تبلیغی جماعت اتنی بھی معصوم نہیں ۔ ممتاز حافظ

12645126_10153885678674561_3671390371358652600_n

 

یہ بات تو درست ہے کہ تبلیغی جماعت پرامن جماعت ہے۔یہ کوئی دہشت گرد جماعت نہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دیوبندی فرقے کی جماعت ہے۔جو کہ دیوبندی مساجد میں ہی قیام کرتی ہے۔اس کے مداس میں بھی دیوبندی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ان کے سالانہ اجتماع میں بھی دیوبندی مولوی ہی تقاریر کرتے ہیں۔اس لئے یہ ایک خالص فرقے کی جماعت ہے۔

یہ اسے رسولوں والا کام کہتے ہیں لیکن میرے علم میں ایسا کوئی رسول نہیں ہے جو دیوبندی ہو۔دیوبندی فرقہ بھی جاہل معاشرے ہندوستان میں پیدا ہوا۔جس میں وہی عورتوں کو پسماندہ رکھنے کے طریقے موجود ہیں چہرے کے پردے کولازم کہنا موسیقی کو حرام کہنا تقلید کو واجب کہنا دیوبندی فرقے کی جہالت اور بدعات ہیں۔تبلیغی جماعت اسی جہالت و بدعات کو اسلام کے نام پر پیش کرتی ہے۔یہ دیوبندی مدارس کو طلبہ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس کے بقول ہر سال لاکھوں لوگ ان کی وجہ سے متقی پرہیزگار بنتے ہیں۔بچپن سے یہی سنتے آرہے ہیں۔اب تک تو پورا پاکستان متقی بن چکا ہوتا۔لیکن دیکھیں تو ملک میں جرائم بدعنوانی بڑہتی ہی گئی۔مطلب جب سے مدارس اور تبلیغ والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے معاشرے میں جرائم اور بدعنوانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کیونکہ انہوں نے انبیاء کا طریقے کو چھوڑ کر بدعات فرقے کی مشہوری کو تبلیغ کا نام دے دیا۔انبیاء کا طریقہ دیکھنا ہوتو قرآن میں دیکھیں شعیب ع دکانداروں کے پاس جا کر تبلیغ کرتے تھے کہ کم مت تولاکرو۔یہ اصل تبلیغ ہے جو کہ مشکل کام ہے۔جب کہ جعلی تبلیغ کے مطابق لوگوں کو چھوٹے فضائل سنا کر فرقے کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے۔جس کہ وجہ سے ان کے کام سے برکت اور خیر ختم ہو چکی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض دہشت گردوں نے رائیونڈ میں وقت گزارا۔مجھے ایک نوجوان نے بتایا کہ اس کے سامنے ایک پٹھان تبلیغی نے چرس یا ہیروئن کا ایک کلو کا پیکٹ نکالا۔اور کہا کہ اسے بیچ کر وہ سال کے لیے تبلیغ پر جائے گا۔مطلب بعض لوگ تبلیغ کی آڑ میں منشیات کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔

اس کے قانون نافذ کرنے والے اگر کچھ مقامات پر تبلیغی جماعت پر پابندی لگاتے ہیں تو یہ اچھا قدم ہے۔یہ ایک فرقہ پرست جعلی تبلیغی جماعت پر پابندی ہے۔اصل اسلام اور تبلیغ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔یہ جعلی تبلیغ والے قرآن تک ترجمے سے نہیں پڑہتے مگرچلے ہیں انبیاء کا کام کرنے۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. Khanfaraz
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*