داعش کے حق میں اوریا مقبول خراسانی کی انوکھی منطق – خرم زکی

 

11140114_10153869220814561_7219268362630142141_n

لیں جناب را، موساد اور سی آئی اے کے ایک اور ایجنٹ تکفیری دیوبندی اوریا مقبول خراسانی کی گفتگوسنیں. یہ تکفیری دیوبندی نہ صرف طالبان کی حمایت کرتا ہے بلکہ عالمی تکفیری دیوبندی وہابی دہشتگرد گروہ داعش کے نظریات کی بھی حمایت کرتا ہے صرف عمل کوغلط کہتا ہے. یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد پاکستان کو شام اور عراق بنانے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان سو رہا ہے. اب اوریا مقبول خراسانی کے بیان کی ذمہ داری بھی افغان حکومت کی ہے کیا ؟

اوریا مقبول خراسانی کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے نظریے کے حق میں ہیں لیکن عمل کے خلاف ہیں – یہ اپنی جگہ ایک انوکھی منطق ہے – کیا عمل اور طریقے کی بنیاد نظریات نہیں ہوتے؟ جو نظریہ غلط عمل اختیار کرنے کا راستہ فراہم کرے، وہ نظریہ بذاتِ خود باطل ہے۔ داعش کے ہر عمل کی بنیاد اُسکا نظریہ ہےاور اُسکے نظریئے کی بنیاد وہ فتوے ہیں جو اِس کی سفاکی کو اسلام کا غلاف پہناتے ہیں۔ کیا عورتوں کو سر بازار فروخت کرنا، اہلیبیت، صحابہ اور اولیاء کی قبریں مسمار کرنا، ابنِ تیمیہ کا فتوی سُنا کر اُردنی پائلٹ کو زندہ جلانا، تکریت میں ڈیڑھ ہزار کیڈٹس کا قتل عام، سُنی عالم کا سر قلم کرنا، خانہ کعبہ مسمار کرنے کی دھمکی دینا، سعودی مفتی کے فتوے کے مطابق جہاد النکاح کے نام پر عورتوں کی آبرو ریزی کرنا، اور ہزاروں عراقیوں کو بیدردی سے قتل کر دینا کسی نظریہ کی بنیاد پر نہیں ہے؟

اگر داعش کا قیام عراق میں سنیوں کے قتل عام کا نتیجہ ہوتا تو عراق کے اہلسنت علماء داعش کے خلاف فتوے کبھی نہ دیتے ۔ اپنے عقیدے سے اختلاف رکھنے والے کو قتل کردو، یہی داعش کا نظریہ ہے اور اِسی کو تکفیریت کہا جاتا ہے۔ البتہ اوریا مقبول اِسے خلافت کی جد و جہد کہتا ہے اور ہم خلیفہ گیری۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ اوریا مقبول تکفیریوں کا وکیل ہے، چاہے وہ داعش کے سلفی تکفیری ہوں اور یا طالبان کے دیوبندی تکفیری۔

Comments

comments