جمہوریت بہترین انتقام ہے یا تجارت؟ – عمار کاظمی

255815-NawazZardariImran-1400563261-766-640x480

بچپن میں چار لکھنا نہیں آتا تھا مگر ڈرائینگ اچھی تھی تو امی نے کرسی الٹی بنوا کر ۴ لکھنا سکھایا۔ جس ماں نے بولنا لکھنا سکھایا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ والدہ طویل علالت کے بعد انیس نومبر دو ہزار پندرہ کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ ان کے ووٹ کی آخری پرچی بلدیاتی انتخاب سے پہلے جوہر ٹاون لاہور میں میرے گھر پر موصول ہوئی۔ جبکہ ان کے شناختی کارڈ پر عارضی پتہ کراچی اور مستقل چونیاں کا لکھا ہوا تھا اور اُس کی معیاد دو ہزار چار میں ختم ہو چکی تھی۔ نہیں جانتا کہ یہ تحفہ نادرا کی طرف سے تھا یا الیکشن کمیشن کی طرف سے، بہر حال میرے لیے امی کے ووٹ وہ آخری پرچی تبرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں دنیا سے رخصت ہوئی اور میں آدھا رہ گیا۔ اب باقی زندگی اپنے اس آدھورے پن کے احساس کو ختم کرنے کے لیے اس دھرتی ماں اور اس کے باسیوں کے لیے سچ لکھنے کی کوشش جاری رکھوں گا کہ جس نے مجھے، میری ماں اور ہم سب کو پالا۔ ہمیشہ یاد رہے کہ مٹی اور قومیت سے وفاداری جھوٹ بول کر نہیں ہوتی۔

خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف، پنجاب میں مسلم لیگ نواز، دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی اور اس کے تین بڑے شہری علاقوں میں متحدہ کامیاب رہی۔ گویا سب سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اپنی اپنی جگہ مثالی رہی۔ کچھ تجزیہ نگاروں کی نظر میں ووٹنگ ٹرینڈ دو ہزار تیرہ والا تھا۔ یعنی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات بھی صاف شفاف تھے۔ سردیوں میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ مگر ووٹ پھر بھی ن لیگ کا۔ یا تو میاں صاحبان نے پنجابیوں پر کالا علم کروا رکھا ہے یا پھر ہم خود ہی اندر سے کالے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں پولیس مثالی بن چکی ہے کہ تاریخ کے دو بڑے جیل بریک تحریک انصاف کی حکومت میں ہی ہوئے۔ سندھ کی ہر گوٹھ میں ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ذیلی شاخیں کھل چکی ہیں۔ لاڑکانہ اور گڑھی خدا بخش کی گلیاں پیرس کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ متحدہ پر رینجرز کی مہربانیاں کہ اب وہ امن پسند جماعت بن چکی۔ جناح کو مسلم لیگ کی قیادت شاید اس لیے بھی سونپی گئی کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ مگر قیام پاکستان کے بعد انھوں نے الطاف بھائی کو ہی شعور کی آخری منزل جانا۔ “اے وطن زمین بنجر ہوئی تیرے ملنے کے بعد”۔

ن لیگ سے وابستہ ضلع قصور کا ایک سیاسی گھرانہ جب انیس سو سینتالیس میں ہندوستان سے پاکستان آیا تو ان کی کل جائیداد ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی بتائی جاتی تھی۔ آج جب پوتوں پڑپوتوں کے بعد وراثت کی نئی تقسیم ہوئی ہے تو بعض دوستوں کے مطابق خاندان کا ہر فرد سو مربع سے اوپر کا مالک ٹھہرا۔ نسل در نسل زمین تقسیم ہو کر کم ہوتی سنی تھی مگر یہاں بڑھ رہی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ حقیقت یہ کہ مزکورہ خاندان کا سیاست کے علاوہ کوئی معروف کاروبار نہیں رہا۔ یعنی کبھی کوئی لوہے کی دکان بھی نہیں رہی جو ترقی کرتے کرتے فیکٹری اور سٹیل مل بن گئی۔ اور کبھی گنے کے رس کی ریڑھی بھی نہ لگائی کہ ترقی کرتے کرتے شوگر ملز کے مالک بن بیٹھے۔

بلا شبہ نجی چینلز کے معصوم شہری اینکرز کی اکثریت کو یہ علم بھی نہیں ہوگا کہ ایک ایکڑ میں کتنی کنالیں اور ایک مربع میں کتنے ایکڑ ہوتے ہیں۔ تاہم کنال، ایکڑ اور مربع کے فرق سے وہ صاحب لوگ اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں جو مربعے خرید کر پلاٹنگ کرتے اور ہاوسنگ سوسائٹیاں بناتے ہیں، جو اپنے اعلی افسران کو شہری پلاٹوں کے ساتھ زرعی اراضی کے ایکڑ اور مربعے بھی الاٹ کرتے ہیں، وہی جنھیں پیپلز پارٹی سے وابستہ وڈیروں، جاگیر داروں اور سرداروں کے عوام پر جبر اور تسلط کا بہت دکھ رہتا ہے کہ ان کی کرپشن کی وجہ سے ان کے علاقوں کی غریب عوام پسماندہ رہ گئی۔ مگر حیرت ہے کہ اس تمام علمیت اور رئیل اسٹیٹ بزنس کے وسیع تجربے کے باوجود ان کے ایجنسیوں اور نیب میں بیٹھے لوگوں کی عقابی نگاہوں سے یہ پہاڑ ہمیشہ اوجھل رہے۔ یا پھر وہ شاید دانستہ طور پر وسیع تر قومی مفاد میں خاموش رہے۔

اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔ بیمبینو سینما کے مالک سردار کا بیٹا بہر حال انھیں ہمیشہ درست طور پر یاد رہتا ہے۔ واضع کرتا چلوں کہ کسی کی طلسم ہوشربا ترقی اور دولت کو کرپشن کہنے کی گستاخی نہیں کر رہا۔ محض سوال اٹھا رہا ہوں کہ اگر کہیں کوئی ریاست ہوتی، کوئی بلا تفریق نظام عدل ہوتا، کوئی احتساب کرنے والا غیر جانبدار خودمختار ادارہ ہوتا تو وہ پہلے پٹوار خانے سے انیس سو سینتالیس کا ریکارڈ نکلواتا اور پھر اس کا موازنہ آج کی ملکیت سے کر کے سوال پوچھتا کہ وہ کونسی سائینس ہے جس کے استعمال سے بغیر کسی مل فیکٹری کے اعلی حضرات نے اتنی جائیداد بنائی؟ مگر جو احتساب کو انیس سو پچاسی تک نہیں لیجانا چاہتے وہ سینتالیس کے کھاتے کیوں کھولیں گے۔

ایک اور دلچسپ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ نون لیگ مخالف سیاستدانوں کے سکینڈلز پر سکینڈلز سامنے لانے والے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے بھی پنجاب کے ان شیر دلیروں پر کبھی کچھ لکھنا کہنا مناسب نہیں سمجھا، کہ ان کے اپنے مالک کے نام جو لاہور میں ساٹھ کنال کا گھر ہے وہ سی ایم کوٹہ کے الاٹیز ساٹھ مختلف گمنام لوگوں سے خریدا گیا ہے۔ یہی سوچ کر اسٹیبلشمنٹ اور اس میڈیا گروپ کے درمیان نورا کشتی پر ہنسی آتی ہے کہ اگر کبھی ان کی واقعی آپس میں کوئی سنجیدہ چپلکش ہوتی تو یہ سب سپریم کورٹ تک ضرور جاتا اور حقائق منظر عام پر ضرور آتے۔ بد قسمتی سے مقتدر قوتوں نے جب بھی احتساب یا کرپشن کے خلاف نعرہ لگایا وہ محض ان کے اپنے مفادات کے حصول تک محدود رہا اور جیسے ہی احداف حاصل ہوئے سب باتیں اور بڑھکیں جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔

بہر حال میرا موضوع کوئی ایک خاندان ہرگز نہ تھا کہ سارا کالم اسی پر ختم کر دوں۔ یہ ہزارداستان کراچی سے خیبر تک کسی نہ کسی شکل میں ہر جگہ موجود ہے۔ سندھیوں کا یہ زعم کہ ان کی قوم وفادار ہے اور صرف بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیتی ہے۔ تاہم نہ یہ دعوی بھٹو سے وفاداری اور نہ ہی نظریاتی طور پر درست ثابت ہوتا ہے۔ بھٹو سے وفاداری ہوتی تو میر مرتضی بھٹو وہاں الیکشن نہ ہارتا، غنوی بھٹو محترمہ کے جانے کے بعد بھی الیکشن نہ ہارتی اور اگر یہ کہیں بھٹو کی سوشلسٹ جماعت ہوتی تو سندھ میں آج تک وڈیرے حکمران نہ ہوتے۔ متحدہ کی جیت کو کراچی آپریشن کی غلطی کہیے یا پڑھے لکھے مہاجروں کی داناعی اور وفاداری کہ ووٹ تو ہمیشہ انھوں نے الطاف بھائی کو ہی دیا۔ پڑھی لکھی قوم آج تک برسوں سے لندن میں بیٹھے الطاف بھائی کا کوئی متبادل پیدا نہ کر سکی۔ روایت شکن اینٹی سٹیٹس کو تبدیلی کے نعرے والی جماعت کا وزیر اعلی پرویز خٹک اور ٹکٹ ہولڈر علیم خان۔ ضلع قصور میں خورشید قصوری تو پہلے ہی تحریک انصاف میں جا چکے تھے اب سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عارف نکئی مرحوم کے خاندان کے سردار آصف بھی اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ یعنی تحریک انصاف سٹیٹس کو نہیں سٹیٹس کو کے بندے توڑ رہی ہے۔

والدہ کی وفات پر چونیاں گیا تو پتہ چلا کہ ایک پرانے جاننے والے کا بڑا بھائی بلدیاتی انتخاب سے دو روز پہلے لاہور سے چونیاں آیا اور اپنے گھر کے پانچ ووٹوں کا سودا پانچ ہزار فی کس کے حساب سے کر کے چلتا بنا۔ موصوف کا کہنا تھا کہ اسے بچوں کے پرائیویٹ سکول کی فیس دینا تھی۔ طاقت کا سر چشمہ وہ عوام ہے جس نے چونیاں جیسے چھوٹے سے شہر میں بھی امیدواروں کی طرف سے دیے گئے سیل فون پر اپنے ووٹ کی وڈیو بنا کر ہزار سے پانچ ہزار روپے تک فی ووٹ وصول کیا۔ آپکا ووٹ آپکے ضمیر کی امانت ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی معاشرے میں سیاست صرف پیسے والوں کی لونڈی اور جا گیر بن کر رہ جائے تو پھر ضمیر بھی برائے فروخت نظر آتے ہیں۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ این اے ۱۲۲ کے ضمنی انتخاب کے ناجائز اخراجات پر روتے رہے مگر جہاں ایک گمنام سے شہر کی کونسلر کی سیٹ پر بیس سے چالیس پچاس لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہوں وہاں کم از کم مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہماری اکثریت ڈرائینگ روم تجزیہ نگار بن چکی ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے یا تجارت؟ فیصلہ بہت مشکل ہے۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sabir
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*