Extremist Deobandis (Taliban) massacre 45 Salarzai Pushtuns in Bajaur

Related articles:

SOS: Who will save the anti-Taliban Salarzai tribes from the wrath of the ISI and the Taliban?

Attacking the jirgas is a sign of weakness in the Taliban

At least 45 people have been killed and nearly 100 injured after a suicide bomber attacked a large crowd of people in Pakistan’s north western Bajaur tribal region on Saturday.

The blast took place at a World Food Programme (WFP) distribution centre in the town of Khar, headquarters of Bajaur Agency, close to the Afghan border – a Taliban and al Qaeda stronghold.

Most of the victims are believed to be civilians who had fled the fighting between Taliban militants and the Pakistani army. Around 1,000 people displaced by military operations had been receiving food at a distribution centre when the attacker struck, said a local government official.

Officials and eyewitnesses feared that the death toll could rise. Most of the injured were shifted to Peshawar in helicopters.


The bomber, wearing a head-to-toe burqa, blew herself up in the midst of hundreds of people from the Salarzai tribe gathered to get food rations being distributed to people forced from their homes by the earlier fighting.


A witness named Wasi Ullah said a burqa-clad female aged 22 or 23 years first hurled hand grenades when stopped by security guards at the gate, where she detonated her explosives.

‘Her body parts including hands and feet were seen lying near the gate,’ he said.

It was only the third known suicide attack in Pakistan by a woman.

Thousands of families displaced by fighting between the military and Taliban fighters rely heavily on food provided by the government and the UN World Food Program.

Taliban took the responsibility for the attack in a message send to various news organizations. Their spokesperson (Azam Tariq, named after the slain extremist Deobandi terrorist of Sipah-e-Sahaba) contacted the media to take the responsibility.


پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک خود کُش دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ خود کش دھماکہ سنیچر کی صُبح ایجنسی کے صدر مقام خار میں متاثرین میں راشن کی تقسیم کے دوران ہوا ۔لاشوں او زخمیوں کو سول سپتال خار منتقل کیا جا رہا ہے۔

باجوڑ کے اردگرد کے علاقے جو افغان سرحد کے ساتھ واقع ہیں القاعدہ اور طالبان کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ زمانے میں یہاں کئی حملے ہوئے ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی سی کو ٹیلی فون پر بتایا یہ قبیلہ حکومت کا حامی تھا اور یہ طالبان کے خلاف لشکر بنایا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ بھی اس طرح کے حکومت حمایتی لشکروں پر حملے کیے جائیں گے۔

سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے راشن کے مختلف دن مقرر کیے گئے ہیں اور سنیچر کا دن سلارزئی قبیلے کے لیے ہے۔

اہلکار کے مطابق جس جگہ دھماکہ ہوا وہ پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر سے تین سے چار سو گز کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں سول کالونی کے گیٹ کے پاس تلاشی کے لیے ایک چیک پوائنٹ بنایا گیا تھا جہاں خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ اور کی لاش ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہے جس کے ٹکڑے مقامی انتظامیہ کے اہل کاروں نے اکھٹے کیے ہیں۔

یادرہے کہ جس قبیلے پر خودکش حملہ ہوا ہے یہ قبیلہ سلارزئی ہے جس نے کئی بار شدت پسند کے خلاف لشکر بنا کر مقابلہ کیا ہے۔

Source: BBC Urdu



Latest Comments
  1. Abdul Nishapuri