انڈین مووی فینٹم اور حب الوطنی کا گرتا ہوا معیار۔ خرم زکی

fantumphantom

گویا اب حب الوطنی کا معیار و دارومدار فینٹم فلم کی مخالفت ٹھیری ؟ حد ہے۔ اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں وہ نام نہاد صحافی و تجزیہ نگار جن میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ عوام کو مکمل حقائق بتا سکیں۔ اتنی لڑائی انڈیا سے نہیں ہو رہی جتنی پاکستانیوں میں آپس کے درمیان اس پروپیگینڈا مووی کو لے کر ہو رہی ہے۔ ایک جانب فیصل قریشی، احمد قریشی الباکستانی اور حمزہ علی عباسی کے قبیل کے لوگ ہیں جن کی اپنی ذاتی کوئی سوچ ہی نہیں اور وہ صرف دیا گیا اسکرپٹ ہی پڑھ سکتے ہیں اور دوسری طرف دیسی کمرشل لبرلز کا وہ کیمپ ہے جس کو ہر پاکستان مخالف بات اچھی لگتی ہے۔

آسان سی بات ہے کہ ممبئی حملہ دہشتگردی کی تعریف پر پورا اترتا ہے اور دہشتگردی کی حمایت نہیں کی جا سکتی، نہیں کی جانی چاہیئے لیکن دہشتگردی کی کہانی ممبئی حملے سے نہ شروع ہوتی ہے، نہ ختم ہوتی ہے۔ ممبئی حملوں سے پہلے اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والا حملہ بھی دہشتگردی کی اسی کہانی سے منسلک ہے، ممکن ہے کوئی کہے کہ جناب افغانستان میں بھارتی سفارت خانے پر حملہ جس میں بھارتی ڈیفینس اتاشی مارا گیا تھا وہ بھی دہشتگردی ہی تھی لیکن اسی طرح دیگر مثالیں پھر پاکستان کی جانب سے بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہ مووی جس کے حوالے سے اتنا شور ہے ایک یکطرفہ نیریٹو پیش کرتی ہے جس میں صرف وہ سچائی اور حقیقت کا وہ رخ پیش کیا گیا ہے جس سے پاکستان پر تو حرف آئے لیکن بھارت کا دامن صاف رہے۔ ظاہر ہے بھارتی فلمساز کوئی ڈاکومینٹری تو بنا نہیں رہے تھے کہ غیر جانبدارانہ حقائق بیان کرتے اور دہشتگردی کی وجوہات اور اس کی جڑوں کو کھنگالنے کی کوشش کرتے، وہ تو ایک کمرشل پروپیگینڈا اسٹوری لائن ڈویلپ کر رہے تھے جس سے بھارتی مؤقف کا پرچار ہو اس لیئے پاکستان کی جانب سے اس پر رد عمل فطری تھا لیکن یہ جو بعض افراد نے ایک فلم کو لے کر ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے وہ بھی بچگانہ بات ہے۔ اس فلم کا جواب ایک اور اچھی فلم ہی ہو سکتی ہے، جنگی تقریریں نہیں۔ پاکستانی فلم سازوں کو بجائے تقریریں کرنے کے ہماری فلم انڈسٹری کے معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری فلمیں بھی دنیا میں اسی طرح پزیرائی حاصل کر سکیں جس طرح انڈین فلمیں حاصل کرتی ہیں۔

دوسری طرف وہ گروہ جو سمجھتا ہے کہ ہر وہ بات جس میں پاکستانی افواج یا ہماری ریاستی پالیسی پر کیچڑ اچھالی گئی ہو لازمی اور حتمی طور پر سچ اور اٹل حقیقت ہے یہ یا تو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا احساس کمتری و غلامی کا شکار ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کی طرح ہماری خارجہ اور ریاستی پالیسی بھی صحیح اور غلط، اصولی و مطلبی فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ جیسے پاکستان میں صرف فرشتے نہیں بستے اسی طرح بھارت میں بھی صرف فرشتے نہیں بستے۔ غلط فیصلے جیسے ہم نے کیئے ہیں، اسی طرح بھارت نے بھی کیئے ہیں۔ بھارت کی ہم پر برتری کی وجہ اخلاقی اور اصولی نہیں بلکہ عددی اور اقتصادی ہے۔ دنیا میں بھارت کی پزیرائی اس وجہ سے نہیں کہ بھارت میں اخلاقیات اور اصولوں کی حکومت ہے اور عدل کا بول بالا ہے بلکہ اس کی وجہ ان کا حجم، آبادی اور وسائل میں ہم سے آگے ہونا ہے۔ ورنہ جو کچھ غلط پاکستان میں ہوتا ہے اس سے 5 گنا زیادہ بھارت میں ہوتا ہے کیوں کہ ان کی آبادی اور رقبہ بھی اسی تناسب سے زیادہ ہے۔ رہ گئی کشمیر کی بات تو اس حوالے سے ہمارا مؤقف اصولی ہے۔ کشمیر صرف ہماری ہی نظر میں نہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک متنازعہ علاقہ ہے اور کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی رائے اور مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے۔ حافظ سعید کے طرز عمل اور میتھوڈولوجی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے نہیں۔ یہ عجب بات ہے کہ مسلہ کشمیر پر پسپائی اور صلح کی باتیں وہ کرتے ہیں جو بلوچستان میں جاری بغاوت کی خاموش حمایت کرتے ہیں گو بلوچستان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اسی طرح پاکستان کا حصہ ہے جیسے آسام اور مشرقی پنجاب بھارت کا۔ یہ دہرا معیار اور منافقت ختم ہونی چاہیئے۔ اگر کشمیر کو بلوچستان سے جوڑا جائے گا تو پھر بلوچستان کو آسام، بھارتی پنجاب اور ان دیگر انڈین ریاستوں سے جوڑا جائے گا جہاں بھارت سے آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ رہ گئی پراکسی وار اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے استعمال پر اعترض کرنا تو یہ کام ہر ریاست کرتی ہے صرف پاکستان نہیں۔

ایک تشویشناک صورتحال البتہ اس حوالے سے یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تکفیری دیوبندی دہشتگرد، جماعتی اور مذہبی انتہاپسند دوبارہ سے سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملٹری اسٹیبلشمینٹ کی بوٹ پالش میں مصروف ہیں، گویا 70000 پاکستانیوں کے قتل عام کے جرم کا سودا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ناسوروں کو اس کوشش کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے۔ مسلہ کشمیر کے حل کے لیئے ہماری ریاست کو ان تکفیری خوارج، دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کی حمایت کی نہیں بلکہ عوامی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ دہشتگردوں کو آگے لانا اور ان کو استعمال کرنا ہمارے نیریٹو اور اصولی مؤقف کی کمزوری کا باعث بنے گا، مضبوطی کا نہیں۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. fazil
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*