کان رکھتا ہے دریاؤں کی روانی پہ نہ جا – فرنود عالم

shahbaz-sharif-111

تفنن برطرف۔ طنز ومزاح دوسری طرف۔

کسی نے کہا

’’آپ جانبدار ہیں‘‘

عرض کیا

’’جس معاشرے میں ہڑپ ازم سیاست کا بنیادی عنصر بن گیا ہو، وہاں غیر جانبدار رہنا در اصل استبداد کی حمایت ہے۔ میں چار حرف بھیچتا ہوں اس غیر جانبداری اور توازن پر کہ جو ظالم اور مظلوم کے بیچ بھی ایک بیلنس قائم کرنے کی کوشش کرے‘‘

کیوں جانبدار ہوں۔۔؟؟

یہ سوال اچھا ہے۔ عرض کروں کہ عمران خان میری چوائس نہیں ہے۔خواہش میری اب بھی یہ ہے کہ پٹوار نگر کے گنجہائے گرانمایہ میری محبتوں کا مرکز ہوتے۔ یہ چوائس حالات نے بنادی۔ کیسے۔؟ وہ ایسے کہ میں ہمیشہ سے نظام کی بات کرتے چلے آنے والوں میں سے ہوں۔ گزشتہ انتخابات کے بعد سے صوبوں کی کارکردگی سامنے ہے۔ گاڑی کے سائیڈ مررز، ونڈ اسکرین، بونٹ، سائلنسر ، پینٹ، وہیل کیپ اور لوک دیکھوں تو پنجاب کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ گاڑی کے رنگ پسٹن، بیٹری، کارپیٹر، فلٹر، پلگ، کلچ، بریک، گئیر، اسٹئیرنگ، وائرنگ، چمٹے، سسپینشن اور شاکز وغیرہ کی بات کریں تو کے پی کے بلاشبہ آگے ہے ۔ اب مسئلہ پتہ ہے کیا ہے۔؟ گاڑی کے اوپر پانچ ہزار بھی لگا لیں تو نظر آجاتے ہیں، گاڑی کے بونٹ کے نیچے پانچ لاکھ بھی لگا لیں، تو فاصلے سے کھڑے ہوکر کبھی نظر نہیں آئیں گے۔ ہاں ڈروائیونگ سیٹ پہ بیٹھ جائیں تو یو وِل فیل اِٹ۔۔۔ اب اس حقیقت کو اگر میں جانتا ہوں، تو میں گواہی کیوں نہ دوں۔؟؟؟

نظام کے حوالے سے چار شعبے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ !!!!

تعلیم صحت انصاف اور پولیس کا شعبہ بطور خاص۔

اب مجھے بتائیں۔ !!!

کیا کے پی کے پولیس میں آپ کو واضح تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔؟ اگر آپ کہیں گے کہ نہیں، تو پھر میں تفصیل میں چلا جاؤں گا۔ اگر آپ ہاں کہہ دیں، تو وقت بچ جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ پولیس میں سیاسی مداخلت زیرو پہ کھڑی ہے۔ رشوت کی گرم بازاری دم توڑ گئی ہے۔ علاقائی سطح تک کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں، جس کے بعد غلط در خواست کا اندراج اور اس پہ کاروائی بھی رک گئی ہے۔ ایف آئی آر اور شکایات کا ریسپانس آپ کو چوبیس گھنٹے میں مل رہا ہے۔ شکایات کا پراسس آسان سے آسان ترین کیا جارہا ہے۔ اس کی گواہی ایک غریب ڈرائیور اور عام انسان دے گا۔ میں آپ کو سیاست سے پاک پولیس ڈیارٹمنٹ کی واضح مثال دیتا ہوں

