کرنل شجاع خانزادہ صوبائی وزیر داخلہ پنجاب کے قتل میں پنجاب حکومت کی کونسی اہم شخصیت ملوث ہے ؟ – صداۓ اہلسنت

11230781_10153547229799561_5607573148906626041_n

ڈان نیوز ٹی وی کے اسلام آباد میں بیوروچیف افتخار شیرازی نے رپورٹ دی ہے کہ سانحہ شادی خیل اٹک میں کرنل ر شجاع خانزادہ اور دیگر افراد کی شہادت کا زمہ دار وہ اجنبی نوجوان ہو سکتا ہے جس نے کرنل شجاع خانزادہ کو ان کے حجرے کے برآمدے میں فائل دی تھی جس کے فوری بعد دھماکہ ہوگیا

پولیس نے اس مشتبہ نوجوان کا خاکہ تیار کر لیا ہے جبکہ ڈان کے بیوروچیف افتخار شیرازی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شجاع خانزادہ کے اہل خانہ سے بات ہوئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ میں سے بعض نے پنجاب حکومت کی ایک اہم شخصیت پر کرنل شجاع خانزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے اور افتخار شیرازی کا کہنا ہے کہ کرنل شجاع خانزادہ اھل خانہ نے یہ شبہ چیف منسٹر شہباز شریف تک پہنچادیا ہے لیکن جیسے ہی یہ شبہ لاہور پہنچا تو تب سے ان کے اھل خانہ کو سنگین دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور پنجاب حکومت کے اندرسے بھی ان کو یہ نام نہ لینے پر مجبور کیا جارہا ہے

کرنل شجاع خانزادہ جوکہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پروگرام کے انچارج تھے اور صوبے کے ہوم منسٹر تھے ان کی شہادت پر ایک انتہائی معتبر ٹی وی زرایع سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے – کرنل شجاع خانزادہ کےاہلخانہ نے نے پنجاب کی جس اہم شخصیت کا زکر کیا ہے وہ رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون کے علاوہ اور نہیں ہے جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ شہباز شریف نے کرنل شجاع خانزادہ کی وفات کے بعد عملی طور پر اکک مرتبہ پھر پولیس اور دیگر محکموں کو رانا ثناءاللہ کو غیراعلانیہ طور پر سونپ ڈالے ہیں

اور یہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ تھے جنھوں نے کرنل شجاع خانزادہ کی سیکورٹی کے ناکافی ہونے اور اس سے غفلت برتے جانے کے سوال پر ایک نجی ٹی وی کو کیا تھا کہ سیکورٹی خود ان کی زمہ داری تھی اور یہ بات محض اتفاق نہیں ہے کہ کل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ھاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کو اندھا قتل قرار دے ڈالا اور پھر یہ کہا کہ سیکورٹی لیپس اگر تھا بھی تو یہ شجاع خانزادہ کی زمہ داری بنتی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ شجاع خانزادہ کو ان کے گاؤں جانے سے روکا گیا تھا اور ان کو برآمدے میں نہیں آنا چاہئیے تھا

وفاقی وزیر داخلہ نے کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے حوالے سے ملزمان کی گرفتاریوں کی خبروں پر ان کا رد عمل تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور انہوں نےاسلام آباد میں گرین بیلٹ پر نائنتھ ایونیو پر بنے ناجائز دیوبندی مدرسہ جامعہ حقانیہ پر چھاپے کا کرنل شجاعخانزادہ کی شہادت سے جوڑنے کو غیرزمہ دار صحافت قرار دے ڈالا جبکہ انگریزی روزنامہ ڈان کے رپورٹر منور عظیم نے دو دن پہلے جو خبر اس مدرسے پر چھاپے کے حوالے سے فائل کی تھی اس میں سنٹرل پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کے زریعے سے یہ بتایا تھا کہ یہ چھاپہ کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کے اندر ملوث ملزمان کے اس مدرسے میں موجود ہونے کی پکی اطلاعات پر مارا گیا تھا

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے کرنل شجاع خانزادہ کی شہادت میں سیکورٹی کی غفلت کو کرنل شجاع کی غلطی ٹہھرانا اور پھر اس قتل کواندھا قتل کہنا اور ایک ہفتے کے دوران فیصل آباد , رحیم یار خان اور اسلام آباد سے ہونے والی بڑی گرفتاریوں کو کرنل شجاع کے قتل سے الگ کرنا یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ مسلم لیگ نواز اس قتل کو اندھا قتل قرار دیکر اور سیکورٹی غفلت کا ملبہ خود صوبائی وزیر کرنل شجاع خانزادہ پر ڈال کر داخل دفتر کرنا چاہتی ہے

ہمیں یوں لگتا ہے کہ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کام کا محکمہ آزادانہ طور پر فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے تکفیری دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں , نظریہ سازوں کے خلاف جو کاروائی کررہا ہے اور خاص طور پر پنجاب میں اب جو لشکر جھنگوی , تحریک طالبان پاکستان اور اس کے سپلنٹرز گروپس کے دیوبندی مدارس سے تعلقات کی چھان بین کرتے ہوئے ان مدارس کے خلاف جو سرچ آپریشن شروع ہوا ہے اس سے خوش نہیں ہے اور یہ سارا پروسس کہیں اور سے کنٹرول ہورہا ہے ورنہ پنجاب حکومت اور اس کے چیف منسٹر توطالبان و القائدہ کو پنجاب میں حملے نہ کرنے کی درخواستیں کرتے رہے ہیں

اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی پنجاب ھاؤس کی پریس کانفرنس کے دوران فوج اور سویلین قیادت کے ایک پیج پر ہونے کا دعوی کیا ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کم از کم پنجاب اور اسلام آباد میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سوال پر دونوں ایک پیج پر نہیں ہیں اور اسی وجہ سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشن اور سرچ پروسس ایک جانب تو سی ٹی ڈی کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی کمان فوج اور آئی ایس آئی کے پاس ہی ہے اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلام آباد میں جامعہ حقانیہ پر اچانک ریڈ سی ٹی ڈی پنجاب نے کیا اور اسلام آباد کا کوئی پولیس افسر اس سے آگاہ نہیں تھا اور اب بھی ہمیں یہ شک ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ سے سی ٹی ڈی کے افسران نے جامعہ حقانیہ سے گرفتار لوگوں کی گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی اسی لیے وہ میڈیا پربرس پڑے ہیں کہ وہ غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کررہا ہے

صدائے اہلسنت کرنل شجاع خانزادہ کے قتل اور سانحہ اٹک کا,سراغ لگانے کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم آئی ایس آئی کی قیادت میں بنانے کا مطالبہ کرتا ہے اور پنجاب حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ شجاع خانزادہ کے اہل خانہ پنجاب حکومت کی جس اہم شخصیت کے کرنل شجاع کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ کررہے ہیں اس اہم حکومتی شخصیت کو حکومتی عہدے سے فی الفور ھٹایا جائے اور جن لوگوں کی جانب سے کرنل کے اہل خانہ کوسنگین دھمکیاں دی گئیں ان کاسراغ لگایا جائے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*