ترکی کا وزیر توانائی اور ٹرکش صدر طیب رجب اردوگان کا داماد داعش کے ساتھ تیل کی تجارت میں ملوث نکلا۔وکی لیکس کا انکشاف

15319168_10211650727572102_2984816131423970062_n

سوموار کے دن ویکی لیکس نے ترکی کے وزیر توانائی اور صدر ترکی طیب رجب اردوگان کی 58 ہزار ای میلز آن لائن کردیں۔ان ای میلز میں ایسے شواہد وافر تعداد میں موجود ہیں جو ٹرکش وزیر توانائی بیرات البائراک کا تعلق داعش سے تیل کی خرید و فروخت میں ملوث بدنام زمانہ تیل کمپنی پاور ٹرانس سے ظاہر کرتے ہیں۔

نومبر 2011ء سے اگرچہ داعش کے زیر قبضہ تیل کے کنوؤں سے تیل کی خرید و فروخت اور اس کی ترسیل زمینی و ریل کے راستوں سے ممنوع تھی لیکن ان ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ پاور ٹرانس کو داعش سے تیل خریدنے کے لئے ان راستوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ان ای میلز سے صاف پتا چلتا ہے کہ ترکی کے وزیر توانائی اور طیب رجب اردوگان کے داماد نہ صرف پاور ٹرانس کمپنی کے ملازمین کی تنخواہوں کی نگرانی پہ مامور تھے بلکہ وہ اس کے لئے سٹاف کی منظوری بھی دیتے تھے۔یاد رہے کہ ان ای میلز کے منظر عام پہ آنے سے پہلے بیرات البائراک نے پاور ٹرانس سے اور داعش سے تیل کی غیرقانونی تجارت سے یکسر لاتعلق ہونے کا بیان عالمی میڈیا کے سامنے جاری کیا تھا۔


Source of News : http://wikileaksdecrypted.com/berat-wikileaks-turkey…/

گزشتہ سال ٹرکش مصنف اور ری پبلکن پیپلزپارٹی کے رکن ایرن اردم پہ ملک سے غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ان کو گرفتار کرلیا گیا۔ان پہ غداری کا مقدمہ اس وجہ سے قائم کیا گیا کہ انہوں نے حکومت کی کئی ایسی خفیہ دستاويزات افشا کردی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ ٹرکش حکومت داعش کے ممبران کی نقل و حرکت کی نگرانی کررہی تھی اور اسے داعش کی ترک سے شام سرحد آر پار سرگرمیوں بارے علم تھا لیکن کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

پھر ایرن اردم نے ٹرکش پارلیمنٹ کی جانب سے 13 ایسے اراکین پارلیمنٹ کے خلاف شروع کی گئی کاروائی کا انکشاف بھی کیا جو کہ داعش سے تعلقات رکھے ہوئے تھے اور اردم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شام سے گیس پہلے ترکی سمگل کی گئی اور پھر اسی گیس سے شام پہ حملہ کیا گیا تاکہ بشار الاسد پہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا جاسکے۔

اردم نے یہ سب انکشاف روسی ٹیلی ویژن رشیا ٹوڈے پہ کئے۔اور اس بارے طیب رجب اردگان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی پارٹی اور ان کی حکومت کے خلاف روسی حکومت کی پروپیگنڈا وار کا حصّہ ہے۔لیکن وکی لیکس کی جانب سے ٹرکش وزیر توانائی کی 18 ہزار میلز کے لیک ہوجانے کے بعد اس بات کا قابل یقین ثبوت مل گیا ہے کہ ٹرکش صدر رجب طیب اردوگان کا خاندان داعش سے سستے تیل کی خرید کرکے منافع کمانے میں ملوث ہے۔البائراک کی ان ای میلز نے امریکی سیکرٹری برائے دہشت گردی و فنانشل انٹیلی جنس کے دعوے کو مضبوط کردیا ہے جو انہوں نے اکتوبر 2014ء میں کیا تھا۔ڈیوڈ ایس کوہن اس وقت سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں-ان کا کہنا تھا:


ہماری معلومات کے مطابق ،گزشتہ مہینے میں داعش نے انتہائی کم قیمت پہ ترکی سے تعلق رکھنے والے چند مڈل مین سمیت کئی ایک کو تیل کی فروخت کی ہے-یہ تیل ترکی کے مڈل مینوں نے ٹرانسپورٹ کیا اور پھر اسے دوبارہ فروخت کردیا۔یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ داعش کے علاقوں سے نکلنے والا تیل عراق میں کردوں کو بھی بیچا گیا ہے اور پھر اسے دوبارہ ترکی میں فروخت کیا گیا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*