تکفیری دیوبندی الیاس گھمن سے متعلق مفتی ریحان کے دل دہلا دینے والے انکشاف

23 33

25 14445966_1196016643788947_8329076914116465595_n

پہلی بار جب میں سرگودھا میں اس کے گھر پہنچی تب مجھ پر آئستہ آئستہ اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اسرار کھلنے لگے ، اس نے کہا تم بیٹھو مین تمہارے لئے چائے بنوا کر لاتا ہوں ، میں بیٹھی رہی، جب کافی وقت گذرگیا تو میں اٹھی اورکچن چلی گئی ، تنگ اور چھوٹا سا کچن تھا مولوی صیب بیج میں کھڑے ہیں اس کے مدرسے کی ایک جوان طالبہ ایک سائیڈ پر برتن دھورہی ہے دوسری چائے بنا رہی ہے اور تیسری سبزی کاٹ رہی ہے ، مولانا کبھی ایک سے مذاق کرتے ہیں کبھی دوسری کی چٹکی بھرتے ہیں ، میں نے گلا کھنکارا اور واپس کمرے کی طرف مڑی ، یہ میرے پیچھے چلے آئے میں نے کہا کیا آپ کو خدا کا خوف نہیں کیا مدرسے میں لوگوں نے جوان بچیاں اس لئے بیجھی ہیں کہ تم ان سے اپنے گھر کا کام لو اور پھر خود ان کے ساتھ گپ شپ لگائو کیا تمہارہے لئے شریعت نے نیا قانون نکالا ہے کیا تم پر ان سے پردہ کرنا واجب نہیں –

وہ بے شرمی سے ہنسنے لگا نہیں نہیں ، میں تو ان کے باپ کی طرح ہوں ۔۔۔مدرسے مین کیا کچھ ہوتا رہا ، اگر دنیا کو پتہ چلے واللہ لوگ جاکر اس کا گھر اور مدرسہ دونوں جلادیں ، رات کو اس کی بیوی اٹھتی تھی کسی بھی لڑکی کو آواز دیتی ، دو تین گھنٹے یہ اسے اپنے خواب گاہ میں لے جاتا اور پھر اس کی بیوی اسے واپس مدرسہ میں چھوڑ آتی، لڑکیوں کو یہ مسئلے بیان کرتا استاد کی عظمت اور اس کی بات ماننے کے فضائل سناتا یوں انہیں اپنے شیشے میں اتارتا اور اپنے ہوس کا نشانہ بناتا، کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی دامن عصمت اس کے ہاتھوں تار تار ہوئی۔ شریعت وہ مانتا کب تھا ، پہلی بیوی شریف عورت ہے اس نے مجھے بتایا جب اس نے یہ دوسری شادی کی جو اس کی دلالی کرتی ہے ،اور اسے مدرسہ کی ناظمہ اور معلمہ بنایا ہوا ہے مجھے اور اسے دو سال تک ایک ہی کمرے میں ایک ہی بیڈ پر سلاتا رہا آخر مجھ سے برداشت نہ ہو اور کسی بھی طریقے سے اپنا گھر الگ کرلیا –

مدرسے اور گھر کے صحن میں دروازہ تھا ، دو مدرسے تھے ایک لڑکوں کا ایک لڑکیوں کا ، کئی لڑکیوں سے میری بے تکلفی ہوگئی انہوں نے وہ وہ ہوشربا انکشافات کیئے یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، ایک میری اچھی دوست بن گئی اس نے بتایا جب بھی مولوی صاحب گھر ہوتے ہین اس کی بیوی ان کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی لڑکی مدرسے سے گھر بھیج دیتی ہے ، ایک رات ایک لڑکی کو لے گئے جب وہ واپس آئی رو رہی تھی ، گم صم ہوگئی ، چند روز بعد مولوی صاحب کی بیوی بیمار تھی نہیں آسکتی تھی مولوی صاحب خود اچانک اندر آگئے ادھر ادھر دیکھا اس وقت مدرسے میں بیس کے قریب لڑکیاں موجود تھیں ۔

اس نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، وہ چیخنے لگی اور ہم سب ایک دوسرے کےساتھ چپک کر بیٹھ گئی ، اگلی صبح جیسے ہی فجر کی آذان ہوئی اس لڑکی نے برقعہ پہنا اور نہ جانے کہاں غائب ہوگئی اس کے بعد اس کا کچھ پتہ نہیں چلا،لڑکیوں کے مدرسے کا نام اصلاح النسا رکھا تھا مگر یہاں لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی جاتی ہیں ۔