پنجاب میں کوئی حادثہ اس وقت تک حادثہ نہیں ہوتا جب تک میڈیا اس پہ بریکنگ نیوز کے ہتھوڑے نہ برسا دے۔ حادثے کی یہی واحد قسم ہے جس پر خادم اعلی و حاکمِ بالا متحرک ہوتے ہیں۔ پلک جھپکتے میں جائے حادثہ پہ پہنچتے ہیں، کیمرے آن ہوتے ہیں، متاثرین کی اشکشوئی ہوتی ہے، برہمی کا اظہار ہوتا ہے، تین افسران معطل ہوتے ہیں اور یہ جا وہ جا۔ کچھ دن میں وہ افسران پھر سے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے لگتے ہیں اور فائل ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی بھی کیس میں آپ نے کبھی آئی جی پنجاب کو سرگرم دیکھا۔؟ کبھی دیکھا کہ انہوں نے کسی کو معطل کیا ہو۔؟ کبھی وہ فرنٹ فٹ پہ کھیلتے ہوئے دکھائی دیئے۔؟ کسی بھی میڈیا انگیز جائے وقوعہ پہ وزیر اعلی سے پہلے آئی جی پہنچا۔؟ کیا وزیر اعلی کے ہاتھ حضرت سلیمان کا اڑن کٹولا لگ گیا ہے، جو نسطور جن کی طرح پہنچتے ہیں۔؟ عام عوام میں کتنوں کو پتہ ہے کہ پاکستان کے سب سے طاقتور صوبے کے آئی جی کا نام کیا ہے۔؟ کتنے ہیں جو ان کی شکل سے واقف ہیں۔؟ حالانکہ وہ بہت مہان شخصیت ہیں۔ اس کے برعکس کے پی کے میں پولیس سے متعلق معاملے میں فرنٹ فٹ پہ کون نظر آتا ہے۔؟ وزیر اعلی۔؟ وزیر داخلہ۔؟ وزیر قانون ؟ کوئی دوسرا طاقتور وزیر۔؟ نہیں۔۔۔۔۔ مجھے تو ہر جگہ ایک آئی جی نظر آتا ہے، اور میرا ماننا ہے کہ اکثریت کو پاکستان کے چاروں صوبوں کے آئی جی ز میں سے کسی ایک کی شکل کا اگر پتہ ہوگا تو وہ کے پی کا آئی جی ہے۔ کے پی کے میں وقوعہ میڈیا میں نہیں، بلکہ تھانے میں رپورٹ ہوتا ہے۔

اگلی بات۔۔۔!!!!

روایتی سیاست دانوں نے آپ کو ایک نئی لت لگا دی ہے۔ وہ یہ کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہو یا پھر سیلاب آجائے، تو دیکھا جاتا ہے کہ وزیراعلی لانگ شوز پہن کر بیچ پانی میں کھڑا ہے کہ نہیں۔ ہاتھ باندھے مریض کے سرہانے کھڑا ہے کہ نہیں۔ پچھلے دنوں پشاور میں ایمر جنسی لگی، تو سارے میڈیا ہاؤسز نے سوال اٹھائے کہ کے پی کا وزیرا علی کہاں ہے۔؟ کیا یہ سوال نظام کی ٹھیک عکاسی کرتا ہے۔؟ نہیں۔ یہ سوال ہماری فرسودہ خیالی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کے پی کے تھا۔ یہاں ساری ذمہ داریاں وزیر صحت شہرام ترکئی کے سر پہ تھیں۔ سوال یہ ہے کہ شہرام ترکئی کہاں تھا۔؟ جواب یہ ہے کہ شہرام ترکئی دن رات چوبیس گھنٹے ہسپتالوں کے وزٹ پہ تھا۔ وزیر صحت کا ہی یہ کام ہے۔ کیا پورے پاکستان میں ایک شہرام ترکئی کے علاوہ کسی وزیر صحت کو آپ جانتے ہیں۔؟ کوئی ایک نام ؟ اپنے اپنے صوبے کے وزیر صحت کا نام بتائیں گے آپ۔؟ کے پی میں کیا فرق ہے۔؟ یہی فرق ہے کہ صحت کے شعبے میں جو بھی انقلاب آرہا ہے، اس انقلاب کی ہر لہر میں آپ کو شہرام کی ہی شکل و صورت نظر آئے گی۔ وزیر ا علی کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔ ہاں، ایمرجنسی کی صورت میں صحت کے شعبے نے اگر ٹھیک پرفارم نہیں کیا تو آپ وزیرا علی سے پوچھیں گے اور وزیر اعلی شہرام ترکئی سے حساب مانگے گا۔ وزیر اعلی کا کام ہر گز ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ بارش میں نکلے، افسران کو معطل کرنے تھانے جائے، ایمر جنسی لگوانے ہسپتال پہنچ جائے۔ وزیر اعلی کا کام نظام کی تشکیل اور اس کی نگہبانی ہے۔

