مذاکرات کیجیے، یہی مسئلے کا مناسب حل ہے – امجد عباس

12512770_1265427066820794_580024495594175887_n

پارلیمان کے باہر جمع ہونے والے افراد سے حکومت کو جلد از جلد مذاکرات کرنے چاہئیں۔

اگر ریاست مخالف، لاکھوں انسانوں کے قاتل پاکستانی طالبان سے مذاکرات کیے جاتے رہے ہیں تو اِن چند ہزار نہتے لوگوں سے بات چیت کرنے میں کیا حرج ہے!

یہ سادہ لوح لوگ ہیں، ان کے لہجے تلخ ہیں، یہ گالی گلوچ ہی کر رہے ہیں لیکن قتل و غارت گری تو نہیں کر رہے نا ہی انھوں نے جی-ایچ-کیو، مہران بیس، آرمی سکول و دیگر مقامات کو نشانہ بنایا، نہ ایسی سرگرمیوں میں یہ لوگ ملوث ہیں۔

عاجز انسان زبردست کو گالی ہی دیتا ہے، یہی کام یہ بھی کر رہے ہیں۔
پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت ہے، حکمرانوں کو اِسی عوام نے منتخب کیا ہے، حکومت اپنی عوام کو جواب دہ ہے، وزیراعظم کوئی شہنشاہ نہیں ہیں کہ مظاہرین کو دھمکیاں دیں، زبردستی تشدد سے دوڑا دیں۔

میں سمجھ سکتا ہوں کہ کل تک پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا راگ الاپنے والے دانشور آج حکومت کو “سخت ایکشن” کی تجویز کیوں دے رہے ہیں، یہ مسلکی اپروچ ہے۔

ڈی چوک میں اگر ایک پاکستانی شہری بھی عوامی منتخب نمائندوں سے جواب طلبی کر سکتا ہے، یہ تو ہزاروں لوگ ہیں، یہ مسلح نہیں ہیں، انہوں نے کبھی داعش کو پاکستان آنے کی دعوت نہیں دی، اِن کا خودکُش دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِنہوں نے فوجیوں کو کبھی ذبح نہیں کیا نا ہی جیلیں توڑیں۔

حکمرانوں کو آمرانہ انداز ترک کرنا ہوں گے، ماڈل ٹاؤن میں طاقت کے اندھے استعمال کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی از خود کوئی اقدام کرنے سے گریزاں ہیں۔ پولیس ابھی تک انتظامیہ کو مذاکرات کا مشورہ ہی دے رہی ہے۔

اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال کبھی سود مند نہیں ہوسکتا، میاں صاحب کاش آپ ایسی دھمکی انڈیا کو دیتے لیکن۔۔۔

بہرکیف حکومت کو مظاہرین سے مذاکرات ہی کرنے چاہئیں۔

Source:

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*