قبائلی علاقوں میں شیعہ اکثریت کی آبادیوں کو غیر مسلح کیوں کیا جارہا ہے؟

کیا قبائلی علاقوں میں شیعہ نسل کشی کے زمہ دار تکفیری دیوبندیوں کو غیر مسلح کردیا گیا ہے ؟

کیا تکفیری دیوبندی دہشت گردی کی سب سے بڑی جماعت اہلسنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے ؟

کیا لشکر جھنگوی ، جماعت الاحرار ، حقانی نیٹ ورک (جلال الدین حقانی نیٹ ورک کے سب سے زیادہ مدارس کوہاٹ۔ہنگو کے اردگرد ہیں اور منگل قبائل کے اندر پارہ چنار میں حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کو منتقل کرنے کی خبریں آئی تھیں جب جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا اور جلال الدین حقانی نیٹ ورک شیعہ کے قتل میں ملوث رہا ہے اور پارہ چنار میں شیعہ قبائل کے قتل میں اس نیٹ ورک کے لوگوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے) جماعت الاحرار سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ہوگیا ہے ؟

یہ اور اس سے ملتے چلتے سوالات اس لئے اٹھائے جارہے ہیں کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ایک طرف تو پارہ چنار کرم ایجنسی میں شیعہ قبائل کو غیر مسلح کرنے کی مہم شروع کردی ہے جبکہ دوسری جانب سیکورٹی ایجنسیوں نے کوہاٹ کے شیعہ اکثریت کے علاقہ کئی میں سیلف ڈیفنس کے لئے موجود اسلحے کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔اس واقعے پہ تبصرہ کرتے ہوئے معروف پشتون سکالر ڈاکٹر فرحت تاج نے اپنی فیس بک وال پہ لکھا ہے

Now this is sinister! Taliban have repeatedly attacked Kasai (a Shia part of Kohat district). These weapons protected and repulsed the Taliban terrorists (more specifically, Deobandi terrorists) and saved this area from mass massacre. Now these weapons are being taken over by the security forces without no protection against the similar Taliban attacks in future. Mulla-Militant-Militarty alliance goes no. Shias in Kasai are being left exposed by the state to the existential threats that the Deobandi militants pose them.

ڈاکٹر فرحت عوامی نیشنل پارٹی کی ہمدرد ہیں اور وہ ایک سنّی پشتون سکالر ہیں ، انہوں نے واضح نشاندہی کی ہے جہاں پہ سیکورٹی فورسز نے اسلحہ اپنے قبضے میں لیا ہے وہ جگہ کوہاٹ ضلع کی شیعہ آبادی کی ہے اور اس جگہ پہ دیوبندی طالبان نے کئی مرتبہ حملہ کیا ہے۔ان ہتھیاروں نے شیعہ آبادی کی حفاظت کی اور طالبان کو اور صاف صاف کہا جائے تو دیوبندی دہشت گردوں کو پسپا بھی کیا ہے۔اور اس علاقے میں بڑے پیمانے پہ قتل عام ہونے سے بھی بچایا ہے۔اور اب سیکورٹی فورسز نے مستقبل میں طالبان سے بچاؤ کا کوئی انتطام کئے بغیر اس علاقے کے لوگوں سے اسلحہ واپس لے لیا ہے”۔

ڈاکٹر فرحت تاج اسے ملّا –ملٹری الائنس کے جاری رہنے کی علامت قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کوہاٹ کے شیعہ اکثریتی علاقے کو ریاست نے دیوبندی عسکریت پسندوں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا ہے۔

امریکی ریاست کنساس سے تعلق رکھنے والے جم پیونکا نے اس خبر پہ تبصرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے صاف لگتا ہے کہ ریاست اور پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو خود شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں اور اس کے لئے سازگار حالات پیدا کرتے رہتے ہیں۔

ايگزیگیٹو آفس انجئینرنگ بلڈنگ فاٹا کرم ایجنسی نے ایک ٹینڈر نوٹس اخبارات میں شایع کیا جس کے مطابق کرم ایجنسی پارہ چنار میں مدرسہ حنفیہ واقع تری منگال ،مدرسہ تعلیم القران واقع گوز گڑھی مکبل ایریا کرم ایجنسی کے لئے ایک ، ایک ملین روپے کی گرانٹ جاری کی گئی ہے اور یہ دونوں مدارس شیعہ اکثریت کی آبادیوں میں کرم ایجنسی فاٹا میں قائم کئے گئے ہیں۔اور ان مدارس کا ماضی میں شیعہ آبادی پہ طالبان ، حقانی نیٹ ورک، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ وغیرہ کے حملوں میں اہم کردار رہا ہے۔ڈاکٹر فرحت تاج نے اخبار میں اس اشتہار کے شایع ہونے پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا،

