ایگزیکٹ اور بول کے بارے میں معظم رضا تبسم کے چار سوال

بول

پہلا سوال: کیا ریاستی اداروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ از خود کسی کی بڑھتی ہوئی دولت کی تحقیقات کر سکیں؟
ضرور ہے۔ اُس کے لیے کئی ادارے ہیں۔ جن کی ذمہ داری ہے۔
دوسرا سوال: کیا اگر کوئی میڈیا مالک یہ کہہ رہا ہو کہ وہ فائلوں کو پہیے لگاتا ہے اور پھر اخبار نکال لے تو اگر ریاست اس کے خلاف ایکشن لے تو کیا صحافتی آزادی پر آنچ آئے گی؟
میڈیا مالک کیا کوئی بھی اگر یہ کہے کہ وہ فائلوں کو پیسے لگاتا ہے تو اُس کے خلاف ایکشن لینے والے ادارے ہیں۔ انھیں ایسے بیانات کا نوٹس لینا چاہیے اور کارروائی کرنے چاہیے۔ ایسا شخص اگر کوئی میڈیا گروپ بنا لے تو دیکھا جائے گا کہ اُس کے خلاف کارروائی میڈیا گروپ بنانے کے بعد کی گئی یا اُس سے پہلے۔ اگر میڈیا گروپ بنائے جانے کے بعد کسی کے خلاف ماضی کے کسی کام کے حوالے سے کارروائی کی جاتی ہے تو پھر فیصلہ تمام حالات کو دیکھ کر کرنا ہو گا۔ اسی حوالے سے میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ ناجائز سرمایہ کتنے عرصے یا نسلوں کے بعد جائز ہو جاتا ہے؟ یہ بھی کہ میڈیا گروپ بنانے کے بعد ناجائز کرنے والوں کے اداروں میں ملازمت کرنی چاہیے یا نہیں؟ ایک مثال میں نے فرنٹئر پوسٹ کی دی تھی جو پیشہ وارنہ اعتبار سے ایک عمدہ اخبار تھا اور اس میں ایسے صحافیوں نے کام کیا جن کی زندگیوں اور کردار کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اُس کے مالک پر بظاہر منشیات کی اسمنگلنگ کا الزام ثابت ہوا اور سزا بھی ہوئی، تو اب اس اخبار اور اس میں کام کرنے والے صحافیوں کے بارے میں کہا جائے۔
ایک اور مثال
The Sun Karachi
کی دی تھی
تیسرا سوال: اگر ریاستی اداروں نے کسی میڈیا گروپ جو زیر تذکرہ ہے اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی تو پھر اعتراض رہ جاتا ہے؟
ایک کہ یہ کہ کارروائی ؤمیرِ داخلہ کے حکم پر کی گئی۔ دوم: ایف آئی آر کارروائی کے بعد بنائی گئی۔ کارروائی جس خبر کی بنیاد پر کی گئی اُسے بنیاد نہیں بنایا گیا۔ ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں کیا ان کے تحت آج تک کسی ادارے کے خلاف کارروائی ہوئی ہے؟ کیا ان دفعات کے تحت اسی طرح گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں؟ کیا ایسی دفعات کے تحت مقدمات کو ایسی ہی تشہیر ملتی رہی ہے؟ کیا ان دفعات کے تحت اسی طرح اداروں کے اکاؤنٹ منجمد کیے جاتے ہیں؟
ضمنی طور پر ایک بات، خبر نیو یارک ٹائمز نے شایع کی۔ کیا اس خبر کے بعد امریکہ بطانیہ یا کسی اور ملک میں ایگزیکٹ کے خلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہے؟ بظاہر جرم تو وہاں ہوا ہے، وہاں سے اب تک سفارتی سطح پر کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ اور وزیرتِ داخلہ پاکستان امریکہ اور برطانیہ کے اداروں کو خط لکھ رہی ہے کہ
معظم رضا تبسممعظم رضا تبسم
مقدمہ بنانے میں کوئی مدد کرو؟ کیوں؟ پہلے کبھی کسی ادارے یا فرد کے خلاف ایسے ہوا ہے؟ ہاں اس کے الٹ ہوتا رہا ہے۔
اب تک ملزمان کو عدالت میں صرف ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ کیسی دھوکہ دہی ہے جسے تلاش کیا جا رہا ہے۔ جس ملک میں دھوکہ دینے والے پر مقدمہ بنایا جا رہا ہے وہاں مدعی نہیں ہے۔ آپ کہیں گے ریاست مدعی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملزم نے ریاست کو جعلی ڈگریاں دیں؟ کیا جعلی ڈگری لینے واءا برابر کا مجرم نہیں ہوتا؟ کیا ان تما شرکائے جرم کے خلاف کوئی ایف ای آر یا کوئی مقدمہ قائم کیا جا رہا ہے؟ اگر نہیں تو اسے کیا سمجھا جائے؟ ایسے مقدمات میں بالعموم دوسرے محکمے کارروائی کرتے ہیں۔ جعلی ڈگریوں کا مقدمہ ہے تو پہلے ان لوگوں کو سامنے آنا چاہیے جو یہ کہیں کہ ان کے اداروں کی جعلی ڈگریاں بنائی گئیں یا یہ کہ میں تعلیم حاصل کی فیسیں ادا کیں مجھے جو ڈگری دی گئی وہ جعلی تھی، اس لیے ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے۔ میں ایسے مقدمات کو ریاستی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کہوں گا اور کسی کے خلاف بھی ایسی کارروائی کی مخلافت اور مذمت کروں گا۔
چوتھا سوال: کیا صحافی کو کوئی بھی زیادہ پیسے آفر کر کے اپنے ناجائز کاروبار کے تحفظ کے لئے استعمال کرے اور صحافی جانتا بھی ہو تو وہ صحافی یا مجرم؟
بالکل مجرم ہے۔ مالک اور ملازم دونوں کے خلاف کرروائی کی جانی چاہیے۔ یہی بات میں نے وجاہت سعید کے معاملے میں کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں سب سے پہلے علم ہوا تھا کہ والش خبر کر رہا ہے۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ والش کی خبر درست ہے اور وہ جس ادارے میں ہیں اُس کا مالک انھیں اپنے غلیظ کارروبار کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہا ہے یا کرے گا تو وہ مستعفی ہونے والے پانچویں آدمی کیوں تھے، پہلے کیوں نہیں تھے؟ مستعفی ہونے والے دیگر افراد نے تنخواہوں اور فوائد کی مدد میں جو کچھ حاصل کیا ہے اُس میں سے اضافی ادارے کو لوٹا دینا چاہیے شاید لوٹا بھی دیا ہو۔ کیوں کہ صحافی کسی ادارے کے غیر صحافتی مفادات کے تحفظ کے لیے صحافی نہیں ہوتے صحافتی فرائض کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن جناب غیر صحافتی کام کر سکنے کی صلاحیت پر عظیم صحافی بننے والوں کی فہرست بنائیے گا تو دوسری طرف چند ہی نام رہ جائیں گے۔
اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔
بااثر صحافی کی اصطلاح سے کیا واقف ہیں ؟ اور اس کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟ اور ان میں کیا خصوصیت ہوتی ہے؟

معظم رضا تبسم

Comments

comments

Latest Comments
  1. Ali
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*