کچھ سنجیدہ معروضات تحریک انصاف کے دوستوں کی خدمت میں۔ خرم زکی

mqm-received-funding-from-india-1435145417-4658

1۔ سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ایم کیو ایم نے انتخابات کو سنجیدہ لینا شروع کیا ورنہ کراچی میں انتخابات میں عوام کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی۔ آپ کی وجہ سے ایم کیو ایم اپنے ووٹروں کے پاس دوبارہ سے جانے لگی اور اسے احساس ہوا کہ یہ ووٹرز ہی ہیں جو اس کا اصل سرمایہ ہیں نہ کہ کوئی ڈان، ٹارگٹ کلر یا بدمعاش۔

2۔ 2013 کے انتخابات میں کراچی کے کئی علاقوں میں عوام نے آپ کو از خود ووٹ ڈالا تھا اور ایم کیو ایم کا وہ ووٹر جو ایم کیو ایم کی سیاست سے متنفر ہو چکا تھا خود آپ کی حمایت میں میدان میں آیا تھا۔ آپ کو ان علاقوں سے بھی ووٹ پرے تھے جہاں آپ کا پولنگ ایجینٹ بھی موجود نہ تھا۔ آج کے بالمقابل 2013 میں آپ کے لیئے کراچی میں زیادہ ہمدردی اور حمایت موجود تھی۔

3۔ مگر پھر آپ نے اسٹیبلشمینٹ کی سیاست شروع کر دی اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ملٹری اسٹیبلشمینٹ اور رینجرز زبردستی آپ کو کراچی کے لوگوں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ یہ تاثر رینجرز آپریشن کے بعد سے بہت قوی ہو گیا اور لوگوں کو لگا کہ آپ رینجرز کے کندھوں پر چڑھ کر کراچی پر قبضےکا خواب دیکھ رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آپ کے حمایتی ہیں۔ لوگوں کو محسوس ہوا کہ زبردستی ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چھین کر آپ کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایم کیو ایم کو سائڈ لائن کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔ اس تاثر سے آپ کی سپورٹ بیس کو شدید نقصان ہوا۔ اگر آپ اپنے آپ کو پرو اسٹیبلیشمینٹ پارٹی کے بجائے ایک آزاد سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرتے تو آپ کی ساکھ کو اتنا شدید دھچکا نہیں پہنچتا۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ کراچی تاریخی طور پر اسٹیبلشمینٹ مخالف شہر ہے اور اس شہر کے عوام نے جنرل ایوب کے مقابل محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا گو اس کے صلے میں لاشے اٹھائے گئے اور گوہر ایوب نے کراچی کے عوام کے خون سے ہولی کھیل کر ایوب خان کی جیت کا جشن منایا۔ اس قتل عام نے اس شہر میں بہت سے لسانی اور نسلی مسائل کھڑے کر دیئے ہیں جو اب پاٹنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایم کیو ایم یہ تاثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی کہ وہ مقامی اور آپ غیر مقامی ہیں۔

4۔ یہ بھی یاد رکھیں کے الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو لسانی اور نسلی شناخت دی ہے ورنہ ایم کیو ایم سے پہلے اسی شہر کے باشندے مکڑ، تلڑ، مٹروے اور ہندوستانی کہلاتے تھے۔ اس حوالے سے یہاں کے باشندوں کا ایک جذباتی تعلق ہے ایم کیو ایم کے ساتھ جو خود ان کی ذاتی شناخت سے متعلق ہے۔ آپ کو مہاجر شناخت کا احترام کرنا چاہیئے۔ یہ زندہ لاشیں جیسے الفاظ کا غیر محتاط استعمال آپ کے لیئے نقصاندہ ثابت ہوا۔

5۔ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، الگ صوبہ کا مطالبہ وغیرہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے جائز مطالبات ہیں، جن کا آپ نے کبھی کہیں ذکر ہی نہیں کیا۔

6۔ اور آخر میں آ کر آپ کا جماعت اسلامی اور کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) سے اتحاد تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ آپ کا کراچی میں حقیقی ووٹر وہ طبقہ ہے جو ایم کیو ایم سے متنفر ہوا ہے اور ایم کیو ایم کو ماضی میں ووٹ دیتا رہا ہے۔ یہ ووٹر جماعت اسلامی کی منافقانہ سیاست سے تو ابتدا ہی سے نفرت کرتا ہے، وہ کراچی میں گزشتہ تین دہائیوں میں ہونے والی فرقہ وارانہ دہشتگردی کا بھی دشمن ہے، وہ مذہب کے نام پر گزشتہ 60 سال بیوقوف بنانے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاست کو مسترد کر چکا ہے، وہ نوجوان، روشن خیال اور معتدل سوچ کا حامی ہے۔ آپ نے کیا سوچ کر جماعت اسلامی اور کالعدم انجمن سپاہ صحابہ سے اتحاد کر لیا ؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ جو ووٹر ایم کیو ایم سے ٹوٹ کر آپ سے آ ملے گا وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دے گا ؟ جماعت اسلامی کراچی میں نفرت اور حقارت کا سمبل ہے، کسی کو جماعتی کہنا اس کی تضحیک کی علامت ہے اور آپ نے انہی سے جا کر ہاتھ ملا لیا ؟

اگر آپ نے مستقبل میں ان باتوں کو مدنظر رکھا اور رینجرز نے ایم کیو ایم کے خلاف یکطرفہ کاروائیوں کا سلسلہ منقطع کیا تو آپ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگلی بار کامیابی آپ کے قدم بھی چوم سکتی ہے۔ 

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*