئی جرنیلوں اور سپہ سالاروں کو اپنی گردن میں خوشی سے ڈالتے دیکھا۔

جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کی نوازشات عزیز ہیں اور ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کی فوجی حکمت عملی اور سعودی فوجی الائنس کو دی گئی تربیت سے ہزاروں یمنی شہری ہلاک ہوجائیں گے اور بحرین میں جمہوریت کے قیام کی کوشش کرنے والوں کو بالکل کرش کردیا جائے گا۔اور سعودی عرب کے حمايت یافتہ سلفی دہشت گرد گروپوں کی تربیت اچھے سے ہوسکے گی تاکہ وہ عراق، شام ، لبنان ، مصر ، سمیت پورے مڈل ایسٹ میں اپنی دہشت گردی کا بازار گرم کرسکیں۔کچھ لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں سعودی عرب پوری دنیا سے فوجی افسران کو ریاض میں اکٹھا کررہا ہے تاکہ وہ مڈل ایسٹ ميں اپنے زوال کے آگے بند باندھ سکے اور وہ مڈل ایسٹ کو اپنا غلام اور کالونی بنانے کا ایجنڈا پایہ تکمیل کو پہنچاسکے۔اس مقصد کے لئے ریالوں سے بھری بوریوں کے منہ کھولے جاچکے ہيں۔

پاکستان کی ریاست کے حکمران طبقات اور ان کے مفادات پہ مامور ملٹری اسٹبلشمنٹ نے آل سعودی کی وہابیت پہ مبنی پوری دنیا کی سعودائزیشن کو اپنے ملک کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پہ دیکھنا تو درکار کبھی چھوٹا موٹا خطرہ بھی خیال نہیں کیا ہے۔اس وقت بھی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا پاکستان میں سب سے عزیز ترین اور قریبی اہم ترین تزویراتی اثاثہ سلفی جہادی گروپ جماعت دعوہ ہے جو کہ لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔ملٹری اسٹبلشمنٹ کے دیوبندی افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک ، جیش محمد ، حزب المجاہدین آف جماعت اسلامی وغیرہ اور لشکر جھنگوی کے کئی ایک گروپس جیسے شفیق مینگل ، جاوید مینگل ، رمضان مینگل وغیرہ کے گروپ (بلوچستان میں اہم ترین پراکسی) کے ساتھ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے یہ تزویراتی اثاثے چین اور روس کو بھی اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لئے کارآمد لگتے ہیں تو ان کے خلاف اقوام متحدہ کے اندر آنے والی کوئی بھی قرارداد چین یا روس ویٹو کردیتے ہیں۔ملٹری اسٹبلشمنٹ کی یہ روش بہت پختہ ہے کہ اس کی قومی سلامتی کی پالیسیوں میں اس کی پراکسیز کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے۔اور ان کو رام کرنے کے لئے سعودی عرب کی حمائت بھی ضروری ہے۔تو اس کے کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ ہوجانے والے فوجی جرنیل کو سعودی عرب کے لئے خدمات سرانجام دینے کے لئے کسی شرم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے سعودی شاہ کی مصاحبی قابل فخر لگتی ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*