اب فرق سمجھیں۔۔!!!

جب نظام کام کر رہا ہو، تو وزیر اعلی کی غیر موجود گی میں معاملات درست سمت میں چل رہے ہوتے ہیں۔ جب نظام معطل ہو، تو وزیر اعلی کی آمد سے پہلے منا بھائی ایم بی بی ایس والے ایکشن کے تحت بیڈ پہ مریض لٹا دیئے جاتے ہیں، اور وزیر اعلی کی واپسی کے ساتھ ہی بیڈ سمیٹ لیئے جاتے ہیں۔اس کے بعد مریض نہ سیکٹری صحت کو پکڑ سکتا ہے نہ وزیر صحت کو۔ ہسپتال انتظامیہ حاضری لگا تی ہے، دواوں کی عدم دستیابی کا عذر پیش کرتی ہے، اور نکل جاتی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے۔۔؟؟؟ کیا اس انتظامی رویئے کی تائید میں کوئی مینیجمنٹ سائنس کا انتہائی تھکا ہوا فارمولا بھی پیش کرسکتا ہے۔؟

اگلی بات بتائیں۔۔!!!

کیا آپ نے کے پی وزیرا علی کو کسی اسکول میں دیکھا۔؟ نہیں نا۔؟ تو پھر بتائیں کہ پورے پاکستان میں ایک کے پی کے ہی ایسا صوبہ کیوں ہے جہاں تعلیمی شعبہ لمحہ بلمحہ حیران کن کامیابیاں سمیٹتا جا رہا ہے۔ جو اسکول بند تھے وہ ایک کے بعد ایک کیسے کھلنے لگ گئے۔؟ جو اسکول زبوں حال تھے، ان کی از سر نو تعمیر کیسے شروع ہوگئی؟ بچوں کو وظیفہ کیسے ملنے لگا۔؟ اساتذہ کی حاضری یقینی کیسے ہوگئی؟ صرف ایک برس میں لاکھوں بچے اسکول کیسے پہنچ گئے۔؟ آپ مجھے اپنے صوبے کے وزیر تعلیم کا نام بتا سکتے ہیں۔؟ اس کی شکل کے کوئی خد وخال بتا سکتے ہیں؟ چلیں وفاقی وزیر تعلیم کا نام ہی بتا دیں۔ آپ کے پی کے جائیں، کوئی خٹک صاحب کو جانتا ہو نہ جانتا ہو، عاطف خان کو ضرور جانتا ہوگا۔ کیوں۔؟ کیونکہ تعلیمی انقلاب کی ہر موج میں وہی نظر آئے گا۔ آخر شعبہ جو اسی کا ہے۔ کے پی کے کوئی ایک باشندہ کہہ دے کہ ہم تعلیمی میدان میں تبدیلی بچشم خود نہیں دیکھ رہے۔ میرا گاؤں کالا ڈھاکا، پاکستان کا آخری کونہ ہے۔ عملا کسی نے انتخابات کے بیس دنوں کے علاوہ اسے پاکستان کا حصۃ ہی نہیں مانا۔ یہاں ہمارے اور گرد ونواح کے گاؤں میں آٹھ اسکول تھے۔ صرف ایک برائے نام چل رہا تھا باقی سب بند۔ برسہا برس سے بند۔ آج پہلی بار وہاں، تمام کے تمام اسکول کھلے ہیں اور اساتذہ اپنے وقت سے پانچ منٹ لیٹ نہیں ہوتے۔ مانیٹر مقرر ہے جو اسکول کی یومیہ کار کر دگی آن لائن وزارت تعلیم کو دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں میں گاؤں گیا، تو پشاور سے ٹیم آئی ہوئی تھی جس نے ہر اسکول پہ گاؤں کی ایک الگ کمیٹی قائم کی گئی جسے انتظامی طور پہ اسکول کے نفع و نقصان کا براہ راست ذمہ دار بنایا گیا۔

آخری بات۔۔۔!!!

