افغان جہاد اور ضیا الحق کی زیر سرپرستی منشیات کی تجارت پر خلیل مسعود کے چشم کشا انکشافات

22

ضیا الحق کو دعا دیں کہ اس نے جن کو مجاہد بنایا آج وہ دہشتگرد ہیں ، جہاد کے نام پر اسلحہ جنرل حمید گل مرحوم کی موجودگی میں خریدا گیا ۔

مجاہدین کو ہیروئین کی سمگلنگ کے اختیارات بھی دے دئیے گئے ، سی ایم سیکرٹیریٹ میں نئیر حیسن نامی ایک بنیک مینجر ذاتی طور پر ہیروئین کی سمگلنگ میں ملوث تھا

افغانستان کی جنگ کے خاتمے کے بعد سی ون تھرٹی میں بھرے ہوئے کیش امریکی ڈالرز کہاں کہاں تقسیم ہوئے ۔؟

کوئٹہ سے افغانستان مجاہدین کے لئے اسلحہ باقاعدہ ایک مربوط منصوبہ بندی سے پہنچایا جاتا تھا

زیر نظر ویڈیو میں ان تمام سوالوں کے جواب نہایت تفصیل کے ساتھ دیے ہیں –

محترم خلیل مسعود نے افغان ” جہاد ” اور اس میں استعمال ہونے والے اسلحہ سے متعلق جو انکشافات کیے ہیں وہ پاکستانی قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں – منشیات کی فروخت سے اسلحہ خریدنے کے سلسلے کو ضیا الحق اور حمید گل کی سرپرستی حاصل تھی – منشیات فروشی سے اسلحہ خریدنے کی ریت طالبان اور جہادی گروہوں میں ابھی تک موجود ہے –

خلیل مسعود کے مطابق منشیات کے اس دھندے میں ضیا الحق کے دفتر میں موجود ایک بینکر نیّر حسنین براہ راست ملوث تھا – چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا دفتر منشیات کی خریدوفروخت کا گڑھ تھا – خلیل مسعود نے اس بات سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح روس کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجے جانے والے اسلحہ کو نا صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی پھیلایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*