دھرنے والوں کے نام – عمار کاظمی

cf2a003a-bf87-4925-b350-b075ba90327b

میٹرک میں تھا تو ہمارے ایک کلاس فیلو کے بھائی اور بہنائی نے تین قتل کر دیے ، جب دونوں فرار ہو کر اشتہاری قرار پائے تو پولیس نے ایک ایک کر کے گھر والوں کو اٹھا کر لاہور کے تشدد کے حوالے سے بدنام زمانہ تھانہ چونا منڈی منتقل کرنا شروع کر دیا۔ جب ہمارے کلاس فیلو کی باری آئی تو اسے حوالات میں پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی ایک مجرم نے یہ مشورہ دے ڈالا کہ جیسے ہی تم تھانے مین پہنچو اور کسی ایس ایچ او انسپکٹر یا ڈی ایس پی کو دیکھو تو اسے ماں بہن کی گندی گالیاں نکالنا شروع کر دینا، تم شدید تشدد سے بچ جاو گے ۔
لہذا اس نے ایسا ہی کیا اور وہ بدنام زمانہ تھانے کے بد ترین پولیس تشدد سے محفوظ رہا۔ کلاس فیلو کے بیانیے میں کتنی سچائی تھی یہ میں نہیں جانتا، مگر دھرنے والوں کی گالیوں سے تو کچھ ایسا ہی محسوس ہوا۔ گالیاں صرف تین طرح کے لوگ دیتے ہیں، ایک وہ جو بے حد مجبور ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو کمزور ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جو کسی بھی دلیل سے عاری ہوتے ہیں۔ گالی میلہ والے ان میں سے کونسے تھے ؟ اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
بہر حال بلآخر دوسرا آل پاکستان پیرانِ طریقت دھرنہٙ گالی میلہ ہجوم کی گالیوں کی گونج میں زبانی یقین دھانیوں تک میں ممتاز قادری کا نام شامل کروائے بغیر اختتام پزیر ہو گیا۔بریلوی نہیں ہوں، شیعہ کتنا ہوں اس کے لیے میری تحریروں کا مطالعہ ضروری ہے ، مختصراً فقط اتنا بتا سکتا ہوں کہ شعیوں اکثریت مجھے شیعہ ماننے کو بھی تیار نہیں ہوتی اور کچھ تو غلطی سے ملحد بھی سمجھ بیٹھتے ہیں، باقی دیوبند، وہابی سب دوست ہیں تعصب کسی سے نہیں، مگر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ 69 سال سے اکثریت کے باوجود الگ تھلگ رہنے والوں کو بدمعاشی کی جاگ محض ممتاز قادری کے فیصلے سے نہیں لگی، اس میں دیوبندی خود کْش حملہ آوروں کا کردار بھی بڑا بنیادی ترین رہا کہ جنھوں نے نہ صرف ان کے درباروں پر حملے کیے بلکہ انھیں یہ بھی بتایا کہ اگر اقلیت بدمعاشی سے معاشرے اور ریاست کو یرغمال بنا سکتی ہے تو پھر اکثریت بھی ایسا کر سکتی ہے ۔
میری انہی باتوں پر کل ایک دوست نے سوال کیا کہ “کیا مطلب ہے شاہ جی تو اسکا بدلہ عام لوگوں کی املاک جلا کر اور گالیاں نکال کر لیا جائے گا؟” تو میرا جواب ہے کہ نہیں بھائی اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ درست ہے ، مگر ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم ایک ایسے جاہل معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پڑھے لکھے لوگ بھی عام شہریوں اور اقلیتوں پر خود کش حملوں کو امریکہ کے ڈرون حملوں کا ردعمل بتایا جاتا ہے ۔
ایک اور دیوبند دوست نے کہا کہ ہمیں فرقوں کا نام لیے بغیر مسلے کی بنیاد اور بنیادی نقاط پر غور چاہیے ۔ تو بھائی بنیاد اگر چودہ سو سال پرانی نکل آئی تو آپ کیا کیجیے گا؟ اور اگر میں کہوں کہ بنیادی نقات بھی اسی تقسیم در تسیم فرقہ واریت میں ملیں گے تو آپ کیا کہیے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ایک طرف انتہا پسندی ہے ûجو مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بلکہ تمام مذاہب میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ú ، سلمان تاثیر کا قتل اور شاید کوئی دس بیس اور ایسی مثالیں ہونگی جن کا مجھے علم نہیں، مگر دوسری طرف خود کْش حملہ آوروں سے لیس دنیا کی خطرناک ترین دہشت گردی ہے جسے کہیں نہ کہیں درست یا غلط سمجھ کی بنیاد پر فکری حمایت بھی ملتی ہے ۔
اب اگر یہ فہم اپنائی جائے کہ بریلوی تواہمات اور جہالت کا شکار ہیں، یعنی اْن کے عقیدے کی بنیاد کو ہی جہالت تعبیر کیا جائے اور نام لے کر بات کی جائے تو پھر اسی ہزار لوگوں کے قتل میں ملوث فکر کے لوگوں کی فکری وابستگی کیوں چھپائی جائے ؟ مکتب دیو بند کے علما اور روشن خیال لوگوں کو کیوں نہ بتایا جائے کہ بھائی بے گنہاہ عام شہریوں، مساجد درباروں امام بارگاہوں، چرچز، احمدی عبادت گاہوں اور ہندو دھرم شالا پر خود کْش حملے کرنے والے آپ کے اچھے بھلے پڑھے لکھے مکتب فکر کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اب اگر اسی ہزار لوگوں کے قتل کے پیچھے چھپے تکفیری جہادی فلسفے ، قتال فی سبیل اللہ اور جنت کی حوروں کے بیانیے سے خود کْش پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل فکر کی نشاندہی فرقہ واریت پھیلانا ہے تو ایک لکھاری اس پر افسردگی اور دکھ کے علاوہ کیا اظہار کر سکتا ہے ؟