مردان کا نوجوان یہاں کام کرتا تھا نئی نئی شادی کی تھی اور اپنی بیوی کو اس مدرسہ میں داخل کروایا تھا ، ان دنوں ہوا یہ کہ مولوی صاحب کا چھوٹا بیٹا انتقال کرگیا ہم سب سرگودھا گئے ، بیٹے کا جنازہ گھر میں رکھا ہوا تھا اگلی صبح تدفین تھی ،سب اس گھر میں تھے وہ گھر خالی تھا مولوی صاحب دوسرے گھر گئے ،،اپنی بیوی سے کہا وہ مردان والی لڑکی بلالو ، وہ لڑکی گئی اس نے بعد میں مجھے قصہ بتایا ، کہ جب میں اندر گئی، چارپائی پر بیٹھ گئی مولوی صاحب غسل خانہ کے اندر تھے وہیں سے اپنی بیوی کو آواز دی تم جائو دروازہ بند کردو۔ میرا دل گھبرانے لگا

مولوی صاحب غسل خانہ سے باہر آئے جیب سے پانچ سو روپے نکال کر مجھے دیئے کہ یہ رکھ لو ، میں نے کہا نہیں مجھے نہیں ہے ضرورت ، میں نے برقعہ پہنا ہوا تھا مولوی صاحب پیچھے سے آئے اچانک مجھے پکڑا اور میرا نقاب اتار دیا کہنے لگے اپنے پیر اور استاد سے کیا پردہ ، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا میں نے کا بابا جی آپ کیا کررہے ہیں ایسا نہ کریں خدا کیلئے ، کہنے لگے فکر نہ کرو بس تھوڑا اداس ہوں تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو میرے ساتھ تھوڑا سا ٹائم گذاروگی میری اداسی ختم ہوجائے گی ، میں اس کا ارادہ سمجھ گئی ، میں نے کہا نہیں آپ مجھے جانے دیں اگر آپ مجھے جانے نہیں دیں گے میں یہ ساری بات کل اپنے خاوند کو بتائوں گی لیکن اگر تم مجھے کچھ نہیں کہو گے تو میں کسی کو بھی نہیں بتائوں گی اور تم میرے ساتھ زبردستی کروگے تو میں ابھی چیخنا شروع کردوں گی ۔

وہ تھوڑا سا گھبرایا، اپنی بیوی کو آواز دی کہ اسے لے جائو، میں مدرسہ پہنچی میرے پاس موبائل تھا میں نے خاوند کو فون کیا اس نے کہا کیا ہوا اس ٹائم کیوں فون کررہی ہے میں نے کہا ابھی آجائو مجھے اس جہنم سے نکالو ۔ وہ آیا مجھے لے گیا یہ واقعہ اس نے بعد میں فون پر مجھے بتایا ، سوچئے درندگی کی انتہا نہیں کہ بیٹے کی لاش گھر میں بڑی ہے اور مولوی صاحب عیاشی اور خباثت کے چکروں میں پڑے ہیں۔۔۔قسم باللہ کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا مگر جو میں نے دیکھا وہی بیان کیا

بعد میں مولوی صاحب اس آدمی کے گائوں گئے اس کے پیروں پر اپنی پگڑھی رکھ کر معافی مانگی کہ تم یہ بات نہیں بھیلائو ورنہ مسلک بدنام ہوجائے گا مماتیوں کو ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا موقع مل جائے گا ، غلطی ہر ایک سے ہوسکتی ہے تو مجھ سے بھی غلطی ہوگئی اور میں شیطان کے بہکاوے میں آگیا ، اصل میں اس لڑکے نے اسے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ، یہ خوف مولوی صاحب کو معافی مانگنے پر مجبور کرگیا ۔میں نے سارے حالات کی خبر وفاق المدارس کے ناظم جالندھری صاحب کو دی تو انہوں نے کہا تم فکر نہ کرو ہم دو طالبات اپنے اس کے مدرسے میں بطور جاسوس داخل کریں گے وہ ہمیں سارے حالات کی خبر دیں گی تب ہم ان کے خلاف کوئی کاروائی کریں گے…اللہ کو علم ہے انہوں نے اس بارے میں کچھ کیا یا نہیں.

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*