پیارے خرم زکی کے نام – عامر حسینی

d7de3400-14eb-11e6-85b5-8211428af2f6-6

آج جب تمہیں سب منوں مٹی تلے دفن کرکے لوگ پلٹ آئے تو میں نے باطن کی آنکھ کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ تمہارے سفید براق کفن کو سینے کی جگہ سے کھولا گیا اور ایک کے بعد ایک آتا ہے اور اسے بوسے دئے جاتا ہے اور تمہارے ہونٹ میں نے ہلتے دیکھے تو آگے بڑھا اور کان لگاکر سنا تو تمہارے منہ سے سرگوشیاں سنی میں نے کہ تم درود و سلامتی پڑھتے جاتے تھے ، ابھی اس منظر سے دل نہیں بھرا تھا کہ کہیں سے انتہائی درد بھری آواز ابھری


رک زرا دلہا تجھے سہرے سجاکر چوم لوں


مری چشم باطن عالم مثال کا نظارہ کررہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم آگے بڑھے اور مرحبا کہہ کر تمہیں گلے سے لگایا اور کہنے لگے


مرے ذکی بیٹے تمہاری قربانی کو قبول کرلیا گیا ہے


میں نے تمہیں یہ بھی بتانا ہے کہ تمہارے یہاں آنے کے بعد وہاں ایک طرف تو خلق خدا کی زبان نقارہ خداوندی بن گئی ہے اور ظالموں کو بھی تمہارے قتل ناحق کا جواز پیش کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے تو دوسری طرف معذرت خواہوں کی فوج تمہارے ‘لہو’ پہ اپنی بساط سجانے کی فکر میں ہے ، دیکھو تمہارے چہرے پہ پھیلی نور کی روشنی مجھے بتارہی ہے کہ میثم تمار بھی تشریف لے آئے ہیں اور تمہارے ماتھے کو چوم رہے ہیں اور ‘لاتحزن ‘ کہہ کر تمہیں مژدہ فاز فوزا عظیما سناتے ہیں اور یہ دیکھو حجر بن عدی اپنے ساتھیوں کے جلو میں آرہے ہیں اور ‘ اہلھا و سہلا مرحبا ‘ کی صدائیں ہیں جو بلند ہورہی ہیں


آج عالم امثال میں جہاں دیکھتا ہوں روشنی ہی روشنی ہے اور تمہارے استقبال میں وہاں حیات برزخی سے سرفراز کی گئی تمام روحیں حاضر ہیں اور خدائی تو تم پہ ناز کررہی ہے یہ خود خدا کی زات ہے جو تم پہ ناز کررہی ہے ، یہاں اس مادی دنیا میں بھی بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیا ہیں جو تمہیں اپنا ماڈل قرار دے رہی ہے اور تمہاری فکر تمہارے لہو کی روشنی سے اور آب و تاب دینے لگی ہے ، زرا اک نظر عالم مثال سے نیچے ڈالو اور دیکھو کہ ہر کوئی تمہارے نام کا علم اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کو بے قرار ہے

Comments

comments

Latest Comments
  1. Yassir Ehsaan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*