جہادی فلسفے ، قتال فی سبیل اللہ اور جنت کی حور کے تصورات سے مبالغہ آرائی ختم کیے بغیر علما ئے دیوبند کی علمیت اور طارق جمیل کا پیغام امن بے سود ہے ۔ دوسری طرف دھرنے والے بریلوی صوفی سنی نفاذ شریعت کا مطالبہ کر رہے تھے اور مجھ جیسے غیر مذہبی لوگ اس پر زیر لب مسکرا رہے تھے کہ انکی شریعت شاید سب سے زیادہ آزاد ہوگی۔ سوشل میڈیا پر دھرنے کے شرکائ کی بہت سی گالیوں سے بھرپور وڈیوز مشہور ہوئیں مگر ان میں سے ایک تو میں نے بھِی بہت انجوائے کی ûمعاف کیجیے گاú جس میں ایک انسو گیس کی شیلنگ سے متاثر کسی چھوٹے شہر کا عام شہری اردو مکس پنجابی میں فرما رہا تھا کہ “ان کی پین کا چھولا” غصے سے زیادہ اس پر ہنسی آ رہی تھی۔
بلکہ سچ پوچھیں تو ہنسی رک ہی نہیں رہی۔ ویسے سنجیدہ بات یہ ہے کہ یہ سب کبھی بھی شاید اسلام آباد کا رْخ نہ کرتے اگر عدلیہ نے اپنی 69 سالہ تاریخ میں دہشت گردوں اور امیروں کے خلاف دو چار مثالی اور بروقت فیصلے بھی دیے ہوتے ۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو شاید انھیں ممتاز قادری کا فیصلہ سمجھنے میں بھی زیادہ مشکل نہ ہوتی۔ مگر دہشت گردوں کا کونسا ایسا ہینڈلر تھا جسے درباروں پر خود کْش حملے کرنے والوں کو پناہ دینے کے نتیجے میں اْلٹا لٹکایا گیا؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی اکثریت نچلے درجے کے متوسظ طبقہ پر مشتمل ہے ، جو سارا دن پیسے اکٹھے کرتے ہے اور شام کو یا جوے میں ہار دیتا ہے یا پھر کسی پیر فقیر کو دے دیتا ہے ۔
یہ وہی طبقہ ہے جو مرغا اپنے بچے کو نہیں پیر کو کھلا دیتا ہے ، اور یہ وہی طبقہ ہے جو سارے سال کی جمع پونجی جشن ولادت مناے میں بھی لٹا دیتا ہے ، جو بیوی بچوں سمیت ہر جمعرات درباروں پر حاضری دیتا ہے ، اور یہ وہی طبقہ ہے جو درباروں پر دھمال ڈالنے میں ہی مست رہتا تھا۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ دوسروں کی نسبت اب بھی بہت کم خطرناک محسوس ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ہم انھیں داعش جیسی وحشی سوچ اور غیر انسانی فکر کے خلاف ڈھال محسوس کرتے تھے مگر انھوں نے بہت مایوس کیا۔ نہیں بھائی آپ نا امید مت ہوں، داعش اور یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، وہہ پیغمبروں کے درباروں کو بھی گولہ بارود بھر کر اڑا دیتے ہیں اور ان کے عقیدے کی بنیاد ہی دربار کے ساتھ جڑی ہے ۔
چار دن کے گالیوں بھرے بیانیے میں حکومت سے لے کر داعش تک سب کو گالی دی گئی مگر داعش کے حامی لال مسجد والوں کو اس پر کوئی ردعمل دینے کی جرات نہیں ہوئی۔ باقی دھرنے والوں سے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ بریلوی و صوفی سنی بھائیو، نہ جوتوں سے ہیلی کاٹر گریں گے نہ گالیوں سے آپ پر خود کش حملے رْکیں گے اور نہ ہی کسی کو قتل کرنے سے اللہ کے حبیب اور رحمت العالمین کی محبت ثابت ہوگی۔ خدارا اپنے افکار اور حکمت عملی پر غور کرو۔ آپ عاشق رسول ہو، پنجتن پاک اور صحابہ کے ماننے والے ہو۔ آپ کے پاس، وارث، بلھے ، فرید اور داتا ہجویری کی وراثت ہے ، آپ اولیا اللہ اور صوفیوں کے ماننے والے ہو، انکی فکر پر غور کرو، انکے پیغام محبت اور انسانیت پر توجہ دو۔
انسانیت کو سمجھِو، دوست اور دشمن کو پہچانو۔ آپ سیکولر ازم کو اسلام دشمنی خیال کرتے ہو تو جاو اور جا کر ایک بار پھر اولیا اللہ کا کلام پڑھو، تاریخ کے پنے الٹو اور جانو کہ امرتسر میں سکھوں کے “دربار صاحب” کی بنیاد کون کس کی فرمائش پر رکھنے لاہور سے امرتسر گیا تھا۔ جانو کہ بلھا شاہ ہندو، مسلم سکھ عیسائی کے بارے میں کیا کہہ گیا۔ اور سب سے بڑھ کر آپ عاشق رسول ہو لہذا جاو اور اجا کر اللہ کے حبیب رحمت العالمین کا پیغام انسانیت سمجھو۔
Source:

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*