ہر شہر میں غربت کا مذاق اڑانے کیلئے مراکز قائم کیئے گئے ہیں جسے یوٹیلیٹی اسٹور کہا جاتا ہے۔ کے پی کے میں معاملہ برعکس ہے۔ کیسے۔؟ وہ ایسے کہ وفاق نے چاروں صوبوں کو سولہ فیصد جی ایس ٹی دیا۔ پنجاب نے جی ایس ٹی میں دو فیصد اضافہ کر کے نافذ کر دیا، جبکہ کے پی کے واحد صوبہ ہے جس نے دو فیصد کمی کر کے نافذ کیا۔ صرف غریب نہیں، اس کے نتیجے میں کے پی کے کا ہر رہائشی سبسڈی کا حقدار ٹھہرا۔ سب کو برابر سہولت ملی۔

نظر کیوں نہیں آیا۔؟

میرے بھائی

یہ پینسٹھ ارب کی میٹرو نہیں ہے جو نظر آجائے۔ یہ اکتالیس ارب کے لیپ ٹاپ نہیں ہیں جو دکھائی پڑیں۔ یہ سستے تندور نہیں ہیں جہاں لوگ قطار میں لگے نظر آجائیں۔ یہ پولیس کی چمچماتی وردی اور ہیوی موٹر بائکس نہیں ہیں جو نگاہوں کو خیرہ کرتی پھریں۔

سوال آپ کی جناب میں رکھتا ہوں۔۔!!

کیا یہ عجیب نہیں کہ ساٹھ دن میں ایشیا کی سب سے بڑی سڑک بنانے والے ساٹھ مہینوں میں بھی بند پڑے ہوئے ساڑھے تین سو سے زائد اسکولوں میں سے ایک اسکول بھی واپس نہیں کھول سکتے۔؟ کیا یہ عجیب نہیں کہ نو ماہ میں میٹرو جننے والے، نو سالوں میں فیصل آباد کے ایک ہسپتال کو ڈائیلائسیس کی مشین مہیا نہیں کر سکتے۔ ؟ کیا تعجب خیز امر نہیں کہ دو ٹکے کا فائدہ نہ دینے والی لیپ ٹاپ اسکیم پہ اکتالیس ارب پھونکنے والے تھانہ سسٹم کی اصلاح پر ایک ارب کی پھونک سے بھی محروم ہیں۔

اور ہاں۔۔!!!

کے پی گورنمنٹ نے جو انتہائی مربوط بلدیاتی سسٹم دیا ہے، کیا اس کی نظیر پنجاب کے عالی دماغ پیش کر سکیں گے۔؟؟ اس نظام کا پچاس فیصد بھی پٹوار نگر کے ارسطو دے سکیں گے۔؟ دے سکتے ہیں، مگر کبھی بھی نہیں دیں گے۔

’’عمران اگر نعرے سے پلٹ جائے،تو میری ہمدردی واپس۔ پٹوارنگر کی دانش اگر نعرے کی طرف لوٹ آئے ،تو چشمِ ماروشن دل ما شاد‘‘

رسالت مآب نے کہا تھا

’’مومن ایک سوراخ سے دو سری بار ڈس لیا جائے، ایسا نہیں ہوتا‘‘

جو صرف خود کو دانشمند باور کروانے کیلئے فرسودہ روایتوں کے اسیر ہیں، وہ اپنے ضمیر کو جوابدہ ہیں۔ کیا ضمیر کی عدالت بھی بک گئی۔؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*