Someone in Kurram shared this official order. It shows that the government of Pakistan is spending Rs 2 millions on building large madrases in the minority Sunni areas (Teri Mangal and Ghoz-garhi- Muqbal area) of the Shia dominated Kurram. These Sunni areas are already stronghold of anti-Shia groups, SSP and LJ and have been involved in sectarian clashes in Kurram in the recent past. These minority Sunni areas are extremely poor and backward.

They need schools, hospitals, roads and water supply schemes, not madrases, which are already in abundance in this area. Why do Pakistan army build madrases here when it know madrases have been involved in sectarians violence in Kurram (FATA remains under the army’s control)? 2ndly, on one hand the army claiming to be running operations against terrorists, and on the other hand it is building more nurseries for grooming of sectarian and extremist mindsets. When will Pakistan army stop its double dealing on JIhadi violence? When will it stop using Pashtun areas as terror sanctuaries.

ڈاکٹر فرحت تاج کہتی ہیں کہ کرم ایجنسی میں سنّی اقلیت پہ مشتمل شیعہ اکثریت کے علاقوں میں سنّی اقلیت کو انتہا پسندی اور دہشت گردی میں ملوث دیوبندی مدارس کو امداد دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہاں کی غریب سنّی آبادی کو جدید تعلیم کے اداروں، ہسپتالوں، سڑکوں ، واٹر سپلائی ک سکیموں کی ضرورت ہے۔اس علاقے میں مدرسے تو پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔پاکستان آرمی ان علاقوں میں ایسے مدارس پہ پیسہ کیوں خرچ کروارہی ہے جو یہاں پہ فرقہ واریپ پھیلانے اور فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔

ڈاکٹر فرحت تاج کہتی ہیں کہ وہ پاکستان آرمی سے یہ سوال اس لئے کررہی ہیں کیونکہ فاٹا پاکستان آرمی کے کنٹرول میں ہے۔ایک طرف تو پاکستانی فوج یہ کہتی ہے کہ وہ فاٹا میں مذہبی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کررہی ہے تو دوسری طرف وہ ان دہشت گردوں کو پالنے والی نرسریوں کی گرومنگ اور نشوونما کرنے میں کیوں لگی ہوئی ہے ۔ڈاکٹر فرت تاج کہتی ہیں کہ پاکستان کی فوج کب جہادی دہشت بارے اپنے دوھرے معیار سے باز آئے گی؟اور کب یہ پشتون علاقوں کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے طور پہ استعمال کرنا بند کرے گی ؟

کرم ایجنسی کے لوگوں کو اسلحہ حکومت کے حوالے کردینے کی فوجی پالیسی اس لئے بھی زیادہ تشویش ناک ہے کہ 2007ء سے 2011ء تک کرم ایجنسی کا بدبرین محاصرہ تکفیری دیوبندی دہشت گردوں نے کئے رکھا اور بدترین حملے اس ایجنسی پہ کئے گئے اور کرم ایجنسی سے زخمیوں کو لیکر جانے والی ایمبولینس تک کو نہ بخشا گیا اور ان پہ بھی حملے کرکے لوگ ذبح کئے جاتے رہے۔

کرم ایجنسی کے لوگ پشاور آنے کے لئے ، دورا ، غذائی ایشیا کی خریداری کے لئے پہلے افغانستان جلال آباد سے کابل اور کابل سے پشاور آیا کرتے تھے۔یہ سب اس زمانے میں طالبان کے حملوں اور ان حملوں کی پشت پناہی ریاست کے اندر بیٹھی تکفیری لابی کے سبب ہوا تھا۔قبائلی علاقوں میں شیعہ اکثریت کے علاقوں میں ہتھیار حکومتی قبضے میں لئے جانے کا عمل ان علاقوں میں شیعہ نسل کشی کی ایک اور لہر کے پیدا کرنے کی طرف سفر لگتا ہے اور اس پہ بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. Syed rizvi
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*